صفحہ اوّل » آوارہ گردی, زبان و ادب سے

آج اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

مصنف: وقت: ہفتہ، 18 ستمبر 201029 تبصرے

کل کسی کام کیلئے اردو یونیورسٹی گیا تو وہاں بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اس یونیورسٹی میں گزارے اپنے دو سالوں کے احوال پر کچھ لکھوں، پھر خیال آیا کہ کیا لکھوں۔ طلبہ تنظیموں کی کی مار دھاڑ پر اور نعرے بازیوں پر، کسی پولنگ اسٹیشن کا منظر دیتی مرکزی راہ داری پر، طلبہ تنظیموں کے کارکنوں پر، اوپن بک امتحانات پر، خراماں خراماں اساتزہ پر، کالج کو کولج بولنے والی طالبات پر، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریش کی ایڈمنسٹریشن پر، بی ایس ای بلاک کی خستہ حال اور مخدوش عمارت پر، جنات اور بھتوں کے قصوں پر، سینٹر لائبریری اور اسکے خوش اخلاق نگہبان پر، کینٹین کے سموسوں پر، کلاس کی آنٹیوں پر، رجسٹرار صاحب کی شفقت پر، وائس جانسلر صاحب کی مصروفیات پر، صدر شعبے پر، ضمنی امتحانات پر، بیس بیس روپے میں کام کرنے والے چپراسیوں پر، دروازے پر کھڑے چوکیداروں پر کبھی نہ چلنے والے خراب جنریٹر پر یا اپنے چھ رکنی دل جلے گروپ پر۔ اسی شش و پنج میں میری نظر ایک مدت سے بند شعبہ ترجمہ و تالیف کے بورڈ کے نیچے جلی حروف میں لکھے ایک فقرے پر پڑی، میں نے اسے پڑھا، پھر پڑھا اور پھر پڑھتا رہا۔ لکھا تھا آج اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں نے 2007 میں جامعہ کراچی سے ملحق پاکستان شپ اونرز کالج سے بی کام کیا اور اسکے بعد والد گرامی کے مشورے پر ایم بی اے کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایم بی اے کرنے کے لئے کراچی میں دو درجن سے زائد نجی تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن سرکاری شعبے میں صرف دو ادارے ہیں ایک جامعہ کراچی اور دوسری وفاقی اردو یونیورسٹی۔ ان دنوں والد گرامی کی شدید علالت کی وجہ سے ہمارے معاشی حالات کافی تنگ تھے اس لئے کسی نجی تعلیمی ادارے میں داخلہ لیکر ستر اسی ہزارسمیسٹر فیس ادا کرنا میری دسترس سے باہر تھا۔ چنانچہ میں نے سرکاری جامیعات کے بارے میں معلومات اکھٹی کیں۔ جامعہ کراچی میں ایم بی اے کے ایک سمیسٹر کی فیس چوبیس ہزار اور اردو یونیورسٹی میں ساڑے سولہ ہزار تھی۔ والد گرامی، ہمشیرہ، اساتزہ اور دوستوں کے مشورےپر میں نے اردو یونیورسٹی کا ہی انتخاب کیا۔

دراصل وفاقی یونیورسٹی یا اردو یونیورسٹی یا وفاقی اردو یونیورسٹی انجمن ترقی اردو کی قائم کردہ اردو کالج کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اس ادارے کی بنیاد 1962 میں رکھی تھی اور اسکا مقصد اردو کو ذریعہ تعلیم بنانا اور سائنس، متنظمیات اور تجارت کی اعلی تعلیم اور تحقیق کے لئے اردو زبان کو قابل استعمال بنانا تھا۔ سال 2002 میں ڈاکٹر عطاء الرحمن اور جمیل الدین عالی کی گراں قدر کوششوں سے اس کالج کو جامعہ کا درجہ مل گیا، اگلے برس ایم ایس سی اور 2005 میں ایم بی اے اور ایم کام کے پروگرامز کا بھی آغاز کردیا گیا جبکہ اسلام آباد میں اسکا ایک اور کیمپس بھی قائم کیا گیا۔ اسوقت منصوبہ یہ تھا کہ چاروں صوبوں میں اس یونیورسٹی کے ایک ایک کیمپس قائم کئے جائیں گے۔لیکن باتیں اور اعلانات کے برخلاف ہوا کیا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی اردو کالج کی نیک نامی کو بھی کھا گئی۔ دوسری طرف اردو کی ترویج و اشاعت تو درکنار حال یہ رہا کہ ا سکا اپنا برانڈ نام ہی مکمل طور پر اردو میں نہیں ہے اور یہ اپنے تمام تر فائلوں، ریکارڈ اور اشتہارات میں جامعہ کی جگہ یونیورسٹی کا لفظ استعمال کرتی ہے۔ میں نے جب اردو ویکیپڈیا پر جامعہ اردو کے بجائے اردو یونیورسٹی کا عنوان باندھا تو وہاں کے منتظمین اتنے آگ بگولہ ہوئے کہ اس صفحے کو ہی مٹانے پر تل گئے لیکن کمال کی بات ہے جمیل الدین عالی ایسےبزرگوں کو یہ بات اب تک سمجھ نہیں آئی۔

یونیورسٹی کے انتظامی معاملات الگ قابل بحث ہیں۔ گزشتہ آٹھ سالوں میں جامعہ کو کوئی ایک بھی مستقل وائس چانسلر نہیں مل سکا۔ ڈاکٹر قیصر جنہوں نے ساری زندگی شعبہ نباتیات جامعہ کراچی میں گزار دی اب بڑھاپے میں یہاں لاکر وائس چانسلر بنادئے گئے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر کس بنیاد پر انہیں وائس چانسلر بنایا گیا ہے، اردو کے لئے انکی کیا خدمات تھیں؟ تدریس کے شعبے میں انکا کیا مقام ہے؟ اور انتظامی معاملات میں انکی کیا پہچان ہے؟ آئے دن کے تنظیمی جھگڑوں نےبھی اس یونیورسٹی کو مادر علمی کے بجائے سیاسی و لسانی اکھاڑے میں تبدیل کردیا ہے۔ اوپن میریٹ سسٹم کی وجہ سے آپکو یہاں پاکستان کے ہر حصہ کے طلب و طالبات بڑی تعداد میں نظر آئیں گے۔ اس ماحول میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تمام زبان بولنے والے طالبانِ علوم مل کر باہمی اخوت کا عملی مظاہرہ کرتے نظر آتے لیکن اسکے برخلاف یہاں تعصب، عصبیت اور لسانی منافرت اپنی انتہا پر پہنچی ہوئی ہے۔

انجمن ترقی اردو کا خواب یہ تھا کہ اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لئے یہ ادارہ ایک کامیاب مثال ہوگا، لیکن موجودہ حال کیا ہے۔ ماسٹرس کی سطح پر تمام مضامین انگریزی میں پڑھائے جارہے ہیں۔ شعبہ ترجمہ و تالیف اور شعبہ نشر و اشاعت کے نام سے شعبہ اور دفاتر موجود ہیں لیکن کام اب تک رتی برابر بھی نہیں ہوا۔ میں دو سال تک پوری بے ادبی سے کوئی بزم ادب ہی دھونڈتا رہا، کسی ترجمان مجلے کا انتظارہی کرتا رہا اور کسی تحقیقی کام کو دیکھنے کے لئے متجسس ہی رہا۔

چونکہ گریجویشن کے بعد مجھے بھی اکیڈمک ماحول میں پڑھنے کا کچھ شوق یا یہ کہیں کہ بخار چڑھ گیا تھا اس لئے میں اپنی انکھوں میں کئی خواب اور آرزو سجا کر اس یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا۔ میں میرٹ لسٹ دیکھ کر مطمئن ہوگیا تھا کہ تمام داخلے ساٹھ فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو دئے گئے ہیں لیکن جلد ہی میری یہ خوش فہمی ختم پوگئی کیونکہ جس انوکھے اصول کے مطابق داخلہ کمیٹی والوں نے اوسط نمبر لگائے تھے وہ ایک پوری مزاحیہ کہانی ہے۔ دوسری بار میرے تمام ارمان پر اس وقت پانی پھرا جب پوری داخلہ لسٹ میں زنانہ ناموں کی سخت خشک سالی پائی گئی، اس وقت تو میرے چودہ طبق روشن ہوگئے جب میں نے اپنے کئی ہم جماعتوں سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور اساتزہ سے ملاقات کرکے تو بس مت پوچھیں۔ ابتدائی چار دنوں کے بعد پہلی دفعہ کلاس میں کوئی زنانہ آواز گونجی۔ اووف، یہ ایک دندان ساز آنٹی تھیں، اسکے بعد ایک انجنیئر نانی اور ایک سندھی میں انگریزی بولنے کی شوقین استانی ہمارے سر کا درد بنیں۔ اچھی بات یہ تھی ہم احساس کمتری اور بدنصیبی کے مارے چھ  لڑکوں کا ایک گروپ بن گیا تھا جو کافی حد تک ہم عمر، ہم زبان اور ہم اہنگ تھے اور شاید انہی دوستوں کی مہربانی سے نہ نہ کرتے دو برس گزر گئے۔ میں ان دیگر دوستوں کے مقابلے میں پہلے سمسٹر میں سب سے زیادہ حاضر اور آخری تین سمسٹر میں سب سے زیادہ غیر حاضر رہا۔ کلاس ختم ہونے کے بعد ہمارے گروپ کا صرف ایک ہی کام ہوتا تھا بی بی اے اور دوسرے شعبوں کی طالبات پر اپنے اپنے گر آزماتے اور اس میدان میں ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش کرتے۔ یونیورسٹی میں پی ایس ایف سب سے مضبوط تنظیم تھی جس کا ایک ہی نعرا تھا “نہ پڑھو نہ پڑھنے دو”، دوسرے نمبر پر آئی ایس او تھی جن کا پیغام تھا “اردو یونیورسٹی کا مطلب کیا، حسن نصراللہ حسن نصراللہ”، تیسرے نمبر پر تھی جمیعت جن کا کہنا تھا “جامعہ اردو کے خلاف سازش بند کرو، امریکہ چلو امریکہ چلو” اور سب سے پیچھے تھی اے پی ایم ایس او جن کا فرمانا تھا “علم سب کیلئے اور کلاشنکوف صرف ہمارے لئے”۔ 🙂 ڈڈڈڈ بہرحال اصل داداگیری پی ایس ایف کی تھی اور اس لئے ان ساتھیوں نے یونیورسٹی کا نام بدل کر پاچاخان یونیورسٹی رکھا ہوا تھا۔

اردو یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلبہ بہت اچھی جگہوں پر بھی ہیں، کچھ لوگ آئی بی اے اور لمس کے پیشہ وروں سے زیادہ کامیاب ہیں لیکن مجموعی صورت حال کیا ہے، صاحب انتہائی غیر تسلی بخش۔ اردو کی ترویج و اشاعت کی بات تو ایک طرف کریں شہر کی اس دوسری سب سے بڑی یونیورسٹی نے باقی معاملات میں بھی کیا تیر مار لیا۔ کوئی ڈاکٹر قیصر سے جا کر پوچھے کہ انکی پراڈیکٹ کی مارکیٹ پوزیشن کیا ہے۔ آہ! مولوی عبدالحق کی روح کتنی تڑپتی ہوگی۔ کل کسی کام کیلئے اردو یونیورسٹی گیا تو وہاں بیٹھے بیٹھے مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اس یونیورسٹی میں گزارے اپنے دو سالوں کے احوال پر کچھ لکھوں، پھر خیال آیا کہ کیا لکھوں۔ طلبہ تنظیموں کی کی مار دھاڑ پر اور نعرے بازیوں پر، کسی پولنگ اسٹیشن کا منظر دیتی مرکزی راہ داری پر، طلبہ تنظیموں کے کارکنوں پر، اوپن بک امتحانات پر، خراماں خراماں اساتزہ پر، کالج کو کولج بولنے والی طالبات پر، شعبہ بزنس ایڈمنسٹریش کی ایڈمنسٹریشن پر، بی ایس ای بلاک کی خستہ حال اور مخدوش عمارت پر، جنات اور بھتوں کے قصوں پر، سینٹر لائبریری اور اسکے خوش اخلاق نگہبان پر، کینٹین کے سموسوں پر، کلاس کی آنٹیوں پر، رجسٹرار صاحب کی شفقت پر، وائس جانسلر صاحب کی مصروفیات پر، صدر شعبے پر، ضمنی امتحانات پر، بیس بیس روپے میں کام کرنے والے چپراسیوں پر، دروازے پر کھڑے چوکیداروں پر کبھی نہ چلنے والے خراب جنریٹر پر یا اپنے چھ رکنی دل جلے گروپ پر۔ اسی شش و پنج میں میری نظر ایک مدت سے بند شعبہ ترجمہ و تالیف کے بورڈ کے نیچے جلی حروف میں لکھے ایک فقرے پر پڑی، میں نے اسے پڑھا، پھر پڑھا اور پھر پڑھتا رہا۔ لکھا تھا آج اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے۔

فیس بک تبصرے

29 تبصرے برائے: آج اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

  1. اسی لئے تو بے چاری ماں روتی اور بين کرتی رہی
    واٹر واٹر کر موئيوں بچہ
    انگرجياں گھر گالے
    جے کر جاندی پانی منگدا
    بھر بھر ديندی پيالے

  2. عثمان says:

    سفرنامہ خوب ہے۔
    اردو ذریعہ تعلیم اتنا سیدھا معاملہ نہیں۔ ہم لوگ ہرچیز مغرب سے امپورٹ کرتے ہیں۔ علم بھی اس میں شامل ہے۔ ظاہر ہے جو اقوام دریافت اور ایجاد میں مصروف ہیں وہ متعلقہ تحقیقی لٹریچر بھی اپنی زبانوں میں ہی شائع کریں گی۔ اب یہ تو ہونے سے رہا کہ جرمن یا امریکی محقق میڈیکل سائنس یا فزکس کی تھیوریوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات بابائے اردو مولوی عبدالحق کے تصانیف سے مستعار لیں۔ 😆
    دیسی لوگ خودتحقیق شروع کریں گے تو ذریعہ تعلیم بھی دیسی زبانوں میں ہوجائے گا۔ ورنہ انگریزی فلم اردو میں ڈب کرکے کونسا معرکہ مارلیں گے؟؟

    “آنٹیوں” کے تذکرے سے یاد آیا کہ اپنی یونیورسٹی آف ٹورونٹو میں تو بچیاں بڑی پپو ہیں۔ اور قسم سے ہر ہر ملک کا مال ہے۔ 😛 😛 😛
    ویسے وہ “آنٹیاں” آپ کو کس نام سے پکارتی تھیں؟ 😉

  3. املا کی اتنی غلطیاں دیکھ کر صرف یہی بات یاد رہ گئی ہے کہ ::

    آج اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے. کاشف نصیر کا بلاگ.

    اس سے قبل بھی کسی قاری نے آپ سے درخواست کی تھی کہ املا کی غلطیاں درست کر لیا کریں.

  4. فیصل says:

    تحریر کا مزا املا کی بے تحاشا اغلاط نے غارت کر دیا حضور.
    شپ اونرز کو شپانرز، ہمشیرہ کو ہمشیرا، لمز کو لمس، بدنصیبی کو بدنسیبی؟؟؟ اور بھی کئی مقام ہیں لیکن وقت کی تنگی اجازت نہیں دے رہی. امید ہے آپ نظر ثانی فرمائیں گے.

  5. الف نون says:

    میں مہاجروں کی برتری کا ڈھنڈورا پیٹنا نہیں چاہتا لیکن دیکھ لیں جہاں کراچی میں پاکستاں کے دیگر علاقوں سے آئے ہوءے اکھٹا ھوں وہاں تعلیم کا جنازہ نکال دیتے ہیں..کراچی کے وسائل پر اپنا حق جتاتے ہیں اور عملی طور پر مسائل پیدہ کرتا ہیں
    حالانکہ جب میں بیروں ملک پاکستان کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے طالبعلموں سے ملتا ہوں خاص طور پر پٹھان تو انکو مہاجر طلباء سے کسی طور کم نہیں پاتا بلکہ شائد زیادہ زہین اور محنتی ..یہ تضاد کیوں ہے کیا ان علاقں کا کچرا کراچی آتا ہے ؟ یہ اک سوال ہے

  6. کاشف نصیر says:

    @ افتخار جی : آپکا تبصرہ سمجھ میں نہیں آیا۔
    @ منیر اور فیصل : املا میں اغلاط پیدائشی مسئلہ ہے جسکا وقت کے ساتھ ساتھ علاج نکال لیا جائے گا۔
    @ عثمان : ان تین آنٹیوں سے ہم ہمیشہ ہزار گز فاصلے پر ہی رہے اس لئے نہیں معلوم کہ وہ ہمیں کیا پکارتی تھیں۔ البتہ ان تینوں کا یہ شکوہ ہم نے ضرور سنا ہے کہ یہ لڑکے ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ انجنئر آنٹی نے ایک دفعہ کھانے کی بھی آفر کی تھی لیکن مجھے انکے ساتھ کھانے سے بہتر کراچی کے تھانے اچھے لگتے تھے۔
    @ الف نون : جزوی اتفاق کرتا ہوں اور سوال آگے بڑھاتا ہوں۔

  7. عثمان says:

    میرے خیال میں کراچی ایک سماجی بلیک ہول ہے۔ جو کچھ اس میں جاتا ہے اس کی جَون ہی بگڑ جاتی ہے۔ کراچی پر اپنی تھیوری پھر کبھی بیان کروں گیا جب کبھی کراچی کا سفر کروں گا۔ 😀 ویسے کراچی کے بلاگروں سے باتاں کرکر کے اب تو مجھے کافی اشتیاق ہو چلا ہے اس شہر کی زیارت کرنے کا۔
    تو پھر کون بیڑا اٹھائے گا بلاگراعظم کی میزبانی کا؟
    بیڑا اٹھانا۔۔۔بیڑا غرق ہی نہ کردینا :mrgreen:
    ویسے آپ کو کھانے کی آفر رد نہیں کرنی چاہیے تھی۔ کسی کا دل ہی رکھ لیتے ہیں یار۔ 🙁

  8. ساڈی ذات اے پنجابی، ساڈی پات اے پنجابی
    لانوں لاڈ لڈاؤن والی مات اے پنجابی
    ساڈا دین ایمان تے اوقات اے پنجابی
    کتے بھل نا جائیو پنجابیو!
    گورواں تے پیراں ولوں ملی سوغات اے پنجابی۔ 🙄 🙄

    نوٹ : یہ تبصرہ مشہور بلاگر افتخار اجمل بھوپال کا نہیں ہے۔

  9. @ عثمان: ہماری طرف سے آپکو خوش آمدید، ہم سب بلاگران آپ کے استقبال کے لئے قائد اعظم انٹرنیشنل ائر پورٹ پر موجود ہوں گے۔لیکن اگر کسی نے بلاگر اعظم کے شاندار استقبال کو روکنے کے لئے راستے میں کنٹینر کھڑے کردئے، یا کراچی آمد سے پہلے ہی بے دخلی کا نوٹیفیکشن جاری کردیا تو ہم سے شکوہ نہ کیجئے گا۔ عثمان قسم سے میں کبھی مفتہ نہیں چھوڑتا لیکن اگر گروپ میں ریکارڈ لگنے کا خوف نہ ہوتا۔
    ضروری نوٹ :
    مندرجہ ذیل آئی پی سے کوئی صاحب غلیظ گالیاں دے کر اپنے خاندانی پس منظر کا تعارف کرارہے ہیں۔
    72.20.28.44
    اور مندرجہ ذیل آئی پی رکھنے والے حضرات سے گزارش ہے کہ اپنی ذاتی شناخت پر اتنے شرمندہ نہ ہوا کریں کہ تبصروں کے لئے بھی دوسروں کی شناخت استعمال کرنا پڑے۔
    174.34.141.36
    80.84.55.217
    121.141.107.201

  10. عبداللہ says:

    یہ اے پی ایم ایس او کی کلاشنکوفیں جامعہ کراچی میں کیوں نظرنہیں آتیں،
    جبکہ اردو یونیورسٹی میں تو پی ایس ایف کی کلاشنکوفیں نظرآنا چاہیئں کیونکہ بقول تمھارے ہی وہاں پی ایس ایف والوں کا ہی ہولڈ ہے اور پھر میکر اور سپلائر بھی تو وہی ہیں یا ان کی قوم کے لوگ!!!!!!!!
    اچھا اچھا تمھاری موتیا اتری آنکھوں میں اے پی ایم ایس او جو رہتی ہے خاص کرتمام برے حوالوں سے!!!!!!!!

  11. امجدحسین says:

    اردو کی جیسی حالت آپ نے اپنے مضمو ن میں بیا ن کی ہے۔میں بلکل اتفا ق کرتا ھو آپ کے اس مضمو ن سے۔اور ایسی اردوکی حالت نا طرف جا مع اردو کی ھے بلکے سارے یونیورسٹی کا یے ھی حال ھے۔

  12. جعفر says:

    عنوان خوب ہے
    اور اس عنوان سے آپ نے‘ انصاف‘ بھی پورا کیا ہے
    تبصرے میں کھانے اور تھانے والی بات نے بہت مزا دیا

  13. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بہت خوب کاشف بھائی، دراصل اردو کی یہ ناگفتہ حالت انہی اردو کے ٹھیکداروں کی ہی توبنائی ہوئی ہے جو کہ ناں توخوداچھی طرح اردو بول سکتے ہیں اور نہ پڑھ سکتے ہیں تو وہ اس زبان کی ترقی کے لئے کیا کریں گے۔

    والسلام
    جاویداقبال

  14. املا کی غلطیوں میں مجھے بھی مات دے گئے۔ 😆
    آنٹی کی آفر کبھی بھی رد نہیں کرنی چاھئے۔ 😉
    مال مفت دل بے رحم۔
    تحریر بہت اچھی ھے۔
    بارہ سنگھے کے سینگھوں نے مزا دوبالا کردیا 😆

  15. محمد عمر says:

    تحریر بہت اچھی اور دلچسپ ہے

    “دوسری بار میرے تمام ارمان پر اس وقت پانی پھرا جب پوری داخلہ لسٹ میں زنانہ ناموں کی سخت خشک سالی پائی گئی،”
    ہر جگہ اسی بات پر ارمانوں پر پانی پھر جاتا ہے 😆

    جامعہ کراچی کے تجربہ کے بارے میں بھی کچھ قلم بند کریں

  16. عبداللہ says:

    جو تبصرہ مٹاکر تم بہت خوش ہورہے ہو وہ عنیقہ اور فرحان کی پوسٹ پر موجود ہے،ذرا پڑھ لینا!!!!!
    😆

  17. موجو says:

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ نے جامعہ اردو کا جو احوال لکھا ہے اس سے معلومات میں مزید اضافہ ہوا ہے میں خود بہت عرصہ تک یہ سمجھتا رہا یہ یہاں مکمل طور پر اُردو ذریعہ تعلیم ہوگا لیکن ایسا نہیں تھا۔ پہلے اور آخری پیرا گراف کو آپ نے دو دفعہ لکھ دیا اور یہ پورے ماحول کا عکاس پیرا گراف ایسے ہی لگ رہا ہے جیسے آپ نے سارے مضمون کی تلخیص کردی ہے۔

  18. کاشف نصیر says:

    @ امجد : دیگر جامیعات “اردو ہے جس کا نام” قومی زبان میں تعلیم” وغیرہ کا شور نہیں مچاتیں، اسلئے جامعہ اردو کو دیگر جامعیات سے ملانا درست نہیں ہے۔ پھر میں جامعہ کراچی میں ہوں، یہاں بزم ادب بھی اور ترجمان مجلہ بھی اور کئی شعبوں میں جو اردو میں پڑھنا چاہتا ہے اسکے لئے اردو میڈیم بھی ہے۔ تو اردو کے معاملے میں جامعہ اردو سے بہتر جامعہ کراچی ہوئی نہ۔
    @ جعفر : بہت بہت شکریہ
    @ جاوید اقبال : متفق ہوں
    @ یاسر : شکریہ، یار املا کا مسئلہ پیدائشی ہے۔ یار ریکارڈ لگنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو مال مفت پر ایک بار نہیں بار بار ہاتھ صاف کرتا۔
    @ عمر : واہ واہ کیا بات کردی آپ نے. بلاگ پر خوش آمدید اور ہاں آپ کیلئے اطلاع یہ ہے کہ کل شعبہ میں عید ملن ہے، پہنچا مت بھولئے گا اور کچھ پکا کہ ساتھ ضرور لائے گا نہیں تو کولٍڈ ڈرنک آپ کے ذمہ ڈال دی جائے گی۔ آپکی ہدایت ایس ایم ایس پر ملاخطہ کیجئے۔
    @ عبداللہ : 😆 میں اس قسم کی حرکت نہیں کرتا ہوں یہ آپ جانتے ہیں. وہ تبصرہ غیر متعلقہ تھا اسلئے اسے یہاں نہیں رکھا گیا۔
    @ موجو : یار یہ میرا پرانا انداز ہے، میں اپنے پہلے پراگراف یا اس کی کچھ لائینوں پر اپنا مضمون ختم کرتا ہوں۔

  19. hurf-e-aam says:

    Iqbal’s famous couplet:
    جس کھیت سے دہکان کو میسر نہ ہو روزی
    اس کھیت کہ ہر خوشہ گندم کو جلادو
    simirlary:
    جس جامعہ میں میسر ہو علم کی موتی
    اس یونیورسٹی کو کھیت ہی بنا دو ……

  20. عبداللہ says:

    اچھااااااااااااا
    واقعی؟؟؟؟؟
    ویسے وہ پوسٹ اتنی محنت سے لکھنے کے بعد ہٹا کیوں دی تھی۔ہاں ہاں بھئی جھوٹ بولنے میں بھی محنت لگتی ہے بلکہ ضمیر کو سلانا بھی پڑتا ہے اگر زندہ ہو توِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لگتا ہے جھوٹ پکڑے جانے کا ڈر ہوگیا تھا تمھیں!!!!!!!!!!!!!!!
    🙂

  21. عثمان says:

    کاشف کا یہ انداز تحریر مجھے پسند ہے.
    یار میں تو کہتا ہوں کہ دونوں مل کر کوئی کتاب شتاب لکھتے ہیں۔

  22. کاشف نصیر says:

    @ عثمان :
    تمہاری پسند کا سن کر دل بہت بڑا ہوگیا ہے 😆
    یار پیشکش تو اچھی ہے۔لیکن موضوع کیا ہوگا؟
    صدر زرداری کی سوانح عمری کا ٹھیکہ نہ پکڑ لیں دونوں، مالا مال ہوجائیں گے۔
    اگر جعفر اور ڈفر کو بھی ساتھ ملا لیں تو بارہ سنگھوں کی معیوب ہوتی معاف کرنا نایاب ہوتی نسل کے بارے میں بھی ایک معلوماتی کتاب سامنے آسکتی ہے۔ جو کہیں بکے نہ بکے بلاگستان میں ضرور پاتھوں ہاتھ بکے گی۔

    ویسے اگر سنجیدہ بات کی جائے تو ایک کام جو اچھا ہوسکتا ہے وہ اردو بلاگستان سے منتخب تحاریر کو جمع کر کر کتابی شکل میں شائع کرنا ہے۔ اس کاوش سے بلاگستان کے باہر کے اردو کھانے پینے والوں کو بھی بلاگستان میں پکنے والی کھچڑیوں کا ذائقہ معلوم ہوگا۔

  23. عبداللہ says:

    کاشف ایک تجویز میری بھی ہے تم ایسا کرو کہ اپنی انسان نما گدھے والی نسل پر ایک کتاب لکھو یا پھر کوئیں کے مینڈکوں پر بھی کتاب بہت پسند کیجائے گی خاص کرتمھارے ہم خیال لوگوں میں،8)
    ورنہ جھوٹ اور مکاری کے ہزار راز
    جس کے تم اسپیشلسٹ ہو کیسی رہے گی؟؟؟؟؟؟؟؟
    😆

  24. عثمان says:

    کاشف۔۔۔
    ویسے اکھٹے کام کیا جاسکتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو تم سے سیکھنے کا موقع ہی ملے گا۔ 😀
    سوچتے ہیں کچھ۔ 8)

  25. واہ کاشف صاحب! کیا لکھتے ہیں آپ۔۔۔۔!!!
    یاد ہی نہیں رہا کب ہم اسے پڑھنے میں اتنا مشغول ہوگئے کہ ہمارا کام تھوڑی دیر کے لئے یتیم ہوگیا۔۔۔

    اردو یونیورسٹی کا کوئی کیا حال سنائے کاشف بھائی، آپ گلشن کیمپس کو رو رہے ہیں، کوئی جاکے عبدالحق کیمپس کی خبر لے۔۔ تعلیم کا کیا حال ہوگا یہ تو آپ بتاچکے ہیں، تنظیمی کاروائیوں پر بھی آپ نے روشنی ڈال دی ہے۔۔۔ بس یہ کہنا چاہوں گا کہ عبدالحق کیمپس میں کینٹین یا کیفیٹیریا کا رواج ہی نہیں ہے!

    تعلیمی معیار کا یہ حال ہے کہ یہاں داخلہ صرف ڈگری کے حصول کے لئے لیا جاتا ہے۔۔۔ اللہ حکومت کو ہدایت بخشے!

  26. ایک بات کبھی میری سمجھ نہیں آئی کہ جب پہلے ہی ابلاغ عامہ یعنی ماس کمیونیکیشن کا شعبہ موجود تھا تو میڈیا سائنسز کے نام سے نیا اور بہتر شعبہ قائم کرکے فرق کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

  27. Rafi ud Din says:

    Assalam o Alaikum wa Rahmatullah e wa Barakatoho,
    Ezzat M,aab Muhtram Shaikh sahib! I am student of PhD Islamic Studies
    in Sargodha University.My topic for PhD thesis is ” PUNJAB MAEN ULOOM UL QURAN
    WA TAFSEER UL QURAN PER GHAIR MATBOOA URDU MWAD” please guide me and
    send me the relavent material.I will pray for your success and forgiveness
    in this world and the world hereafter.
    Jzakallah o khaira
    hopful for your kindness.
    your sincerely and Islamic brother,
    Rafi ud Din
    Basti dewan wali street Zafar bloch old Chiniot road Jhang saddar.
    Email adress: drfi@ymail.com 03336750546,03016998303

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>