صفحہ اوّل » کاشف نامہ

ابھرتی ہوئی نئی عالمی طاقت

مصنف: وقت: بدھ، 14 دسمبر 2016کوئی تبصرہ نہیں

مریکہ تیزی سے بیک فٹ پر جارہا ہے جبکہ روس ایک بار پھر عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ جنگ، پراپیگنڈا اور سفارتکاری غرض ہر معاملے میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کو پیوٹن سے شکست کا سامنا ہے اور ڈونلڈ ٹریمپ کی کامیابی کو اس سلسلے کا کلامکس قرار دیا جارہا ہے۔ ان حالات میں ماضی کے کچھ سرخے، حال کے لبرل اور مستقبل کے مکسچر ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کی ہمنوائی میں اپنا مستقبل روشن دیکھ رہے ہیں۔

لیکن وفاداری اور نظریات جو بھی رہیں، دوہرہ معیار انکی مسلمہ شناخت ہے۔ یمن اور بحرین کیلئے انکے اصول ایک ہیں تو شام کیلئے اسکے بلکل برعکس دوسرے۔ ترکی میں میں انہیں آزادی صحافت کا غم لاحق ہے لیکن مصر اور بنگلادیش کا رخ کرتے ہوئے انکے پر جلتے ہیں۔ سعودیہ عرب کی مذہبی انتہاپسندی انہیں پریشان رکھتی ہے لیکن ایران کی شدت پسندی پر یہ اکثر راضی نظر آتے ہیں۔ مودی، ڈونلڈ ٹریمپ اور حزب اللہ انہیں قبول ہے لیکن حماس اور اخوان سے شدید چڑ۔

پیرس سے لیکر ممبئی تک ہر پرایا غم انکو ستاتا ہے لیکن برما، مصر، شام اور فلسطین کا زکر سن کر یہ گھر کی فکر کا مشورہ دینا نہیں بھولتے۔ فتح اللہ گولن کے حامی اساتذہ کی بے دخلی پر انہیں قومی خودمختاری کے جھٹکے لگتے ہیں لیکن ڈرون حملوں اور ریوینڈ ڈیوس کے معاملے میں انکے سر پر جو نہیں رینگتی۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے منفی اثرات سے بھی دانستہ صرف نظر برتتے ہیں لیکن کراچی آپریشن کے مثبت نکات بھی قبول نہیں کرتے۔ ملالہ کے زکر پر یہ خوش ہوتے ہیں اور عافیہ صدیقی کا نام سنتے ہی منہ بنالیتے ہیں۔ ظالم اور مظلوم کی ایسی بھیانک تقسیم نفرت میں اضافے کے سوا کسی اور چیز کا باعث نہیں بنتیں۔

انہیں جب اس دوہرے معیار پر توجہ دلائی جائے تو کبھی اسے قومی کاز کے کفن میں لپیٹتے ہیں، کبھی معاشی مفادات کے نوالے میں بند کردیتے ہیں اور کبھی جوابدہی سے بری الذمہ ہوکر آگے بڑھ جاتے نہیں۔ مفادات کو دانش، لفاظی کو انسانیت اور فیشن کو فکر کا نام دیکر انہیں وقتی شہرت تو مل جاتی ہے لیکن تاریخ ایسے ابن الوقتوں کو فراموش کردیتی ہے۔ یاد صرف وہ رہتے ہیں جو نظریات، مفادات اور عصبیت سے بالاتر ہوکر باطل کے مقابلے میں حق، ظالم کے مقابلے میں مظلوم اور طاقتور کے مقابلے میں کمزور کے ساتھ کھڑے ہوں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>