صفحہ اوّل » کاشف نامہ

اردو بلاگرز کا ماضی، فیس بک لکھاریوں کا مستقبل

مصنف: وقت: پیر، 2 جنوری 2017کوئی تبصرہ نہیں

کوئی تین سال پرانی بات ہے کہ کسی کونے میں قریب دو سو لکھاریوں کی ایک ورچوئل ریاست ہوا کرتی تھی جس کے باشندے خود کو اردو بلاگرز کہتے نہیں تھکتے تھے۔ جب حقیقی دنیا میں بلاگرز ابلاغی انقلاب کی قیادت کر رہے تھے، یہ باشندگان بلاگستان ستائش باہمی پر گزارا کرتے۔ ان کے قارئین کا مجموعی حلقہ ہزار سے کچھ زیادہ نہ تھا۔ تمام شہری ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ان میں ہر ایک اپنی دانست میں سلطنت کا بےتاج بادشاہ تھا۔ اردو سیارہ نامی ویب سائٹ نے اس ریاست کو زنجیر کی مانند جوڑ رکھا تھا اور انجمن ستائش باہمی نے تعلق برادری ایسی بنا دی تھی جیسے کوئی خاندان ہو۔

لیکن جیسے جیسے ان لکھاریوں کی عمریں بڑھتی گئیں، فرصت مصروفیت کی چادر اوڑھتی رہی، دال روٹی کے بھاؤ سے واسطہ پڑا، تو تسلسل توٹنے لگا، فرار بڑھنے لگا اور قلم پر زنگ لگنے لگے۔ دوسری طرف فیس بک پر اردو لکھنا آسان ہوگیا تھا، اسمارٹ فون نے بہت سے تکنیکی مسائل اور لوازمات ختم کردیے تھے، چنانچہ نسبتا بڑے فورم پر تیزی سے نئے لوگ ابھرنے لگے۔ جیسے جیسے فیس بک پر منج سجتی گئی، اردو بلاگرز کی محفل کا رنگ پھیکا پڑتا گیا۔ یہاں تک کہ سیارہ کے چند لکھاریوں کے سوا باقی تمام لوگ گمشدہ تاریخ کے فراموش کردار بن گئے۔

فی زمانہ فیس بک پروفائل کا دور ہے۔ تسلسل سے لکھنے والے تین ہزار ہوں گے اور اچھا لکھنے والے بمشکل سو۔ ان تمام کے حقیقی قارئین کا مجموعی حلقہ 5000 سے 8000 ہے۔ یہ انجمن ستائش باہمی کے مقابلے میں ایک بڑا کلب ہے، جسے ہم ریاست نہیں ایک پوری دنیا کہہ سکتے ہیں۔ یہاں کچھ فین اور فالورز بھی ہوتے ہیں اور ان پر وار کرنے کے لیے بلاک ایسے مہلک ہتھیار بھی۔ ادھر آپ نے اسٹیٹس لگایا، ادھر آپ کے فین داد و تحسین دینے اور ہواؤں میں اڑانے پہنچ گئے۔ کبھی کبھار زیادہ فین رکھنے والوں کو تحائف بھی میسر آجاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس محدود دنیا کے باہر انھیں کوئی نہیں جانتا۔ نہ ان کی باتوں کا سماج پر کوئی اثر ہے اور نہ طاقت کے مراکز کو ان سے کوئی سروکار۔

لیکن ان کی خوش فہمی ہے کہ ذرا نیچے آنے کا نام نہیں لیتی۔ چند سو فین نے انھیں شہرت کے اس نشے میں مبتلا کر دیا ہے کہ گویا روزانہ میاں صاحب کے ناشتے پر ان کا اسٹیٹس چنا جاتا ہو، خان صاحب کو ان کی سمری بنا کر پیش کی جاتی ہو اور جنرل صاحبان جاگنگ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے اس کا تذکرہ کرتے ہوں۔ یہی نہیں اکثر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کے تمام بچے اسکول جانے سے پہلے، صاحب دفتر پہنچ کر اور بیگمات گھرداری سے فراغت پاتے ہی انہیں دل اور پھول والے تبصرے دینے دوڑ پڑتی ہوں۔ بعید نہیں کچھ عرصے بعد یہ اپنے اسٹیٹس پر نجی نیوز چینلز کی طرح ارباب اختیار کے نوٹس لیے جانے کی بھی سرخیاں لگایا کریں۔

فیس بک کے اس عالم موہوم میں کہیں الفاظ کے تیر ہیں، کہیں میں میں کے نشتر، کہیں علم کا غرور اور کہیں کچھ نمایاں شخصیات سے تعلقات کا بھرم۔ کوئی پروفیشنل بندہ انہیں سوشل میڈیا سمجھانے کی جسارت کر دے تو پھر جواب میں ایسے ایسے لطائف جنم لیتے ہیں کہ الایمان و الحفیظ۔ اس دنیا میں ان کا ایک اصول مسلمہ ہے۔ اگر کبھی اسٹیٹس پر رونق نہ لگے تو کوئی ایسی عجیب متنازع بات پھینک دو کہ بھلے اس کے سر پیر نہ ہوں لیکن مخالفین کے تن من میں ایسی آگ لگ جائے کہ تبصرے اور جوابی اسٹیٹس کا دور چل پڑے۔ ربیع الاول، قربانی، کرسمسس، محرم، متعہ اور ویلینٹائن ڈے کی بحثیں الگ ہیں۔

فیس بک مولویوں کا بھی محبوب فورم ہے۔ آٹھ سالہ نصاب مدرسہ نے انہیں بھلے کچھ اور نہ سکھایا ہو، لیکن اردو لکھنے کی لت ضرور لگا دی ہے۔ فیس بک تو ویسے بھی پچھلے ڈیڑھ سو سال میں ابلاغی میدان میں واحد حلال ایجاد ہے 🙂 سو مولوی صاحبان قطار در قطار صف بنائے اس کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان کے عامیانہ دلائل اور تفرقہ بازی جو جمعہ کے خطبے میں غلطی سے جلدی پہنچ جانے والے نمازیوں کے لیے کبھی مزاح اور کبھی نفرت کا سامان پیدا کرتے تھے، اب ترقی پا کر یہاں آگئے ہیں۔ اردو میڈیم میں لبرلز اور سرخوں کی بھی ایک پوری فوج اس دنیا میں تابکاری پھیلانے میں کسی سے کم نہیں۔ ان میں سے ہر ایک خود کو بیک وقت سقراط، افلاطون، فیض اور حبیب جالب سمجھتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان سب کے پیٹ میں ڈاڑھیاں ہیں جسے ان کے احساس کمتری اور منافقت نے چھپا رکھا ہے۔

جس طرح سیارہ کے بلاگ ماضی کا حصہ بن گئے ہیں، اسی طرح فیس بک کی اس عالم موہوم میں مقبول لکھاری بھی ایک دن گم ہوجائیں گے۔ وجہ یہ ہے کہ بغیر کسی صلے کے بندہ ایک حد تک کام کرتا ہے، زبانی تحسین اور خالی تھپکیاں جلد سحر سے نکال دیتی ہیں۔ تحائف بھی بہت زیادہ بروئے کار نہیں آتے۔ جیسے ہی زندگی کے مسائل سے واسطہ پڑتا ہے، شوق کی دنیا سے تعلق کم ہوتا جاتا ہے۔ بندہ ہمیشہ آسودہ حال نہیں رہتا، شاہراہ حیات پر اتار چڑھاؤ کے سامنے دلچسپیاں زیادہ عرصے قائم نہیں رہتیں۔ ترجیحات بدلتی ہیں تو دن رات کے مشاغل بھی بدل جاتے ہیں۔

آپ جب تک بلاگنگ کو پروفیشنل نہیں کریں گے، اسے کیرئیر نہیں بنائیں گے اور اس کے ساتھ معاش کو نہیں جوڑیں گے، یہ حقیقی معنوں میں اس وسیع سطح کا کام کرنے سے محروم رہے گی جو کہ اردو زبان اور اہل اردو کی ضرورت ہے۔ خدمت کے تمام دعووں کے ساتھ اردو سیارہ ماضی ہوا، فیس بکی دانشور ماضی ہونے کو ہیں، اور نظریاتی بے ساکھیوں پر کھڑے ہم سب کے دلیل اور مکالمہ بھی تھک ہار کے رک جائیں گے۔ کام صرف وہی دیرپا ہوگا جن سے گھروں کے چولہے جلتے ہوں، بچوں کی فیسیں جاتی ہوں اور بیگم صاحبہ کے فرمائشیں پوری ہوتی ہوں۔ اگر کبھی ایسا ہوا تو اردو بلاگنگ خودبخود چند ہزار کی محدود دنیا سے نکل کر کروڑوں اردو بولنے والے انٹرنیٹ صارفین کی انگلیوں پر آجائے گی۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>