صفحہ اوّل » کاشف نامہ

اعلامیہ تاشقند

مصنف: وقت: بدھ، 10 جنوری 2018کوئی تبصرہ نہیں

10 جنوری 1966 کو جنگ ستمبر کے تقریبا چار ماہ بعد روس اور امریکہ کے دباو پر ازبکستان کے دارلحکومت تاشقند میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے، جسے اعلامیہکے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے طے پایا کہ دونوں ملکوں کی افواج 25 فروری تک ماہ اگست سے پہلے کی پوزیشن پرواپس چلی جائیں گی، تمام جنگی قیدی واپس کردئے جائیں گے اور دونوں ممالک اپنے باہمی مسائل کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر دوطرفہ بات چیت کے زریعے حل کریں گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاہدے پر دونوں ہی ملکوں میں یکساں رد عمل دیکھنے کو ملا۔ ہندوستانی اخبارات نے لکھا کہ پاکستان سے لائن اوف کنڑول پر دراندازی روکنے کی کوئی یقین دہائی نہ لیکر سرحد پر سینا کی قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا ہے جبکہ پاکستان میں اس معاہدے کو قوم اور مسئلہ کشمیر سے غداری سے تعبیر کیا گیا۔ مبینہ طور پر عسکری کمان کی شہ پر زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے قومی اخبارات میں یہ بیانیہ ترتیب دیا گیا کہ ایوب خان نے جیتی ہوئی جنگ، مزاکرات کی میز پر ہار دی ہے۔ زولفقار علی بھٹو ان الزام تراشیوں میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے احتجاجا استعفی دیکر معاہدے کے خلاف ایک عوامی تحریک کی بنا ڈالی جو آگے چل کر پاکستان پیپلز پارٹی کی تاسیس کا محرک بنی۔

پاپولر سوچ کے برعکس سابق ائیر مارشل اصغر خان نے اپنی کتاب “دی فرسٹ راونڈ” میں زولفقار علی بھٹو پر یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے تاشقند معاہدے کے خلاف بھرپور عوامی مہم صرف اس لئے چلائی تاکہ کسی بھی ایسی انکوائری کمیشن کے قیام کی راہ کو مسدود کرسکیں جسکا مقصد لاہور پر حملے کی پیشگی منصوبہ بندی نہ کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہو۔ اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل موسع خان کی کتاب” مائی ویزن” میں جس طرح اپنی خودنمائی کی ہے، اس سے بھی اس خیال تقویت ملتی ہے کہ اعلی عسکری کمان اور بھٹو صاحب نے دانستہ طور پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

بھٹو اور موسی خان ایسے خود پسند اشخاص کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہونے کے بعد صدر ایوب خان بہت سی حقیقتوں سے واقف ہوچکے تھے۔ شاید اسی لئے انہوں نے اپنی کتاب “فرینڈ ناٹ ماسٹرز” میں جنگ کا سرے سے ذکر ہی نہ کرکے خاموش احتجاج پر ہی اکتفا کیا۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>