صفحہ اوّل » آوارہ گردی

بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ

مصنف: وقت: بدھ، 28 جولائی 201031 تبصرے

عروس البلاد کی فضاوں میں جب بھی سانولی گھٹائیں چھاتی ہیں اور رم جھم کے آثار نمودار ہوتے ہیں ہم جہاں کہیں بھی ہوں کسی بے خود پروانے کی مانند مادر علمی کی جانب دوڑ پڑتے ہیں۔ صاحب پڑھنے کیلئے نہیں بھیگے موسم کے رنگ میں رنگنے اور ٹپ ٹپ گرتی ایک ایک پھوار میں چھپی رومانیت کا مزا دوبالا کرنے کیلئے۔ ارے خبردار جو آپ نے ہم پر شک کیا، ہمارا کہیں کوئی ایسا ویسا چکر وکر نہیں ہے وہ تو بس جامعہ کراچی کی بات ہی ایسی ہے کہ برسات میں کھل اٹھتی ہے اور بارش کے دن پورے کراچی میں اس سے خوبصورت جگہ کم از کم ہمیں تو کوئی اور معلوم نہیں ہوتی. دھلی ہوئی بل کھاتی سڑکیں اور ان پر چلتے ایک دوسرے پر پانی اڑاتے من موجی لڑکے اور لڑکیاں، بھیگے ہوئے سر سبز درخت اور ان پر بیٹھے سہمے ہوئے پرندے، اجٹ جھاڑیوں میں اچانک نمودار ہو جانے والی جھومتی گاتی رقص کرتی ہریالی اور ان پر گرتی رم جھم پھوار، پریم گلی اور فارمیسی کی کنٹین جہاں پورا جامعہ امڈ پڑتا ہے، گرم گرم سموسے ٹائپ ٹکیہ، کھٹی میٹی چاٹ اور آوارگی میں مست مخلوق ٹولیاں اور الگ الگ گھومتے بے خوف جوڑے۔اوف مت پوچھئے جامعہ کراچی کے سنگ بھیگے موسم کا جو رنگ وہ کہیں اور نہیں۔

ہمیں جامعہ کراچی میں پڑھتے ہوئے یہ دوسرا سال ہے۔پچھلے برس جب ہمیں جامعہ کے شعبہ ابلاغ عامہ میں داخلہ ملا تو ہماری کفیت دیدنی تھی۔ کئی دن تک تو ہم مارے خوشی کے پھولے نہیں سمارہے تھے۔ صاحب بات ہی ایسی تھی کہ ہمارے مادر علمی میں پڑھنے کا ایک پرانا خواب تھا جو بس پورا ہوا چاہتا تھا۔ پھر کیا تھا جامعہ کی اندھیری اور تاریک کلاسیں، سلور جوبلی سے شعبہ تک روزانہ کی پیدل واک، لفٹ کے لئے ہر ایلے میلے کو ہاتھ دینا، پریم گلی کی چٹ پٹی چاٹ، سائے دار درخت، کتابی اور جھگڑالو حسینائیں، سیمنار لائبریری میں اشاروں کناوں میں گپ شپ، آرٹس لابی کی رنگینیاں، پوانٹ پر سیٹ کے لئے جھگڑے، اساتزہ سے بحث و مباحثے اور آئے دن کی ورکشاپ ہمارے روزانہ کا معمول بن گئے۔

ابتداء میں نئی نویلی دلہن کے مصداق ہمیں جامعہ کی ہر ادائیں بہت سہانی معلوم ہوتی تھیں. پہلا مہینہ دوستیاں اور شناسائیاں بنانے میں گزر گیا اور اگلے دو مہینے میں ہم نے جامعہ کا کونا کونا چھان مارا، کبھی اس شعبہ کبھی اس شعبہ، کبھی یہاں کی چاٹ تو کبھی وہاں کے سموسے. پھر کچھ ٹھراو آیا اور سب یار دوست سمسٹر کی تیاریوں میں ادھر ادھر گروپ کی صورت میں بٹ گئے. پڑھنا پڑھانا تو ہمارا کبھی معمول نہیں رہا اس لئے ہم نے کسی گروپ کو جوائن نہیں کیا۔ پہلا سمسٹر جیسے تیسے اور ہسنتے کھیلتے گزر گیا لیکن دوسرا سمسٹر دہلی کی کسی کٹنی کی طرف ہمارے سر پر نازل ہوا۔ کلاس کے اندر اور باہر کہانی گھر گھر کی ایسی سریل شروع ہوئی کہ مت پوچھیں. دو دو چار چار کی ٹولیاں اور اِسکو کاٹ ’اسکو کاٹ. ہم جو ہمیشہ سے ہر کسی سے بنا کر رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے ایسے کہیں بھی فٹ نہ ہوئے اور اپنے میجر صاحب کے ساتھ غیر جانب دار تحریک میں شامل ہوگئے۔

ہم شعبہ ابلاغ عامہ والے بھی کتنے مظلوم ہیں کہ اچھا خاصہ جامعہ کے قلب آرٹس لابی کے سنگم پر آباد تھے کہ کسی نے اٹھا کر ایک کونے کدھر ے میں پھینک دیا. نئی، شاندار اور ذاتی عمارت کے سنہرا خواب دیکھا کر ظالموں نے ایسا لوٹا کہ مت پوچھئے۔ وہ جو اپنی مشہور زمانہ اپنے بھائی والی فارمیسی ہے ارے وہی جہاں رونق لگی رہتی ہے سے سیدھا چلتے جائیں، جب سناٹا اور ویرانہ خاموشی سے آپکا استقبال کرے تو سمجھ لیں کہ آپ ہم اہلیاں ابلاغ عامہ کی دہلیز پر آن پہنچے ہیں۔ سر اٹھا کر دیکھئے سامنے ڈاکٹر فیروز احمد کے نام سے منسوب ایک دیو ہیکل عمارت آپکو کاٹ کھانے ڈورے گی۔ ارے زرا آرام سے، نظریں نیچے کرکے گاڑیوں کی قطار کے بیچ سے ہوتے ہوئےمرکزی راہ داری سے اندر داخل ہوجائیں۔ خبردار جو داخلی چبوترے پر بیٹھے کسی گم سم جوڑے کی طرف نظر کی۔ اگر گھڑی صبح کے اگیارہ یا شام کے پانچ بجارہی ہو تو آپکو کچھ نہ کچھ خلقت ضرور نظر آئے گی اور ہاں ادھر ادھر گھومتی خاتون طالبات کو دیکھ کر یہ مت سمجھئے گا یہاں کہیں پانی کھڑا ہے، طبیعت کو سکون نہ ملے تو فورا یاد کیجئے گا کہ آپ مستقبل کے میڈیا والوں کے مہمان ہیں.ایک بات جو سب سے اہم ہے کہ اگر آپ کا شعبہ میں قیام کے دوران تازہ دم ہونے یا وضو کرنے کا کوئی ارادہ ہے تو ازراہ احتیاط پانی کی ایک بوتل ساتھ رکھنا مت بھولئے گا کہ استنجاء میں جاکر زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ مرکزی حال کے ایک کونے پر عبدل میاں کی کینٹین ہے اور دوسرے کونے پر فوٹو اسٹیٹ والے اور دونوں کے دائیں اور بائیں بل کھاتی سیڑھیاں ہیں جس سے ہوتے آپ بالائی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔

پچھلے برس جب ہم مادر علمی کا حصہ بنے تھے تو ان دنوں محمود غزنوی صاحب ہمارے صدر شعبہ ہوتے تھے۔ صاحب وہی محمود غزنوی جو اسی کی دہائی کے پہلے یا دوسرے سال میں جامعہ کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے اور جن کے انداز خطابات کا سکہ چلتا تھا۔ محمود غزنوی سے یاد آیا کہ انکے ایک دیرینہ دوست اور سابق جماعتی حسین حقانی آج کل امریکہ میں پاکستان کے سفیر بنے بیٹھے ہیں۔ ہمیں ٹھیک سے یاد نہیں آرہا کہ حسین حقانی پہلے صدر ہوئے تھے یا محمود غزنوی البتہ دونوں سابق جماعتی آگے پیچھے صدر طلبہ یونین ہوئے۔ ہمارے والد صاحب نے بھی ان ہی سنہری دنوں میں جامعہ سے ایم اے انگریزی ادب کیا تھا۔ وہ جب موڈ میں ہوتے تھے تو جامعہ میں یونین انتخابات کا انتہائی دلفریب نقشہ کھینچتے کہ پرامن ماحول میں اصل مقابلہ تو جمیعت اور لبرل کا ہوتا لیکن کئی نت نئے مسخرے گروپ بھی ووٹ مانگتے نظر آتے تھےگو انیس سو انہتر میں الطاف حسین صاحب اور انکا محرومی والا نظریہ بھی جامعہ میں وارد ہوچکا تھا لیکن انیس سو چھیاسی تک پورے جامعہ میں کلیہ سائنس کے دو چار لوگوں کے علاوہ کوئی انہیں پوچھتا بھی نہیں تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں کہ یہاں سالوں سے گورنر سندھ کے منظور نظر ایک حق پرست وائس چانسلر بیٹھے ہیں اور مصیبت یہ ہے کہ صرف بیٹھے ہی ہوئے ہیں۔

آ ہا، بات برسات کے حسین رومانوی رنگ سے شروع ہوئی تھی اور چلتے چلتے شعبہ ابلاغ عامہ کی بھبکیوں سے ہوتے ہوئے سیاست ’ویاست کی طرف جانکلی۔ ارے چھوڑیں اس بھیگے موسم میں شعبہ ابلاغ عامہ اور بے کار سیاست کو اور تیار ہوکر جامعہ کراچی طرف آجائیں۔ پی جی پر کھڑے ہوکر رنگ برنگی چھوکریوں کے پچھوارے میں چٹ پٹی چاٹ کھائیں اور انکی خوش گپیوں سے اپنی سماعت کو معطر کریں، قسم سے مزا آجائے گا۔

فیس بک تبصرے

31 تبصرے برائے: بھیگے موسم کے رنگ، جامعہ کراچی کے سنگ

  1. نئے گھر کی مبارکباد قبول کیجیے۔ آپ کے ارادے بتاتے ہیں کہ آپ صحافت میں نہ صرف گھس کر رہیں گے بلکہ کامیاب بھی ہوں گے۔ بس چھوٹی سی گزارش ہے کہ املا کی غلطیوں پر ضرور دھیان رکھیے گا۔

  2. نعمان says:

    خوبصورت تحریر ہے۔ عمار بھی اپنی تحاریر میں جامعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ امید ہے آئندہ بھی جامعہ میں اپنے شب و روز کے بارے میں لکھتے رہیں گے۔

  3. عثمان says:

    گم سم جوڑوں کے متعلق مزید تفصیل درکار ہے. 😆

  4. عبداللہ says:

    کیونکہ منیر عباسی میرا تبصرہ موڈریشن میں ڈال کر بھول گئے ہیں اس لیئے تمھاری بات کا جواب تمھارے بلاگ پر دیئے دے رہا ہوں!
    ہر جگہ مسلم لیگ اور پی پی پی کے جعلی ڈگری والوں کے خلاف بات کی جارہی ہے، مگر تم بلاگر تو سو رہے تھے نا!
    سب جاگے تو عامر لیاقت کی ڈگری پر جو کہ ایم کیو ایم کا رکن بھی نہیں اور ابھی اس کی ڈگری کہیں تصدیق کے لیئے بھیجی بھی نہیں گئی!
    رہا سوال لاہور میں کشتیاں چلنے کا تو تمھیں بڑی تکلیف ہوئی؟؟؟؟؟؟
    اور دیکھ لو لاہور کی کشتیوں کی تصویریں نہیں لگیں مگر کراچی میں بارش کی تصویریں پنجاب والوں نے فورا بلاگ پر لگادیں ،مگرافسوس کہ انہیں یہ یاد نہیں رہا کہ اب نہ تو کراچی میں مصطفی کمال میئر ہے اور نہ ہی متحدہ کی بلدیاتی حکومت!!!!!!!
    پھر بھی متحدہ کراچی کو اون کرتی ہے اور اب بھی وہی لوگ سڑکوں پر صفائیاں کرواتے پھر رہے

  5. عبداللہ says:

    پھر بھی متحدہ کراچی کو اون کرتی ہے اور اب بھی وہی لوگ سڑکوں پر صفائیاں کرواتے پھر رہے ہیں ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود!

  6. عبداللہ says:

    بہت اچھے!
    جماعتی بھی ہیں اور ٹھرکی بھی!
    یعنی یک نہ شد دو شد:wink:

  7. کاشف نصیر says:

    کون جماعتی اور کون ٹھرکی، عبداللہ صاحب آپ اپنا نام بدل کے عبدل الطاف کیوں نہیں رکھ لیتے کہ ہر نقاد آپکو جماعتی ہی نظر آتا ہے. پچھلے بلاگز پر جائیں اور دیکھیں کہ ہم نے شاید ایم کیو ایم کے خلاف کبھی کوئی بلاگ نہ لکھا ہو لیکن جماعتیوں کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا

  8. کاشف نصیر says:

    نعمان اور میرا پاکستان بلاگ پر خوش آمدید، تحریر کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ. املا کی غلطیاں بہت پرانی اور پختہ ہیں آسانی سے دور نہیں ہونگی. عثمان صاحب گم سم جوڑوں کے بارے میں تفصیل کے ساتھ جلد حاضر ہوں گا.
    عبداللہ صاحب ایم کیو ایم والے ہمارے بھائی ہیں، میرے کئی تنظیم کے نمایاں عہدوں پر فائز ہیں اور میں خود بھی مصطفی کمال کی خدمات کا معترف بھی ہوں البتہ میرا مسئلہ الطاف حسین کی قیادت و شخصیت اور انکی اسلام و پاکستان کش متعصب امریکہ نواز پالیسیاں ہیں.
    😀

  9. وکل اور ڈاکڑوں کی ڈگری بھی چیک کی جاے ء

  10. واہ واہ! اردو بلاگنگ میں ایک ساتھی کی بیان کردہ اپنی جامعہ کی داستان پڑھ کر بہت لطف آیا۔ مجھے آپ سے ہمدردی ہے کہ آپ کو اتنی دور اُٹھاکر پھینک دیا ہے، آرٹس لابی اور پی۔جی سے دور کردیا گیا ہے لیکن بھئی، آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ آپ کو کیسا ویرانہ عطا کیا ہے۔ کوئی نگرانی نہیں، کوئی پابندی نہیں۔ لگے رہو منا بھائی والی کہانی 😛

    ’’ادھر ادھر گھومتی خاتون طالبات کو دیکھ کر یہ مت سمجھئے گا یہاں کہیں پانی کھڑا ہے۔‘‘
    ہاہاہا۔۔۔ یہ جملہ بہت زبردست فِٹ کیا ہے۔ ابلاغِ عامہ کی طالبات ہونے کے ناطے کیا غلط کرتی ہیں 😉

    اور جامعہ کراچی کے اُس کونے تک پہنچتے پہنچتے کیا پانی کی قلت ہوجاتی ہے؟ ہمارے تو ٹوٹے پھوٹے شعبوں میں بھی پانی فراوانی سے ملتا ہے، صاف ہونے کی اگرچہ کوئی ضمانت نہیں۔ اور سامنے والی UBIT کی عمارت دیکھ کر دل جلتا ہے کہ نہیں؟ ہمارا تو بہت جلتا ہے سچی۔ 😐

    وائس چانسلر کی کہانی تو بس کیا کہیے، حق پرست کا نعرہ ہی کافی ہے۔ 🙂

  11. ارے ہاں، ایک بات۔ آپ بارش کے مزے لینے جامعہ پہنچے ہوئے تھے؟ ہمم ہمم۔۔۔ اس معاملے کی تو تحقیقات کرانی پڑیں گی۔ ہم شریف بچوں کو دیکھیے، تین دن سے جامعہ کا ٹُلا مارا ہوا ہے۔ 😛

  12. کاشف نصیر says:

    عمار دلچسپ بات یہ ہے کہ UBIT کو دیکھ کر شروع شروع میں ہمارا بھی دل جلتا تھا لیکن بعد میں پتہ چلا کہ UBIT والے فوٹو اسٹیٹ اور کینٹین کے لئے ابلاغ عامہ والوں کے محتاج ہیں. ایک دفعہ میں آئی ٹی ایک طالب سے پوچھا کہ تم لوگ UBIT میں کنٹین اور فوٹو اسٹیٹ کیوں نہیں کھلواتے تو کہنے لگا کہ تو پھر ہم ابلاغ عامہ کس بہانے سے آیا کریں گے.

  13. کاشف نصیر says:

    ہاں پانی تو پہنچ جاتا ہے لیکن ٹوٹیاں اکثر غائب ہوتی ہیں.

  14. جماعتی بھی ہیں اور ٹھرکی بھی!

  15. جعفر says:

    ایک پوسٹ معدوم ہوتی ہوئی جنگلی حیات کے تحفظ پر بھی لکھیں۔۔۔
    مثلا بارہ سنگھے وغیرہ۔۔۔

  16. مولانا ٹھرکی says:

    ایک پوسٹ جنگلی سوورں کی فعملی پلانیگ پر ھونی چاہے 😆 😆 کیوں کہ ان کی تعداد بڑھتی جارھی ھے
    🙄 🙄

  17. الف نون says:

    آپ کی تحریرٰیں جامعہ کہ ابلاغ عامہ کے طلباء کا اچھا تاثر ابھارتی ہیں . امید ہے کہ جب عملی ذندگی میں آئیں گے تو اک اچھی مثال قائم کریں گے.
    اپنی سابق درسگاہ کے متعلق پڑھ کر ہمیشہ اچھا لگتا ہے اور عمار صاحب عمیر باشا سے نہ جلیں فی الحال اس کا کوئی کارنامہ نہیں اور جب تک اس کے ڈائرکٹر برنی صاحب ہیں کوئی امکان بھی نہیں.
    البتہ اک ادارہ جو قابل رشک ہے وہ ہے ایچ ای جے.

  18. کاشف نصیر says:

    جعفر صاحب خیریت تو ہے آپکو جامعہ کراچی اور برسات پر لکھے گئے بلاگ کو پڑھ کر جنگلی حیات کے تحفظ کا خیال کیسے اگیا. ٹھرکی صاحب لگتا ہے کہ آپکو سوروں میں بہت دلچسپی ہے، ویسے مولانا کے ساتھ ٹھرکی لگاتے ہوئے کم از کم لفظ مولانا کا مطلب تو جان لیا ہوتا.

  19. کاشف نصیر says:

    الف ن صاحب بلاگ میں خوش آمدید….

  20. سعد says:

    بہت خوب نقشہ کھینچا ہے آپ نے۔ پڑھ کے مزہ آ گیا

  21. عبداللہ says:

    @جعفر،
    کیا یہ ضروری ہے کہ تم میرے پیچھے پیچھے دم ہلاتے ہوئے ہر جگہ پہنچ جایا کرو!!!!!!
    D:

  22. جب تک ہم کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں پڑھتے رہے، تک تب UBIT کے صرف سپنے ہی نصیب ہوئے. اب کہ جب ہم رخصت ہوئے تو کمپیوٹر والے جھٹ سے UBIT جا پہنچے. پرانے دوستوں سے ملنے کی دلی خواہش کے باوجود کبھی اس طرف جانا ہی نہیں. لیکن آپ کی اس سہانے سہانے موسم کی کتھا سے سوچ رہا ہوں کہ اب جب بارش ہو تو یہ خواہش بھی پوری کر ہی لیتے ہیں. جامعہ کا دیدار بھی ہوجائے گا اور لگے ہاتھوں موسم کا لطف بھی.

    باقی گم سم جوڑوں اور چٹ پٹی چاٹ کے ساتھ دیگر قابل سماعت چیزوں کا تو ذکر ہی کیا 😉

  23. واہ جی کیا یاد دلایا، اور خوب منظر کشی کی ہے آپ نے جامعہ کی لیکن آخر میں کچھ لوگوں کی دم پہ پیر رکھ دیا ہے۔ :mrgreen:

  24. @کاشف نصیر!
    یہ تو بہت عجیب بات ہے کہ اتنا اچھا شعبہ بنالیا مگر فوٹو اسٹیٹ اور کینٹین نہیں کھولی۔ کلیہ فنون (آرٹس فیکلٹی) میں تو ہر شعبے کے ساتھ ایک فوٹو اسٹیٹ کی دکان ہے۔

    @ الف نون!
    اچھا۔ آپ کہتے ہیں تو ہم عمر بھاشا انفارمیشن ٹیکنالوجی سے نہیں جلتے لیکن ہماری طرف کی عمارتوں کا حال ملاحظہ کریں تو کیا کریں، جلن ہوتی ہی ہے۔ پڑھائی اگر وہاں نہیں تو یہاں کون سی اعلا درجے کی ہے۔ 🙂

  25. کاشف نصیر says:

    ہاں بات تو عجیب ہے لیکن ایسا ہی ہے کہ جامعہ کے ہر شعبہ میں فوٹو اسٹیٹ ہے لیکن تاحال آئی ٹی والوں کے پاس کوئی فوٹو اسٹیٹ نہیں ہے.

  26. حجاب says:

    اچھا انداز ہے لکھنے کا ۔۔ آپ کی اور عمار کی باتیں پڑھ کر دل تو چاہ رہا ہے میں بھی ایڈمیشن لے لوں جامعہ میں ۔۔

  27. کاشف نصیر says:

    حجاب کیوں نہیں، جامعہ میں آپ کو سواگت ہے. دیر کیسی اسی دسمبر میں داخلہ لیں اور جامعہ کی زندگی کا حصہ بن جائے.

  28. یار چنگی بھلی تحریر پہ لوگ آ کے کھَچ مار دیتے ہیں
    اس پہ بھی تھوڑی تحقیق کر کے لکھو نا

  29. @حجاب! ایڈمیشن لینے سے پہلے آپ کو باقاعدگی سے ’’دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشَ ایام تُو‘‘ کا وظیفہ کرنا پڑے گا 😛

  30. کاشف صاحب! آپ کے اندازِ بیان کی بات ہی اور ہے خاص طور پر جب آپ ایک ہی چیز کی الگ الگ خصوصیات گنوانے پر آتے ہیں، جیسے کہ۔۔۔

    -پھر کیا تھا جامعہ کی اندھیری اور تاریک کلاسیں، سلور جوبلی سے شعبہ تک روزانہ کی پیدل واک، لفٹ کے لئے ہر ایلے میلے کو ہاتھ دینا، پریم گلی کی چٹ پٹی چاٹ، سائے دار درخت، کتابی اور جھگڑالو حسینائیں، سیمنار لائبریری میں اشاروں کناوں میں گپ شپ، آرٹس لابی کی رنگینیاں، پوانٹ پر سیٹ کے لئے جھگڑے، اساتزہ سے بحث و مباحثے اور آئے دن کی ورکشاپ ہمارے روزانہ کا معمول بن گئے۔-

    لکھتے رہیئے!

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>