صفحہ اوّل » کاشف نامہ

بے لاگ

مصنف: وقت: جمعرات، 19 مئی 2016کوئی تبصرہ نہیں

belaagابو شامل کی  قلمی دھار ہو یا خاور کھوکھر کی شوخیاں ، ریاض شاہد کے دانش نامے  ہوں یا علی حسن کی ادبی بے ادبیاں،  جعفر  حسین کا طنز و مزاح ہو یاسر جاپانی کے مستیاں، شعیب صفدر کی کھلی عدالت ہو یا خرم ابن شبیر کی بند کلیاں اور  بلال محمود کی تیکنیکی تجاویز ہوں یا  سکندر حیات بابا کی گستاخیاں ۔اردو بلاگنگ کے یہ سارے پھول اگر آپکو بلاگستان  کی  دنیا سے باہر کہیں یکجا نظر آئیں تو اس گلدستے کو دراصل  “بے لاگ” کہتے ہیں۔ جی ہاں اس وقت  میرے ہاتھوں میں اردو بلاگنگ سے متعلق وہ پہلی باقاعدہ کتاب ہے، جس نے اپنی اشاعت کے ساتھ ہی کئی اعزازات اپنے نام لکھوا لئے ہیں۔ کوئی چھ ماہ ہوتے ہیں کہ ڈنمارک میں مقیم اردو بلاگر اور محقق  برادرم  رمضان رفیق  اس کتاب کے خیال کو لے کرمجروح سلطانپوری کے معروف شعر کی مثل اکیلے ہی چلے تھے جانب منزل مگر، لیکن لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔

کتاب  کے مرتبین میں رمضان رفیق کے علاوہ  جاپان سے تعلق رکھنے والے سینئر بلاگر خاور کھوکھر بھی شامل  ہیں۔ ان دنوں احباب نے انتہائی سلیقے اور  دیانت  کے ساتھ34 بلاگرز کے 67 بلاگ منتخب کئے ہیں۔یہ  یقینا ایک انتہائی مشکل اور تنازعات میں الجھا دینے والا  پیچیدہ کا م تھا۔  لیکن کتاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہی یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ دونوں احباب نے  اس انتخاب میں ذاتی تعلقات اور پسند  ونا پسند  کے بجائے، موضوعات کی ہمہ گیریت، تحریر کے معیاراورزبان و بیان  کی بلاغت پر توجہ دی  ہے۔ سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ انتہائی  مختلف اور متنوع موضوعات کمال قائدے  کے ساتھ باہم  پیوستہ نظر آتے ہیں۔ اس کتاب کی تیاری میں بلاگرز کمیونٹی  کی رضاکارانہ خدمات بھی داد و تحسین کی مستحق ہے۔  بے لاگ ایسا دلچسپ نام فہد کہیر(ابوشامل) نے تجویز کیا تو سرخ پس منظر اور سفید لکھائی والا جازب نظر ٹائٹل ساجد شیخ  نے  تیار کیا۔ 208 صفحات پر مشتمل اس  منفرد کتاب کی قیمت صرف 300 پاکستانی روپے  رکھی گئی ہے اور یہ باآسانی کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں دستیاب ہے۔

بلاگ کیا ہے،  بلاگر زکیا کررہے ہیں اور سماجی  نشونما میں انکے کام  کتنی ضرورت ہے ۔ یہ آج کی دنیا کے بڑے اہم سوالات ہیں، جنہیں  اس کتاب کی صورت ایک  جواب مل گیاہے۔ اسی طرح وہ تمام لوگ جو  لکھنے پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن سوشل میڈیا سے دور ہیں  یا    معلومات کی کمی کی وجہ سے  بلاگستان فیڈ تک رسائی حاصل  نہیں کرپارہے، اس کتاب کے زریعے وہ باآسانی  ان غیر روایتی  اہل قلم سے  تعارف  حاصل کرسکتے ہیں ۔ بلاگرز پاکستانی سماج اور اسکے مسائل کو روایتی   اور پیشہ ور کالم نگاروں سے کس قدر مختلف  زاوئے سے دیکھتے ہیں، اس کتاب میں اس اہم پہلو کا  بھی باخوبی اندازہ  کیا جاسکتا ہے۔بدقسمتی ہمارے سیاسی اکابرین، علمائے دین ،  سماجی رہنما ا ور   کاروباری شخصیات آج کے جدید دور میں بھی انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور بلاگنگ کی افادیت کو سمجھنے   کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔انہیں یہ بھی اندازہ نہیں ہے آج کے نوجوان کا سارا انحصار روایتی میڈیا کے بجائے، سوشل میڈیا پر ہے۔ یہ کتاب ان طبقات کی نمائدہ شخصیات تک بھی  ضرور پہنچی چاہئے تاکہ وہ   بلواسطہ  بلاگنگ کے میدان میں ہونے والی سنجیدہ سرگرمیوں کا مشاہدہ کرسکیں ، شاید کے کوئی بات ، انکے دل میں گھر کرجائے۔

 کہتے  ہیں کہ انسان کا  کوئی بھی کام  کامل نہیں ہوتا اور اس میں   ہمیشہ  ہی بہتری کی گنجائش باقی رہتی ہے۔زیر نظر  کتاب میں بھی بہتری کی بہت سی گنجائش موجود ہیں۔  پہلا   یہ کہ ورق گردانی کرتے ہوئے بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے  ناشر میاں(پبلیشر) ماضی میں کسی مذہبی میگزین کے ایڈیٹر رہے ہیں اور وہ  بے لاگ کو بھی کوئی میگزین سمجھ بیٹھے ہیں۔انہیں باور کرانا  چاہئے تھا کہ سنجیدہ اور اکیڈمک کتابوں میں مضامین کے بعدخالی جگہوں کو ایسے ہی چھوڑ دیا جاتا ہے، انکی جگہ قرآنی آیات،احادیث مبارکہ اور  مسنون دعائیں نہیں لگائی جاتی ہیں۔دوسرا یہ کہ  مجھ سمیت بہت سے دوستوں نے عنیقہ ناز ،  مہتاب عزیز، فیض اللہ خان، فرنود عالم,  فہیم پٹیل، غلام اصغر ساجد، اسد اسلم اور  عاصم بخشی کی کمی کوشدت کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ میرے خیال سے اگلی طباعت میں ان ممتاز بلاگرز کی تحاریر کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>