صفحہ اوّل » کاشف نامہ

اب بولنا ہی ہوگا۔۔

مصنف: وقت: ہفتہ، 28 جنوری 2017کوئی تبصرہ نہیں

ایک طرف لبرل ہیں، پہلی بار انکے چار لوگ #لاپتہ ہوئے اور انہوں نے دنیا بھر میں شور ڈال کر انہیں خیر خیریت کے ساتھ بازیاب کروالیا۔ دوسری طرف آپ ہیں، کوئی نہ سمجھے خدا کرے کوئی! آپکے درجنوں لوگ مہینوں سے نہیں، برسوں سے لاپتہ ہیں لیکن آپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ بندا کسی ایک کا نام لیکر بات کہ دے تو انبکس میں آکر کہتے ہیں، نہ کریں اہل خانہ نے روک رکھا ہے۔

میڈیا آپکو جگہ نہیں دیتا اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ “انہوں” نے اٹھایا ہے تو یقینا کوئی گڑبڑ ہوگی۔ یہ نادر موقع تھا کہ حالات کا فائدہ اٹھاکر آپ بھی اپنا مقدمہ پیش کرتے۔ مگر آپ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پہنچ گئے ہیں جسکی وجہ سے اس مرض میں مبتلا ہیں۔ اسکے ساتھ یہ خوش فہمی بھی باندھ لی کہ گویا ”وہ” توہین مذہب کے غم میں مبتلا ہیں اور اب ایسے نہیں چلے گا۔ حالانکہ گمشدگی کی اصل وجہ #لورالائی آپریشن کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والا احتجاج تھا۔ یہ بات یہاں روک جاتی تو بھی غنیمت تھا لیکن آپ نے ہم ایسوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ تبصروں میں گالیاں، انبکس میں دھمکیاں اور فون پر ڈانٹ ڈپٹ، جو ممکن تھا کیا گیا۔

آپ نے وہی کام کیا جو لبرل کرتے ہیں۔ انہوں نے عافیہ صدیقی، مسعود جنجوعہ اور نوید بٹ کو متنازع کیا، آپ بھی بغیر سوچے سمجھے اسی سمت پر چل پڑے۔ لیکن پرانے بدلے چکانے کے چکر میں آپ دراصل خود اپنے ہی بیانئے کا گلہ گھونٹ رہے تھے۔ پروفیسر #سلمان_حیدر اور انکے دوستوں کے لاپتہ ہوتے ہی کئی متنازع پیجز کا اچانک بند ہوجانا یقینا انتہائی قابل تشویش عنصر ہے لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہ تھا کہ آپ ان شک و شبہات کی بنیاد پر اداروں کو کھلی چھٹی دے دیں۔ پھر یہ ادارے ناقابل اعتماد ہیں اور ماضی میں آپ خود ان سے کئی بار مار کھاچکے ہیں۔ انکا وطیرہ بن گیا ہے کہ اسلام پسندوں کو غائب کرکے دہشتگرد بنادو اور روشن خیالوں کو اٹھاکر گستاخی کا الزام دھر دو، لیکن آپکو یہ باتیں بغض نظر آتی تھیں۔

اسلام پسند طبقے کا المیہ یہ ہے کہ ناصرف #ضیاءالحق کے ہاتھوں بیوقوف بنا بلکہ آج تک اسی نرگسیت کا شکار ہے۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا لیکن آپ بار بار ڈسے جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ مشرقی پاکستان، افغانستان اور کشمیر میں آپکو کرائے کے سپاہی کے طور پر بے دردی سے استعمال کیا گیا مگر آپ آج بھی انکی چوکھٹ پر ناک رگڑتے نہیں تھکتے۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ ایوب خان ابتداء میں پاکستان کے سرکاری نام کے ساتھ ”اسلامی” لگانے کے لئے تیار نہ تھے لیکن جب انہیں باور کرایا گیا کہ یہ اقدام اس ملک کو یکجا اور انکی حکومت کو توانا کرسکتا ہے تو وہ راضی ہوگئے، سادگی اپنی بھی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ!

پاکستان، مصر اور ترکی میں کئی قدر مشترک ہے اور ان میں سب اہم یہ ہے کہ تینوں ملکوں میں اسلام پسندوں کا اصل مقابلہ لبرل اور سوشلسٹوں سے نہیں اداروں سے ہے۔ عشروں کی رفاقت کے بعد #سید_منور_حسن بھی اسی نتیجے پر پہنچے اور مولانا #فضل_الرحمان کی منہج بھی یہی ہے۔ جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام دو واحد جماعتیں تھیں جنہوں نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی اور قومی سلامتی کے متنازع قانون کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ دوسرے مذہبی لوگ بھی اس موضوع کو سمجھیں اور اداروں کو ”نا” کہنا سیکھیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>