صفحہ اوّل » دینیات کی کتاب سے

تقویٰ کا لباس

مصنف: وقت: اتوار، 29 اگست 201076 تبصرے

اللہ تعالی نے بنی نوح انسان کو اپنا خلیفہ بناکر اس دنیا میں بھیجا اور اس کی تن پوشی کے لئے لباس کو پسند فرمایا کیونکہ عریانیت اللہ کے یہاں انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ ہمارے ماں باپ حضرت بی بی حوا اور حضرت آدم علیہ سلام بھی بلاشبہ حیادار تھے۔ جب ابلیس کے جال میں پھنس جانے کی وجہ سے ان کے جسم سے جنت کا لباس اتر گیا، تو وہ بہشت کے درختوں سے پتے توڑ توڑکر کر اپنے جسم کو چھپانے لگے اور اللہ تعالی سے دعا کرنے لگے کہ اے اللہ ہم سے خطا ہوگئی ؟’’ہمیں معاف فرما‘‘۔ ارشادباری تعالی ہے

’’اے اولاد آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے اور جو پرہیزگاری کا لباس ہے‘‘(سورہ الاعراف:۲۶)۔
’’اے اولاد آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو بہکاکر جنت سے نکلوادیا اور ان سے ان کے کپڑے اتار وادئے تاکہ ان کے ستر کھول کر دکھادے وہ اور اس کالشکر تم سب کو ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم ان سب کو نہیں دیکھ سکتے‘‘ (سورہ الاعراف:۲۷)۔

دوسری طرف ابلیس اور اسکے لشکر کو برہنگی، عریانیت اور بے حیائی بہت پسند ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ وہ ام الخبائث ہے جو کئی اور برائیوں کی نشو نما کرتی اور انہیں پالتی پوستی ہے۔ شیطان نے اس لئے سب سے پہلے انسان کے لباس پر حملہ کیا۔ آج بھی اس کا لشکر عریانیت پھلانے میں سرگرم ہے۔ کہیں عورت کو آزادی نسواں کا پرفریب نعرہ دیا اور اسے نقد جنس بناکر بازار میں لاکھڑا کردیا، کہیں برہندگی کو فطرت کا نام دے دیا، کہیں فیشن اور جدت کے نام پر انسان کوایسی مادر پدرآزادی دی کہ اسے اشرف المخلوقات کہ مقام سے گرا کر حیوانیت کے درجے پر لاکھڑا کیا، تو کہیں اسے احساس کمتری کی پاتال میں ایسا گرایا کہ وہ خود اپنی تہذیب سے متنفر اور بیزار ہوکر ابلیس کا تر نوالہ بن گیا. افسوس کہ مسلمان جنہیں تمام اقوام عالم کے لئے شرافت، شرم و حیا اور پاکیزگی کی مثال اور نمونہ ہونا چاہئے تھا بھی رسول ہاشمیﷺ کی ترکیب سے ہٹ کر روشن خیالی کے نام پر اس ابلسی تہذیب کو اپنے لئے باعث فخر و افتخار سمجھنے لگے ہیں اور تقویٰ اور پرہیزگاری کے لباس کو تنگ نظری، قدامت پرستی اور تہذہب کہن قرار دیتے ہیں۔ انکی اس خام خیالی کے مطابق مرد کی کھلی ہوئی پنڈلیاں، سر کی ٹوپی اور پجامہ عصر حاضر کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتی. کوئی انسے پوچھے عصر حاضر کے تقاضے کیا ہیں تو مغرب کی شرم و حیا، اخلاق، روحانیت اور پاکیزگی سے عاری معاشرے کی تصویر آپکے سامنے رکھ دیں گے.عورت کے حجاب بھی انکے لئے باعث شرمندگی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے کیونکہ نیم برہنہ عورت کے بغیر انکی روشن خیال (خام خیالی) کا تصور ناممکن ہے. بقول اقبالؒ

وضع میں تم ہو نصارٰی تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کہ شرمائیں یہود

اللہ تعالی نے ہمیں شیطان کے فریب سے بچنے کی بار بار ہدایت کی ہے لیکن جن کے قلوب شیطان کی طرف راغب ہیں وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی ہدایت اور انکی عظیم سنتوں کے باوجود برہنگی اور بدتہذیبی کو بطور فیشن، اقوام عالم میں قبولیت کی سند اور عصر حاضر کے تقاضے سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں، بقول علامہ اقبالؒ

روش مغرب ہے مدنظر وضع مشرق کو جانتے ہیں گناہ
یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

لباس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ انسان کو دوسروں کی نظروں میں بے پردہ ہونے سے بچاتا ہے لیکن وہ لباس جو اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے، یا دوسروں پر برتری حاصل کرنے کے لئے یا کسی قوم کی مشابہت حاصل کرنے کے لیئے پہنا جائے قیامت کے روز وہ تمام حقائق سمجھا دیگا جو دنیا کی محبت میں پڑ کر سمجھ نہیں آتی۔

لباس کی کوئی خاص شکل یا ہیت شریعت مطہرہ نے متعین  نہیں کی کہ فلاں لباس، فلاں ڈیزائن کا اور فلا چیز سے بنے ہوئے کپڑے کا استعمال کریں، ہر مقام، ماحول کی ضروریات، ثقافت اور روایات کے مطابق شرعی اصولوں کی روشنی میں تقویٰ کا لباس مسلمان خود اختیار کرلیتے ہیں البتہ کچھ حدود ایسی ضرور مقرر کی ہیں کہ ان کہ خلاف جانا ممنوع ہے اور ان حدود میں رہتے ہوئے آدمی جو وضع چاہے اختیار کرسکتا ہے۔ وہ حدود مندرجہ ذیل ہیں۔

لباس اتنا چھوٹا ،باریک یا چست نہ ہوکہ وہ اعضاء جسم ظاہر ہوجائیں جن کا چھپانا واجب ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے ’’اے اولاد آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارے ستر ڈھانکے ‘‘ (الااعراف : ۲۶)
(1) لباس ایسا ہونا چاہیے جو پورے بدن خاص طور پرستر کو ڈھانپے، یاد رہے مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک اورعورت کا ستر اسکا پورا بدن ہے ماسوائے چہرے، ہا تھ اور پاؤں کے۔
(2)ایسے تمام لباس جو اتنے باریک ہوں کہ ان کے پہننے کے باوجود پورا بدن یا بدن کا کچھ حصہ ظاہر ہوتا ہو یا یہ امکان ہو کے پسینے یا کسی اور وجہ سے بھیگ کر جسم کو ظاہر کردے گا سے اجتناب واجب ہے۔
(3)ایسے تمام لباس جو اتنے چست ہوں کہ ان کے پہننے سے بدن کے خدوخال اور وضع قطع ظاہر ہو کا پہننا بھی ہرگز جائز نہیں، اسکن فٹنگ اور جینس کی پینٹس کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جسم کی خدوخال اور بناوٹ کو واضع کرتا ہے۔

کچھ اور نقات ایسے ہیں جو لباس میں تقوا پیدا کرتے اور جنکا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، چنانچہ ذیل میں ہم ان نقات پر قرآن و حدیث کی روشنی میں نظر ڈال رہے ہیں.

لباس مشہور ہونے کے لئے یا تکبر کی نیت سے نہ پہنا جائے

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’جس نے مشہور ہونے کے لئے کپڑا پہنا ، اللہ تعالی اسے قیامت کے دن ایسا ہی لباس پہنا ئے گا اور اس میں آگ لگادیگا‘‘ (ابوداود)۔ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’جو شخص تکبر کی راہ سے اپنا کپڑا لٹکائے گا اللہ تعالی قیامت کے دن اس کو دیکھے گا بھی نہیں‘‘۔ (حدیث نمبر۷۷۴،کتاب اللباس،جلد۳ ،صحیح بخاری )

عورتیں مردوں کے لباس اور مرد عورتوں کے لباس نہ پہنیں

حضرت ابو ہرہرہؓ سے روایت ہے کہ ’’ رسول ﷺ نے اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کا لباس پہنے اوراس عورت پر بھی لعنت کی ہے جو مردوں کا لباس پہنے‘‘۔ایک اور حدیث میں یوں آیا ہے کہ’’ حضرت عائشہؓ سے کسی نے کہا کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے ، ام المومنینؓ نے کہا رسول ﷺ نے مرد بننے والی عورت پر لعنت کی ہے‘‘( صحیح بخاری)۔ کچھ احساس کمتری کے ستائے ہوئے کم ظرف ایسے ہیں کہ مخالف جنس کی شباہت اختیار کرتے ہیں اور اسے فیشن اور روشن خیالی سمجھتے ہیں، یہ نفس کے بندے اللہ کی اطاعت کے بجائے اپنے دل کی بے راہ روی میں مبتلا ہیں ، یقیناُ ایسے لوگ صریح گمراہی پر ہیں۔ ان ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ’’کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے خواہش نفس کواپنا خدا بنا رکھا ہے تو کیا تم ان پر نگہبان ہوسکتے ہو؟‘‘ (سورہ الفرقان:۴۳)

لباس میں غیر قوم(کافر و فاسق فوم ) کی مشابہت اختیار نہ کی جائے۔

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان میں سے ہے‘‘ (ابوداؤد :۲۳۲)۔
وہ لباس جو کسی کافر و مشرک قوم کی شناخت ہو پہننا درست نہیں۔ جیسے ’زنار‘ ہندوؤں اور ’ٹائی‘ اہل مغرب (یہودنصارٰی) کی شناخت ہے۔ شرٹ کے مقابلے میں لمبا کرتا اور ٹائی کے مقابلے میں ٹوپی اور عمامہ مسلمانوں کی ذاتی شناخت اوربشمول آپﷺ تمام انبیاء علیہ السلام کی سنت مطہرہ ہے۔ اسی لمبے کرتے سے متعلق قرآن و سنت میں حضرت یوسفؑ کا قول یوں نقل ہے کہ ’’یہ میراکرتا لے جاؤ اور میرے باپ کے منہ پر ڈالدو وہ بینا ہوجائینگے‘‘ (سورہ یوسف:۹۳) اور حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ’’ آپﷺنے عبداللہ بن ابی سلول کی موت پر اسکے مسلمان بیٹے کو اپنا کرتا دے دیا تاکہ وہ اسے اپنے باپ کو پہنا دے‘‘ (صحیح بخاری)۔
ذہن میں رکھیں کہ یہاں بحث یہ نہیں کہ اہل مغرب کا لباس حرام ہے یا حلال، مسئلہ یہ ہے کہ کونسا سا لباس تقویٰ اور پرہیزگاری کا لباس ہے، وہ لباس جو مسلمانوں کی خاص شناخت ہے اور حضورﷺ اور صحابہ سے ہو کر ہم تک پہنچا یا وہ لباس جو نوآبادیاتی دور میں انگریز حاکموں کی طرف سے محکوم عوام پر یہ کہ کر تھونپا گیا کہ یہ لباس Executive ہے اور مقامی لباس جدت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے ۔ انگریزوں کا مقصد ہندوستانیوں خاص طور پہ مسلمانوں کی تہذیب کو مٹانا اور انہیں بے راہ رو کرنا تھا۔مگر سلام ہے ہمارے اسلاف پر کہ انہوں نے انگریز حکمرانوں کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کیا اور غلامی کے دور میں بھی اپنی دینی روِش نہیں بدلی مگر آزادی کہ بعد ہم نے خود وہ وہ کام کئے جو دو سو برس میں فرنگی راج نہ کرسکی۔ ہم نے مغربی تہذیب کو روشن خیالی اور وسعت دماغی کے نام پر نا صرف قبول کیا بلکہ تہذیبِ مغرب اور اسلام کو یکجاں کرنے کی کوششیں کیں۔ لباس سے جو معاملہ شروع ہوا، وہ زندگی کے تمام گوشوں پر اثرانداز ہوتے ہوئے اپنی انتہاکو پہنچ چکا ہے اور یوں اس فرنگی اسلام نے مسلمانوں کو اسلام کی اصلی روح بہت دور کر دیا ۔ مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ ایک شخص ابتدا میں صرف انگریزی جوتا استعمال کرتاہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے ہم انگریز نہیں بن گئے، لیکن تھوڑے عرصے میں وہ یہ دیکھ لے گا کہ یہ انگریزی جوتا اس کے بدن سے اسلامی پاجامہ اتر واکرٹخنوں سے سے نیچا پاجامہ پہننے پر مجبورکر دے گا، پھر یہ پاجامہ اس کاکرتااور عبا اتروائے گا اور جب اعضاء ا ور جوارح اور بدن انسان کی پارلیمنٹ کے سب مغربی رنگ کے ہوگئے تو اس کے سلطانِ سر تاج کومجبور ہوکر انکا تابع بننا پڑے گااور انگریزی ٹوپی اسلامی عمامے کی جگہ لے گی اور جب خود گھڑے گھڑائے صاحب بہادرہوگئے تو سمجھ لیجئے کہ اب گھر کے قدیم اصول و رواج کی خیر نہیں، کیونکہ یہ کسے کسائے صاحب بہادرکسی مسند پر نہیں بیٹھ سکتے ، دستر خوان پر کھانا تناول نہیں فرما سکتے ، نماز کیلئے بار بار وضو نہیں کر سکتے ۔ غرض گھر کا پرانا فرنیچر ، رخصت ، طہارت و عبادت رخصت،‘‘. …… دیکھ لیا ایک انگریزی جوتے کی آفت کہاں تک پہنچی اور کس طرح اس نے تمہارے دین او ر دنیا کو تباہ کر ڈالا، حقیقت میں گناہوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ جب انسان ایک خطا کرتا ہے تو دوسرااس سے خودبخود لگ جاتا.. ایک حدیث میں ہے کہ نیکی کی فوری جزا یہ ہے کہ اس کے دوسری نیکی کی توفیق ہوتی ہے اور گناہ کی فوری سزا یہ ہے کہاس کے بعددوسرے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘

ہمارا دین ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر گوشے میں ہمارے لیے کامل ہدایت موجود ہے، ہمارے پاس امور مملکت سے لے انفرادی زندگی تک ہر معاملے میں نا صرف احکامات ہیں بلکہ آپﷺ کی صورت میں ایک بہترین عملی نمونہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ارشاد باری تعالہ ہے کہ ’’ تم کو رسول اللہ ﷺ کی پیروی بہتر ہے‘‘ (الاحزاب:۲۱)۔ چنانچہ اسلام ہم سے اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم ایسی قوم بنیں جس کی دوسر ی قومیں تقلید کریں مگرہمارا یہ حال ہو چکاہے کہ ہم ہر معاملے میں اہل مغرب کی تہذیبی چکاچوند کا شکارہیں، یہ سلسلہ مسلمان جیسی شاندار قوم کی وقار کے عین خلاف ہے ، بقول علامہ اقبالؒ

اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس روشن خیالی کے دھوکے سے نکل کر دامن سنت نبویﷺ میں آباد ہوجائیں، یہود نصارٰی کی نقالی کے بجائے آپ ﷺ اور تقلید میں عافیت جانیں۔ اپنی قومی و ملی شناخت اور اپنے آباء کے ورثے پر فخر کرتے ہوئے قوموں کی برادری میں غیرت مند اور خودمختار قوم کی حیثیت سے آگے بڑھیں۔ شروع میں دقت آئیگی مغربی یلغار کے ترنوالے جگہ جگہ روکاوٹیں پیدا کرینگے ، لوگ آپ کا مذاق اڑائیں گے ، آپ کو ملازمتوں سے برخاست کیا جائے گا ، مگر ایسے لمحات میں یہ یاد کیجیے گا کہ قرون او لیٰ کے مسلمانوں نےکس قدر سخت رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے اللہ کی رضاحاصل کی اور پھر خود اللہ نے کہا ’’ وہ مجھ سے راضی اور میں ان سے راضی‘‘ بقو ل شاعر

ان پتھروں پہ چل کے اگر آسکو تو آؤ
میرے گھر کے راستو ں میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

مرد ریشمی لباس نہ پہنیں اور نہ ہی چمکیلے شوخ لباس ۔

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ ’’جو کوئی دنیا میں ریشمی کپڑاپہنے اس کو آخرت میں یہ کپڑا نہیں ملے گا‘‘(صحیح بخاری)۔ اسی طرح حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضوررﷺنے مردوں کو زعفران کے رنگ(زرق برق لباس) سے منع فرمایا‘‘ (صحیح بخاری)۔

زینت کے لئے لباس پہننا۔

جہاں اسلام نمود نمائش ، بدتہذیبی اور عریانیت کے خلاف ہے وہاں زیب و زینت سے ہرگز نہیں روکتا اچھا دِکھائی دیناتمام انسانوں کا حق ہے اورایک حد میں زیب و زینت اور بناؤ سنگار جائز ہی نہیں بلکہ مستحب بھی ہے ، ارشاد باری تعالی ہے: ’’اے اولاد آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہاری ستر ڈھانکے اور تمہارے بدن کو زینت دے‘‘ (سورہ الاعراف:۲۶)۔
جو لوگ باوجود استطاعت کے اجڑے ہوئے، بے سلیقہ اورپرانے کپڑے پہنتے ہیں انکا یہ عمل ہرگز اسلام پر نہیں بلکہ سنت نبویﷺکے خلاف ہے، ’ ’حضرت براء کہتے ہیں کہ آپ ﷺ میانہ قامت تھے، میں نے آپﷺ کو ایک سرخ کپڑے پہنے ہوئے دیکھا ، اتنا خوبصورت میں نے کسی کو نہیں دیکھاْ ‘‘ (صحیح بخاری)۔

صاف ستھرا اورلباس کا طاہر ہونا۔

اسلام دین فطرت اور صفائی کو پسند کرتا ہے آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ’’ طہارت نصف ایمان ہے‘‘ اسلام میں ایسا لباس جائز نہیں جس پر نجاست لگی ہو اسی طرح میلا لباس بھی ناپسندیدہ ہے ۔آپ ﷺ ہمیشہ صاف ستھرے اور پاک لباس زیب تن فرماتے ، اور صحابہ آپ کی تقلید کرتے تھے ۔

اپنی مالی استطاعت کے مطابق لباس پہننا۔

مسلمانوں کو ا پنی مالی استطاعت کے مطابق لباس پہننا چاہیئے۔ غریب لوگوں کا شاہانہ لبا س پہننا فضول خرچی اور امیر لوگوں کا معمولی لبا س پہننا بخل اور ناشکری اور دونوں باتیں اسلام میں منع ہیں۔ آپﷺنے شاہانا لباس بھی پہنا اور معمولی لباس بھی ،مقصد دنوں کے لیے اپنی مثال قائم کرنا تھی۔ دونوں کو چاہئے کہ وہ حد اعتدال کی راہ پر رہیں امیر اتنا زیادہ شاہانا لباس بھی نہ پہنیں کہ غریبوں کے دل میں حرص اور احساس کمتری پیداہو، اور غریب اتنا گھٹیا لباس نہ پہنیں کی دیکھنے والا اسے حقیر اور کمتر جانے۔

مرد اپنے لباس کو ٹخنے سے نیچے نہ کریں

مر د کا اپنے لباس کو ٹخنے سے نیچے گرانا سخت گناہ ہے ، اس حوالے سے بیشمار صحیح حدیثیں سے موجود ہیں جن میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا’’جو کپڑا ٹخنے سے نیچے ہو جہنم میں لے جائے گا‘‘(صحیح بخاری) ۔ ایک اورحدیث میں ہے کہ’’ ایک صحابی آپ ﷺ کے سامنے نماز ادا کرکے حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں اپنی نماز دہرانے کا حکم دیا، نماز دہرانے کے بعد صحابی دوبارہ حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے نماز دہرانے کے متعلق سوال کیا آپ ﷺ نے جواب دیا کہ تمہارا لباس تمہارے ٹخنے سے نیچے تھا اسلیئے تمہاری نماز نہیں ہوئی تھی‘‘ (ابوداود)۔ آج کل بعض لوگ تواترکے ساتھ یہ غلط فہمیاں پھلا رہے ہیں کہ اسلام میں کپڑے خاص طور پر پینٹ کو ٹخنوں سے اوپر کرنے کے لئے نیچے سے اوپر کی طرف فولڈ کرنا منع ہے۔ ایسی بات بالکل من گھڑت ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ، صحیح حدیثوں کے ذخائر میں ایسی کوئی بات ہم تک نہیں پہنچی۔

فیس بک تبصرے

76 تبصرے برائے: تقویٰ کا لباس

  1. اللہ کریم آپ کو اجر دے…یہ آپ نے بہت کام کی باتیں شائع کی ہیں. اللہ ہمیں عمل پیرا ہونے کی توفیق دے.
    چوبیس گھنٹٖے ٹی وی پر برہنگی اور عریانی دیکھ دیکھ کر اکثریت کے لیے اب یہ احساس کرنا ہی ممکن نہیں رہا کہ یہ سب فحاشی ہے. کوئی بتانے کی کوشش کرے تو اسے ملا، طالبان، دقیانوسی، ننگ نظر وغیرہ کہہ کر سیکیولر، لبرل اور آزاد خیال بننے کی تلقین کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے ہم لوگ آپ جیسوں ہی کی وجہ سے اینٹر ٹینمنٹ سٹاروڈ ہیں ، اب کیا تفریح بھی نہ کریں.

  2. عثمان says:

    یار آپ نے تو میری کایا پلٹ دی!
    میں آج سے داڑھی بڑھا رہا ہوں۔ کم از کم اڑھائی فٹ کی کرکے چھوڑوں گا۔ سر اور دھاڑی پر تیل شیل روزانہ۔ سر پر ایک بڑا سا پگڑ۔ بدن پر سلوار قمیض۔۔جو ٹخنوں سے کم از کم پانچ انچ اونچی ہوں۔ آج سے پرفیوم کو گولی کرادی۔ صرف عطر کا استعمال۔ اور اگر جیب میں ایک عدد مسواک رکھ لوں تو کیا ہی بات ہے۔
    اسی حالت میں اپنی جاب اور یونیورسٹی جاؤں گا۔ مجھے دیکھ کر کافروفاسق قوم کے دل دہل جائیں گے۔ اور اللہ خوش ہوجاوے گا۔
    اللہ آپ کو اور تمام شیخوالسلاموں اور مفتی اعظموں کو جزائے خیر عظا کرے۔ شکریہ۔

  3. عثمان says:

    اپ ڈیٹ:
    مجھے حال ہی میں ایک سرکس میں کام کرنے کی آفر ہوئی ہے۔ کیا جادو ہے!! :mrgreen:

  4. احمد انجینئر says:

    حدیث پاک میں آتا ہے( مفہوم) کہ

    جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتے ہیں اسکو دین کی سمجھ دے دیتے ہیں

    کتنے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو مسلمان پیدا پوکر بھی محروم رہے. اور کنتے کفر کو اسلام سمجھتے رہے

    کاشف بھائی آپ نے بہت اہم موضوع پر بہت خوب لکھا . سلسلہ چلتے رہنا چاہیئے اور لوگوں کے طنز کی پرواہ نہ کریں

  5. محمد سعيد بالن بوري says:

    كاشف بهائ!
    ان الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون. ختم الله على قلوبهم و على سمعهم و على أبصارهم غشاوة.

    كفر بمعنى انكار نا كه كفر اصطلاحي

  6. اللہ تعالٰی آپ کو اس محنت پہ جزائٖے خیر دے ۔ آمین ۔

    اسلام اور اسلام پہ چلنے والوں کا ٹھھٹا اڑانے والے کم نصیب مسلمانوں کواسلام سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین

    نیز ٹٹی میں گر کر مرنے والے جھوٹے نبی مرزا غلام قادیان ملعون و مردود کے چیلے چانٹو کو امریکہ اور کنیڈا والے ہمیشہ یمیشہ کے لئیے اڈاپٹ کر لیں تانکہ مرزا ملعو و مردود کے شیطانی گروہ سے پاکستان کی جان چھوٹے۔ آمین۔ ثم آمین

  7. عثمان says:

    یہ ہسپانوی درویش اب یہ سمجھ رہا ہے کہ میں شائد قادیانی ہوں۔ 😆
    پتا نہیں اس قسم کے مسخرے اپنے آپ کو مذہب کا ٹھیکدار کیوں سمجھتے ہیں؟

  8. عبداللہ says:

    بھائی کم سے کم اسطرح کے لوگوں کو درویش کہہ کر درویشوں کی توہین تو نہ کرو!!!!
    ویسے ایسے لوگوں کے لیئے ایک مثل بڑی مشہور ہے،
    تھوتھا چنا باجے گھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    🙂

  9. یار! برخوردارِ کنیڈا۔ اس قدر غصہ کرنے والی کونسی بات ہے؟اگر آپ قادیانی نہیں ہو تو اپنے قادیانی نہ ہونے کی وضاحت اور صفائی کیوں کر پیش کرتے ہو؟

    مذھب کے ٹھیکدار ہونے کی بھی خوب کہہی۔ میں نے تو دعا دی تھی ۔ ۔۔ اسلام اور اسلام پہ چلنے والوں کا ٹھھٹا اڑانے والے کم نصیب مسلمانوں کواسلام سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین ۔۔ ۔

    کیا اپنے آپ کو مختلف ثابت کرنے کے لئیے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا ضروری ہے؟۔جب اس پہ بھی دعا دی جائے تو اس پہ منہ سے کف اڑانے اور جھاگ بہانے سے کیا عزت میں اضافہ ہوجائےگا؟۔

  10. کاشف نصیر says:

    عرض یہ ہے کہ بھائی عثمان ہمارے بہت ہی اچھے اور مخلص صاحب بلاگر اور تبصرہ نگار ہیں اور ہمیں ان سے ان کی حوصلہ افزائیوں اور کرم فرمائیوں کی وجہ سے الفت بھی ہے. نیز ہمیں اس سے فہم دین میں اختلاف ضرور ہے لیکن ہمارے دانست میں وہ ایک اچھے اور غم خوار مسلمان بھی ہیں، اسلئے ان سے رعایت برتی جائے.
    البتہ اگر کسی کو ہاتھ صاف کرنا ہے تو ہمیشہ کی طرح محترم بارہ سنگھا موجود ہیں، آپ انہیں موقع تو دیں وہ اپنی سنگ ضرور پھنسائے گے.

  11. عثمان says:

    کاشف ، جاوید صاحب اور دوسرے احباب۔۔۔
    تقویٰ اور پرہیزگاری کے دین میں کیا معنی ہیں یہ ہم سب جانتے ہیں۔ نیز اسلام صرف اور صرف باحیا لباس زیب تن کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ دین کسی قسم کے مخصوص حلیے پر کبھی اصرار نہیں کرتا۔ تو پھر یہ سب جانتے ہوئے ایک مخصوص اسلامی حلیہ مختص کرنے پر اصرار کیوں ہے؟ مجھے یہ بھی سو فیصد یقین ہے کہ آپ میں سے کوئی بھی وہ حلیہ نہیں رکھتا ہوگا جو میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ تو پھر؟
    جاوید احمدگوندل کو مسخرہ کہنے پر میں معذرت خواہ ہوں۔
    مزید اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر بھی معذرت۔
    اپنے موقف پر بہرحال میں قائم ہوں۔ شکریہ۔

  12. احمد انجینئر says:

    جب دین کو ٹی وی سے اور اپنی اپنی فکر سے جانا جائے گا تو ایسا ہی ہوگا
    جاوید صاحب نے ٹھیک ھی کہا تھا بات بھی یہی ٹھیک ہے کہ کمزور سے کمزور مسلمان بھی انکار نہیں کرتا ، عمل کی توفیو نہین میلتی تو الگ بات ہے. ٹھٹھہ اڑانے والے ہمیشہ دوسرے لوگ ہی ہوتے ہیں مگر اپنی شناخت چھپانا انکی مجبوری ہے اور عقل والوں کلیئے یہ بہت بڑا ثبوت ہے
    جو بات ختم الرسل ہمارے نبی پاک سے ہو اسکا مزاق ڑانا زلیل ترین کفر ہے
    کیا نبی پاک اور صحابہ اسی حلیئے میں نہیں ہوتے تھے؟ اگر تھے تو لعنت ہے ایسی سوچ پر کہ ایسا بننے پر سرکس میں آفر آئی ہے
    اللہ کو اپنے نبی کی ہر بات پسند ہے اسی لیئے انکی کوئی سنت بھی ضائع نہیں ہونے دی لاکھوں لوگ ہر ہر بات پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں
    یہاں اتنے لوگ ہیں جو علماء کو برا بھلا کہتے ہیں ، صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں مگر کیس ایک میں بھی ہمت نہیں کہ اپنی شناخت کروا سکے. یہ دلیل ہے کفر بورا ہوتا ہے، بے دلیل اور اپنے آپ میں شرمسار

    کاشف صاحب حدیث جان کر نبی کا عمل دیکھ کر جہ توہین کرے وہ صرف اختلاف نہیں ہوتا اور مسلمان وہ ہے جیس کی دوستی اور دشمنی بھی اللہ اور اسکے رسول کی وجہ سے ہو

    کیا آپ کو وہ 7 افراد والی حدیث یاد ہے جنکو عرش کا سایہ نصیب ہوگا؟

  13. عثمان صاحب! مجھے افسوس ہے کہ میری کسی بات سے آپ کی دل آزاری ہوئی۔ آپکی “خود کلامی” تحاریر اور کچھ تبصرے میری نظر سے گذرے ہیں ۔ جن کےبوجوہ کچھ اختلافات کے باوجود میری نظروں میں آپکی ایک پڑھے لکھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک سوچنے اور اپنے طور پہ کھوج لگانے والے مسلمان کا تصور اُجاگر ہوا تھا۔ کہ جس کے طریقہ کار پہ تو اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر نیت پہ نہیں۔

    باوجود آپ نے کسی دوسرے بلاگ پہ میرے بارے میں کچھ نازیب طریقے سے تبصرہ کیا۔ جس پہ مجھے ناخوشگوار حیرت ہوئی اور جواب دینے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی آپ کو جواب دینا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ آپ نے میری ذات کو نشانہ بنایا تھا ا ور میں اپنی ذات کے بارے میں درگزر سے کام لیتا ہوں۔ مگر چونکہ یہاں معاملہ ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی اور وہ بھی دینی ہے اس لئیے میں نے جواباََ دعا پہ اکتفاء کیا ہے۔

    بہرحال پھر بھی اگر آپ کو میری کسی بات سے تو امید کرتا ہوں آپ فراخدلی سے کام لیتے اسے درگزر فرما دیں گے۔

    جہاں تک کاشف نصیر صاحب کے اس موضوع کا تعلق ہے میرے خیال میں نہ تو کاسف نصیر صاحب نے کسی کو اس پہ صورت عمل کرنے یا ٹھونسنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی اسلام کسی چیز کو ٹھونستا ہے۔ میری رائے میں انہوں نے نہائت اچھے طریقے سے اسلام سے لباس کے بارے میں بہت حد تک اُن شرائط پہ بات کی ہے جن کا مسلمانوں کو لباس پہننے میں خیال رکھنا چاہئیے۔ جس کے لئیے کم از کم میں کاشف نصیر صاحب کو اس پوسٹ پہ انکی محنت اور عرق ریزی کی شاباش دیتا ہوں ۔ اب اسے پڑھنے والے مسلمان قارئین پہ منحصر ہے کہ باقی ماندہ تشنہ پہلو اپنے طور پہ بھی کھوج لگائیں اور جو انکی عقم میں بات آتی ہے اس پہ عمل کریں ۔ اگر ہو سکے تو اپنے تجربے اور علم سے دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

    اسلام برائی سے منع کرتا ہے اور اچھائی سے روکتا نہیں۔ اسلام کا اپنا کوئی مخصوص لباس نہیں ۔ عرب راوئتی عربی لباس۔ ہند میں شلوار قمیض۔ کرتا لنگی وغیرہ ۔ افریقہ میں قدرے مختلف۔ صرف لباس کے بارے میں ہی نہیں بلکہ اسلام جہاں جہاں پہنچا وہاں اسلام نے صرف مضر اور ممنوع چیزوں پہ پابندی لگائی۔ جیسے شراب، جوا ،زنا ، قتل، ڈاکہ اور چوری وغیرہ مگر ہر معاشرے کی اچھی چیزوں کو انکی ثقافت کے مثبت پہلوؤں ، مقامی باشندوں کے کھیل کود وغیرہ کو ڈسٹرب نہیں کیا ۔ مثلا علاقئی کھیل ۔ گتکا ۔ کبڈی۔ اور اسطرح کے مقبول اور صحت کے لئیے مفید کھیل ۔ لباس کے بارے میں بھی ہر جگہ اسلام ماننے والوں کے لباس مختلف ہیں ۔ بس اسلام نے اسکے لئیے تین بڑے اصول واضح کئیے ۔

    اؤل۔: لباس سے انسانی جسم اسطرح پوشیدہ ہو کہ لباس سے بے پردگی کی بجائے پردے اور شرم و حیا کا تاثر ابھرے ۔
    دوئم۔: لباس سے موسم کی سختی، سردی اور گرمی سے جسم محفوظ رہے۔
    سوئم ۔: مردو عورت دونوں کے لباس دیدہ زیب ہوں یعنی دھلے ہوئے ہوں ۔ بدرنگ نہ ہوں۔ بے ڈھب نہ ہوں۔ وغیرہ

    مندرجہ بالا باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے لباس کے بارے میں ، مسلمانوں کو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر قسم کی رہنمائی مل جاتی ہے۔

  14. عبداللہ says:

    گوندل بقلم خود ،
    کیوں دی ہوئی مثال پسند نہین آئی کیا!!!!
    🙂

  15. عبداللہ says:

    ’’ ایک شخص ابتدا میں صرف انگریزی جوتا استعمال کرتاہے اور سمجھتا ہے کہ اس سے ہم انگریز نہیں بن گئے، لیکن تھوڑے عرصے میں وہ یہ دیکھ لے گا کہ یہ انگریزی جوتا اس کے بدن سے اسلامی پاجامہ اتر واکرٹخنوں سے سے نیچا پاجامہ پہننے پر مجبورکر دے گا، پھر یہ پاجامہ اس کاکرتااور عبا اتروائے گا اور جب اعضاء ا ور جوارح اور بدن انسان کی پارلیمنٹ کے سب مغربی رنگ کے ہوگئے تو اس کے سلطانِ سر تاج کومجبور ہوکر انکا تابع بننا پڑے گااور انگریزی ٹوپی اسلامی عمامے کی جگہ لے گی اور جب خود گھڑے گھڑائے صاحب بہادرہوگئے تو سمجھ لیجئے کہ اب گھر کے قدیم اصول و رواج کی خیر نہیں، کیونکہ یہ کسے کسائے صاحب بہادرکسی مسند پر نہیں بیٹھ سکتے ، دستر خوان پر کھانا تناول نہیں فرما سکتے ، نماز کیلئے بار بار وضو نہیں کر سکتے ۔ غرض گھر کا پرانا فرنیچر ، رخصت ، طہارت و عبادت رخصت،‘‘. …… دیکھ لیا ایک انگریزی جوتے کی آفت کہاں تک پہنچی اور کس طرح اس نے تمہارے دین او ر دنیا کو تباہ کر ڈالا، حقیقت میں گناہوں کا ایک سلسلہ ہے ۔ جب انسان ایک خطا کرتا ہے تو دوسرااس سے خودبخود لگ جاتا.. ایک حدیث میں ہے کہ نیکی کی فوری جزا یہ ہے کہ اس کے دوسری نیکی کی توفیق ہوتی ہے اور گناہ کی فوری سزا یہ ہے کہاس کے بعددوسرے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔‘‘
    مفتی شفیع احمد عثمانی نے یہ گفتگو کہاں فرمائی تھی کتاب اور صفحہ نمبر پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  16. نصیر جزاک اللہ۔
    بھئی ہمارا حلیہ ایسا تو نہیں ہوتا۔لیکن میں مسواک ضرور منہ میں رکھتا ہوں۔
    مجھے اس سے کبھی شرمندگی نہیں ہوئی۔
    ہاں تھری پیس سوٹ پہننے کی وجہ سے سرکس میں کام کی آفر ہونے کی امید ضرور ھے۔ ویسے میں اپنے آپ کو جینز میں زیادہ ایکٹو محسوس کر تا ہوں۔
    اور کام کاج چستی اور تیزی سے کر لیتا ہوں۔
    بچپن میں ٹچی مچی سے دانت نہ صا ف کر نے کی وجہ سے اور ابھی تک مسواک کی عادت سے دانت ایک دم چٹے دودھ ہیں۔
    عثمان ایک مخلص بلاگر ساتھی ہیں۔
    بس کچھ مغرب کی طرف زیادہ مائل ہیں۔
    میں عثمان سے گذارش کروں گا کہ اخلاقی طور پر بارہ سنگھے کے درجہ پر بعض اوقات جانے کی ناکام کوشش نہ کیا کریں کہ یہ آپ کا مزاج نہیں ھے۔

  17. ماشا اللہ
    خوب لکھا اور شرمندہ کر دیا
    شرم ان کو ہی آیا کرتی ہے جو شرم کی قیمت جانتے ہیں
    اور پردہ ان کے لئے ہے جو عزت کا تحفظ چاہتے ہیں
    لباس جسم کی پردہ پوشی کے لئے ہے اور ہم نے جسم دکھانے کے لیے لباس بنا لئے
    داڑھی کو فیشن کے طور پر رکھ لیا اور اپنی مرضی کی جتنی چاہے چھوڑ دی

    دین اب اپنا ہی من پسن ڈھال لیا ہے
    ہر وہ چیز جو مجھے پسند وہ ٹھیک
    اور وہی اسلام

    اور کسی نے حدیث بیان کر دی تو لڑنا جھگڑنا شروع
    مسلکی مزہبی رنجش
    پھر یہ کے کسی مسلمان بھائی کو ہاتھ زبان اور عمل سے دکھ دینا
    کیا یہ سب اسلام ہے؟

    میجھے سمجھ نہین آتا کہ ہم کہاں جا رہے ہین
    جو بھی اسلام کا نام لیتا ہے

    بس اپنی اصلاح کرے تنقید نہ کرے خدارا
    اپنی اصلاح کیجئے

  18. عثمان says:

    یاسر۔۔۔
    مسواک کے متعلق سنت بنوی کی اصل روح دانتوں کی باقاعدہ صفائی ہے۔ اب یہ صفائی چاہے مسواک سے ہو یا ماڈرن ٹوتھ پیسٹ اور برش سے۔۔۔کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    دین کی اصل روح کو پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیے نا کہ یہ کہ ہم ظاہری چیزوں کے پیچھے پڑ جائیں۔

  19. کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ لمبا سبق لکھنے سے پہلے آپ اپنی دی ہوئ اپنی تصویر ہی اس سبق کے مطابق کر لیتے. واللہ پھر یہ سبق اور آپ دونوں ایکدوسرے سے مطابقت رکھتے.
    یہ جو آپ لوگ سب عبداللہ کو بارہ سنگحا کہتے ہیں اور اس سے لطف لیتے اور پھر ساتھ میں یہ اسباق اتنی شد ومد سے دوہراتے ہیں اس سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں اس پہ آپکا رتی برابر بھی یقین نہیں ہے اور جو کچھ اس کے ھق میں لکھنے والوں نے کہا وہ مھض انکی دینداری کی نمائیش کے سوا کچھ بھی نہیں. ورنہ دین کی سمجھ آپ میں اتنی اخلاقیات ضرور پیدا کرتی کہ ارشاد نبوی کے مطابق ایکدوسرے کو برے ناموں سے نہ بلاءو. چھیڑیں رکھنا ایک عام سطحی انسان کی تفریح ہو سکتی ہے انکی نہیں جو دین کی دعوت دیتے پھر رہے ہیں.
    آپ کسی کے اختلاف رائے سے اتنا گھبرا جاتے ہیں کہ اپنی تبلیغ کے بنیادی اصولوں کو بھول جاتے ہیں. میری مانیں آپ سب لوگ جو ابھی اس تحریر پہ جزاک اللہ کہہ چکے ہیں. ایک دفعہ پھر دین کے بنیادی اسباق کو دوہرائیں. اسپیشلائزیشن کے چکر میں آپ انتہائ سادہ باتیں یاد نہیں رکھ پائے. آپ سب کو اسکی شدید ضرورت ہے ورنہ اس تحریر کی زبان استعمال کرتے ہوئےمجھےآپ سب کو احمق دیندار کہنا پڑے گا. جو میرے مطابق اسلام کی توہین نہیں ہوگی بلکہ انکی توہین ہوگی جو اپنے آپ کو دیندار کہتے ہیں.
    واللہ اعلم بالصواب.

  20. ملا نصرالدین says:

    عنیقہ جی ان صاحب کی تصویر پہ نا جاے یہ جالی ھے ،، 🙄 🙄

  21. عنیقہ بی بی
    یہ اخلاقیات کا سبق کبھی آپ اپنے چانٹے کو بھی دیا؟
    اب آپ اگر کہیں کہ عبد اللہ بارہ سنگھا نہایت شریف اور اعلی اخلاق کا ھے!
    تو اوروں کا تو نہیں معلوم میرا اس سے اختلاف صرف دو باتوں پر ہے.
    اس کی بد اخلاقی………………
    اس کی منعافقت………
    اور میرے خیال میں ساری دنیا کو دکھائی دینے کے باوجود آپ کو اس میں یہ باتیں دکھائی نہیں دیں گی.
    یہ شخص ایم کیو ایم کا دفاع کرے اور ضرور کرے کہ اسکا حق ھے .
    لیکن دوسروں کیلئے نفرت بھرے استعمال نہ کرے.
    اس کی اس طرح کے الفاظ دوسرے علاقوں کے لوگوں میں تمام اردو بولنے والوں کیلئے برا تاثر پیدا کرتے ہیں.
    اس لئے اس شخص کو اخلاقیات کا خیال رکھنے والے بارہ سنگھا اور میرے جیسے…………مشکوکہ کہتے ہیں.
    کوئی حرج نہیں محسوس کرتا کہ اسے سیالکوٹی مولا بخش کے حوالے کرنے کی خواہش رکھوں اور یو ٹیوب وڈیو جاری کروانے خواہش رکھوں 😀 😀 😀 😀 😀 😀 😀 😀 😀

  22. انیقہ صاحبہ کی بات درست ہے خاص کر باراسنگے والی، لیکن اگر کوئی دوسروں کا گالیاں دے ان میں نسلی تعصب کو ابھارے، ہر جگہ خواہ مخواہ میں بھائی اور ان کی ایم کیو ایم کو لے کر اپنے سینگ پھنسائے، نسلی تعصب کی بنا پر دوسروں کا تضحیک کا نشانہ بنائے تو کیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک کے مصداق ہم اسے صرف بارا سنگا بھی نہیں کہہ سکتے؟
    😥
    اور بارا سنگا تو بہت معصوم اور بے ضرر ہوتا ہے جی۔ اپنا والا تو ہر بلاگر کو جس سے اسے اختلاف ہو اول فول بکتا ہے۔

  23. عثمان
    آپ کی بات سےمتفق ہوں.
    اگر کوئی اس طرح کی بات لکھتا ھے اور ایسا حلیہ رکھنا چاہتا ھے.
    تو کیا آپ یا میرے پاس ایسے شخص کا تمسخر اڑانے کی کوئی وجہ ھے؟
    اور مجھے اس تحریر میں کوئی مشرکانہ اور بد عت والی بات بھی نظر نہیں آئی.
    میں نے اسی لئے لکھا ھے کہ.مجھے مسواک پسند ھے.اور یہاں کے ڈاکٹر بھی حیرانگی ظاہر کرتے ہیں کہ میرے دانتوں میں کوئی کیڑا وغیرہ بھی نہیں ھے.
    میں نے یہ بھی لکھا ھے کہ مجھے جینز پسند ھے.
    اسلام کی روح کو سمجھنا اچھی بات ھے. کیا اسلام نے سب سے زیادہ اخلاقیات کی تعلیم نہیں دی؟
    اب مجھے تبلیغ مت کرئیے گا کہ بارہ سنگھے کی عزت کرو!! 😀 😀 😀 😀 ”

  24. عمران says:

    آپ کےبلاگ اور اس پر تبصروں سے یہ بات پتا لگتی ہے کہ ہمارا سب سے زیادہ مسئلہ اپنے اوپر تنقید برداشت کرنا ہے۔ اسلام کے نام پر ہم بیوقوف بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ ہمیں مولوی بتاتا ہے کے میں جو کہ رہا ہوں یہ ہی اسلام ہے اور اگر تم نہیں مانتے توکافر ہو۔
    ❓ ❓

  25. کاشف نصیر says:

    @ عثمان
    عنیقہ
    عمران
    اور
    ملا نصر الدین
    تحریر پڑھنے اور قیمتی آراء سے نوازنے کا شکریہ،
    @ عبداللہ
    تحریر پڑھنے اور قیمتی آراء سے نوازنے کا شکریہ،
    @ احمد عرفان شفقت صاحب
    احمد انجینئر صاحب
    محمد سعيد بالن بوري
    یاسرخوامخواہ جاپانی صاحب
    جاوید گوندل صاحب
    محمدوقار اعظم
    اور
    محمد طارق راحیل
    تحریر پڑھنے، تعریف کرنے، ساتھ دینے اور قیمتی آراء سے نوازنے کا شکریہ

    اب ایک مختصر سی وضاحت.
    میں نے اپنے مضمون میں بنیادی طور پر اس حوالے سے بات کی تھی کہ کونسا لباس مسلمانوں کیلئے واجب ہے، یعنی لباس اتنا چھوٹا ،باریک یا چست نہ ہوکہ وہ اعضاء جسم ظاہر ہوجائیں جن کا چھپانا۔
    پھر آگے چل کہ میں نے سنت اور مستحب لباس کی بات کی اور تقویٰ اور پرہیزگاری اور شناخت کے مسائل پیش کئے. میں نے نہیں کہا کہ مغربی لباس ناجائز ہے میں نے کہا خلاف سنت ہے اگر ہم اہتمام سنت کریں تو وہ زیادہ بہتر ہے. پھر میں نے کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کی، زیادہ تر احایث اور قرآن سے دلائل نقل کئے، بہت سی جگہوں پر تو میں نے صرف احادیث نقل کرنے پر اکتفا کیا. اب قرآن کی آیات جانیں اور نبی صلی اللہ و علیہ وسلم کی احادیث جانیں اور آپ حضرات جانیں، ہر کسی نے اپنی قبر میں جانا ہے اور وہ اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوگا.

    اور ایک درخواست
    برادر عثمان اور محترمہ ہمارے انتہائی قابل اور معزز بلاگر ہیں، تبصرا کرتے ہوئے انکی تکریم ملحوظ خاطر رکھی جائے. اسی طرح جاوید گوندل صاحب بھی ہمارے معزز تبصرہ نگار ہیں انکی تکریم کا بھی خیال رکھا جائے. جہاں تک عبداللہ تک تعلق ہے انکی شناخت لاپتہ ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں، نیز وہ ایک ہیں یا کئی ہیں. اس لئے اگر ہم انہیں بارہ سنگھا کہتے ہیں تو انکی سنگھ اڑانے اور موضوع سے ہٹا کر بات کو صرف ایک خاص تنازر کی طرف موڑنے اور بلاگ ہائی جیک کرنے کی کوشش کی وجہ سے کہتے ہیں اور ہاں بارہ سنگھا تو ایک اچھا، امن پسند اور بے ضڑر جانور ہوتا ہے اس لقب پر تو موصوف کو خوش ہونا چاہئے. البتہ میں عبداللہ سے پوچھنا چاہوں گا کہ انہوں نے میرے لئے چاہے جتنے تلخ الفاظ استعمال کئے ہوں کیا کبھی بھی میں نے انکی بے عزتی کی یا انہیں برا بھلا کہا، کبھی ایک دفعہ بھی ؟؟

    عمران
    عدم برداشت کا مظاہرہ دونوں اطراف سے ہوا.

  26. طارق says:

    کاشف صاحب ہسپانوی درویش صاحب سے کہے میراپاکستان کے بلاک پر مقابلہ شروع ھوگیا ،، 😯 😯

  27. Jafar says:

    خلاف معمول میرا سنجیدہ کمنٹنے کا پروگرام تھا
    لیکن ۔۔۔۔۔۔۔

  28. Jafar says:

    اور ان مشہور زمانہ حضرت میں‌ مجھے دو اجناس اکٹھی نظر آتی ہیں
    تو ان کا لباس تو بڑا پیچیدہ ہوجائے گا ۔۔ نہیں۔۔

  29. رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی
    فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی

    جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
    تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

    کہاں ہے آج وہ مسلماں جو روحانیت کا سفر اختیار کرے، عبادات کو ان کی حقیقت سمیت اپنائے تاکہ ہمارا اپنے خالق سے ٹوٹا ہوا رشتہ جُڑ جائے۔ اسلاف کے بتائے روشن راستہ پر قدم بڑھائے اپنے آقا کے اسوہ حسنہ کی طرف اور پھر

    قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
    دہر میں اسم محمد سے اجالا کردے

  30. عبداللہ says:

    یاسر خوامخواہ اور وقار اعظم اپنے لگائے ہوئے الزامات کا ثبوت پیش کرو!!!!!!!!!

  31. عبداللہ says:

    میں ہر شخص کو اس کی گفتگو کے مطابق ہی جواب سے نوازتا ہوں،اب مسئلہ یہ ہے کہ سامنے والے کو اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا،اوپر سے میرے دیئے ہوئے دلائل ان کے لیئے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں، اور کچھ لوگوں کو اس میں اپنی شکلوں کی بد صورتی نظر آنا شروع ہوجاتی ہے،یوں وہ تڑپ تڑپ کر اور زیادہ اپنے اندر کا ذہر نکالتے ہیں اور لوگوں کو ان کی اصلیت اور اوقات کا پتہ چلتا رہتا ہے اب اس میں بھلا میرا کیا قصور ہے ؟؟؟؟
    🙂

  32. عبداللہ says:

    اب مجھے تبلیغ مت کرئیے گا کہ بارہ سنگھے کی عزت کرو!! ”
    @خوامخواہ،
    دوسروں کی عزت وہی کرتا ہے جس کی اپنی کوئی عزت ہوتی ہے!
    🙂
    بارہ سنگھا کے پیچھے کون لگے ہوتے ہیں شکاری کتے،
    تو اس حساب سے تم اور تمھارے جیسے لوگ کیا ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
    😆

  33. عبداللہ says:

    کاشف ،
    تم نے مجھے فرحان کے بلاگ پر میرے ماں باپ کی ناجائز اولاد تک کہا،اور اب یہ معصومیت؟؟؟؟؟؟؟؟
    🙄
    میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ کہہ چکا ہوں کہ میں ایک ہی ہوں اور نامعلوم تبصرہ نگاروں کو میں نہیں جانتا،باقی یہاں کسی کو کسی سے رشتہ داریاں قائم نہیں کرنا کہ سب کا حدود اربعہ اور خاندان بھی جانا جائے ،جس طرح سب لکھتے ہیں کوئی بلاگ اور کوئی تبصرہ ویسے ہی میں بھی ہوں ،اس سے زیادہ جاننے کی نہ تو تمھیں یا کسی اور کوکوئی ضرورت ہونا چاہیئے نہ ہی خواہش،
    میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی اور تبصرہ نگارکا بایو ڈیٹا جاننے کی اتنی شدید خواہش تم میں سے کسی کو نہیں ہے جتنی میرا کیا اس کی کوئی خاص وجہ ؟؟؟؟؟
    اور یہ بھی جھوٹ ہے کہ مجھ میں عدم برداشت نہیں میں نے تو تم لوگوں کی حد سے بڑھی بدتمیزیوں اور گالم گلوچ کو احسن طریقے سے برداشت کیا اور پھر یہ سوچ کر کہ دوسروں کو بھی اپنی بے ہودگیوں کا احساس ہونا چاہیئے ،ایک حد میں رہتے ہوئے جوابی کاروائی کی اور کرتا رہوں گا !!!!!!

  34. ماہم پرویز says:

    میرے خیال میں ہم میں سے کوئی بھی خود دین پر چلنے میں تیار نہیں لیکن تشریحات میں اپنی رائے دینا ضروری سمجھتا ہے۔
    صرف یہ ہی دیکھ لیا جائے کہ دین کی بنیادی باتوں میں ہی سے ہم میں سے کتنے لوگ پوری کرتے ہیں؟ صرف فجر کی نماز ہی میں سے ہم میں کتنے لوگ ہیں جو جماعت کے ساتھ پابندی سے نماز ادا کرتے ہیں؟ میرے خیال میں نماز کے مئلے میں تو دو رائے کا کوئی سوال ہی نہیں۔
    باقی اس بات پے بہت افسوس ہوتا ہے کچھ لوگ مولویوں کو برا بھلا کہنے کی آڑ میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے سے بھی باز نہیں
    آتے۔اور کسی کے بیک گراونڈ کا پتا نہیں اسی لیے ہم تو یہی سمجھ کے دل کو تسلی دے دیتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے کیونکہ مسلمان دینی مسئلے پر اس طرح استہزاء نہیں کرسکتا۔
    وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لا تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (11) أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لا يَشْعُرُونَ (12) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آَمِنُوا كَمَا آَمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آَمَنَ السُّفَهَاءُ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لا يَعْلَمُونَ (13) وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آَمَنُوا قَالُوا آَمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ (14) اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (15) أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ

  35. عبداللہ says:

    اسی طرح جاوید گوندل صاحب بھی ہمارے معزز تبصرہ نگار ہیں انکی تکریم کا بھی خیال رکھا جائے. جہاں تک عبداللہ تک تعلق ہے انکی شناخت لاپتہ ہے اور ہم نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں،

    اور یہ تمھارے معزز بلاگر جاوید گوندل کے بارے میں تم کیا جانتے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  36. عبداللہ says:

    کیا ان سے تمھاری کوئی رشتہ داری ہے؟؟؟؟؟؟؟

  37. احمد انجینئر says:

    کاسش صاحب دیکھو کیا شاندار بات ہے واہ واہ کیسے کھل کر اصل مرض کی نشاندہی کی ہے پڑھنے کے لائق ہے
    http://www.express.com.pk/epaper/PoPupwindow.aspx?newsID=1101042539&Issue=NP_LHE&Date=20100831

    یہاں جاوید چوہدری کا کالم پڑھیں

  38. احمد انجینئر says:

    کاشف سوری آپکا مبارک نام مس ٹائپ ہوگیا

    کالم میں سسٹم کو چلتا رہنے والی بات ، اور بد نصیب جسٹس افتخار کی بار بار یہی بات کہ سسٹم چلتا رہے گا، سب کی یہی بات اور بیماری کا بڑھتے رہنا
    بہترین اصلاحی کالموں میں سے ایک

  39. یاسر خواہ مخواہ جاپانی says:

    بارہ سنگھے صاحب
    کاشف نے کچھ آپ کے متعلق کسی دوسرے بلاگ پر انکشاف کیا!!
    جیسی گندی زبان آپ استعمال کرتے ہو ۔
    جاوید گوندل صاحب جیسے شریف نفس انسان بھی غصے میں آجاتے ہیں۔
    تو کیا یہ آپ کے ناجائز نطفہ ہونے کا ثبوت نہیں ہے؟۔
    ہمارے لئے یہی کافی ہے ۔اب تو ساری دنیا مانتی ھے کہ بارہ سنگھا کے والدین نے کچھ گڑ بڑ کی ھے۔
    اوباما بھی جلد پریس کانفرنس کرنے والا ھے۔بارہ سنگھا ناجائز پیداوار ھے۔
    ہی ہی ہی ہی ہی۔
    ویسے بارہ سنگھے یہ وقت سے پہلے گنجے کیوں ہو گئے؟
    کا شف جی اب بارہ سنگھا اگر تبصرہ کرے تو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیجئے گا۔
    اسے ایک دم گنجا دیکھنا چاہتا ہوں۔:lol: 😆 😆

  40. عبداللہ says:

    واہ واہ سبحان اللہ دین کے ٹھیکیداروں کے اخلاق حسنہ تو کوئی دیکھے تمھارا شمار بھی گوندل بقلم خود جیسے
    تھوتھا چنا باجے گھنا
    میں ہی ہوتا ہے اور یہ بات تم ہزار بار اپنی گندی غلیظ زبان اور گھٹیا باتوں سے ثابت کر چکے ہو،کبھی اپنی تحریر اور میری تحریر کا موازنہ سکون سے بیٹھ کر کرناتو تمھیں پتہ چلے گا کہ تمھارے اور میرے انداز گفتگو میں زمین اور آسمان کا فرق پایا جاتا ہے!!!!!!!
    تمھارا خبث باطن چلا چلا کر تمھاری غلیظ تربیت کی نشاندہی کررہا ہے،باقی کسی جاہل کے مجھے ناجائز کہہ دینے سے میں ناجائز نہیں ہوجاؤں گا البتہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں وہ کیا گنوا رہے ہیں اس کا اندازہ انہیں اس دنیا سے جانے کے فورا بعد ہی ہوجائے گا انشاء اللہ!!!!!!!

  41. کاشف نصیر says:

    وضاحت:
    برادر یاسر کا آخری تبصرہ کیونکہ ایک مختلف اور نامعلوم آئی پی سے کیا گیا ہے اس لئے مجھے اسکی صحت کے بارے شک ہے.

  42. عبداللہ says:

    کاشف نصیر اپنے بھائی بند کو بچانے کی اچھی کوشش ہے!!!!!
    یہ انداز اس شخص نے کوئی پہلی بار استعمال نہیں کیا ہے!!!!!!!!!
    لوگ اس کے اس انداز تخاطب کو اچھی طرح جانتے ہیں!!!!!!!!!!!!!

  43. گو پاکستان پہ اُمنڈنے والی پے در پے آفات پہ اچھٖے خاصے لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ مگر میری ذاتی رائے میں ہمیں تحمل سے کام لینا چاہئیے ۔ اور ہر جگہ ہر دوسرے انسان کی ٹانگ کینچھنے والے مخصوص لوگوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنی حدود مقرر کریں۔

  44. عبداللہ says:

    اچھا بڑی جلدی حدود کا خیال آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جب تم نے اور تمھارے بھائی بندوں نے ساری حدود کراس کرلیں اور اپنی ذہنی غلاظت کا دل کھول کر اظہار کرلیا!!!!!
    سچ کہنا اگر تمھارے نزدیک ٹانگ کھینچنا ہے تو میں تو یہ کام کرتا رہوں گا!!!
    اپنے ذہنوں کا گند صاف کرو،جھوٹ بولنا اور بلاجواز الزامات لگانا بند کرو،حقائق کا سامنا کرنا سیکھو،
    میں خود بخود خاموش ہوجاؤں گا!!!!

  45. ہاں دوستو! اپنے ذہنوں کا گند صاف کرو،جھوٹ بولنا اور بلاجواز الزامات لگانا بند کرو،حقائق کا سامنا کرنا سیکھو لیکن بارا سنگھے کی ذہنی سطح اور معیار کے مطابق نہیں تو یہ بھونکتا رہیگا.
    میرے خیال میں یہ دنیا کا واحد باراسنگھا ہے جس میں دو جنسوں کی خصوصیات موجود ہیں. مطلب سینگھ پھنسانے کے ساتھ ساتھ بھونکنے والی بھی….
    😆

  46. عبداللہ says:

    یہ بھوکنے والی خاصیت تو تمھاری خاص ہے ،
    اپنی خصوصیات کو دوسروں پر مت تھوپو!!!!!!
    😆

  47. عبداللہ says:

    ویسے اس طرح کے گھٹیا انداز گفتگو کو اختیار کر کے اگر تم جیسے چند لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حق پرستی کے سیلاب کو روک لیں گے تو یہ صرف اور صرف ان کی خام خیالی ہے اور انشاء اللہ وہ منہ کی کھائیں گے!!!!!!!
    کیونکہ حق آنے کے لیئے اور باطل مٹ جانے کے لیئے ہے انشاءاللہ

  48. ہاہاہاہا، حق پرستی کا سیلاب، کیا مسخرہ پن ہے یار………

    حق پرستی کا لبادہ اوڑھ کر باطل پرست
    پھر سے کرنا چاہتے ہیں شہر کو بوری میں بند

  49. عبداللہ says:

    انشاء اللہ یہ بھی وقت ثابت کردے گا کہ کون کس کو بوری میں بند کرتا تھا!!!!!!!
    8)

  50. عبداللہ says:

    آج پھر شیطانوں نے کراچی لاہور اور پشاور کو ٹارگٹ کیا ہے،اور بے گناہوں کی جان لی ہے،
    انا للہ وانا الیہ راجعون،
    جہاں تھوڑاسکون ملتا ہے کہ اب یہ شیطان کمزور پڑ گئے ہیں یاان کا خاتمہ نزدیک ہے،پھر کوئی نہ کوئی سانحہ پیش آجاتا ہے،
    یااللہ ہمیں ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے نجات عطا فرما آمین یا رب العالمین

  51. عبداللہ says:

    کاشف نصیر دوسروں پر جھوٹ کا الزام لگانے والے آج تمھارا جھوٹ کھل گیا ہے،تم نہ تو پاکستان میں رہتے ہو اور نہ ہی کراچی میں،تم کسی یورپین ملک میں رہ رہے ہو،اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ تمھاری باقی باتیں بھی جھوٹ کا پلندہ اور بکواس ہیں!
    سچ کہا ہے بڑوں نے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور وہ زیادہ دیر نہیں چلتا،شرم کرو بے شرم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  52. حق پرستی؟ نہیں یار منافقت! اور منافقت بھی خباثت کی حدوں کو چھوتی منافقت!!!!۔

    سیلاب؟ یا کمزور اور غریب مزدوروں اور نہتے لوگوں پہ اسلحے کے زور پہ پیٹھ پیچھے وار کرنے کی بے غیرتی؟ ۔ جو بزدلوں کی اولین نشانی ہے۔

    ان لوگوں نے حق پرستی کی اسقدر منافق تشریح کی ہے کہ اب اس لفظ کے ادا کرنے سے ٹولہ منافقاں کا تصور ذہن میں آتا ہے۔خود کو زبردستی اہل اردو کا نمائیدہ بیان کرنے والوں نے تیس کی دہائی میں امریکن و اطالوی مافیا کے ڈان کو بھی شرما دیا ہے۔ انہی لوگوں کو جن کی نمائیدگی کے یہ دعویدار ہیں انہیں یونٹس کانم پہ قاتلوں کے ٹولے مقرر کر رکھے ہیں ۔ جو دوسری زبانوں اور علاقوں کے مظلوم نہتے لوگوں نشانہ بناتے ہوئے انتہائی بے غیرتتی اور بزدلی کا مظاہرہ تو کرتا ہی ہے مگر اردو بولنے والوں پہ بھی زکواۃ ، فطرانے، صدقات، بھائی کے لئیے چندہ، بھائی کے بھائیوں حق پرستان ؟؟ کے لئیے دال روٹی ۔ پیر لنڈن اور ہنوا ٹولے کی تحریک کے لئیے منتھلی ۔۔۔ الغرض جب بھی پیر لنڈن ترنگ میں کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیں اس کے لئیے چندہ ۔ یہ طرح طرح کے وقت بے وقت بھتے ،بے چارے اور مظلوم اردو بولنے والے شہریوں کی جان کا عذاب بنے ہوئے ہیں۔ جنکے کاروبار، جائیداد۔ جان مال اور اولادیں ، کوئی شئے ان سے محفوظ نہیں ، ظلم کی حد ہے انہی کو معتوب و مبتلاء کر رکھا ہے جن کی زبردستی نمائیندگی کا یہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔

    کہاں تو پاکستان بھر میں اہل اردو کو پاکستان کا نفیس ترین طبقہ اور باشعور لوگ سمجھا جاتا تھا ۔ دوسرے علاقے کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے ۔ اور کیسے قائد؟ اور تحریک؟؟ نے انھیں ناحق اچھوت بنا کر رکھ دیا ہے۔ عام آدمی اہل اردو کی بات سنتے ہیں قائد اور حق پرستان ؟؟ ٹولے کے کرتوت بیان کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ واہ کیسی تحریک ہے جس نے اہل اردو کو بغیر قصور کے دیوار کے ساتھ لگا رکھا ہے۔

    بلا بھی ننانوے گھر کھا کر سواں گھر معاف کر جاتی ہے۔ مگر پیر لنڈن تو پورے سو کے سو گھروں کی بلی لیتا ہے۔

    نمونے کے لئیے مندرجہ ذیل دو لنک حاضر ہیں۔ یہ اعترافات جو قائد کے جریوں نے دو چانٹے پڑنے پہ ٹیپ ریکارڈر کے بجنے کی کی طرح فر فر بیان کئیے ہیں ۔ یا تو تحریک؟؟ کے المعروف حق پرستان اسے جھٹلائیں۔ اسکی تردید کریں یا پھر حق پرستی کا دُم چھلہ اپنے ساتھ نہ باندھیں۔

    حق پرست ؟ رحمان کے نام پہ شییطانیت۔
    اگر مندرجہ ذیل لنک کا ایک فیصد ظلم بھی ایسے ہی ہوا ہے جس طرح ایم کیو ایم کے دہشت گرد بیان کرتے ہیں تو ایسے حق پرستوں کو اپنے گھناہوں کی معافی مانگنی چاہئیے جو انہوں نے مظلوم لوگوں پہ روا رکھ کر حق پرستی کی دُم باندھہ کر خدا اور خدا کی مخلوق سے کئیے۔

    نمونے کے لئیے مندرجہ ذیل دو لنک حاضر ہیں۔
    http://ummat.com.pk/2010/08/23/news.php?p=story1.gif
    http://www.ummat.com.pk/2010/08/28/news.php?p=story3.gif
    اسی بھی ایک نظر دیکھ لیں۔ http://www.ummat.com.pk/2010/09/01/news.php?p=story3.gif

  53. عبداللہ says:

    جاگیر داروں کے ایجینٹ اپنی یہ لن ترانیاں بند کرو،تمھارے اس چیتھڑے اخبار کی کراچی میں کوئی اوقات نہیں ہے،
    اور یہ متحدہ کی اعلی ظرفی کی ایک اور مثال ہے کہ کب سے یہ گھٹیا اخبار متحدہ کے خلاف لکھ رہا ہے مگر نہ تو آج تک اس اخبار کو بند کیا گیا نہ جلایا گیا اور نہ ہی اس کے جھوٹے رپورٹروں کو کوئی نقصاں پہنچایا گیا کیونکہ متحدہ آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے
    یوں بھی کراچی کا کوئی بھی سمجھ دارآدمی اس کی جھوٹی خبروں پر رتی بھر یقین نہیں رکھتا!!!!!
    رہی اہل اردو کو دیوار سے لگانے کی بات تو انہیں دیوار سے تم جیسوں نے لگایا ہوا تھا،
    اور اہل اردو سے نفرت بھرے تمھارے تبصرے آج بھی میرا پاکستان اور جہانزیب اشرف کی پوسٹوں پر موجود ہیں،
    اصل تکلیف تو تم لوگوں کو یہی ہے کہ جنہیں تم نے دیوار سے لگا رکھا تھا وہ آج اپنے حق کے ساتھ ساتھ ان سب کا حق مانگ رہے ہیں جنہیں 62 سال تک تم لوگوں نے پیس کر رکھا،

    http://ejang.jang.com.pk/9-2-2010/pic.asp?picname=04_26.gif

    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
    آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا
    جاگیر داروں کا خاتمہ ہونے کے ساتھ ساتھ
    ابھی تو پنجاب کے پانچ صوبے بھی بنیں گے انشاء اللہ اور تم جیسے منہ دیکھتے رہ جائیں گے انشاء اللہ!!!!!!!!!!!

  54. کاشف نصیر says:

    عبداللہ میاں آپکی سوچ پر مجھے بہت افسوس ہے، یہ آپکو آخری انتباہ کہ آپ ہمارے بلاگ پر آکر صرف موضوعات پر تبصرہ کیا کریں، ذاتیات پر نہ آیا کریں اور ادھر ادھر کی فضولیات اور معزز بلاگران پر کیچڑ اچھالنے سے پرہیز کیا کریں. آپ پہلے بھی فرحان کے بلاگ میں میرے متعلق غلط بات کرچکے تھے اورجسکے سیدھے سادھے جواب کو آپ جائز و ناجائز تک لے گئے.

    دوسری بات کہ میں شہر قائد میں رہتا تھا، رہتا ہوں اور انشاء اللہ تامرگ رہتا رہوں گا اور ہاں یہ میرا اپنے والدمحترم کے ساتھ عہد ہے کہ میں کم از کم فکر معاش اور روپے پیسہ کیلئے اس شہر اور اس ملک کو کبھی نہیں چھوڑوں گا. آپ کبھی کراچی آئیں میں آپکو بوٹ بیسن یا برنس روڈ پر کھانا کھلاتا ہوں پھر شاید آپکو میرے ظرف کا اندازہ ہو.

    آئیں برادشت، بقائے باہمی اور اخلاقیات کے سفر کا آغاز کریں

  55. عثمان says:

    کاشف۔۔
    انسانوں کو کھانا کھلانے کی آفر کی نہیں اور ۔۔۔۔کو فورا کر دی۔
    کیا یہ کھلا تضاد نئیں اے؟؟ 😆

  56. عبداللہ says:

    بیٹا فکر نہ کرو اور تھوڑا انتظار کرو!!!!!!!!!

  57. بیٹا فکر نہ کرو اور تھوڑا انتظار کرو!!!!!!!!!
    ارے واہ سینگا تو دہمکی پہ اتر آیا ہے۔ لگتا ہے اگلا یونٹ انچارج بننے کا امیداوار ۔ سینگھا ہے۔

    اور اہل اردو سے نفرت بھرے تمھارے تبصرے آج بھی میرا پاکستان اور جہانزیب اشرف کی پوسٹوں پر موجود ہیں۔۔۔عبداللہ

    ارے بھائی جہانزیب اشرف صاحب کے بلگ پہ کئیے گئے اپنے تبصرے کا لنک تو مین یہاں لگا رہا ہوں ۔ اور آپ افضل صاحب کے ۔۔ میرا پاکستان ۔۔ سے اہل اردو سے مبینہ نفرت کے تبصروں کا لنک ڈھونڈہ لاؤ۔
    http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/
    مافیا تحریک کے چیلے چانٹے پتہ نہیں کیوں آپنے آپ کو اہل اردو سمجھتے ہیں ؟ ہمیں ایم کیو ایم کی قیادت کے طریقہ کار اور گندی سیاست سے اختلاف ہے ۔ اہل اردو کو ہم دوسرے پاکستانیوں کی طرح نہائت باعزت شہری سمجھتے ہیں ۔

  58. اور یہ متحدہ کی اعلی ظرفی کی ایک اور مثال ہے کہ کب سے یہ گھٹیا اخبار متحدہ کے خلاف لکھ رہا ہے مگر نہ تو آج تک اس اخبار کو بند کیا گیا نہ جلایا گیا اور نہ ہی اس کے جھوٹے رپورٹروں کو کوئی نقصاں پہنچایا گیا کیونکہ متحدہ آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے،—

    جس دن یوں ہوا اس دن کراچی سے مافیاتحریک کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ٹولہ منافقاں کے پکڑے گئے دہشت گرد اور انکے اعترافات کراچی سے گروہ قاتلاں کی بساط لپیٹے جانے کا ادنٰی سا ٹریلر ہے۔ کیا سمجھے ؟ ہیں جی؟؟

  59. کاشف بھیا اچھے عنوان پر لکھا ہے آُپنے پسند آیا۔ دین میں دو باتیں ہیں ایک خود عمل کرنا اور ایک دوسروں کو عمل کرنے کا کہنا جیسا کہ آپکی یہ تحریر۔ افسوس یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو وہی عمل کرنے کا کہے جو خود عمل کرتا ہو لیکن یہ غلط بات ہے۔ دونوں باتیں دین کا حصہ ہیں اگر آپ ایک حصے پر عمل نہیں کر سکے تو دوسرے پر ضرور کیجئیے۔ لہٰزا یہ سوچ سوچنے والوں پر شرم محسوس ہوئی کہ آپ خود عمل کرتے نہیں ہوں گے اور ہمیں سکھانے آگئے۔
    ایک نئی بات جو آپکے بارے میں آج جانی وہ یہ کہ آپ میں حد درجہ برداشت ہے۔ جو مجھے بہت اچھا لگا۔ خیر اسکے ساتھ کچھ لوگوں کے اصلی چہرے بھی دیکھنے کو ملے۔ آپ غیر اخلاقی تبصروں کو شائع کرنے سے اجتناب فرمایا کریں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور آپکو جزائے خیر دے۔

  60. عبداللہ says:

    ویسے تو مجھے اس بات سے نہ تو کوئی فرق پڑنا چاہیئے کہ کون کس نام سے بلاگنگ کررہا ہے یا تبصرے لکھ رہا ہے اور نہ ہی میں اس کا کوئی حق رکھتا ہوں!
    مگر کچھ لوگ جو دوسروں کو ہزاروں باراس بات کے لیئے ذلیل کر چکے ہوں (گوکہ اس کی اصل وجہ کچھ اور ہی ہے،مگر بہانہ تو اسی بات کو بنایا گیا)
    وہ خود کتنےسچے ہیں انہیں ضرور اس کا ثبوت پیش کرنا چاہیئے!!!
    کل مجھے اچانک اس بات کا خیال آیااور میں نے اسے چیک کرنے کے لیئے بیک وقت ایک تبصرہ محمد اسد اور دوسرا کاشف نصیر کے بلاگ پر کیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دونوں کراچی میں ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور محمد اسد کے بلاگ پر تو ٹائم پاکستان کا ہی آتا ہے مگرکاشف نصیر کے بلاگ پر ٹائم سات گھنٹے پیچھے چل رہا ہے!
    یہ اسکاثبوت ہے،
    • عبداللہ نے فرمایا:
    ستمبر 2, 2010 at 6:13 AM
    🙄
    یہ میں نے کل محمد اسد کے بلاگ پر تبصرہ کیا اور پھر فورا ہی ان حضرت کے بلاگ پر تبصرہ کیا

    • عبداللہ says:
    ستمبر ۱ ، ۲۰۱۰ at ۹:۱۷ شام
    😥
    جوکہ اب بھی اوپر موجود ہے
    اب یہ ہے ورلڈ کلاک ٹائم زون جو کل میں سیف نہ کرسکا تھا اس لیئے آج لگا رہا ہوں،جس میں صاف پتہ چل رہا ہے کہ کس علاقے میں اس وقت کیا ٹائم ہے ،

    http://www.timeanddate.com/worldclock/

    پھر میں نے محمد اسد سے اس بارے میں معلوم کیا،غالبا کاشف نصیر کو اس بات کا علم نہ تھا کہ اس بلاگ تھیم میں اگر ٹائم سیٹ نہ کیا جائے تو یہ آٹو میٹکلی جہاں سے بلاگنگ کی جارہی ہے وہاں کا ٹائم شو کرتا ہے،اوریوں ان صاحب کا جھوٹ پکڑا گیا ہے
    حالانکہ اسد نے مجھے بتایا تھا کہ اس پر بائی ڈیفالٹ جی ایم ٹی ٹائم شوہوتا ہے،
    اب جی ایم ٹی ٹائم بھی دیکھ لیں وہ بھی اس ٹائم سے میچ نہیں کرتا!

    http://wwp.greenwichmeantime.com/time-zone/asia/pakistan/karachi/time/

  61. عبداللہ says:

    دیئے ہوئے لنک پر تو وقت بدل جاتا ہے اس لیئے تمھارے لیئے اپنا سیف کیا ہوا لنک بھیج رہا ہوں!
    The World Clock – Time Zones
    Africa | North America | South America | Asia | Australia/Pacific | Europe | Capitals | Custom Clock

    Search for city:
    Current local times around the world (Main list)
    Change Settings (AM/PM or 24-hour)
    Sort by: CityCountryTime
    Addis Ababa Fri 4:13 AM Guatemala Thu 7:13 PM Nassau * Thu 9:13 PM
    Adelaide Fri 10:43 AM Halifax * Thu 10:13 PM New Delhi Fri 6:43 AM
    Aden Fri 4:13 AM Hanoi Fri 8:13 AM New Orleans * Thu 8:13 PM
    Algiers Fri 2:13 AM Harare Fri 3:13 AM New York * Thu 9:13 PM
    Almaty Fri 7:13 AM Havana * Thu 9:13 PM Oslo * Fri 3:13 AM
    Amman * Fri 4:13 AM Helsinki * Fri 4:13 AM Ottawa * Thu 9:13 PM
    Amsterdam * Fri 3:13 AM Hong Kong Fri 9:13 AM Paris * Fri 3:13 AM
    Anadyr * Fri 1:13 PM Honolulu Thu 3:13 PM Perth Fri 9:13 AM
    Anchorage * Thu 5:13 PM Houston * Thu 8:13 PM Philadelphia * Thu 9:13 PM
    Ankara * Fri 4:13 AM Indianapolis * Thu 9:13 PM Phoenix Thu 6:13 PM
    Antananarivo Fri 4:13 AM Islamabad Fri 6:13 AM Prague * Fri 3:13 AM
    Asuncion Thu 9:13 PM Istanbul * Fri 4:13 AM Reykjavik Fri 1:13 AM
    Athens * Fri 4:13 AM Jakarta Fri 8:13 AM Rio de Janeiro Thu 10:13 PM
    Atlanta * Thu 9:13 PM Jerusalem * Fri 4:13 AM Riyadh Fri 4:13 AM
    Auckland Fri 1:13 PM Johannesburg Fri 3:13 AM Rome * Fri 3:13 AM
    Baghdad Fri 4:13 AM Kabul Fri 5:43 AM San Francisco * Thu 6:13 PM
    Bangkok Fri 8:13 AM Kamchatka * Fri 1:13 PM San Juan Thu 9:13 PM
    Barcelona * Fri 3:13 AM Karachi Fri 6:13 AM San Salvador Thu 7:13 PM
    Beijing Fri 9:13 AM Kathmandu Fri 6:58 AM Santiago Thu 9:13 PM
    Beirut * Fri 4:13 AM Khartoum Fri 4:13 AM Santo Domingo Thu 9:13 PM
    Belgrade * Fri 3:13 AM Kingston Thu 8:13 PM Sao Paulo Thu 10:13 PM
    Berlin * Fri 3:13 AM Kiritimati Fri 3:13 PM Seattle * Thu 6:13 PM
    Bogota Thu 8:13 PM Kolkata Fri 6:43 AM Seoul Fri 10:13 AM
    Boston * Thu 9:13 PM Kuala Lumpur Fri 9:13 AM Shanghai Fri 9:13 AM
    Brasilia Thu 10:13 PM Kuwait City Fri 4:13 AM Singapore Fri 9:13 AM
    Brisbane Fri 11:13 AM Kyiv * Fri 4:13 AM Sofia * Fri 4:13 AM
    Brussels * Fri 3:13 AM La Paz Thu 9:13 PM St. John’s * Thu 10:43 PM
    Bucharest * Fri 4:13 AM Lagos Fri 2:13 AM St. Paul * Thu 8:13 PM
    Budapest * Fri 3:13 AM Lahore Fri 6:13 AM Stockholm * Fri 3:13 AM
    Buenos Aires Thu 10:13 PM Lima Thu 8:13 PM Suva Fri 1:13 PM
    Cairo Fri 3:13 AM Lisbon * Fri 2:13 AM Sydney Fri 11:13 AM
    Canberra Fri 11:13 AM London * Fri 2:13 AM Taipei Fri 9:13 AM
    Cape Town Fri 3:13 AM Los Angeles * Thu 6:13 PM Tallinn * Fri 4:13 AM
    Caracas Thu 8:43 PM Madrid * Fri 3:13 AM Tashkent Fri 6:13 AM
    Casablanca Fri 1:13 AM Managua Thu 7:13 PM Tegucigalpa Thu 7:13 PM
    Chatham Islands Fri 1:58 PM Manila Fri 9:13 AM Tehran * Fri 5:43 AM
    Chicago * Thu 8:13 PM Melbourne Fri 11:13 AM Tokyo Fri 10:13 AM
    Copenhagen * Fri 3:13 AM Mexico City * Thu 8:13 PM Toronto * Thu 9:13 PM
    Darwin Fri 10:43 AM Miami * Thu 9:13 PM Vancouver * Thu 6:13 PM
    Denver * Thu 7:13 PM Minneapolis * Thu 8:13 PM Vienna * Fri 3:13 AM
    Detroit * Thu 9:13 PM Minsk * Fri 4:13 AM Vladivostok * Fri 12:13 PM
    Dhaka Fri 7:13 AM Montevideo Thu 10:13 PM Warsaw * Fri 3:13 AM
    Dubai Fri 5:13 AM Montgomery * Thu 8:13 PM Washington DC * Thu 9:13 PM
    Dublin * Fri 2:13 AM Montreal * Thu 9:13 PM Winnipeg * Thu 8:13 PM
    Edmonton * Thu 7:13 PM Moscow * Fri 5:13 AM Yangon Fri 7:43 AM
    Frankfurt * Fri 3:13 AM Mumbai Fri 6:43 AM Zagreb * Fri 3:13 AM

  62. عبداللہ says:

    ویسے تو مجھے اس بات سے نہ تو کوئی فرق پڑنا چاہیئے کہ کون کس نام سے بلاگنگ کررہا ہے یا تبصرے لکھ رہا ہے اور نہ ہی میں اس کا کوئی حق رکھتا ہوں!
    مگر کچھ لوگ جو دوسروں کو ہزاروں باراس بات کے لیئے ذلیل کر چکے ہوں (گوکہ اس کی اصل وجہ کچھ اور ہی ہے،مگر بہانہ تو اسی بات کو بنایا گیا)
    وہ خود کتنےسچے ہیں انہیں ضرور اس کا ثبوت پیش کرنا چاہیئے!!!
    کل مجھے اچانک اس بات کا خیال آیااور میں نے اسے چیک کرنے کے لیئے بیک وقت ایک تبصرہ محمد اسد اور دوسرا کاشف نصیر کے بلاگ پر کیا اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ دونوں کراچی میں ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور محمد اسد کے بلاگ پر تو ٹائم پاکستان کا ہی آتا ہے مگرکاشف نصیر کے بلاگ پر ٹائم سات گھنٹے پیچھے چل رہا ہے!
    یہ اسکاثبوت ہے،
    • عبداللہ نے فرمایا:
    ستمبر 2, 2010 at 6:13 AM

    یہ میں نے کل محمد اسد کے بلاگ پر تبصرہ کیا اور پھر فورا ہی ان حضرت کے بلاگ پر تبصرہ کیا

    • عبداللہ says:
    ستمبر ۱ ، ۲۰۱۰ at ۹:۱۷ شام

    جوکہ اب بھی اوپر موجود ہے
    اب یہ ہے ورلڈ کلاک ٹائم زون جو کل میں سیف نہ کرسکا تھا اس لیئے آج لگا رہا ہوں،جس میں صاف پتہ چل رہا ہے کہ کس علاقے میں اس وقت کیا ٹائم ہے ،
    پھر میں نے محمد اسد سے اس بارے میں معلوم کیا،غالبا کاشف نصیر کو اس بات کا علم نہ تھا کہ اس بلاگ تھیم میں اگر ٹائم سیٹ نہ کیا جائے تو یہ آٹو میٹکلی جہاں سے بلاگنگ کی جارہی ہے وہاں کا ٹائم شو کرتا ہے،اوریوں ان صاحب کا جھوٹ پکڑا گیا ہے

  63. Jafar says:

    پس ثابت ہوا کہ بارہ سنگھوں‌کے کمپیوٹر بھی کمپیوٹروں‌ کے بارہ سنگھے ہوتے ہیں
    ان کی ممدوح‌ کے مداح نے انہی کے بلاگ پر ان کے سینگ توڑے تھے اسی طلسم ہوشربا کے جواب میں۔ وہاں‌ یہ آئیں بائیں شائیں کرکے باقی ماندہ سینگ بچا کر بھاگ لئے
    یہاں‌ آنا ہوا تو پھر کونے کھدرے میں سینگ پھنسا کے ‘میں نہ مانوں ہار، اوسجناں میں نہ مانوں ہار’ گا رہے ہیں۔
    یہ بارہ سنگھے کتنے مستقل مزاج (ڈھیٹ) ہوتے ہیں!

  64. عبداللہ says:

    آگئے دم ہلاتے سونگھتے سنگھاتے!!!!!
    😆

  65. عبداللہ says:

    کاشف نصیر رقمطراز ہيں:

    Wednesday، 25 August 2010 بوقت 6:50 am
    عبداللہ میاں، میں کسی دو مختلف قوم کے کسی گناہ کا نتیجہ یا مکسچر نہیں ہوں۔ :mrgreen:
    الحمداللہ ایک ایک خالص اور اصلی بہاری اور سید النسل ہوں اور کوئی ایسا ویسا گم نام خاندان بھی نہیں ہے۔ والد محترم شہری حکومت میں ایک اعلی سرکاری عہدیدار کی حثیث سے ریٹائریڈ ہوئے تھے۔ مزید معلومات درکار ہو تو میری پروفائیل سے میرا موبائیل نمبر اور گھر کا پتہ حاصل کرکے تشریف لائیں۔ آپ کو پھر اندازہ ہوجائے گا کہ جنکی نسلیں اصلی اور ملاوٹ سے پاک ہوتی ہیں وہ کیسی ہوتی ہیں۔

  66. عبداللہ بھائی پہلے مجھے شک تھا مگر اب یقین ہوگیا ہے کہ آپ کو کوئی شدید نفسیاتی بیماری لاحق ہے، برائے مہربانی اپنا علاج کروایں کہیں بیماری لاعلاج نہ ہوجائے۔

  67. جعفر says:

    ملاوٹ سے پاک
    اصلی ڈالڈا بناسپتی نسل

  68. عبداللہ says:

    سارہ مصباح ذرا اس کی بھی وضاحت فرمائیں کہ یہ شک آپکو کیونکر ہوا اور اب یقین کی وجہ بھی؟؟؟؟؟؟
    یہ گھٹیا جملے آپکے لاڈلے بھیا کے تھے، اور حضرت جھوٹ بول رہے تھے کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی اور میری عادت ہے کہ جھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچا کر آتا ہوں، سو یہ تبصرہ حاضر ہے!!!!!
    میں خود بہت سے لاعلاج مریضوں کا علاج کرچکا ہوں کبھی آپکو ضرورت ہو تو میری خدمات حاضر ہیں!!!
    🙂

  69. عبداللہ says:

    @جعفر،
    کم سے کم برادری میں شادیوں کے نتیجے میں تم جیسا ذہنی مریض تو نہیں ہوں نا!!!!!
    🙂

  70. بہت اچھی تحریر ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔

  71. محترم مفتی کاشف نصیر صاحب
    میں قطب شمالی سے بذریعہ ٹرین چند گھنٹوں کہ فاصلے پر رہتاہوں جس کی وجہ سے انگریزی جوتا پہننا پڑتا ہے کہ کہیں فراسٹ بائٹ ناہوجاوے، اسی طرح کافروں کی بنی جینز بھی پہننا مجبوری ہے کیونکہ اور پر سے کافروں کے طرز کو کوئی شرٹ یا ٹی شرٹ بھی پہنتا ہوں،، لیکن سب سے بڑا مسئلہ جیکٹ کا ہے کیونکہ کافروں کی بنائی ہوئی سب سے بڑی اور اس ملک میں سب سے ضروری چیز ہے پائچے بھی ٹخنوں سے نیچے رکھتا ہوں کیونکہ بعض اوقات جوتوں میں برف گھسنے کا اندیشہ ہوتا ہے،، مختصر یہ کہ پچھلے تین سالوں میں میں نے اسلامی لباس چھوا بھی نہیں ہے سوال یہ ہے کہ اس گناہ کی مجھے کتنی سزا ملے گی؟؟یعنی مجھے کتنے سال جہنم میں صرف جینز پہننے کی وجہ سے جلنا ہوگا، اور کیا مجھے آخرت میں اس بات کی چھوٹ ملے گی کہ جس جگہ میں رہتا تھا وہاں سردی بہت پڑتی ہے؟؟؟؟

    اسکے علاوہ جان کی امان پاوں تو ایک اور سوال پوچھے میں آپ محترم کی فیس بک پر ذیادہ تر تصاویر کافرانا لباس میں ہے دیکھی ہیں جس میں سے ایک میں آپ نے نمود اور نمائش کی خاطر کالا چشمہ بھی لگایا ہوا ہے ،،، آپ کو ان حرام کاموں کو کرنےکی وجہ سے کتنے سال جہنم میں جلنا ہوگا،،، اور کیا آپ سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ آپ تو ایک معتدل علاقے میں رہتے تھے اور اسلامی لباس کی پابندی کرسکتے تھے لیکن آپ نے تو نہ کہ لیکن دوسروں پر انگلی اٹھا دی۔

    کہتے ہیں ایک دن حضرتِ محمد کے پاس ایک عورت آئی اور درخواست کی کہ میرا بچہ گڑ بہت کھاتا ہے، اس کا کچھ کریں حضرت محمد نے کہا کل آنا ،، جب وہ عورت کل آئی تو انہونے بچے سے کہا گڑ نا کھایا کرو بری بات ہوتی ہے،، عورت نے پوچھا یہ تو آپ کل بھی کہہ سکتے تھے تو جواب ملا کل میں نے بھی گڑ کھایا تھا،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    جس نے رنگ اور نسل کے فرق کو مٹانے کا دعوی کیا تھا اور کہا تھا کہ نسل پر فخر کرنے والا ہم میں سے نہیں اس شخص سے محبت سے دعویداروں کا حال آج یہ انہیں خالص بہاری ہونے پر فخر ہے سید ہونے کا دعوی ہے اور مکس لوگوں پر طنز بھی کرتے ہیں ۔۔

  72. amir khan says:

    اسلام علیکم کاشف بھائی آپ نے ماشاءاللہ بہت اچھے باتیں کی ہے اللہ تعالی ہر مسلمان کو ہدایت دے

  73. بہت اچھا پوسٹ ہے… بڑا مزا آیا پڑھکر… اللہ تعالی ہم سب کو اپنے اسلامی لباس پہننے اور اس پر فخر کی توفیق دے. امین

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>