صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

عنیقہ ناز کے بعد

مصنف: وقت: پیر، 12 نومبر 201212 تبصرے

دروازے کے ساتھ بندھے کتے کو شاید یہ جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ دستک کس نے دی ہے اس لئے اس نے اپنی پوری قوت کے ساتھ بھونکنا شروع کردیا تھا، ہلکے زرد رنگ اور سیاہ چہرے والے اس کتے سے یہ ہماری پہلی براہ راست ملاقات تھی، اس سے قبل ہم نے اسے ہمیشہ فیس بک پر اپنی مالکن کے پہلو میں زبان نکالے بیٹھے دیکھا تھا، جس رفتار سے اسنے بھونکنا شروع کیا تھا چند لمحوں میں یہ اس ہی رفتار سے خاموش ہوگیا جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو یا وہ اچانک کسی گہری سوچ میں کھوگیا ہو۔تیسری دستک کے بعد مکان کے اگلے حصے سے ایک بڑے صاحب نمودار ہوئے اور ہمیں اندر لے گئے، ایک چھوٹے لیکن نفیس لان سے گزرتے ہوئے ہم مکان کے مرکزی حصہ میں داخل ہوئے تو ہلکی ہلکی موسیقی نے ہمارے کانوں میں رس گولنا شروع کردیا، آٹھ دس سال کی ایک بچی اپنے استاد سے موسیقی کا سبق لے رہی تھی، ایک شوخ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے ہمارا استقبال کیا اور دوبارہ اپنی تمام توجہ اپنے استاد کی طرف مرکوز کردی۔ اس بچی کا نام مشعل تھا اور ہم عنیقہ ناز کے مکان میں تھے، مہمان خانے میں بیٹھے میں بار بار میں عنیقہ ناز کےساتھ مختلف مواقعوں پر بحث یاد کررہا تھا، انکے جوابات اور فریق مخالف کو زیر کردینے والے تبصرے میرے ذہن میں گھوم رہے تھے۔ افسوس عالمانہ انداز، بے باک رویہ، طنزیہ لہجہ، شوخ مزاج، سہل زبان اور جلد باز طبیعت کی حامل بلاگر آج ہم میں موجود نہیں لیکن وہ چند سالوں میں اتنا کام کرگئی ہیں کہ شاید ہم انہیں کبھی فراموش نہ کرپائیں۔

بدھ کی سہ پہر عنیقہ صاحبہ کے برادر نسبتی نے مرحومہ کے فیس بک وال پر ایک نظم پوسٹ کی جسکی ساتھ ہی انکی وفات کی خبر بھی موجود تھی، فوری طور پر دماغ نے اس خبر کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اتوار کی شب فیس بک پر انسے چیٹ ہوئی اور دو روز بعد اس طرح کی خبر کا آجانا کسی شاک سے کم نہ تھا، شام بھر کئی بلاگران سے ٹیلی فون پر اطلاعات کا تبادلہ ہوتا رہااوررات تک شعیب صفدر صاحب محترمہ کے گھر کا پتہ حاصل کرچکے تھے ۔لہذا طے ہوا کے جمعہ کی دوپہر انکے گھر تعزیت کے لئے جایا جائے۔مرحومہ کی رہائش فیڈل بی ایریا کے ایک نیم پوش علاقے میں ہے، جہاں مکان تلاش کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہ تھا۔ جمعہ کی دوپہر عائشہ منزل پر برادر عمار ابن ضیاء، شعیب صفدر اور فہیم اسلم جمع ہوئے اور مرحومہ کے گھر پہنچ گئے، مرحومہ کے خاوند، برادر نسبتی سے تمام اردو بلاگنگ کمیونٹی کی طرف سے تعزیت کی اور حادثہ کی تفصیلات حاصل کیں۔ امر محبوب صاحب کے بقول حادثہ پیر کی دوپہر فیڈل بی ائریا کے علاقے میں ہی مشعل کو اسکول سے واپس لاتے ہوئے پیش آیا تھا، حادثہ کی وجہ مرحومہ کی تیزرفتاری تھی، وہ سیٹ بیلٹ کے بغیر ڈرائیو کررہی تھیں اس لئے جب آگے والی گاڑی سے ٹکر اؤ ہواتو انکا سر اسٹیرنگ سے جا لگا اور شدید زخم آئے۔ انہیں فوری طور پر ضیاء الدین اسپتال منتقل کیا گیا لیکن زائد خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ جانبر نہ ہوسکیں اور خالق حقیقی سے جاملیں۔ مرحومہ کے پسماندگان میں انکی بیٹی مشعل ہے جو شوخی اور تیز مزاجی میں انکا عکس ہے۔

بحیثیت ہم عصر بلاگر کے میں نے مرحومہ کو ہمیشہ پروفیشنل پایا، مجھے نہیں معلوم کہ میری بات سے انہیں کوئی تکلیف ہوئی یا نہیں لیکن تمام تر نظریاتی اور فکری اختلاف کے باوجود کبھی ایسا موقع آیا نہیں آیا جب مجھے انکے کسی جملے یا فقرے سے تکلیف ہوئی ماسوائے ایک واقعہ کے جب انہوں نے عافیہ صدیقی اور فواحشہ عورتوًًں کے درمیان مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، مجموعی طور پر مرحومہ اور میرے درمیان کبھی کوئی تلخی نہیں ہوئی اور نہ بات ایک حد سے آگے بڑھی، اسکی خاص وجہ خودمرحومہ کا طرز عمل بھی تھا، وہ بحث کو بحث کی حد تک رکھنے کا ملکہ رکھتیں تھیں اور ہر طبقہ فکر کے ساتھ بحث اور گفتگو کی قائل تھیں لیکن ایک خامی ان میں بدرجہ اتم موجود تھی یعنی کاٹ کھانے والا طنزیہ انداز گفتگو جسے شاید وہ اسے اپنی سب سے بڑی مہارت سمجھتی تھیں لیکن میری نظر میں تو یہ کمزوی تھی جس سے قارئین بیزار رہا کرتے تھےاور اکثر وبیشتر انکے بلاگ پر تبصرے سے بھاگتے تھے۔ چند کمزوریوں کے باوجود ان میں بہت سی خوبیاں بھی تھیں ، وہ تیز رفتار ضرور تھیں لیکن انہوں نے کمال فن سے اپنی رفتار میں مستقل مزاجی اور اتار چڑھاو پیدا کر رکھا تھا، مسلسل بلاگ لکھنا۔تبصرے کرنا اور بحث و مباحثہ کا حصہ بننا ایک ہاوس وائف کے لئے مشکل کام ہے لیکن شاید انہوں نے ٹائم مینجمنٹ کے تمام گر سیکھے ہوئے تھے۔ لگ بھگ چار سالوں میں انہوں نے تین بلاگ فی ہفتہ کی رفتار سے 483 بلاگ لکھے اور پھر ہر بلاگ پر لمبے لمبے تبصرے اور جوابی تکرار۔ وہ صرف بلاگ لکھتی نہیں بلکہ بلاگ پڑھتی بھی تھیں اور بحیثیت قاری بھی انہوں نے اپنے آپ کو منوایا۔

میری اکثر تحاریر پر انکے اختلافی تبصرے موجود ہیں، کئی مرتبہ بحث اور تکرار کی صورتحال بھی پیدا ہوگئی، فیس بک پر بھی یہی معاملہ رہا۔مجھے اکثر و اوقات انکے طنزیہ، کاٹ کھانے والے اور شوخ تبصروں کا انتظار رہا کرتا تھا مگر کئی ایسے مواقع بھی آئے جب مرحومہ نے کھل کر میری کسی تحریر سے اتفاق رائے کا اظہار کیا، خاص طور پر جب میں سانحہ مشرقی پاکستان پر قلم اٹھایا، یا جب میں خود احتسابی کی بات کی یا جب سلمان تاثیر کے قتل کی مخالفت کی، کئی ایسے مواقع بھی آئے جب انہوں نے میری کسی بلاگ کے جواب میں بلاگ لکھا، جیسے سوشل میڈیا میلے پر میرے بلاگ کے جواب میں انہوں نے ایک تبصرےنما بلاگ لکھا جہاں مجھے بحیثیت کاشف نصیر ضرور رگڑا گیا لیکن میرے موقف کی مختلف انداز میں تائید کی گئی۔ عنیقہ صاحبہ اب ماضی کا قصہ بن چکی ہیں لیکن انکے بلاگی کام اور تبصروں کو محفوظ کرنے کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ ہمت کر کہ کوئی نہ کوئی بلاگر اس طرف توجہ ضرور دیگا۔

عنیقہ ناز جتنی اچانک اورخاموشی سے سامنے آئی تھیں اتنے ہی اچانک اور خاموشی سے رخصت ہوگئیں،بلاگستان میں دو دن بعد انکی وفات کی خبر پہنچی، کراچی کے کسی اخبار انکے ٹریفک حادثہ کو رپورٹ کیا اور نہ ہی کسی تھانے کے روزنامچہ میں اس حادثے کا اندراج ہوسکا۔بہرکیف انکی وفات پر پوری اردو بلاگنگ کمیونٹی افسردہ ہے، ان سے شدید ترین اختلاف رکھنے والے بھی انکی موت پر اپنے غم اور افسوس کاا ظہار کررہے ہیں اور کئی تعزیتی پوسٹ لکھ چکے ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم بلاگران ای میل کرکے حادثات کی تفصیلات حاصل کررہے ہیں۔یقینا انکی وفات سے اردو بلاگنگ میں ایک ایسا خلا پیدا جو شاید کبھی پر نہ ہوسکے، انکی تحاریر بلاگستان میں بائیں بازو کی ترجمانی کرتی تھی انکے جانے سے بلاگستان کا توازن بگڑ چکا ہے جو کسی بھی طرح اردو بلاگنگ کے لئے موزوں نہیں ہے۔مزید یہ کہ انکی تحاریر کئی دوسرے بلاگران کو لکھنے کی تحریک دیتی تھی، کئی لوگ انکے بلاگ کے بعد جوابی بلاگ لکھتے او ر کبھی کبھی یہ سلسلہ دراز تر ہوجاتا ۔ خو د میں کئی پوسٹ لکھتے ہوئے ذہن میں مرحومہ کےکاٹ دار تبصروں کا خوف محسوس کرتا تھا اور حتی الامکان کوشش کرتا تھا کہ تحریر میں کہیں کوئی سقم باقی نہ ر ہ جائے کہ مرحومہ کو موقع ملے۔افسو س، عالمانہ انداز، بے باک رویہ، طنزیہ لہجہ، شوخ مزاج، سہل زبان اور جلد باز طبیعت کی حامل بلاگر آج ہم میں موجود نہیں لیکن وہ چند سالوں میں اتنا کام کرگئی ہیں کہ شاید ہم انہیں کبھی فراموش نہ کرپائیں۔

فیس بک تبصرے

12 تبصرے برائے: عنیقہ ناز کے بعد

  1. بے شک ہم انہیں یاد رکھیں گے۔
    میرے جیسے اناڑی کو بھی لکھنے کی تحریک ان سے ملی ۔
    ان سے ہزار اختلاف کے باوجود ہم ان کا لوہا مانتے ہیں۔
    اور شاید ہی کوئی ان کے پائے کا لکھاری سامنے آ پائے۔
    سب سے بڑی بات کہ ان سے ہمیں سوچ و فکر کرنے کی عادت حاصل ہوئی۔
    ناچاھتے ہوئے بھی کئی کتب پڑھ ڈالیں صرف مخالفت کا مقابلہ کرنے کیلئے!!

  2. Md-Noor says:

    عامر لیاقت حسین کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ انہیں لوگ رمضان میں اتنا زیادہ اس لئے پسند کرتے ہیں کہ وہ شیطان کو بہت مِس کرتے ہیں ۔۔۔۔(یہ جملے مرحومہ نے اپنے مضمون ” ہے کون سا فرق ایسا” میں لکھے تھے) ۔
    چونکہ انہیں معلوم تھا کہ عامر لیاقت کو میں بھی پسند نہیں کرتا اس لئے گمنام تبصرہ کیا ۔ جو درج ذیل ہے۔۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    توبہ توبہ کریں بی بی آپ رمضان میں یہ کیسی باتیں لکھ رہی ہیں ۔ لگتا ہے اس کی خوبصورتی سے آپ کو جیلیسی ہے جس کو آپ مخاصمت کا نام دے رہی ہیں ۔ آپ دیکھتی نہیں اُس کے چہرے پر کتنا زیادہ نور ہے ۔جب وہ روتا ہے تو دنیا رونے لگتی ہے۔ اس میں معمہ والی بھلا کیا بات ہے ۔ اس کو روتا دیکھ کر میں بھی رونے لگتا ہوں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مرحومہ کا جواب :
    🙂
    مجھے تو ہنسی آتی ہے جب وہ رونا شروع کرتا ہے معاف کیجئیے گا جب وہ رونا شروع کرتے ہیں۔
    مجھے اسکی خوبصورتی سے زیادہ کپڑوں سے جیلسی ہوتی ہے۔ اگر کوئ مرد عورتوں کی طرح اپنے نک سک کو سجانے سے لگا رہے تو اس سے کسی عورت کو جیلسی ہو سکتی ہے بالکل ہو سکتی ہے۔
    http://anqasha.blogspot.com/2012/07/blog-post_23.html
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مجھے اس جواب پر حیرت ہوئی کہ ۔۔اتنا جلدی وہ کیسے مان گئیں اور کہا “جیلیسی” ہوسکتی ہے ۔۔ بالکل ہوسکتی ہے۔(مرحومہ کی باتیں یاد آتیں ہیں ۔۔۔)
    خُدا اپنی رحیمانہ کریمانہ صفت کے تحت مرحومہ کے تمام گُناہوں کو معاف فرمائے۔( آمین)

  3. بلا شبہ عنیقہ ناز اردو بلاگنگ کا سرمایہ تھیں لیکن افسوس کہ زندگی نے اُنہیں مہلت نہیں دی۔

    اردو بلاگنگ سے وابستہ تمام تر لوگ جو چاہے اُن کے حامی رہے ہوں یا اُن کے مخالف اُن کی خداداد صلاحیتوں کے معترف رہے ہیں ۔ اور ان کی اچانک موت پر سب ہی انتہائی افسردہ ہیں ۔

    عنیقہ ناز اپنی بات کہنے کا فن جانتی تھیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ جامد روایات کے برعکس منطقی استدلال پر انحصار کیا کرتی تھیں۔ ان کی زیادہ تر پوسٹس متنازعہ ہی ہوتی تھیں۔ ایسے میں مخالفین کا پیدا ہونا تو فطری امر ہی تھا۔ تاہم لوگ پھر بھی اُن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

    دعا ہے اللہ اُن کی مغفرت کرے (آمین)

  4. ظہیر اشرف says:

    مجھے اگرچہ ان کو کم کم ہی پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے ، مگر دیانت داری سے اپنی درست یا غلط رائے کا اظہار کرنا ان کی اچھی خوبی تھی۔ اللہ مرحومہ کے معاملات آسان فرمائے ۔ عنوان دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں بھی یہی خیال آیا تھا کہ ان کی تحریروں کو مھفوظ کیا جائے ۔ میں ان کاموں سے کچھ خاص واقف نہیں ، مگر اگر کوئی صاحب اس کام کا بیڑا اٹھائیں تو اپنی قابلیت کے حساب سے اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہوں گا۔

  5. Md-Noor says:

    محترم کاشف نصیر آپ نے اچّھا ہی کیا جو میرا تبصرہ شائع نہیں کیا ۔۔ اب آپ تبصرہ ڈلیٹ کردیں۔۔جب آپ ڈلیٹ کردیں گے پھر ایک نیا تبصرہ کروں گا جو اس سے مختلف قسم کا ہوگا ۔۔۔حالانکہ میرا منشا مرحومہ کی باتوں کے زریعے انکی یاد کو تازہ کرنا تھا ۔۔۔لیکن عامر لیاقت کے بارے میں کہے گئے جملے یقیناً انکے چاہنے والوں کو قابلِ اعتراض لگیں گے ۔۔جو بہتر نہ ہوگا ۔۔آپنے سوجھ بوجھ سے کام لیا ہے ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔اس تبصرہ کو بھی ڈلیٹ کردیں ، ایک بار اور شُکریہ ۔۔۔وصول کریں ۔۔(ایم۔ڈی)

  6. دعا says:

    بہت افسوس کی بات ہت ان محترمہ کے بلاگ پر ایسی تو کوئی خاص چیز ہے ہی نہیں جس کو محفوظ ہونا چاہیئے۔ایک تو ان کی کچھ تحاریر ایسی تھیں جو کہ بحثیت مسلمان عورت ان کو نہیں لکھنی چاہیئے تھیں اللہ ان کی آخرت کی منزلیں آسان کرے اگر کوئی ان کے مشن کو آگے بڑھائے گا تو اپنی ہی آخرت خراب کرے گا اللہ سب کو اسلام کی درست سمجھ عطا فرمائے۔آمین

  7. عنیقہ ناز صاحبہ کی موت پر دکھ ہوا لیکن اس سے زیادہ انکی وفات کے بعد انکے لواحقین کا طرز عمل اور طرز زندگی کے بارے میں جان کر ہوا. کہتے ہیں کہ فنا انسان کا مقدر ہے اور ایسا مقدر کہ وہ نام و نشان تک مٹا دیتی ہے. مگر ایسا بھی کیا کہ لواحقین اور پیارے کچھ دن بھی اسکی موت کا سوگ نا منا سکیں اور اپنی زندگیوں اور مصروفیات میں مشغول ہوجائیں.
    اللہ اس لبرلزم کی وبا اور اسکے وبال سے تمام مسلمانوں کو محفوظ فرمائے.

  8. عنیقہ ناز صاحبہ چونکہ عالمِ برزخ میں پہنچ چکی ہیں اسلئے سوائے اُن کے اچھے اوصاف کے کچھ بیان کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا ۔ ان کے حادثہ سے زندہ لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیئے ۔ پہلا یہ کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ۔ بقول شاعر ۔ سامان سو برس کا ہے پَل کی خبر نہیں ۔ اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتے ہوئے تائب ہونا چاہیئے اور آئیندہ احتیاط کرنا چاہیئے ۔
    اللہ تعالٰی نے ہر چیز میں ایک سبق رکھا ہے ۔ آپ نے دو باتیں لکھی ہیں ایک کہ سیٹ بیلٹ نہیں باندھ رکھی تھی ۔ انسان کو ہمیشہ پورے انہماک کے ساتھ احتیاطی تدابیر یا عوامل اختیا کرنا چاہئیں ۔
    دوسرا کہ سٹیئرنگ کے ساتھ سر ٹکرانے سے چوٹ آئی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہمارے ملک میں ایسی گاڑیاں چل رہی ہیں جو بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں ۔ ٹکر لگنے سے سٹیئرنگ کو ڈھیر ہو جانا چاہیئے تھا جسے انگریزی میں کولَیپس ہونا کہتے ہیں ۔ ایسا ہونے سے شدید چوٹ نہیں لگتی ۔ اس پر سوچنا چاہیئے اور اگر کار ساز کمپنیوں تک بات نہ پہنچائی جا سکے تو کم از کم اس سے عام لوگوں کو آگاہ کیا جائے

  9. مجھ سمیت تمام ہی اردو بلاگران کو عنیقہ ناز کے انتقال پر دلی رنج ہوا۔ ان کا مستقل لکھنا اردو بلاگنگ کے لیے بہت مفید رہا۔ آپ کی داستان دلچسپ، حیران کن اور باعث افسوس رہی کہ مرحومہ کی اتنی ساری خوبیوں سے مجھ جیسے طالب علم کو فیضیاب ہونے کا موقع نہ مل سکا۔

  10. میری پھر سے محترمہ کے لئے دعا ہے اللہ مرحومہ کے اگلے جہاں کے مراحل میں آسانیاں فرمائے اور ان کی ان کوتاہیوں کو اپنی رحمت سے درگزر فرماے جن میںہیں وہ پسند نہیں کرتا
    اور جنت میں مقام نصیب فرمائے
    آمین

  11. محترم کاشف صاحب
    سب سے پہلے آپ کا شکریہ ،کیونکہ ابھی چند دن قبل میں عمار ابن ضیاء کے بلاگ کا چکر لگا رہا تھا کہ مجھے وہاں عنیقہ ناز کے بارئے میں اشعار ملے۔پہلے تو میں حیران ہوا کہ یہ کون عنیقہ ہیں۔لیکن بعد میں اردو بلاگستان کنگھالا تو معلوم ہوا کہ یہ ووہی صاحبہ ہیں جو کہ بلاگ لکھتی تھی۔
    لیکن دل میں خلش تھی کہ موت کا سبب کیا ہوگا اور ایکسیڈنٹ کیسے ہوا ہوگا۔

    چنانچہ آپ کے اس کالم کے توسط سے یہ خواہش بھی پوری ہوئی۔جزاک اللہ تعالیٰ

    ڈاکٹر جواد صاحب کے تبصرئے سے معلوم ہوا کہ سوگ کا مرحومہ کے لواحقین نے اہتمام تک نہ کیا ،تو دلی افسوس ہوا کہ موت کے بعد جو رشتہ دار کچھ ایصال ثواب کرتے ہیں اور میت کے لئے برزخی زندگی میں اسانیاں لاتے ہیں ، وہ بھی اسی سیکولرازم اور لیبرلازم کے سبب ختم ہوتا جا رہا ہے۔
    گویا مردہ نہیں بس کوئی آلہ تھا جو بے کار ہوگیا۔حالانکہ مردہ بے کار نہیں ہوتا بلکہ اسکی اس دنیا سے ٹرانسفر ہوجاتا ہے ،جیسے ماں کے پیٹ سے اس دنیا میں اسکا ٹرانسفر ہوا تھا۔
    تو ایک تو یہ بات بھی قابل مذمت ہے۔

    احتیاطی تدابیر، سٹیرنگ کے حوالے سے اور کسی دوسرئے کے موت سے سبق حاصل کرنے کے حوالے سےافتخار بھوپالی صاحب کے مشورے سے اتفاق کرتا ہوں۔

    دلی رنج مجھے بھی ہوا تھا انکی موت سے شائد اسلئے کہ انکے شوخ تحاریر پر تبصروں کی صورت کبھی کبھی حاضری ہوجاتی۔اسی لئے شائد وہ اپنائیت سی محسوس ہو رہی تھی۔بہر حال مرحومہ کیلئے اگر سب ساتھی ایک بار سورۃ فاتحہ اور تین بار سورہ اخلاص (قل ہو اللہ احد)پڑھ کر بخش دیں تو انکو فائدہ زیادہ ہوگا اور ہمارئے چند منٹ اس نیک کام میں صرف ہو جائیں گے۔

  12. انا للہ و انا علیہ راجعون
    کئی ماہ کے بعد بلاگرز کی دنیا میں حاضری ہوئی تو عنیقہ ناز کے انتقال کی خبر نے اداس کر دیا۔ مرحومہ کے بلاگز اور تبصرےگاہے بگاہے پڑھنے کا اتفاق ہوتا رہا۔میں خود تو کبھی بھی ان مباحثوں کا حصہ نہیں رہا۔ مگر انہوں نے بھرپور انداز میں اپنے خیال اور موقف کو اجاگر کیا۔
    شکریہ کاشف صاحب آپ نے بلاگ لکھ کر ہمیں شریک ہونے کا موقع فراہم کیا۔
    ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور جنت ا لفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے آمین

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>