صفحہ اوّل » کاشف نامہ

14 اگست ایک استعارہ ہے

مصنف: وقت: پیر، 15 اگست 2016کوئی تبصرہ نہیں

کاشف نصیرپاکستان اور ہندوستان کے مابین یوم آزادی کی تفہیم میں ایک بنیادی فرق ہے۔ کانگریس نے دوسری جنگ عظیم کے بعد “ہندوستان چهوڑ دو” کی تحریک چلائی جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ نے “ہندوستان توڑ دو” کا نعرہ بلند کیا۔ دوسرے لفظوں میں مسلمان ہندو اکثریت پر اعتبار کے لئے تیار نہ تهے۔ گویا انگریزوں سے آزادی انکے لئے سیکنڈری جبکہ اکثریت کے استبداد سے آزادی پرائمری حیثیت رکهتی تهی۔

ہم نے ناصرف انگریز حکمرانوں سے آزادی حاصل کی بلکہ قانونی اور سیاسی اعتبار سے ہم ہندوستان سے بهی آزاد ہوئے۔ پهر یوم آزادی صرف ہماری دوہری آزادی کا دن نہیں ہے، بلکہ بطور قوم اور ریاست ہماری یوم تاسیس بهی ہے۔ اس روز ہم ہندوستان سے علیحدہ ہوکر نئی شناخت کے ساتھ اقوام عالم کی صف میں کهڑے ہوئے۔ ہمارے لبرل، کانگریسی مولوی اور خلافتی دوست آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرسکے۔ اسکا اظہار ہر 14 اگست پر انکی طرف سے گڑهے مردے اکھاڑنے کی صورت میں نظر آتا ہے۔ حالانکہ اب تین نسلیں گزر چکی ہیں اور عمرانی اصولوں کی رو سے بهی ہم قوم تصور کئے جاسکتے ہیں۔

لبرل طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ دو قومی نظریہ پاکستان کی اساس تها، قائد اعظم اور مسلم لیگ ملی و فرقہ ورانہ سیاست کا عنوان تهے، ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے قراداد مقاصد منظور کیا اور 1973 کا آئین قراداد مقاصد کی روشنی میں قرآن و سنت کی بالادستی کا علمبردار ہے۔ اب انہیں یہ کڑوا گھونٹ نگل لینا چاہئے کہ نہ پاکستان اب “ان ڈو” ہوسکتا ہے اور نہ کبھی اس سے اسکی اسلامی شناخت چهینی جاسکتی ہے۔

کانگریسی مولوی بهی آج تک اسی غم میں مبتلا ہیں کہ اگر قائد اعظم ہندوستان نہ توڑتے تو ہندوستان کی پوری مسلم قوت ایک پرچم کے نیچے متحد رہتی۔ حالانکہ جس اکهنڈ ہندوستان کی وہ بات کرتے ہیں انگریزوں کے قبضے سے پہلے وہ کبھی بهی اکھنڈ نہ تها۔ انہیں تو ہندوستان کے مولویوں کا اپنے حالات کے ساتھ تقابل کرکے ہی قائد اعظم کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ آزاد ملک میں مساجد اور مدارس کی آڑ میں آنکی پوری پوری ریاستیں چل رہی ہیں اور ذاتی کاروبار پهل پول رہا ہے۔ ان لوگوں کی ذہنی سطح کا اندازہ یوں لگالیں کہ ان میں سے ایک صاحب جو وکیل اور سوشل میڈیا اکٹیوسٹ بهی ہیں پچھلے دنوں مجهے یہ کہتے پائے گئے کہ کیونکہ آپکی تصویر کے پس منظر میں پاکستان کا پرچم بلند ہے اس لئے آپ سنجیدہ گفتگو نہیں کرسکتے۔ ان لوگوں نے جمیعت علمائے اسلام پر قبضہ کررکھا ہے، حالانکہ اس جماعت کی تاسیس ہی پاکستان کے مطالبے اور دو قومی نظرئے پر رکھی گئی تھی۔

خلافت کے سوشے چهوڑنے والے احباب بهی کم نہیں ہیں۔ ان سے عرض ہے کہ اب جمہور مسلمان ہی خدائے تعالی کی نیابت اور خلافت کا حق رکهتے ہیں۔ انکے حق اقتدار کو قبول کریں اور خوامخوا کے القاعدائی اور داعشی نہ بنیں۔ اگر آپ سمجهتے ہیں کہ ملک میں شریعت کی وہ تفہیم نافذ ہو جسے آپ درست سمجهتے ہیں تو اسکے لئے تصادم یا کسی زیرزمین منہج کے بجائے، برسر زمین دعوت کا راستہ اختیار کریں۔ اگر سمجھتے ہیں تھے کہ مسلمان ملکوں کے درمیان سرحدوں کی تقسیم نہیں ہونی چاہئے تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے قریب لانے کے لئے سماجی سطح پر کوشش کریں اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یوم آزادی بنانے سے وطن پرستی جنم لیتی ہے تو اپنی سوچ کو مثبت بنائیں، حب الوطنی اور وطن پرستی میں فرق ہے۔ جمہور مسلمان آپکے ساتھ چل پڑے تو ہمیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔  کبھی صرف یہی غور کرلیا کریں کہ کیا وجہ ہے کہ دنیا پاکستان کو طاقتور نہیں دیکهنا چاہتی ہے اور جہاں بهی پاکستان کا نام آتا ہے, اسلام کی بهی بات ہوتی ہے۔

دراصل ان تینوں طبقات کا مسئلہ ایک ہی ہے۔ یہ تینوں اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کے لئے جمہور کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں حالانکہ اس ملک کے جمہور نے ہمیشہ انکو عزت دی، انکی باتیں سنیں اور انکے سماجی کاموں کی قدر کی۔ 14 اگست اس قوم کے لئے ایک استعارہ ہے، ہماری اقلیتیں بهی اس روز اکثریت کے ساتھ کهڑی ہوتی ہیں۔ صرف ان لوگوں کو قوم کی خوشیاں اور جذبات ناگوار گزرتے ہیں۔ ان سے عرض ہے، کچھ خیال کریں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>