صفحہ اوّل » کاشف نامہ

قومی سلامتی کا مفروضہ

مصنف: وقت: بدھ، 21 دسمبر 2016کوئی تبصرہ نہیں

نو اگیارہ کے بعد امریکی منصوبہ سازوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تیسری دنیا کی علاقائی طاقتوں نے بھی اپنے اپنے ”مخصوص دہشتگرد” اور انکے ”مخصوص پشت پناہ” گڑھ لئے ہیں۔ اس طرح وہ ہر واقعے پر باآسانی سازشی نظریات کا وسوسہ کھڑا کرکے حقیقت کو خرافات میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یوں نہ اپنی غلطیوں اور پالسیوں پر نظر ثانی کرنی پڑتی اور نہ ہی گریبان میں جھانکنے کی ضرورت باقی رہتی ہے۔

پاکستان میں ہر دہشتگردی کا ملبہ ”را” کے مہروں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ایم کیو ایم پر ڈال کر ہاتھ جھاڑ لیا جاتا ہے، افغانستان اور ہندوستان میں ”آئی ایس آئی” بزریعہ لشکر طیبہ، جیش اور طالبان بروئے کار آتی ہے، ایران اور شام میں ”امریکہ و سعودیہ” اپنے لے پالک وہابیوں کے واسطے ملعون ہیں اور اب ترکی میں بھی نیا نیا ولن ”امریکہ” ہے جس کے اشاروں پر رقص کرتی گولن نیٹ ورک اور کرد علیحدگی پسند گویا اردگان کی شہرت اور ترک جمہوریہ کی ترقی سے جلتے ہیں۔

یہ غلط نہیں ہے کہ عالمی سیاست میں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کا حصہ بنتے ہیں۔ امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتیں اور پاکستان، ہندوستان سعودیہ، ترکی اور ایران ایسی علاقائی طاقتیں اپنے دشمنوں کے دشمن سے دوستیاں بھی کرتی ہیں اور وقت پڑنے پر انکی مدد بھی۔ پیٹھ میں بھی چھرا گھونپا جاتا ہے اور دوستی کے روپ میں دشمنی بھی پالی جاتی ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب برسرزمین ان ممالک نے اپنے ملکوں میں مداخلت کے داخلی اسباب پیدا کرکھے ہوں۔ جب کوئی ملک ہر واقعے کا محرک بیرونی مداخلت کو قرار دینا شروع کردے تو دراصل یہ ان اندرونی اسباب اور اپنی غلطیوں سے فرار کا راستہ ہوتا ہے۔

امریکہ میں ”نیشنل سیکورٹی اسٹیٹ” کا فلسفہ کافی زیر بحث رہا ہے۔ یعنی ایسی ریاست جسے ہر وقت ایک خطرناک دشمن کا سامنا ہو۔ بہت سے امریکی ذہن ساز اداروں کا خیال ہے کہ قوم کو مسلسل جدوجہد اور قربانیوں پر آمادہ رکھنے کیلئے ”خطرناک دشمن” کا خوف ان میں پیدا کرنا ضروری ہے۔ امریکہ اس پالیسی کو آگے بڑھا کر واحد عالمی طاقت تو بن گیا ہے لیکن ابھی چند عشرے بھی نہیں گزرے کے اسکا شرمناک زوال سامنے نظر آرہا ہے۔ کیا ہم بھی زوال کے اس راستے کے ہم راہی بنیں یا سچ کہنا سیکھ لیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>