صفحہ اوّل » کاشف نامہ

موٹروے پولیس، فوج اور طاقت کا نشہ

مصنف: وقت: پیر، 12 ستمبر 2016کوئی تبصرہ نہیں

14316732_10205225556398669_1930148186426429217_nطاقت اور اقتدار کا نشہ ہمیشہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ جب آپ خود کو طاقتور سمجھنا شروع کردیں اور لوگ آپ کے احکامات سننے لگیں تو یہ نشہ آپ پر پوری طرح سے طاری ہوجاتا ہے۔ آپ خود کو سماج کے ضابطوں سے آزاد سمجھتے ہیں۔ سماج آپ کو کوئی ذمہ داری تجویز کرے تو اس ضعم میں مبتلہ ہوجاتے ہیں کہ کیونکہ آپ کے سر پر معاشرے کی مجموعی بھلائی اور بہتری کا بوجھ ہے لئے، اس لئے آپ سے معمول کے مطابق جوابدہی نہیں ہوسکتی۔ اہل علم کہتے ہیں کہ اس دماغی کیفیت سے نجات کے دو ہی منہج ہیں۔ ایک اخلاقی تربیت اور دوسرا عدل و انصاف پر مبنی مظبوط معاشرتی نظم کی پکڑ جسے ہم جدید زبان میں قانون کی بالادستی کہ سکتے ہیں۔

سڑک پر چلتے ہوئے ٹریفک کا کبھی مشاہدہ کریں۔ اگر کوئی کار میں ہے تو چنگچی اور موٹر سائکیل والے کو زلیل کرنے کا اسے حق حاصل ہے۔ پولیس اور عوام کا تعلق بھی اسی تناظر میں دیکھیں، جو بھاری ہوگا، وہ حاوی ہوجائے گا۔ اسی طرح شوہر بیوی پر، شہری سماج کے بھائی لوگ شرفاء پر، افسر ماتحت پر، مولوی معتقدین پر، جاگیردار مزاروں پر، آجر مزدور پر، پولیس عوام پر اور فوج بلڈی سولین پر اپنی طاقت کا رعب جماتی ہے۔ اکثر اس روئے کو گوارا کرلیا جاتا ہے کیونکہ تصادم کی صورت میں کمزور مزید زیادتیوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ یوں خواہش کے برخلاف انسانی سماج اپنی سب سے چھوٹی اجتماعی اکائی یعنی خاندان سے لیکر بین القوامی برادری تک مائٹ از رائٹ کے فلسفے کو لاشعوری طور پر اپنائے ہوئے ہے۔

گو حضرت انسان نے اپنی اجتماعیت کے تمام ڈھانچے اسی بنیادی مسئلے کے پیش نظر ترتیب دئے لیکن ان ڈھانچوں کو قائم رکھنے کے لئے اسے لامحالہ طاقت کے نئے مراکز بنانے پڑے۔ طاقت کے ہر نئے مرکز نے اپنے لئے کئی نئے کمزور پیدا کئے۔ یوں یہ مسئلہ ہمیشہ کی طرح ہر انسانی معاشرے کو آج بھی درپیش ہے۔ طاقتور کو قوت کے نشے سے روکنا اور جوابدہی پر آمادہ کرنا آسان کام نہیں ہے البتہ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، عدل اور انصاف کی تکریم کمزوروں کو تحفظ کا احساس ضرور فراہم کرتی ہے۔ جن معاشروں میں قانون کتابوں میں بند ہے وہاں کوئی کیپٹن حماد کسی ڈاکٹر شازیہ کا ریب کرے یا کوئی شارخ جتوئی کسی شاہذیب کو سر شام قتل کردے، رونا کیسا!

موٹر وے کا حالیہ واقعہ ہو  سیریز اور انسیڈینٹ کے سبب ہم اس مسئلے کو عسکری اداروں اور سویلین تک محدود کریدتے ہیں۔ گو یہ درست ہیکہ فوجی قیادت کے غیر جمہوری روئے نے ناصرف طاقت کے توازن کو ہمیشہ خراب کیا ہے بلکہ اکثر تو انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر چھوٹی چھوٹی طاقتیں پیدا کرکے انکے زیر سایہ جنم لینے والی زیادتیوں کی بلواسطہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ لیکن پھر بھی ہم اس روئے کو عسکری اداروں تک محدود نہیں کرسکتے۔ کیونکہ یوں ہم اس مجموعی روئے کو مسترد کردی گے جسکا مظاہرہ سماج میں جابجا نظر آتا ہے۔ اصل مسئلہ معاشرے کی ہر ہر اکائی کو جوابدہ بنانا ہے اور اہل کہتے ہیں کہ اسکی دو ہی منہج ہیں ایک اخلاقی تربیت اور دوسرا عدل و انصاف پر مبنی مظبوط معاشرتی نظم جسے ہم جدید زبان قانون کی پاسداری کہ سکتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>