صفحہ اوّل » آوارہ گردی, کاشف نامہ

کس نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں چیک کریں!

مصنف: وقت: جمعرات، 23 ستمبر 201019 تبصرے

لیں اب کر لیں گل، کردیا نہ حقہ پانی بند، بڑے چوڑے ہوئے پھر رہے تھے۔ تھوڑی سی سستی شہرت کیا مل گئی، سمجھے تھے کہ سیدی حکومت گردادیں گے۔ اتنی ہمت کہ ان کم ظرفوں، کم ذاتوں عابد شیر علی اور جاوید لغاری کے پیچھے جاکر کھڑے ہوگئے۔ دے دھڑا دھڑ دن رات سب کام روک کر نکلے تھے پیران پیر کے بیٹوں کا منہ کالا کرنے۔ آگیا نہ آسمان سے عذاب، ہوگئے نہ پائی پائی کے محتاج اور پڑگئے نہ تنخواہوں کے لالے۔ آخرکس نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں چیک کریں!

اب ذرا سن لیں وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے فنڈ کا اجراء جامیعات کی کاکردگی پر منحصر ہے۔ سو چلئے اب اچھے بچوں کی انہیں اپنی کارکردگی دیکھائیں اور جس رفتار سے ان معزز و محترم ارکان اسمبلی کی ڈگریاں جعلی قرار دینے کی جرت کی تھی اب اس سے دگنی رفتار سے ناصرف انہیں بلکہ انکے پورے خاندان، اہل وعیال، آس پڑوس، دوستوں یاروں اور پیروں مریدوں کو من پسند ڈگریاں جاری کریں اصلی اور پکے کام کے ساتھ۔ اور یہ کلاسیں ولاسیں بند کریں اور ان سب چھوکرے چھوکریوں کو بھی لگا دیں اسی کام پر۔ پھر دیکھیں کیسے ہوتے ہیں آپ مالا مال، کیسے آتا ہے غوث اعظم کی مدد کا ہاتھ اور کس طرح سے ہوتی ہے نوٹوں کی بارش۔

اور کان کھول کہ سن لیں یہ ہرتالوں ورتالوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کلاسیں لیں یا نہ لیں کاروبار حکومت کا کیا اکھاڑ لیں گے۔ بلکہ ہمارا مشورہ ہے کہ یہ جامیعات وامیعات خالی کرکے ہمیشہ کے لئے ہی گھر چلے جائیں کہ اتنی بڑی بڑی قیمتی زمینیں اور عمارتیں بے کار کے دھندے میں ضائع ہورہی ہیں۔ اصل میں تو ان پر سید زادوں کا حق بنتا ہے، ناجانے کتنی شوگر ملیں بن جائیں انکی وگر نہ اپنے زرداری صاحب کیلئے ایک آک فارم ہاوس ہی بن جائیں گے کہ اہلیہ یاد آئیں تو جاکر جی بہلا آئیں۔ خدا کے لئے اب ہمیں تعلیم والیم کی افادیت کا لیکچر مت دیجئے گا اصل چیز پیسہ ہوتی ہے۔ پیسے سے چیزیں خریدیں اور بیچی جاتی ہیں، کروائی اور رکوائی جاتی ہیں، بنوائی اور بگاڑی جاتی ہیں، چھپائی اور پھلائی جاتی ہیں اور گوائی اور نچوائی جاتی ہیں۔ پیسہ سب کچھ ہے، سب کچھ پیسہ ہے۔ ایمان، علم، کردار محبت اور راحت سب پیسہ ہے۔ صاحب بغیر پیسے کہ تو مزارعات بھی نہیں چلتے۔

اگر آپ حضرات کو اتنا شوق ہے جامیعات چلانے کا تو فنڈ بھی خود اکھٹا کیا کریں۔ یہ ہزاروں چھوکرے چھوکریاں کس کام کے لئے پالے ہیں انہیں ہی لگائے اس ڈھنگ کے کام پر، نکالیں انہیں باہر اور منگوائیں ان سے کچھ بھیک اور ہاں کچھ فنڈ ونڈ جمع ہوجائے تو حصول برکت و عافیت کے لئے سید صاحب کی درگاہ پر نظرانے کے طور بھیجوانا مت بھولئے گا ورنہ مت بولئے گا کہ پہلے کچھ بتایا نہیں۔ اور ہاں آپ حضرات کی یہ بات کیونکرسمجھ نہیں آتی کہ سرکاری خرچ پر کاری کمینوں کو باہر بھیجوا کر پی ایچ ڈی کروانے سے بہتر نہیں کہ یہ رقم مستقبل کے وزیر اعظم کی دستار بندی پر خرچ کردیا جائے۔ ارے کیا ان کاری کمینوں کیلئے اس ملک میں ہی تحقیقی اور علمی کام نہیں ہوسکتے۔ اتنی کیا عقل ماری گئی کہ قومی خزانے پر اس قد شدید بوجھ ڈالتے ہیں۔ دے فٹے منہ آپ حضرات بابر اعوان اور عامر لیاقت بھائی کو بھول گئے کہ جب چند سو یورو میں آن لائن ڈگیریاں مل جاتی ہیں تو لاکھوں کڑوڑوں روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت۔ اتنے پیسوں میں ہمارے صدر محترم اور غوثِ زمانہ وزیر اعظم اور انکے تمام سیدی رفیق ناجانے لندن شریف اور امریکہ کے کتنے مقدس و بابرکت دورے کر آئیں۔

22 ارب روپے!ارے باپ رے باپ، اتنا پیسہ اور وہ بھی آپ اعلی تعلیم پر، ایک بات بتائیں فروغ علم کے لئے وسائل کی کیا ضرورت ہے بلکہ فروغ علم ہی کیا ضرورت ہے۔ اور ویسے بھی آج کل تعلیم سے انتہاپسندی اور بنیاد پرستی بھی پھیل رہی ہے۔ یہ انتہاپسند جامعیات سے پڑھ لکھ کر طاقتور ہورہے ہیں اور انٹر نیٹ اور ٹکنالوجی کو اپنے مضموم مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ ابھی فنڈ روکے ہیں کل کہیں ڈورون حملے نہ ہونے لگیں۔ اس لئے کہ رہا ہوں کہ جامیعات بند کرکے چابیاں حکومت کو دے دیں اور آپ تمام حضرات کوئی دوسرا دھندا شروع کردیں۔ ہاں بچت کا ایک راستہ مگر ہے۔ وہ ایک تو زرداری صاحب کا در کھلا ہے، نہیں تو سید صاحب کی درگاہ تو ہر خاص و عام کو میسر ہے۔ انکے پاس جائیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ایسی سنگین گستاخی آئندہ نہیں ہوگی اور گڑگڑائیں کہ یہ دو ابلیسی برادران تھے عابد شیر علی اور جاوید لغاری جنہوں نے ہمیں بھکایا، اکسایا اور یہ گناہ عظیم سرزد کروایا وگر نہ ہم حضرات تو پیران پیر کے پرانے اور خاص عقیدت مندوں اور فقیروں میں سے ہیں بس خدارا کچھ نظر کرم کردیں۔ پھر قسم سے فنڈ بھی ملیں گے اور تنخواہوں میں اضافہ بھی ہوگا بچاس ساٹھ فیصد نہیں ایک سو نوے فیصد۔

یہ ایچ ای سی کس بلا کام نام ہے، اچھا خاصہ وزارت تعلیم کے زیر اثر یونیورسٹی گرانڈ کمیشن ہوا کرتا تھا جو مالیات سے لے کر تمام معاملات کو دیکھتا تھا۔ کمبختوں کو شرم نہیں آتی کہ ایچ ای سی بناکر وزیر تعلیم کو مکھیاں مارنے کے لئے چھوڑ دیا۔ صاحب مال پانی کی تقسیم کا کام تو عوام کے منتخب وزیر تعلیم کا حق ہے ناکہ خودمختار ایچ ای سی کا۔اور ہاں اب خدا کیلئے یہ رونا دھونا بند کریں۔ آہ ہا تین مہینہ ہی تنخواہیں نہیں ملیں تو پیمانہ لبریز ہوگیا اور اتنا ہنگانہ برپہ کردیا۔ وہ بھول گئے دے دھڑا دھڑ دن رات سب کام روک کر نکلے تھے پیران پیر کے بیٹوں کا منہ کالا کرنے۔ آگیا نہ آسمان سے عذاب، ہوگئے نہ پائی ہائی کے محتاج اور پڑگئے نہ تنخواہوں کے لالے۔آخرکس نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں چیک کریں!

فیس بک تبصرے

19 تبصرے برائے: کس نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں چیک کریں!

  1. آپ نے اچھا لکھا ہے اور خوب دور کی کوڑی لائے ہیں۔

  2. ایسا ممکن ہو سکتا ہے جیسا کہ آپ کا خیال ہے، مگر میرے مطابق، یہ سب کچھ حکومت کی عمومی نا اہلی کا نتیجہ ہے. اس حکومت نے مال بنانے کے سوا کیا بھی کیا ہے؟

    بد انتظامی کی انتہا ہے، ہر ایک اپنے حساب سے مال بنانے میں مصروف ہے، منصوبہ بندی کس چڑیا کا نام ہے جسے یہ قابو میں کر یں گے. ان سب کو احساس ہے کہ اس مرتبہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو شائد پھر کبھی بھی نہ آ سکے لہذا تجوریا ں بھرو.

    اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تعلیم کے لئے وسائل کی کمی پیدا ہو گئی ہے. شرم کا مقام ہے ہمارے لئے، مگر ہم لوگ، نوجوان نسل جو کہ تبدیلی پیدا کر سکنے کے قابل ہیں، تقریبا مفت انٹرنیٹ اور مفت موبائل پیکجز میں اتنے مست ہو چکے ہیں کہ کوئی کام نہیں کر سکتے. یہ موبائل پیکجز اس نوجوان نسل کی افیون ہیں. ان سے جب تک چھٹکارا حاصل نہیں کیا گیا، یہی ہوتا رہے گا اور تبدیلی نہیں آ سکے گی. تعلیم کا کیا ہے وہ تو جاگیرداروں اور سیدزادوں کا حق ہے کیونکہ وہ عبدالقادر جیلانی کی اولاد ہیں.

  3. اوئے یہ سید بادشاہوں کے پچھے کیوں پڑ گئے؟ 😛
    تعلیم شلیم کا چسکا مت لو۔
    داتا دربار سے پیٹ پوجا کرو اور نکڑ والی مسجد کے مولوی صاحب سے سپارہ پڑھ کر عالم شالم ہو جاو۔سید بادشاہوں کے بچے برطانیہ یا امریکہ پڑھتے ہیں تو کیا حکومت پاکستان ان یونیورسٹیوں کو فنڈ اور اساتذہ کو تنخواہیں دیتی ہیں۔
    ایویں ایویں شور مت کرو۔
    غوث اعظم دی خیر ہووئے یا نہ ہووئے ساڈی خیر ہی خیر اے۔
    غوث اعظم دی قبر تے ساڈا قبضہ اے 😆 😆 😆

  4. پہلی بات يہ ہے کہ ميں نے کسی کو ڈگرياں چيک کرنے کا نہيں کہا ۔
    دوسری بات يہ ہے کہ ميں بہت مصروف ہوں مجھے پتہ نہيں چل رہا کہ کہ پچھلے دو سالوں ميں جو 30 کھرب روپيہ موجودہ حکمرانوں نے قرض ليا وہ کہاں گيا

  5. افتخار بھائی کیا آپ اس 30 کھرب کو ٹھکانے لگانے میں صروف ہیں۔

  6. امجد حسیں says:

    آپ کو کس ںے کہا تا کے اس بر اپنی راے دے۔

  7. عطا محمد تبسم صاحب
    ٹھکانے لگانے والے کام کر چکے ہيں ميں تو سانپ گذرنے کے بعد لکير کو پيٹ رہا ہوں

  8. ابوسعد says:

    آپ نے اپنے مضمون میں وہ خبر دی ہے جو اخباری رپورٹر نہ دے سکا

  9. عبداللہ says:

    🙂
    اچھی صفائی ہے مگر ناقابل ہضم اور نہ قابل قبول!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

  10. راحت says:

    Soon your an your Bio Father blogg is hack 😆

  11. آپ ہمارے بلاگ پر تشریف لائے، بہت خوشی ہوئی ۔ کول بلو کے بغیر جیلس اور ایروگنٹ پیٹرنز دکھانے کی کوشش کی ہے جی ۔
    آپ نے یہ آرٹیکل بہت اچھا بلکہ بہت ہی خوب لکھا ہے ۔
    امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔

  12. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بھائی کاشف، ان سیدزادوں اورزرداریوں کےمنہ نہ لگیں ۔ ان کاکیاپرواہےتعلیم میں فنڈزکی کمی کاان کاکیااحساس ہےانکی اولادتوامریکہ یورپ میں پڑھتی ہےیہ توملک کواس ٹھیکدارکی مانندچلارہےہیں جسکوپتہ ہےکہ ابھی لوٹ لوابھی وقت ہےپھریہ ٹھیکہ دوبارہ نہیں ملنےکا۔ اللہ تعالی میرےملک پراپنارحم و کرم کردے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

  13. Mansoor says:

    Bohat Umda Tehreer LIkhi….

    Waqyee Achay MOZOO per Likha hay …:)

    Nice One…:)

    Muje wo Pepsi ka Add Yaad ah raha hay kis nay kaha tha PEPSI per 5 rs kam karo..

    Ap ka BLOG pehli dafa vist kar k DIL khush ho gaya nicee one

  14. احمد عثمانی says:

    مہربانی کرکے جاوید اقبال کہ یہ تبصرہ پہنچا دیں انکے ہاں کیا تھا تو پتا نہ چل سکا کہ گیا یا نہیں

    حضرت اقبال صاحب

    آپ کی سمجھ نہیں آکسی اس لیئے پرچھنے چلے آئے
    ایک طرف تو آپ شیعوں کا کفر سامنے لانے کو بلاگ لکھتے رہے دوسوری طرف شیعوں اور قادیانیوں کو “السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ” بھی صبح شام کرتے ہیں
    واہ کیا کہنے
    آپکی اطلاع کیئے عرض ہے کہ
    فرحان دانش ، خرم، اتیقہ لوگ شیعہ ہیں
    نعمان قادیانی ہے
    مگر آپ انکی سکلامتی کی دعا کرتے نہین تھکتے
    ہوسکے تو شرم کرو ورنہ ڈرامہ بازی بند کرو

  15. کاشف نصیر says:

    @ میرا پاکستان اور ابو سعد : بہت شکریہ
    @ جہالستان سے جاہل اور سنکی اور منصور : بہت شکریہ اور آتے جاتے رہا کریں
    @ منیر عباس اور جاوید اقبال : بجا فرمایا
    @ یاسر یہ آپ کا مشورہ ہے یا تبصرہ یا فقط فقرہ
    @ افتخار صاحب اور عطا : اس تیس کھرب کا کچھ ہمیں بھی بتائیں
    @ عبداللہ : ہاضمہ کے لینے اینو یا کارمینہ کا استعمال کریں
    @ راحت : 😆
    @ امجد : سچ بتادوں؟
    @ احمد : آپ بڑے جزباتی شخص ہیں

  16. احمد عثمانی says:

    کاشف صاحب

    اگر آپ لوگوں کے دوغلے پن کو سامنے لانا اور مگر مچھ کی طرح آنسو بہانا اور مال و نام بنانے پر بات کرنا جزباتی پن ہے یا کچھ اور تو اسے ہونے دیجیئے.
    اپنی ملت سے فرد یا افراد کے جزبات تو وابیستہ ہوتے ہی ہیں

  17. آپ کا انداز بلاگری بہت منجھتا جا رہا ہے شہزادے
    عدنان مسعود کے بعد آپ تیسرے بلاگر ہیں جن کی تحریر پسند آنا شروع ہوگئی ہے
    دوسرے نمبر کی جگہ ابھی خالی چھوڑی ہوئی ہے ۔ دو میں مقابلہ چل رہا ہے ، پھر آپ خود بخود چوتھے پرچلے جائیں گے
    رہا تبصرہ تو یہ لیجیے :
    یہ فیصلہ ملکی سلامتی کی خاطر کیا گیا ہے ، ورنہ اندیشہ تھا کہ طالبان اپنی ازلی تعلیم دشمن پالیسی کے نتیجے میں جامعات کو بھی دھماکوں سے اڑا دیتے ۔ہے نا سمجھداری کی بات ۔بدھو کہیں کے ،غم کاہے کا، خوشیاں منا ؤ۔یہ دیکھو کتنی جانیں محفوظ ہو گئیں مستقبل کا کیا ہے ،کس نے دیکھا ہے ؟
    الحمدللہ

  18. […] کس نے کہا تھا کہ ارکان اسمبلی کی ڈگریاں چیک کریں! […]

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>