صفحہ اوّل » کاشف نامہ

کل میرے شہر کی انتہا ہو گئی

مصنف: وقت: جمعہ، 6 اگست 201048 تبصرے

آدھا ملک سیلاب کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور آدھا دہشت گردی اور اسکے خلاف لڑی جانے والی نام نہاد جنگ میں مبتلا ہے، ایک کونے میں سب سے الگ تھلگ بحرہ عرب کی بے چین موجوں کے کنارے یہ شہر کراچی آباد ہے جو کسی بے لوث باپ کی طرح اور کسی مہربان ماں کی طرح ہر نئے پرانے اور اپنے بیگانے کے پیٹ کی پیاس کو بجھاتی ہے اور صرف یہی نہیں انکی خواہشات کو تعبیر کا رنگ بھی دیتی ہے. وطن عزیز کے طول و عرض میں ناجانے کتنے گھر ہیں جن کے چولھے اس شہر کی روشنیوں کی مرہون منت ہیں اور ناجانے کتنی بہن بیٹیاں پیا گر سدھارنے کیلئے اس شہر میں شہنائیوں کی منتظر ہیں.لیکن یہ کراچی، یہ روشنیوں کی بستی، یہ قائد کی قربت کی امین، یہ محنت کشوں کی جنت، بھی کب روشن ہے کہ اسکے بیچو و بیچ ایک عصبی دیوار کھڑی کردی گئی ہے اور قبضہ اور بالا دستی کی جنگ نے خونخوار شکل اختیار کر لی ہے. مسلح اور ماردھاڑ والی سیاست اسے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور اسکے کئی اپنے ہی اسکے وجود کو آگ لگانے پر تلے ہیں. لیکن افسوس صد افسوس اس شہر کے بیٹوں کی انکھوں پر تعصب اور تنگ نظری کی پٹیاں بندھی ہیں، مذہب سے بغاوت اور بے راہ روی کی طرف انہیں دھکیلا جارہا اور شاہی سید و الطاف حسین جیسے گلی محلے کے چھٹے ہوئے انکے جزبات کے مالک بن بیٹھے ہیں.

شہر کراچی کے بہت سے مسائل وہیں ہیں جو تیسری دنیا کہ بڑے اور کثیر القوام شہروں کو درپیش ہیں. انفرا اسڑیکچر، ٹریفک کا ازدھام، توانائی کا بحران، امن و امان اور ملک کے دوسرے علاقوں سے بڑھتی ہوئی نقل مکانی. یہاں ایک طرف صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پنجاب، کشمیر، ملتان، ہزارہ اور پختونخوا کے محنت کشوں اور ہنر مندوں کا استقبال کررہے ہیں تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی، نئی رہائشی سہولتوں کا فقدان اور سیاسی و لسانی چپکلیش نئے مسائل کو جنم دے رہی ہیں. ایک قابل غور امر یہ بھی ہے کراچی میں آباد پنجابی، سرائیکی، ہزاروال اور کشمیری مقامی سیاست سے خود کو کافی حد تک دور رکھتے ہیں لیکن کچھ پختون روزگار اور فکر معاش کے ساتھ یہاں سیاست بھی کرنا چاہتے ہیں. اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جماعت نہیں چاہے گی کہ اسکی اکثریت اور بالادستی کو چیلنج کیا جائے اور تعصب اور عصبیت کی زبانی جمع خرچ سے ہٹ کر سوچا جائے تو ایم کو ایم کی تشویش ایک فطری عمل ہے.اجی گوادر میں بھی تو یہی آواز ہے نہ کہ بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش ہورہی اور پاکستان کے اکثر دانش ور انکی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو کراچی والوں کا کیا جرم ہے، کیا وہ اس دھرتی کے بیٹے نہیں، کیا آج تک انہیں ہندوستانی سمجھا جاتا ہے. کیا فکر معاش کیلئے ہجرت کرنے والوں اور ملک و ملت کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردینے والوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاسکتا ہے. لیکن روکیئے رکشہ ٹیکسی اور بس ڈارئیوروں، موچیوں، چوکیداروں، ٹھیلے اور ریڑھیوں والوں، کچرہ چننے والوں اور چائے والوں کا کیا قصور ہے کہ انہیں موت کی ابدی نیند سلا دیا جائے. آخر غریبوں اور کمزوروں کو اپنی بہادری کا نشانہ بنا کر رضا حیدر کی روح کو کونسا ثواب ایصال کیا جارہا ہے یا کونسی سیاسی ساخت مستحکم ہو رہی ہے. صاحب گولیوں سے سینے اور جگر چھلنی کرنے کے بجائے دلوں کو جیتنے کی کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی، صاحب بندوق کی گرج کے بجائے ڈائیلاگ اور دلیل کی زبان سے بات کیوں نہیں کی جاتی.ہاں متحدہ محرومیوں کی پیداوار ہے، نفرت اور سخت رد عمل جو محروم طبقوں میں پیدا ہوجا یا کرتا اس جماعت کی شناخت ہے، سونے پر سہاگہ الطاف حسین جیسے کی قیادت ہے. لیکن اب کاہے کی محرومی کہ شرکت اقتدار میں یہ دسواں سال ہے. صاحب طالبان کی آڑ لینے کی کیا ضرورت تھی اگر سیاسی بقا کا مسئلہ نظر آرہا تھا تو سیاسی انداز میں پیش کرنا تھا، لیکن الطاف حسین کیا جانیں سیاست کو، وہ بھائی جو ٹھرے.

لیکن کیا صرف ایم کیو ایم اکیلی مجرم ہے ، نہیں جی نہیں فوجی آمروں نے ہمیشہ اس شہر کو اپنے مفاد کے لئے خون میں نہلایا، وہ ایوب خان بھی فوجی آمر تھے جنہوں نے اس شہر پرسکون میں پہلی دفعہ تعصب اور نفرت کی طرح ڈالی، وہ ضیاء الحق بھی فوجی آمر تھے جنہوں نے ذاتی مفادات کے لئے ایم کیو ایم کے محرومی والے نظریے کو 1986 کے فسادات کی شکل میں ایک مستحکم سیاسی بنیاد دی اور وہ پرویز مشرف بھی ایک فوجی آمر ہی تھے جنہوں نے بارا مئی کو کراچی میں عوامی طاقت کا مظاہرا کیا. بارا مئی کے سمرات 27 دسمبر2007، 4 اپریل 2008، نومبر 2008، 7 جون 2009، فروری سے جولائی 2010 تک کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ اور تازہ تازہ 2 اگست 2010 کی شکل میں ظاہر ہوئے. اجی پیپلز پارٹی بھی کم ذمہ دار نہیں ہے کہ حکومت میں ہے اور ایک منافقت جو اس پارٹی کا خاصہ ہے وہ بھی پیش خدمت ہو کہ 1993 سے 1996 تک اور 12 مئی کے دن انہیں ایم کیو ایم سے بڑھ کر کرائے کے قاتل اور کوئی انہیں نطر نہیں آتے تھے. کیا کوئی ان سے پوچھے گا کہ اب ایم کیو ایم بدل گئی ہے یا وہ غلط تھے. شاہی سید کی بات میں نہیں کرتا کہ انہوں نے سیاست نہیں ہمیشہ لینڈمافیا ، ڈرگ مافیا اور ٹرانسپورٹ مافیا کی پشت پناہی کی ہے. انکا بس چلے تو “کے ڈی اے” کا ادارہ ختم کرکے کراچی کے مضافات کی ساری زمین انکے پختونوں میں مفت تقسیم کردی جائے اور یہاں کہ اصل باشندے کرائے کے گھروں ہی میں اپنی ساری زندگیاں بیتا دیں.کراچی کی ایک اور بڑی مصیبت 1986 کی ہے جب مہاجر قومیت کے تصور نے جڑ پکڑی حالانکہ لفظ قوم کی کسی بھی تعریف کی رو سے مہاجر یا کراچی کے اردو بولنے والے کوئی قوام نہیں بنتے. بہاری، گجراتی، راجھستانی، مدراسی، پنجابی، بمبئی والے، دلی والے، یوپی والے وغیرہ تو قوم ہوسکتے ہیں لیکن مہاجر کیسے کوئی قوم ہوسکتی ہے.

سب جانتے ہیں کہ میں ایم کیو ایم کی سیاست اور نظریات کا سخت نقاد ہوں لیکن اگر میں شہر میں انفراسٹریکچر کی بہتری کیلئے سید مصطفی کمال کی کاوشوں کی پزیرائی نہ کروں تو یہ سچائی اور صحافتی اصول کے خلاف ہوگا. انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں اتنے ترقیاتی کام مکمل کئے جو پچھلے بیس برس میں بھی نہیں ہوئے تھے. البتہ مجھے یہ سوال پوچھنے کا حق ضرور ہے کے پاچا خان چورنگی، میٹرویل، سائٹ ٹاون، بلدیہ ٹاون اور بن قاسم ٹاون کے پختون اکثریتی علاقے کیا کراچی کی حدود میں شامل نہیں تھے جو انہیں یوں ہی چھوڑ دیا گیا. صرف یہی نہیں اور بھی کئی حرکتیں ہیں جن کی وصف شاہی سید جیسے رکشا یونین چلاتے چلاتے اے این پی سندھ کے صدر بن گئے ورنہ اچھا بھلا پختون علاقوں میں مذہبی جماعتوں کا اثر تھا اور معاملات قابو میں رہتے تھے.

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں تو آپکو با خوبی اندازہ ہوگا کہ یہاں اب حال یہ ہوچکا ہے کہ گھر خیریت سے پہنچ جانا ایک بہت بڑی کامیابی معلوم ہوتی ہے، اکثر تو انتہا ہو جاتی ہے. دو اگست کی رات بھی اس شہر کی انتہا ہوگئی تھی، سڑک پر دہشت اور بربریت برہنہ ہو کر ناچ رہی تھی، کہیں ہو کا عالم تھا اور کہیں افراتفریح اور بھاگم بھاگ لگی ہوئی تھی. عصر کی نماز میں نے جامعہ کراچی میں ادا کی، فارغ ہی ہوا تھا کہ اطلاع آئی کہ اورنگی ٹاون سے ایم کیو ایم کے ایم پی اے رضا حیدر ناظم آباد دو کی جامعہ مسجد میں ایک قاتلانہ حملے جاں بحق ہوگئے ہیں. ابھی ہواس قابو میں بھی نہیں آئے تھے کہ گرد و پیش کی ہر چیز بند ہوتی اور ہر شخص گھر کی راہ بھاگتا ہوا نطر آیا، عالم یہ تھا کہ جامعہ کے اندر ٹریفک جام تھا. مجھے بھی اگلا خیال گھر کی راہ لینے کا ہی آیا دو گھنٹے کی خوفناک ٹریفک سے نکل کر جب عافیت کے ساتھ گھر پہنچا تو پہلا خیال اورنگی ٹاون میں موجود اپنے قریبی عزیزوں کی خیریت طلب کرنے کے اور کچھ نا آیا، برقی لوڈ سے موبائل کمپنی کا نظام جام تھا اور بڑی مشکل سے خیریت مل رہی تھی، بڑی خالہ ناظم آباد کہ ایک عزیز کے گھر رک گئیں تھیں، چھوٹی خالہ لیاقت آباد میں دوسرے عزیز کے گھر موجودد تھیں اور رات تین بجے پتا چلا کہ چھوٹے خالو کو ڈیفنس میں اپنے دوست کے گھر روکنا پڑا ہے کیونکہ ہمیشہ کی طرح اورنگی ٹاون کا داخلی راستہ کشیدگی کے سبب بند تھا. رات بھر میڈیا رپورٹ دیکھتا رہا، مرنے والوں کی تعداد ایسے بڑھ رہی تھی جیسے کرکٹ میچ کا اسکور بڑھتا ہے اور اگلے تین دن میں گھر پر محسور یہی سلسلہ دیکھتا رہا. ایم کیو ایم کا دعوا ہے کہ پانچ مقتولین انکے کارکن اور ہمدرد تھے باقی 78 کون تھے کوئی نہیں جانتا البتہ صرف اتنا معلوم ہے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے نامعلوم افراد کو قتل کردیا ہے اور نامعلوم افراد کے خلاف نامعلوم مقتولین کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے.

رحمان ملک کے بیانات کو میں اس لائق نہیں سمجھتا کہ ان پر تبصرہ کروں البتہ کراچی کی گلی کوچوں میں ایک عمر گنوانے کے بعد یہ دعوا کرسکتا ہوں کہ یہاں نظریاتی طالبان کی بہت بڑی تعداد تو ہے لیکن مسلح طالبان کا کوئی وجود نہیں. سپہ صحابہ بھی ضرور موجود ہے اور مجھے انکے طرز عمل اور نظریات پر بھی کچھ تحفظات ہیں لیکن اس جماعت پر دہشت گردی کے الزام کی کوئی اصولی، قانونی اور اخلاقی بنیاد اور جواز نہیں ہے.کچھ عرصہ قبل اس ہی شہر میں سپہ صحابہ کے دو اہم رہنما عبدل لغفور ندیم اور الیاس زبیر بھی شہید ہوئے تھے، میں بزات خود دونوں جنازوں میں موجود تھا. اگر کوئی ثابت کردے کہ دونوں اہم سانحات میں جو اس جماعت پر ٹوٹی رد عمل کے طور پر ایک شیشہ بھی ٹوٹا تو میں ہمیشہ کیلئے بلاگستان چھوڑ دوں گا.لیکن افسوس صد افسوس اس شہر کے بیٹوں کی انکھوں پر تعصب اور تنگ نظری کی پٹیاں بندھی ہیں، مذہب سے بغاوت اور بے راہ روی کی طرف انہیں دھکیلا جارہا اور شاہی سید و الطاف حسین جیسے گلی محلے کے چھٹے ہوئے انکے جزبات کے مالک بن بیٹھے ہیں.

آخر میں دو اگست کی اظلمت شب کی ایک تصویر جو کسی درد مند شاعر نے کھیچی ہے.

زندگی پر سب راستے بند تھے
اور اجل اپنی راہیں بناتی رہی
حبسِ جاں کے لیے ایک جھونکا نہ تھا
بادِ صر صر دیوں کو بجھاتی رہی
فصل گل کو نہ اذنِ سفر مل سکا
اور آندھی قیامت مچاتی رہی
پا بہ زنجیر کر دی گئی روشنی
ظلمتِ شب سیاہی بڑھاتی رہی
رہ میں لٹتا رہا خواب کا کارواں
رہ زنی منزلیں اپنی پاتی رہی
پھر گئے دور کی ابتدا ہوگئی
کل میرے شہر کی انتہا ہو گئی

فیس بک تبصرے

48 تبصرے برائے: کل میرے شہر کی انتہا ہو گئی

  1. نعمان says:

    یہ ایک اچھی بیلنسڈ تحریر ہے۔ یقینا آپ کے اور میرے نقطہ نظر میں کافی اختلافات ہیں مگر یہ بات خوش آئند ہے کہ اردو بلاگستان میں مدلل اور منطقی طرز تحریر کے ایک نئے بلاگ کا اضافہ ہوا ہے۔

    میرے خیال میں گلی محلوں اور رکشہ یونین کے لوگ ہی اصل سیاستدان ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے ملک کا فیوڈل سسٹم مڈل کلاس کے ان لونڈوں کو لیڈر بنتا نہیں دیکھ سکتا۔ اس لئے پروپگینڈے کے ذریعے انہیں بدمعاش کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے اس ملک میں لوگ زرداری کے بارے میں ایس ایم ایس سے لیکر ویڈیوز تک کنٹریبیوٹ کرتے ہیں اور اسے ایک مذاق بنادیا گیا ہے۔

    بجائے اس کے کہ پالیسیز اور کرپشن پر شور مچایا جائے گالم گلوچ اور کردارکشی کے ہتھیاروں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے ماحول میں دلیل اور منطق بے اثر ہوتی ہے۔

    چند گزارشات بطور ایک سینئیر بلاگر عرض کرونگا۔ براہ مہربانی اپنی تحریر کو چھوٹے چھوٹے کئی پیراگراف میں تقسیم کیا کیجئے اس سے پڑھنے میں آسانی اور روانی پیدا ہوتی ہے۔  

  2. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بھائي کاشف،آپ نےبہت زیادہ سچ نہیں لکھـ دیا۔بات یہ ہےکہ ہم لوگوں نےسچ کوجھوٹ کےپردوں میں اتناچھپادیاہےکہ الامان اللہ۔ دراصل بات یہ ہےجب بھی ایم کیوایم کانام آتاہےتوذہن میں اس کےمتعلق تعصب بھی آجاتاہےکیونکہ یہ جماعت بنی ہی تعصب کےنظریےپرہےباقی اس نےمشرف دورمیں بہت کام کیاہےلیکن بات وہی ہےکہ جسکی بنیادایسی ہوتوپھراسکی انتہاء کیسی ہوگي۔ اللہ تعالی ہمارےملک پررحم کرےاوراس کوامن عطاء کرے۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  3. واقعہ اچھی تحریر ہے. نعمان صاحب کے مشورے پر ضرور عمل کیجیے گا.

  4. بھائی جان تالی ایک ہاتھ نہیں بجتی. اپ نے سارا الزام صرف متحدہ پر تھوپنے کی کو شش کی ہے. آج بھی اے این پی کے مسلح دہشت گردوں نے اورنگی ٹاﺅن کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا ہوا ہے اورراہگیروںپرتشددجاری ہے. خبر کالنک یہ ہے.http://hamariweb.com/news/newsdetailimage.aspx?id=299636

    قصبہ کالونی،کٹی پہاڑی اور اورنگی ٹاؤن کون دہشت گردی کررہاہے اس کی پول پٹی سماء چینل نے کھول دی ہے. یہ وڈیو دیکھیں. http://www.youtube.com/watch?v=5xeWmXBJ8p4&feature=player_embedded#!

    کراچی کے علاقوں سہراب گوٹھ، الآصف اسکوائر، بنارس چوک، منگھوپیر، شیرپاؤ کالونی اور قائد آباد میں غیرقانونی اسلحہ فروحت ہوتا ہے. ۔۔اگراب بھی غیرقانونی اسلحہ فروحت کرنے والوں کو یہاں سے نہیں ہٹایا گیا. تو صورتحال اور بھی بگڑ سکتی ہے۔اور یہ عمل پولیس یارینجرز کے بس کا نہیں رہااب کارروائی صرف فوج ہی کرسکتی ہے۔

  5. عبداللہ says:

    نعمان یہ ان لوگوں کو بے وقوف بنانے والی تحریر ہے جو اس شہر کو مذہبی عصبیت سے نجات دلانا چاہتے ہیں!
    اگر غور کرتے تو بہت سے جملے چلا چلا کر صاحب مضمون کی وابستگی کا اعلان کرتے نظر آئیں گے یہ ان کی نئی اسٹریٹیجی ہے!
    مثلا،
    البتہ مجھے یہ سوال پوچھنے کا حق ضرور ہے کے پاچا خان چورنگی، میٹرویل، سائٹ ٹاون، بلدیہ ٹاون اور بن قاسم ٹاون کے پختون اکثریتی علاقے کیا کراچی کی حدود میں شامل نہیں تھے جو انہیں یوں ہی چھوڑ دیا گیا. صرف یہی نہیں اور بھی کئی حرکتیں ہیں جن کی وصف شاہی سید جیسے رکشا یونین چلاتے چلاتے اے این پی سندھ کے صدر بن گئے ورنہ اچھا بھلا پختون علاقوں میں مذہبی جماعتوں کا اثر تھا اور معاملات قابو میں رہتے تھے.
    اور مزید یہ بھی،

    رحمان ملک کے تبصروں کو میں اس لائق نہیں سمجھتا کہ ان پر تبصرہ کروں البتہ کراچی کی گلی کوچوں میں ایک عمر گنوانے کے بعد یہ دعوا کرسکتا ہوں کہ یہاں نظریاتی طالبان کی بہت بڑی تعداد تو ہے لیکن مسلح طالبان کا کوئی وجود نہیں. سپہ صحابہ بھی ضرور موجود ہے اور مجھے انکے طرز عمل اور نظریات پر بھی کچھ تحفظات ہیں لیکن اس جماعت پر لگایا گئی دہشت گردی کے الزام کی کوئی اصولی، قانونی اور اخلاقی بنیاد نہیں ہے.کچھ عرصہ قبل اس ہی شہر میں سپہ صحابہ کے دو اہم رہنما عبدل لغفور ندیم اور الیاس زبیر بھی شہید ہوئے تھے، میں بزات خود دونوں جنازوں میں موجود تھا. اگر کوئی ثابت کردے کہ دونوں اہم سانحات میں جو اس جماعت پر ٹوٹی رد عمل کے طور پر ایک شیشہ بھی ٹوٹا تو میں بلاگنگ چھوڑ دوں گا.لیکن افسوس صد افسوس اس شہر کے بیٹوں کی انکھوں پر تعصب اور تنگ نظری کی پٹیاں بندھی ہیں، مذیب سے بغاوت اور بے راہ روی کی طرف انہیں دھکیلا جارہا اور شاہی سید و الطاف حسین جیسے گلی محلے کے چھٹے ہوئے انکے جزبات کے مالک بن بیٹھے ہیں،

  6. عبداللہ says:

    یہ ایم کیو ایم ہی تھی جس نے اس شہر سے مزہبی فرقہ واریت ختم کروائی،
    اسی لیئے ایم کیو ایم کے مقابلے پر پہلے پنجابی پختون اتحاد کھڑا کیا گیا،پھر حقیقی کے دہشتگردوں کو ان سے بھڑایا گیا اور جب اس میں بھی ناکام ہوگئے تو اے این پی کی مقامی قیادت کی پیٹھ ٹھونک کر اسے کھلا چھوڑ دیا گیا،اور اب مذ ہبی دہشت گرد اس شہر کا خون پینے والوں میں شامل ہو چکے ہیں ،فرحان کی پوسٹ پرمیں اس بارے میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں!

  7. عبداللہ says:

    کاشف نصیر اب تک جو مسلح طالبان پکڑے گئے وہ کیا کراچی کے بجائے مریخ سے پکڑے گئے تھے؟؟؟؟
    آدھے سچ میں آدھا جھوٹ ملا کر اپنی بات بیچنے کی پالیسی بند کردو،
    فکر نہ کرو ابھی اور بھی بہت سوں کی گردنیں ناپی جائیں گی ،
    سی سی پی او وسیم احمد نے جب یہ بتا یا کہ دہشت گرد ٹھیلے والوں اور رکشے والوں کا روپ دھار کر کراچی میں رہ رہے ہیں تو اسے تم لوگوں نے قادیانی بنا دیا،
    جو بھی تمھارے پول پٹی کھولے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے!
    کراچی میں الزام ایم کیو ایم پر اور پنجاب اور سرحد میں ہونے والی دہشتگردیوں کا الزام کسے دو گے؟؟؟؟؟؟؟؟

  8. عبداللہ says:

    میاں افتخار حسین ہوں یا صفوت غیور یا ایم کیو ایم ان سب کا ایک ہی جرم ہے کہ یہ سب تمھارے خلاف ووکل ہیں؟؟؟؟؟

  9. شازل says:

    بہت جگہوں پر اختلاف پایا جاتا ہے لیکن اچھی تحریر کےلیے شکریہ اور ساتھ ہی نعمان کا مشورہ بھی صائب ہے کیونکہ میں بھی ایسی ہی غلطی کرچکا ہوں.

  10. ان محصور لوگوں کا کیا ھو گا؟
    یہ نفرت کی دیوی اور کتنے چڑھاوے لے گی؟
    پہلے ایک فریق نے مارا اب دوسرا مارے گا.
    مریں گے جو وہ دونوں طرف سے اپنے ہی ہیں.
    یہ نام نہاد لیڈر کہا ں ہیں؟
    جب ان کے مفاد ہوں گے تو آگے آئیں گے.
    😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥 😥

  11. کاشف نصیر says:

    عثمان، جاوید اقبال، میرا پاکستان اور شازل تحریر کی پسندیدگی کا شکریہ. نعمان آپکی رائے مناسب ہے، آئندہ خیال رکھوں گا. عبد اللہ صاحب ایم کیو ایم نے کون سی فرقہ واریت ختم کرائی کم از کم میرے علم میں نہیں ہے،فرحان دانش شاید آپ نے میری پوری تحریر کا مطالعہ نہیں کیا، میں نے قصبہ کے محصورین کا بھی ذکر کیا ہے اور اورنگی کے داخلی راستے کی بندش کو بھی زیر قلم لایا ہوں.

  12. حقیقت سے پردہ اٹھاتی اچھی تحریر ہے. لیکن ـــــــ کو ہضم نہیں ہوئی. اب ہم کیا بتائیں، یہاں کراچی میں ہمیں معلوم ہے کہ اسلحہ کہاں سے آسانی سے دستیاب ہے. ویسے ایک تبصرےسے پتہ چلاکہ دہشت گرد رکشہ والوں اور ٹھیلے والوں کا روپ دھار کر رہ رہے ہیں جب ہی قلعہ الطاف کہلائے جانے والے جگہوں پر انھیں چن چن کر مارا ہے۔ ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ باچا خان کے سرفروش کمینگی میں کم نہیں۔ اللہ اہلیان کراچی خاص کر اہلیان اورنگی پر رحم کرے۔

  13. کلثوم شاہ says:

    Bohut Bariya

  14. اس تحریر میں بھی انہیں تعصب نظر آیا اور محصورین کا ذکر بس ایویں ایویں کیا گیا تھا۔جیسے اردو سپیکروں کو اردو سپیکر جانور سمجھتا ھے 😥

  15. کاشف نصیر says:

    رحمان ملک کا ایک بیان جو انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ کے ساتھ کل پریس کانفرنس میں دیا تھا بلاتبصرہ تحریر ہے کہ
    “کراچی کی پولیس کا کردار چاروں دنوں کے دوران انتہائی شاندار تھا!”

  16. عبداللہ says:

    عبد اللہ صاحب ایم کیو ایم نے کون سی فرقہ واریت ختم کرائی کم از کم میرے علم میں نہیں ہے،
    بیٹا اسی لیئے تو کہتا ہوں تھوڑا بڑے ہوجاؤ!
    محض بڑی بڑی باتیں (املا اور گرائمر کی ڈھیروں غلطیوں کے ساتھ )لکھ لینے سے کوئی بڑا نہیں ہوجاتا اس کے لیئے دنیا کا تجربہ حاصل کرنا پڑے گا اور ذہن کو کھولنا پڑے گا،اور اس کے لیئے اس کوئیں سے باہر نکلنا پڑے گا جس میں تم دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنے پڑے ہو!!!!!!!
    ایک کام کی بات پلے سے باندھ لو ظلم و استحصال کا نام اسلام رکھ دو یا وطن سے محبت اس کے پھل کوڑے ہی نکلیں گے!!!
    اورہاں اپنے علاقے کے ڈوبے ہوئے لوگوں کے لیئے کچھ کررہے ہو یا بس ہائے کراچی وائے کراچی۔۔۔۔۔۔۔

  17. طالوت says:

    کافی اچھی روشنی ڈالی ہے کراچی پر ۔ ایک بات تو طے ہے کہ اس شہر کو نہ تو کوئی اپنی جاگیر قرار دے سکتا ہے اور نہ کوئی کسی دوسرے کو نکال سکتا ہے ۔ پھر بھی پتا نہیں کیوں ، شاید ہماری عقلیں گھاس چرنے گئیں ہیں۔
    ایم کیو ایم کے باعث کراچی میں سنی شیعہ فساد کو خاصی بریک لگی تھی ۔ مگر اب صورتحال بدل رہی ہے ۔
    وسلام

  18. کاشف نصیر says:

    عبد اللہ انکل میں نے قصبہ اور اورنگی کے حالات سب کے سامنے رکھ دئے ہیں، اب یہ حکمران جماعتوں خاص طور پر متحدہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ محسور لوگوں کیلئے کچھ کریں، کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم انکے ساتھ جاکے کھڑے تو ہوں اور وہ بھی نہیں کرسکتے تو استعفے دیکر گھر بیٹھ جائیں، آخر تنگ آکر اورنگی والے خود ہی کچھ کر لیں گے.

    اور ہاں، گورنر سندھ اگر رحمان ملک کو حیدری، نارتھ ناظم آباد میں رضا حیدر مرحوم کے گھر لے جاسکتے ہیں تو وہاں سے صرف ایک میل دور قصبہ کالونی بھی کیوں نہ لے گئے.

  19. عبداللہ says:

    @طالوت کافی اچھی روشنی ڈالی ہے کراچی پر ۔ ایک بات تو طے ہے کہ اس شہر کو نہ تو کوئی اپنی جاگیر قرار دے سکتا ہے اور نہ کوئی کسی دوسرے کو نکال سکتا ہے ۔ پھر بھی پتا نہیں کیوں ، شاید ہماری عقلیں گھاس چرنے گئیں ہیں۔

    میرا سوال کراچی کے لوگوں کو وہ فری ہینڈ پنجاب اور سرحد میں کیوں نہیں ملتا جو وہاں کے رہنے والے کراچی میں لینا چاہتے ہیں؟؟؟؟؟؟

    ایم کیو ایم کے باعث کراچی میں سنی شیعہ فساد کو خاصی بریک لگی تھی ۔ مگر اب صورتحال بدل رہی ہے ۔

    کیوں صورت حال کیوں بدل رہی ہے ،کیا تمھارے بھائی بند صورت حال بدلنے کے لیئے سرگرم عمل ہیں؟؟؟؟؟؟

  20. عبداللہ says:

    گورنر اور کراچی کے نمائندوں کو جو کرنا ہے وہ کریں گے انہیں تمھارے مشورے کی ضرورت نہیں،اپنی یہ جھوٹی ہمدردیاں تم اپنے پاس ہی رکھو!!!!!!

  21. کاشف نصیر says:

    عبد اللہ میاں، میں نہیں سمجھتا کہ ایم کیو ایم کراچی کی نمائندہ جماعت ہے، صرف دھاندلی اور دھونس کے زریعے انتخابات میں ووٹ حاصل کرکے آپ کسی شہر کے نمائندہ نہیں ہوتے، آپ کو شہر کے لوگوں کی مجموعی سوچ کا آئینہ دار ہونا پڑتا ہے جو کہ ایم کیو ایم نہیں ہے.

    دوسری بات یہ ہے میری سوچ آپ کی طرح کسی پارٹی کی پالیسیوں اور نظریات کی تابع نہیں اور میں انتہائی آزاد اور غیر جانبدار تبصرہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں. اگر آپ نے میرے سارے بلاگ پڑھے ہوتے تو آپکو یہ بھی معلوم ہوتا کہ میں اپنی تحریروں میں عمران خان، جماعت اسلامی، نواز شریف، پیپلزپارٹی، آرمی، جاگیردار، اور یہاں تک کہ پاکستانی طالبان کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہوں. پیپلز پارٹی کے بلاگ LUBPS پر وہ مضامین بھی شائع ہوئے ہیں جس میں میں حامد میر، عمران خان، جماعت اسلامی اور جسٹس شریف کی سخت گرفت کی ہے.
    کیونکہ میں کسی ایک کوئیں کا مینڈیک نہیں اور میری سوئی آپکی طرح کسی ایک نقطہ یا جماعت پر اٹکی نہیں رہتی. آپ سے درخواست ہے کہ اپنی سوچ کو وسیع کریں ورنہ یہ بلاگر حضرات آپکو بارا سنگھا ہی کہتے رہیں گے.

    اور دوسری بات یہ ہے کہ اورنگی اور قصبہ میں کوئی اور نہیں میرے اپنے پھنسے ہوئے تھے، گھر کے لوگ، خاندان کے لوگ اور میری بہاری برادری کے نہتے لوگ، اس لئے جھوٹی ہمدردی کا راگ الاپنا میرے زخموں پر نمک چھڑکنے اور میری پریشانیوں کو بڑھانے کے مترادف ہے.

  22. عبداللہ says:

    اگر کچھ گدھے مجھے بارہ سنگھا کہتے ہیں تو اس سے مجھے ہر گز کوئی فرق نہیں پڑتا!

    باقی تمھا ری سمجھ داری کاا ندازہ تو مجھے کافی پہلے سے ہے!!!!
    🙂
    ایم کیو ایم پاکستان کی تیسری بڑی جماعت ہے اور دوسری بڑی جماعت بننے جارہی ہےانشاءاللہ، اور یہی اس ملک کے دشمنون اور کچھ نادان دوستوں کو ہضم نہیں ہورہا تمھارا جھوت اسی بات سے پکڑا گیا ہےکہ تم بہاری ہو اور قصبہ یا اورنگی سے تمھارا تعلق ہے ،کیونکہ اگر تم بہاری ہوتے تو اس طرح حقائق سے صرف نظر نہیں کرسکتے تھے،وہاں کے نناوے فیصد بہاری ایم کیو ایم کے سپورٹر ہیں،میں آدھا سندھی اور آدھا اردو اسپیکنگ ہوں اور میں نے اپنے سندھی ننھیال والون کو جس طرح جماعت چھوڑ کر ایم کیو ایم کی سپورٹ کرتے دیکھا ہے صرف اور صرف ان مظالم کی وجہ سے جو قصبہ کالونی اورعلی گڑھ کالونی میں اردو بولنے والے بہاریوں پر کیئے گئے!!!!!!!

  23. عبداللہ says:

    ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا!!!!!

  24. کاشف نصیر says:

    عبداللہ میاں بڑی جماعتیں پاکستان میں کیسی بنتی ہیں، کیا ہمیں نہیں پتہ.
    پیپلز پارٹی، مسلم لیگ کیا پارٹیاں ہیں، نہیں میاں چو چو کا مربع ہیں اور ایم کیو ایم مفاد پرستوں کا فشسٹ ٹولہ، جو اپنی رائے دوسروں بندوق کی طاقت سے ٹھوکنا چاہتی ہے.ایک طرف تو یہ لوگ پاکستان سے محبت کا دعوا کرتے ہیں، دوسری طرف بھارت میں جاکر قیام پاکستان کو تاریخ انسانی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہیں.

    دوسری بات یہ ہے کہ آپ ایک معزز بلاگر پر جھوٹا بولنے کا الزام لگا رہے ہیں، آپ کو اس حرکت پر معافی مانگنی چاہیئے.

  25. عبداللہ says:

    پہلے تو اس بات کا فیصلہ کرنا پڑے گا کہ تم معزز ہو!!!!
    دوسرے ہاں تم نے سب سیاسی پارٹیوں کو برا بھلا کہا مگر اپنی سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کو ایک لفظ نہیں کہا؟؟؟؟؟

  26. کاشف نصیر says:

    عبداللہ میاں یہ آپ کا بغض ہے، میں نے لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان پاکستان پر سخت تنقید کی ہے. اگر کبھی فرصت ہو تو میرے دو مضامین “کھلا تبصرہ” اور “زکر انکا جو سید علی کی آغوش میں سوتے تھے” کو بغض اور عناد کے پردے جو مغرب کی مادر پدر آزاد تہذیب نے آپ کی انکھوں پر ڈال دئے ہیں ہٹا کر پڑھیں.
    دوسرا یہ کہ سپہ صحابہ کے طریقہ کار سے اختلاف اور بعض نطریات پر اپنے تحفظات کا اظہار میں نے اس ہی پوسٹ میں کیا ہے.
    تیسرا یہ کہ روشن خیال اور مغرب پرست ٹولے جس کی آپ نمائندگی کرتے ہیں کو دیوبند اور اہل حدیث مکتبہ فکر سے خاص پرخاش ہے ورنہ اصل فرقہ واریت اور تشدد تو دیگر روایتی فرقوں اور مسلک میں ہے جو آپ لوگوں کو نظر نہیں آتی.

  27. عبداللہ says:

    کیوں جھوٹ بول کراپنے سیاہ اعمال نامے کو اور سیاہ کرتے ہو،
    کھلا تبصرہ میں تم نے ضرور طالبان کو تھوڑا بہت لکھا ہے مگر وہ جو سید علی کی اغوش میں سر رکھ کر سوجاتے تھے ،
    اسپوسٹ میں تم نے ان تنظیمون کی صرفاور صرف صفائی ہی پیش کی ہے جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں کو کھلم کھلا برا بھلا کہتے ہو اس طرح ان جماعتوں کو نہ کہنا تمھارے تعلق کو صاف صاف ظاہر کرتا ہے !!!!
    تم بے وقوفوں کو تو مزیدبے و

  28. عبداللہ says:

    تم بے وقوفون کو تو مزید بے وقوف بنا سکتے ہو مگر مجھے نہیں ،کیا سمجھے!!!!

  29. احمد انجینیئر says:

    اسلام و علیکم

    آج پہلی بار آپ کے بلاگ کا پتا چلا، کافی اچھا بلاگ ہے مگر آپ سب کو خوش رکھنے اور متوازن بنانے کے چکر کبھی میں انصاف نہیں کر پاتے
    دوسری بات یہ کہ ہر آدمی کا ایک مزہب ہوتا ہے اور ہر چیز کے پیچھے الگ الگ مزہبی فکر کار فرما پوتی ہے
    اس اصول کی تصدیق خود قرآن کرتا ہے. انسان کی پیدائش عبادت کیئے کی گئی اور عبادت ہے اللہ اور اسکے رسولوں کی اطاعت. ظاہر ہے یہ ایک ہی راستہ ہوگا اور باقی راستے باطل ہونگے
    اب اسی اصول کو سیاسی اور باقی معاملات پر رکھیں تو آپ کو صاف نظر آجائے گا کہ بات کیا ہے
    ایم کیو ایم کی بنیاد فوج نے رکھی جسکی تائید مرزا اسلم بیگ بھی کرتے ہیں. اور اسکا نظریہ ، آبیاری اور قلمی سپورٹ رئیس امروہی ٹائپ کے لوگوں نے کی جو کہ شیعہ تھے اور اب بھی آپ دیکھیں تو شیعہ ہی اس جماعت پر چھائے ہوئے ہیں اور مزے کی بات بڑھ بڑھ ایم کیو ایم کی حمایت میں صفحات گندے کرنے والے بھی شیعہ ہی ہیں البتہ یہ نعمان صاحب قادیانی ہیں جو کافی پہلے اسی بلاگز کی دنیا میں بے نقاب ہو چکے ہیں
    جب چند خاص لوگ ایک خاص وجہ سے اچھلتے پھرتے ہیں اور انکا مزہب ایسی تاریخ سے بھرا پڑا ہے تو بات سمجھنا کیا مشکل ہے؟
    کم ہی کوئی مسلمان ہے جو ظلم کی حمایت کرتا ہو مگر ہاں چند جو بہکے ہوئے ہیں یا وہ لوگ جنہوں نے باطل کو اسلام کے لبادہ پہنا رکھا ہے
    اور یہی تاریخ ہے

  30. احمد صاحب بلاگ پر آمد اور پسندیدگی کا شکریہ.

    جہاں تک بات یہ ہے کہ میں سب کو خوش رکھنا چاہتا ہوں یہ زرا زیادتی ہوگی، صاحب میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ سچ اور حق لکھوں چاہیں کسی کو اچھا لگے یا برا، چاہیں کوئی پڑھے یا نہ پڑھیں.
    میں نے کبھی ایم کیو ایم سمیت کسی بھی سیاسی جماعت اور انکے رہبروں کے خلاف لکھتے ہوئے کوئی رعایت نہیں کی، میں نے فوج کے خلاف لکھا اور میں نے قادیانیوں کے خلاف لکھا، اگر آپ کو معلوم ہو کہ “کیا مرزائی بے گناہ ہیں” پر مجھے فون کر کے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی، ایم کیو ایم کے خلاف لکھنے پر مجھے بھائی لوگوں کی طرف سے مسلسل عزیتوں کا سامنا ہے اور ہاں میں نے کسی مخالفت اور دنیا پرستوں کی نگاہ میں مشکوک ہونے کے خوف کے بغیر ہمیشہ مجاہدین اور اسلام پسندوں کی حمایت کی البتہ اگر کبھی کسی جہادی گروہ سے طریقہ کار پر اختلاف رائے ہوا تو اسکا کھل کر اظہار کیا، لیکن ہمیشہ تمام کے تمام مجاہدین کے خلوص کے گن گائے.
    جہاں تک اہل تشیع حضرات کا تعلق ہے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ ایم کیو اہم کے کے اندر بہت سے شیعہ فعال ہے مگر جناب شیعہ حضرات سے ہمیں لاکھ اختلاف سہی لیکن انکا ایک مذہب تو ہےنہ. لیکن ایم کیو ایم ایک لادین جماعت ہے

    بات تلخ ہوگی لیکن سچ یہی ہے کہ ایم کیو ایم، اے این پی اور پی پی پی والے جو ہمارے بھائی بھی ہیں چاہتے ہیں کہ اللہ کو کان سے پکڑ کر مسجد میں بند کردیا جائے اور زندگی کے باقی تمام شعبے میں اپنی مرضی چلائی جائے. قانون اپنی مرضی کا، معیشت اپنی مرضی کی، معاشرت اپنی مرضی اور حکومت اپنی مرضی کی لیکن پوجا اللہ کی.

    نعمان کے بارے میں آپ نے جو بات بتائی ہے، میرے علم میں یہ بات نہیں تھی. امید ہے کہ اللہ نہ کرے وہ مرزائی ہوں اور آپ کوکوئی غلط فہمی ہوئی ہو. لیکن اگر خدا ناخواستہ مرزائی ہیں بھی تو ڈائیلاگ میں کیا ہرج ہے.

  31. عبداللہ says:

    جاکر پہلے دین کی الف بے خود سے سیکھو وہ نہیں جو تمھارے ملا تمھیں پڑھا رہے ہیں!
    اسلام کا مطلب امن و سلامتی ہے اور یہ امن و سلامتی ہر انسان کے لیئے ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم !
    اللہ نے خود کو رب العالمین اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین فرمایا اور یہی دین کا سچ ہے اسکی روشنی میں جو بھی قوانین ترتیب دیئے جائیں گے وہ اسلامی کہلائیں گے اور جو اس سے متصادم ہوں گے غیر اسلامی ،
    اللہ واحدہ لاشریک ہے ،امن سب کے لیئے اور ہر طرح کے ظلم و استحصال سے نفرت،یہ ہے اللہ کے دین کا اصل سبق!
    کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو سبکے لیئے رحمت بنکر آئے انہیں ہی بنیاد بنا کر آپس میں جھگڑے کھڑے کیئے گئے معمولی معمولی باتون پر تو اتنا اودھم ہے اور جو دین کے بنیادی نکات ہیں ان سے صرف نظر ہے!!!!!

  32. اللہ کے دین کا اصل سبق کیا ہے اور دین کی الف ب کیا ہے یہ اب ہمیں آپ سے سیکھنا پڑے گا؟
    امن کیسے آئے گا اور اسلام کیا ہے یہ عبداللہ آپ کے بس کی بات نہیں، آپ جائیں لادین اور استعمار کی آلہ کار جماعتوں کی نوکریں کریں۔ خدا کے لئے دینی معاملات میں ٹانگ مت اڑائیں۔۔

  33. عبداللہ says:

    مجھے جو کہنا تھا کہہ چکا!
    امن ہم ہی لاکر دکھائیں گے انشاء اللہ اور دشمنوں کی سازشوں کو بھی بے نقاب کرتے رہیں گے!!!

  34. احمد انجینئر says:

    بھائی کاشف صاحب
    اسلام و علیکم

    سب سے پہلے تو شکریہ کے آپ نے تبصرہ پڑھا اور جواب دیا
    2 باتوں کی خوشی ہوئی جب آپ کا بلاگ پڑھا ایک یہ کہ آپ اہل زبان ہیں ، دوسری یہ کہ آپ کا تعلق یا فکر علماء حق سے ہے یہ دونوں چیزیں بلاگ ٹائپ میں کم ہی نظر آتی ہیں اور یہ دونوں ہی بہت قیمتی بھی ہیں، تفصیل پھر کبھی سہی.

    ہمارا اندازہ تھا پہلی نظر میں کہ سب کو مطمئن کرنے کی فکر ہے، اگر غلط ہے تو معزرت اور مبارکبار کہ آپ حق کہنے سے نہیں گھبراتے، یہ بہت بڑا جہاد ہے. آپکی شناخت ظاہر ہے اس لیئے آپ کو جو مشکلات پیش آتی ہونگی وہ محتاج بیان نہیں
    اب 3 باتوں سے زرا سا اختلاف
    1.جو مجاہد علماء ہیں یا انکی سرپرستی میں ہیں انکے بارے میں کسی پروپاگنڈہ کو پہلی نظر میں ہی جوتی کی نوک رکھنا چاہیئے. البتہ انکو بدنام کرنے کو کوئی سازش ہو تو کچھ کہنے سے پہلے سوچ لینا خیر کی چیز ہے
    2. ایم کیو ایم نے لادینیت کا صرف لبادہ اوڑھ رکھا ہے ورنہ اسکے خاص الخواص اپنے اپنے مزہب کو مسلط کرنے اور علماء حق کو راستے سے ہٹانے میں اتنی پھرتی نہ دکھاتے.اور دوسرا لادینیت کیا ہے؟ یہ بھی کفر کی ایک ماڈرن شکل ہے. شیطان نے انسان کو گھیرنے کیلئے ہر طرح کا جال ڈال رکھا ہے. لادینیت بھی ایک مزہب ہی ہے اسی لیئے کافر، منافق، مرتد سب انکے ہاں ملتے ہیں اور انکی آپس میں خوب بنتی ہے
    اور لادینیت فیس میکنگ بھی ہے کیونکہ انکے بقیہ گروپس اب کافی جانے پہچانے ہوگئے ہیں
    جیسے آئن اسٹائن دوسروں کو تو لادینیت کی تعلیم دیتا تھا اور خود پکا یہودی تھا بس یہ لادینیت بس فیس میکنگ ہے اندر انکے کوئی نہ کوئی یہودی، نصرانی، ہندو، رافضی، قادیانی، پرویزی چھپا ہوتا ہے
    3.نعمان والی بات ایک سو ایک فیصد درست ہے، پوری زمہ داری کے ساتھ
    بھائی صاحب بلاگنگ کے نام سے زیادہ تر رافضی، قادیانی، پرویزی اور جنکو آپ لادین کہتے ہیں انکی اکثریت ہے اکا دکا لوگ آپ جیسے اب آرہے ہیں امید ہے یہ اکا دکا دیئے ظلمت میں روشنی رکھیں گے
    ایمان بچانا، ایمان کی دعوت دینا، ایمان کی فکر کرنا اور اہل ایمان کی پہچان رکھنا حاصل زندگی ہے اور آجکل تو ہر چیز پر مقدم ہے

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپکی ہر آفت اور شر سے حفاظت رہے اورآپ حق گوئی کی دولت سے مالامال رہیں
    آمیں

  35. احمد انجینئر says:

    آپ ضرور ڈائیلاگ کریں ، ہم نے تو صرف آپکو خبردار کیا ہے کسی کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آجائیں اور یہ رخ دکھایا ہے کہ یہ جو علماء اوراصل مجاہدین کو جو لعن طعن کی جارہی ہے اور جہ سب سے آگے ہیں وہ مسلمان کم کم ہی ہیں سب رافضی، قادیانی ٹائپ لوگ اپنے آقا دجال کی راہ ہموار کرنے کیلئے ڈبل شفٹوں میں کام کر رہے ہیں

  36. احمد انجینئر says:

    ایک مزے کی بات کہ جو انکا گند اپنی زبان پر نہ اٹھائے اسکو یہ اردو بولنے والا یا ان لوگوں کی اولاد نہیں مانتے جو اردو بولنے والے مہاجریں کی اولاد ہیں
    حالانکہ سب سے پہلے اور خالص پاکستانی اردو بولنے والےمسلمان ہیں ہم یہاں کسی رافضی یا لادین کی بات نہیں کرتے. آج پاکستان میں اور پاکستان کی وجہ سے جو اسلام کی لہر اٹھی ہے اس میں 2 قوموں کا سب سے بڑا حصہ ہے ایک اردو بولنے والے اور دوسرے پشتون قوم
    کراچی کا حیاء اور ایمان والا طبقہ ایم کیو ایم کے ساتھ نہیں ہاں کچھ لوگ وقتی دھوکے میں آئے اتنی خطا تو سب سے ہوجاتی ہے

  37. ماہم پرویز says:

    میرے خیال میں اگر اآپ علماے حق اور دین کی اشاعت کے لیے میدان میں آے ہیں تو اپنے آپ کو طالبان وغیرہ پر تنقید کرکے چھپانے کی ضرورت نہیں
    مرد مومن کی شان یہ ہے کہ جب وہ حق سمجھ لے تو سینہ تان کر میدان میں کھڑا رہے
    غلطیاں اگر دیکھا جاے تو صحابہ کرام سے بھی ہوییں لیکن وہ دین سے مخلص تھے تو اللہ نے ان سے دین کا کام لیا اسی طرح الحمد اللہ طالبان بھی دین سے مخلص ہیں اس لیے آپ ان کی تقسیم افغانی اور پاکستانیکی شکل میں نہ کریں اگر کویی غلطی نظر آے تو اللہ سے ان کی اصلاح کی دعا کی جاے نہ کے ان جھوٹے بلاگرز کی خوشنودی کے لیے انپر تنقید کی جاے
    والسلام

  38. احمد انجینئر says:

    ماہم صاحب آپکی بات بجا ہے
    مگر مسئلہ بڑا نازک ہے اسکی مثال ہیاں سے سمجھ آسکتی ہے
    جماعت اسلامی جو اتنا جہاد کا شور رکھتی تھی آج عملی جہاد سے دور کیوں ہے؟ کیا جہاد تب ہی کرسکتی ہے جب بڑوں کی سرپرستی ہے؟ جب اصل امتحان آیا تو گھروں میں چھپ گئے کیوں؟ اور تو اور آجکل کشمیر میں بھی یہ لوگ نظر نہیں آتے، کیوں؟ صرف بیانات سے اور اپنی عورتوں کو سڑکوں پر لاکر زرا بچاؤ واکا جہاد شروع کر رکھا یے
    اس لیئے مزید 2 طبقات سامنے آتے ہیں
    ایک جو سیدھا سادہ علماء حق کے ساتھ ہے اور صحابہ کی پیروی کرتا ہے
    دوسرا زہنی طور پر تو ان لوگوں کے ساتھ ہے جنکے ڈانڈے رافضیوں سے ملتے ہیں اور آجکل عجیب مخمصے میں ہیں اور کچھ کچھ حالات کے تحت ظلم اور زیادتی پر دکھ بھی ہے
    تو ایسی صورت میں انساں نہ ادھر کا نہ ادھر کا
    سامنے آنا بھی مشکل ، چھپانا بھی مشکل

    اسی لیئے قدرت ایسے حالات لے آئی کہ صف بندی ہونے لگی ہے ، کھلم کھلا الگ الگ

  39. احمد انجینئر says:

    جہاں تک حضرت کاشف کا تعلق ہے، مخلص نوجوان لگتے ہیں باقی وقت کے ساتھ سیکھ جائیں گے اور اگر نصیب میں نہ ہوا تو کہیں نہ کہیں جاکر صف بندی میں آجائیں گے اور تب سب اگ الگ اور واضح
    حضرت جی کا مسئلہ جو انکو مزید جاننے سے سامنے آیا وہ بیک وقت 2 کشتیوں پر سواری کرنا ہے مطلب کیا ہے وہ جانتے ہونگے، کافی پہنچے ہوئے لگتے ہیں 😛

  40. ابو says:

    بھائیوں عبداللہ کے نام سے تبصرہ کرنے والا کوئی فرد نہیں بلکہ ایم کیو ایم جیسی دہشت گرد اور فاشسٹ جماعت کا پروپیگنڈا گروہ ہے۔ اس لیے ان کے تبصرے پڑھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھیں۔

  41. ماہم پرویز says:

    اللہ تعالی کاشف بھائی کو مزید حق گویئ کی توفیق دے کاش یہ سب کو خوش رکھنے کا طریقہ چھوڑدیں اور کسی ایک جماعت کو مضبوطی سے پکڑلیں

  42. عبداللہ says:

    بھائیوں اوربہنوں کیا پہنچے ہوئے بزرگ ہیں جناب ابو سعد صاحب!!!!!!!
    کہ انہون نے مجھے ایک سے پورا گروہ بنا دیا،اللہ ان کی زبان مبارک کرے اور میرے جیسے لوگوں کا نہ صرف ایک بڑا گروہ ہو بلکہ پورا پاکستان ا س حق پرستی کا شکار ہوجائے آمین یا رب العالمین!
    🙂

  43. ابو says:

    حق پرستی نہیں گمراہی۔ الطاف قادیانی جیسے مداری کی پیروکاری حق پرستی نہیں کفر پرستی ہے۔

  44. عبداللہ says:

    😆 😆 😆
    😛

  45. abdulla adam says:

    allah kray zor e qlm or ziada

  46. fakhredin says:

    2011 اور 2012 کے واقعات : شاؤل Mofaz 2011 اسرائیلی وزیر اعظم کے موسم بہار میں ہے — ان کی حکومت کو 14 سے 15 ماہ کے طور پر یہ لگتا ہے — اور فوجیوں کو امام مہدی کے مسلمان کمانڈر — اسرائیل کی تباہی — اردن شام عراق کے بادشاہ کو پر قبضہ کر لیا اور گرمیوں 2011 گرنے — وہ ترکی کے ساتھ جھگڑے — 2011 موسم گرما کے اختتام — 2011 کے آخر میں — اور مکہ مکرمہ اور مدینہ کے درمیان صحرا میں اپنے فوجیوں کو زمین کے نیچے ہیں

    اردن اور مغربی فوجیوں — مصر میں شامل ہیں — -45P/Honda-Mrkos دومکیت meteors 14 میں 20 اگست کو زمین کے ساتھ 2011 ء کا سامنا کرنا — 2011 کے موسم بہار میں — سعودی عرب کے بادشاہ مر جاتا ہے اور اس کے اقتدار جدوجہد شروع میں مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ اسے نیچے آتا ہے — — — 26 2011 اگست مشرق تین یا سات دن کے پھٹنے سے آسمان میں ایک بڑی سٹار پر جلنے کے نشان ظاہر کرنے اور اس سے امام مہدی ہے — شمالی اسرائیل میں 2011 ء کے زلزلے کے موسم بہار ہو سکتا ہے میں کے مہینوں کے درمیان 2012 ء سے اگست صفات ظاہر ہوتا ہے — اور امام مہدی دنیا میں انصاف قائم کرنے میں مدد ملے گی

    http://emam-mahdi-1390.blogfa.com

  47. fakhred says:

    2011 اور 2012 کے واقعات : شاؤل Mofaz 2011 اسرائیلی وزیر اعظم کے موسم بہار میں ہے — ان کی حکومت کو 14 سے 15 ماہ کے طور پر یہ لگتا ہے — اور فوجیوں کو امام مہدی کے مسلمان کمانڈر — اسرائیل کی تباہی — اردن شام عراق کے بادشاہ کو پر قبضہ کر لیا اور گرمیوں 2011 گرنے — وہ ترکی کے ساتھ جھگڑے — 2011 موسم گرما کے اختتام — 2011 کے آخر میں — اور مکہ مکرمہ اور مدینہ کے درمیان صحرا میں اپنے فوجیوں کو زمین کے نیچے ہیں

    اردن اور مغربی فوجیوں — مصر میں شامل ہیں — -45P/Honda-Mrkos دومکیت meteors 14 میں 20 اگست کو زمین کے ساتھ 2011 ء کا سامنا کرنا — 2011 کے موسم بہار میں — سعودی عرب کے بادشاہ مر جاتا ہے اور اس کے اقتدار جدوجہد شروع میں مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ اسے نیچے آتا ہے — — — 26 2011 اگست مشرق تین یا سات دن کے پھٹنے سے آسمان میں ایک بڑی سٹار پر جلنے کے نشان ظاہر کرنے اور اس سے امام مہدی ہے — شمالی اسرائیل میں 2011 ء کے زلزلے کے موسم بہار ہو سکتا ہے میں کے مہینوں کے درمیان 2012 ء سے اگست صفات ظاہر ہوتا ہے — اور امام مہدی دنیا میں انصاف قائم کرنے میں مدد ملے گی

    http://emam-mahdi-1390.blogfa.com

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>