صفحہ اوّل » کاشف نامہ

گولن نیٹ ورک کے اساتزہ

مصنف: وقت: اتوار، 20 نومبر 2016کوئی تبصرہ نہیں

فتح اللہ گولن کی ہذمت تحریک سے وابستہ اساتذہ کے ویزے میں توسیع نہ کرنے کے حکومتی فیصلے کو ملا عبدالسلام ضعیف کے واقعے سے تشبیح دینا یا اس میں اور عافیہ صدیقی معاملے میں مشابہت تلاش کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ حکومت پاکستان ان اساتذہ کو پناہ دیکر مشکلات اپنے سر کیوں لے؟ کیا ہم نے گولن نیٹ ورک کی افزائش کا بھی ٹھیکہ لے لیا ہے؟

کیا ترک اساتذہ پاکستانی شہری تھے کہ انہیں ملک چھوڑنے کا نہیں کہا جاسکتا تھا یا انہوں نے سفارتی ویزہ لے رکھا تھا جسکے تقدس کا کچھ خیال رکھا جاتا؟ یا حکومت نے ان سے مستقل رہائش کا عہد کررکھا تھا یا ویزے جاری کرکے انہیں منسوخ کردیا گیا۔ جب ایسا کچھ نہیں ہے تو شور کس بات کا ہے؟ کیا حکومت نے ان اساتذہ کو گرفتار کیا؟ کیا انہیں بغیر مہلت دئے زبردستی ٹرکوں پر ڈال کر ملک بدر کیا جارہا ہے یا انہیں افغان سفارتکار عبدالسلام ضعیف اور پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی طرح امریکہ کے حوالے کردیا جائے گا؟

گو ترک حکومت کی درخواست پر انکے ویزے میں توسیع نہیں کی گئی لیکن پاسپورٹ انکے پاس موجود ہیں۔ اگر یہ انتقامی کاروائی کے خوف سے ترکی نہ جانا چاہیں تو دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کے دروازے ان پر کھلے ہیں۔ ترک پاسپورٹ پر دنیا کے کئی ملکوں میں بغیر ویزے کے بھی سفر کیا جاسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسکول بند نہیں ہورہے اور نہ ہی اسکا انتظام ترکوں سے واپس لیا جارہا ہے۔ یوں نہ کسی طالب علم کا سال ضائع ہوگا اور نہ معیار تعلیم پر کوئی فرق پڑے گا۔

ترک حکومت کے مطابق چند ماہ بیشتر ترک فوج کے ایک حصے نے جس بغاوت کی کوشش کی تھی، اسکی منصوبہ بندی میں گولن تحریک ملوث ہے۔ ترک حکومت نے ریاست اور حکومت سے بغاوت کے جرم میں اس تحریک پر پابندی لگاکر اسے دہشت گرد جماعت کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ ترک حکومت گولن کا تعاقب کررہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بغاوت کے امکان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردیا جائے۔ اردگان حکومت کا برادر ملک سے مطالبہ بھی فطری ہے۔ برادر ملک تو ایک طرف اردگان نے تو امریکہ سے بھی گولن کی حوالگی کا مطالبہ کررکھا ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کبھی کوئی ملک برادر ملک کے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کی غلطی نہیں کرتا۔

کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان فتح اللہ گولن کی محبت میں ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو خراب کرلے؟ کیا آپکو یہ مطلوب ہے کہ ہم ترک ریاست کے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنے یہاں پناہ دیکر ملکی مفاد پر سمجھوتا کرلیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم زبردستی ترکی سے جھگڑا لیں اور خود کو مزید تنہائی کا شکار کریں؟ اگر اس امر کو آزاد خارجہ پالیسی اور خودمختاری سے زبردستی نتھی کیا جارہا ہے تو سوال ہے کہ آپکی یہ ”غیرت” ڈرون حملوں، ایمل کانسی، رمزئی یوسف، عافیہ صدیقی، ملا عبدالسلام ضعیف، اور ریونڈ ڈیوس کے وقت کہاں سو رہی تھی؟ کیا ہم پاکستانی برداشت کریں گے کہ وہ لوگ جو پاکستانی ریاست اور حکومت کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کرچکے ہیں یا ایسے افراد کے حامی ہیں کو چین، ترکی اور سعودیہ عرب ایسے ہمارے دیرینہ برادر ممالک پناہ دئے رکھیں؟

فرض کریں کہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت ہو اور علامہ طاہر القادری کی جماعت بالکل اسی قسم کی بغاوت کا ارتکاب کرے تو اسکا نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا خان صاحب پھر بھی اس جماعت کو کام کرنے دیں گے، کیا خان صاحب یہ برداشت کرلیں گے کہ پاکستان کا کوئی دوست ملک قادری صاحب کے حامیوں کو پناہ دئے رکھے؟

پاکستان میں اس نان ایشو کو ایشو بنانے والے وہ اخباری کالم نگار ہیں جو سوشل میڈیا پر آکر خود کو علامہ سمجھنے لگے ہیں۔ ان دانشوروں کی اکثریت کو گولن نیٹ ورک کا رومی فورم ہر سال بین القوامی دورے کراتا ہے۔ ان فائدوں کیلئے یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان گولن کے حامیوں کو پناہ دے، چاہے اسکی کوئی بھی قیمت ہمیں چکانی پڑے۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>