صفحہ اوّل » حالات حاضرہ

انتقال یاداشت

مصنف: وقت: ہفتہ، ۴ فروری ۲۰۱۲8 تبصرے

انسانی دماغ کے یاد رکھنے کی صلاحیت کتنی ہے، گیگا بائٹ یا ٹیرا بائٹ، محدور یا لامحدود لیکن اس انسانی دماغ نے خود کو تیزی کے ساتھ اپنے ہی بنائے ہوئے مصنوعی ہارڈ ڈسک کے حوالے کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور تشویس کی بات یہ ہے کہ یہ کاپی پیسٹ نہیں کٹ پیسٹ کا معاملہ ہے۔ دو سال ہوتے ہیں کہ شاہدہ قاضی تاریخ پڑھایا کرتی تھیں، انکا کہنا تھا کہ واقعات کو یاد رکھنا ضروری ہے، تاریخ اور جگہ انٹرنیٹ سے مل جاتے ہیں، آگے چل کے جامعہ میں ایک اور استاد گزرے، انکا اسرار تھا کہ واقعات بھی یاد نہ رکھے جائیں کہ دماغ کو کسی اور کام لایا جائے گویا دماغ نہ ہوا کوئی پانچ سو بارہ میگا بائٹ کی پرانی یو ایس بی ہوگئی اور ان دونوں سے دو قدم آگے عمرانیات کی ایک خاتون استاد حفظ قرآن اور حفظ حدیث کے عمل کو بھی ایک لاحاصل مشق قراردینے میں کوئی تامل نہ دیکھاتی تھیں۔ ڈیجیٹل میموری کے پیچھے حجت، دلیل، اور منطق جو بھی ہو، لیکن صاحب آہستہ آہستہ علم انسانی منتقل ہورہا اور ضرورت ہے کہ اس انتقال علم پر کچھ سنجیدہ بحث ہو۔مگر کون کرے، آدھے مذاق اڑاتے ہیں اور آدھے افلاطون بنے پھرتے ہیں۔

چار دن ہوتے ہیں کہ مسجد سے باہر آتے ہوئے ایک دوست سے اس مسئلے پر بات ہوئی، ہفتہ کی رات گزر گئی اور اتوار کو آمد ہوئی۔ دوران تحریر اس ناقص عقل نے سوچا کہ اگر صبح ہوتے ہی گوگل بند ہوجائے، وہ ویب سروسز جن پر قیمتی ڈیٹا اور ویب سائٹ محفوظ ہے خدمات فراہم کرنا بند کردیں یا انکی پالیسیوں میں کوئی غیراعلانیہ اور غیر متوقع تبدیلی رونما ہوجائے،مصنوعی سیاروں اور ڈیٹابیس نظام پر کسی ملک، ادارے یا کسی ان دیکھی قوت کا قبضہ ہوجائے، کوئی ایسی مقناتیسی لہر چلے کہ تمام کمپیوٹرز سے ڈیٹا غائب ہوجائے، کوئی ایسا وائرس آئے جو تمام آن لائن ڈیٹا اڑا دے یا چرالیں،سوشل نیٹ ورک، ای میل اور بلیک بیری سروس وغیرہ سے نجی معلومات اسکین ہونے لگیں یا جاسوس اور ہیکنگ سافٹ وئرز کے زریعے پرائیویسی اور لوگوں کی ساخت کا دیوالیہ نکال دیا جائے، کمپنیوں اور بینکوں کے آن لائن نظام کے زریعے انکے ڈیٹابیس میں داخل ہوکر گڑ بڑ پیدا کی جائےیا اہم معلومات چرالی جائیں، ایٹمی اور تباہی پھیلانے والے دوسرے ہتھیاروں کو ناکارہ کردیا جائے یا انہیں استعمال کرلیا جائے یا خبروں اور انکی ترسیل کو کنٹرول کیا جانے لگے۔ اگر آپ ان سب خطرات کو نہیں مانتے تو نہ ماننا آپ کا حق ہے لیکن کئی مثالیں موجود ہیں۔ حال ہی میں ویکی لیکس نے دنیا میں تہلکہ مچایا اور ہزاروں صفحات پر مبنی خفیہ دستاویزات منظرعام پر آگئیں، اسکے علاوہ کئی فیس بک پیجز ہیک ہوئے ہیں اور کئی ایسے وائریس بھی چلے جن سے اچھے بھلے لوگوں کی ساخت دو کوڑی کی بھی نہ رہی۔ لیکن کیا کبھی سنجیدگی سے سوچا گیا، کیا ہمارا محفوظ ڈیٹا واقعی محفوظ ہے اور اگر نہیں تو اسکے مضمرات کس حد تک جاسکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ڈیٹا کا کوئی محفوظ بیک اپ بناتے ہیں؟ کیا ہماری نجی معلومات محفوظ ہیں، کہیں ہمارے کمپیوٹر اسکین تو نہیں ہورہے،کہیں ونڈوز سے واقعی ہمارے گھر کے اندر تو نہیں جھاکا جارہا ہے اورکہیں ہم سے سب ہمارا سب کچھ لے کر ایک دن ہمیں خدا حافظ تو نہیں کہ دیا جائے گا۔

گوگل کی نئی پالیسیاں اور اسکی ڈیجیٹل لائبریلی کی طرف ہی نظر ڈورائی جائے تو اس بات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آئندہ دو تین دہائیوں میں دنیا کس قدر گوگل کی اجارہ داری کا شکار ہوجائے گی، گوگل کی ملکیت میں یوٹیوب بھی ہے اور اکیلے یوٹیوب کے پاس دنیائے انٹرنیٹ کا ساٹھ فیصد ویڈیو ڈیٹا محفوظ ہے، یوٹیوب کے اثر رسوخ کا دائرہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اگر کبھی یوٹیوب کا لنک ڈاون ہوجائے تو کئی لاکھ ویب سائٹ متاثر ہونگی۔میری اپنے بلاگ سمیت دنیا کے ستر فیصد ویب سائٹ کا سرور بھی امریکہ کی چند بڑی ہوسٹنگ کمپنیوں کے پاس ہے۔ اگر آپ دنیا کے سرمایہ پر نظر دوڑائیں تو آپ کو بخوبی اندزاہ ہونے لگے گا کہ دنیا کے اکثر بڑے سرمایہ دار یا تو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی صنعت سے وابستہ ہیں یا کسی میڈیا گروپ سے یعنی دونوں صورتیں میں سرمایہ دار معلومات پر سانپ بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ گوگل، یاہو، ویکیپیڈیا، مائیکرو سافٹ اور فیس بک جیسے گروپ کی اجارہ داری، کیا کسی کی انکھیں کھولنے کے کافی نہیں اور اگر آپ سیٹالائٹ کی طرف جائیں تو یہاں بھی نوے فیصد قبضہ چند امریکی گروپس کا ہے اور یہ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سارے کہ سارے یہودی ہیں۔

کسی یہودی نے کہا تھا کہ دنیا کو غلام بنانا ہے تو اس میں بسنے والوں کے سرمائے اور ذہن دونوں پر قبضہ کرلو اور پھر اپنے قبضے سے انہیں پیسہ بھی دو اور دماغ بھی۔ یہودیوں نے کامیابی کے ساتھ اس مشورے پر عمل کیا اور آج دنیا کے سارے سرمائے اور دماغ پر اجاداری کا منصوبہ کامیابی سے جاری ہے۔ مائکروسافٹ کے بانی Bill Gates گوگل اور یوٹیوب کے کرتا دھرتا Sergei Brin اور Larry Page ویکیپیڈیا کےمالکان James Wales اور Larry Sanger فیس بک کے بانی Mark Zuckerber اور یاہو کے مالک Terry Semel سب نسلی یہودی ہیں اور ان تمام کے صیہونی مقاصد کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں رہے۔ انٹرنیٹ پر یہودیوں کی قوت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ Mark Zuckerber ایک عام سا کالج اسٹوڈینٹ تھا لیکن جب اسنے اپنے کالج میں فیس بک متعارف کرایا تو کئی یہودی سرمایہ دار اسکے پیچھے کھڑے ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے فیس بک سوشل نیٹ ورکنگ کا بادشاہ بن گیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک اپنی ڈیجیٹل میموری کو محفوظ بنانے کے لئے کیا اقدامات اٹھارہے ہیں۔ کیا پاکستان کے اندر اس بارے میں سوچاجارہا ہے یا پاکستان سے باہر تیسری دنیا کے کسی اور ملک نے اس اجارہ داری سے باہر نکلنے کی کوشش کی ہے۔کیا ہم اپنے ہارٖڈ ڈسک میں پڑی معلومات کو محفوظ سمجھ سکتے ہیں، کیا مستقبل قریب میں علم پر کسی کی اجارہ داری تو قائم ہونی نہیں جارہی اور یہ سب کچھ ہورہا ہے تو ہم کیا کررہے ہیں۔

مان لیں یہ سب کچھ میرے ذہن کا وسوسہ اور مولویوں کی فضولیات ہیں اور ان جیسی باتوں کو خاطر میں لانا حماقت ہے تو پھر بھی کیا ان عوامل پر سوچا جارہا ہے کہ یاد رکھنے کا کام کمپیوٹر کو دے کر انسانی دماغ بری ازماں ہوگیا ہے۔ پانچ سو بارہ ایم بی کے شاملہ پر پانچ ہزار کتابیں محفوظ ہیں، حدیث اور تفسیر کے علاوہ فقہ کی کئی کتابیں اور کتابوں میں عرق ریزی کے لئے ایک حیرت انگیز سرچ انجن۔ عرب علماء اور محققین شاملہ اور شاملہ جیسے کئی سافٹ وئیر سہولت سے استعمال کرتے ہیں، ہمارے یہاں بھی نیو ٹاون اور دارالعلوم کے کئی اساتذہ اور طلبہ اس طرح کے سافٹ وئرز سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ یہ سافٹ وئیرز کسی انسانی دماغ کے مقابلے میں بظاہر زیادہ تیزی سے کام کرتے ہوئے اور مطلوبہ حدیث، آیت یا تفسیر ڈھونڈ نکال لاتے ہیں گویا صرف عصری علوم ہی نہیں تیزی کے ساتھ دینی علوم کا خزانہ بھی انسانی دماغ سے ڈیجیٹل دماغ کی طرف بڑھا رہا لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا یہ ڈیجیٹل میموری انسانی میموری کا نعم البدل بن سکتی ہے۔کیا یاد نہ رکھنے کے عمل سے انسانی دماغ اور سوچنےسمجھنے کے صلاحیت کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچے گا؟ ڈیجیٹل میموری کے پیچھے حجت، دلیل، اور منطق جو بھی ہو، لیکن صاحب آہستہ آہستہ علم انسانی منتقل ہورہا اور ضرورت ہے کہ اس انتقال علم پر کچھ سنجیدہ بحث ہو۔مگر کون کرے، آدھے مذاق اڑاتے ہیں اور آدھے افلاطون بنے پھرتے ہیں۔

8 تبصرے برائے: انتقال یاداشت

  1. مستقبل میں بندے کی کھوپڑی میں ایک ڈیجیٹل چیپ گھسیڑ دی جایا کرے۔۔۔
    جو دل میں آئے سیوو کر لو۔

  2. کسی بھی تحریر کو ازبر کرنا مشکل ہے مگر جہاں تک ممکن ہو اپنی یاد داشت میں محفوظ کرنا بہتر ہے۔
    علم کسی کی میراث نہیں کوئی بھی طبقہ جہا ہے اُس نے ترقی علم و ہنر ہی کی بیاد پر کی ہے اور کسی کی ترقی پر اُس سے بغص یا نفرت اچھی بات نہی٘۔

    کچھ سوالات جو مفروضو. پر ہوں اور خاص کر اُن جن نہ نہ ہونے کا امکان قوی ہو اُن کی بنیاد پر پریشانی مول لینا درست نہیں۔

  3. بنیاد پرست says:

    انفارمیشن کے تمام ذخائر پر حقیقت میں یہود کا قبضہ ہوتا جارہا ہے, اس متعلق مسلمان ممالک کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، یہ نہ ہوکہ وہ وقت آئے کہ اسلامی انفارمیشن تک پہنچنے کے لیے بھی ہمیں یہود سے اجازت لینی پڑے اور ہم دوسری روزمرہ کی تمام چھوٹی بڑی چیزوں کے بعد عصری و دینی علوم کے بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے حصول اور استفادہ کے لیے انکے محتاج ہوکر رہ جائیں، آپ نے تو ان ویب سائیٹ کیطرف توجہ دلائی جو بنائی ہی یہود نے ہیں یہاں تو مسلمانوں کی بنائی ہوئی اسلامی اور غیر اسلامی ساٹھ فیصد سے زائد ویب سائیٹ کے ڈومین اور ہوسٹنگ غیر مسلموں کے ممالک سے چل رہی ہیں، باقی (آپ کی اگلی بات شاید مجھے صحیح سمجھ نہیں آئی ) یہ کہنا کہ ہمیں سب کتابوں کو قرآن کی طرح یاد کرنے کا سوچنا چاہیے ممکن نہیں ، قرآن جیسا معجزہ بھی لکھا ہوا مواد مانگتا ہے، انسانی دماغ کتنا بھی تیز ہوجائے یہ بھی وولیٹائل ہے چاہے کسی بیماری، بڑھاپے سے ہو یا موت اسکے انفارمیشن کے ذخیرہ کو مٹادے۔

  4. ڈیٹا کا بیک اپ لینے کے عمل کی بنیاد میں اصول یہی ہوتا ہے کہ ڈیٹا کو ایک سے زائد جگہوں پر نقل کر کے محفوظ کیا جائے تاکہ اگر ایک ذریعہ کسی حادثے وغیرہ کے نتیجے میں ضائع ہو جاتا ہے تو دیگر ذرائع سے اسے حاصل کیا جا سکے۔ انسانی دماغ میں یہ سب محفوظ رکھنا بھی اسی اصول کے تحت لازم ہو جاتا ہے کہ جو ڈیٹا انتہائی اہم ہے، یا کم از کم وہ جس کا نقصان کسی صورت قبول نہیں، اسے کمپیوٹروں اور کاغذوں کے ساتھ ساتھ انسانی اذہان میں بھی محفوظ ہونا چاہیے۔
    باقی جہاں تک معلومات کو مشینوں پر منتقل کرنے کا انسانی دماغ کی کارکردگی پر اثر ہے تو کئی صورتیں ہوتی ہیں جہاں کچھ کام کو دوسرے ذرائع پر منتقل کرنے سے کارکردگی بہتر ہوگی (جیسے یہ یاد رکھنے کا کام کسی کتابچے یا برقی آلے کو سونپ دینا کہ فلاں تاریخ کو فلاں فلاں کام کرنے ہیں اور اپنے ذہن میں صرف ایک “پوائنٹر” رکھنا کہ روز اس کتابچے کو دیکھنا ہے) جبکہ کئی صورتوں میں ذہن کے اندر ہی زیادہ سے زیادہ معلومات رکھنا مفید ہوگا (جیسے کسی نئی تحقیق کے لیے ایک سائنس دان کو اس موضوع پر پہلے سے دستیاب معلومات پر اچھی دسترس رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے)۔ بہترین کارکردگی کے لیے بہترین حکمتِ عملی کا تعین ہر صورت حال کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔

  5. جب بھی میں امتحان دینے جاتا ہوں یہی خیال ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے کہ کاش میرے دماغ میں کوئی میموری چپ فٹ ہو جائے جس میں ساری کتابیں اور لیکچرز پیسٹ کرلوں، تو زندگی کتنی آسان ہو جائے، بچگانہ ہی سہی، مگر ہر بار یہ سوچ دماغ میں گردش کرتی ہے.

  6. علی says:

    بہت اچھی بات کی ہے آپ نے پر کیا کر سکتے ہیں جو سہولت میسر ہے کون اس کو نہ کہہ کر استعمال کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ شروع شروع میں اے سی کی آمد پر بڑے بڑے تعزیے لکھے گئے تھے پر آج اے سی کے بغیر زندگی نا مکمل لگتی ہے۔ چلائیں گے جب تک چلتا ہے۔ ورنہ یو ٹیوب نہ سہی سولیٹئر تو مفت ہے کھیلنا۔ لیپ ٹاپ اسی کے کھیلنے پر صرف کریں گے اور کیا

  7. @ یاسر : ہوسکتا ہے۔
    @شعیب صفدر : ٹھوس مفروضات کو اتنی آسانی کے ساتھ مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
    @بنیاد پرست : میں نے دونوں حوالوں سے بات کی ہے۔
    @محمد سعد : بلکل۔
    @رضوان عباسی : کاش اسطرح کی کوئی میموری چپ ہوتی۔
    @علی : اے سی یا اس جیسی کسی نئی چیز تعلق نہیں بنتا اس مسئلے سے۔

  8. بات چاہے قدرتی ذہن کی ہو یا خودساختہ میموری چپس کی؛ ان کے استعمال کا مقصد انسان کی مدد ہو تو دونوں ہی کارآمد ہیں۔ یہ نقطہ بہت اہم ہے کہ ہر چیز کو مشینوں مثلاً کیلکولیٹر یا کمپیوٹر کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا اور ان کے بغیر انسان کا بالکل کورا ہو جانا دراصل انسان کی محتاجی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    مستقبل میں شاید ہمیں ایسا وقت دیکھنا پڑے کہ وہ مشینیں جو انسان کے انپٹ سے چلتی ہیں؛ کو تو انپٹ کی ضرورت نہ رہے لیکن انسانوں کا ان کے آؤٹ پٹ پر انحصار بڑھ جائے۔ ایسے میں بڑی تعداد میں انسانوں کا اس شعبہ کے اسٹیک ہولڈرز پر انحصار بڑھ سکتا ہے یعنی انسان پھر ایک مخصوص گروہ کا غلام بن جائے گا۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>