صفحہ اوّل » کاشف نامہ

جنوبی سوڈان کی علیحدگی

مصنف: وقت: منگل، 9 جنوری 2018کوئی تبصرہ نہیں

9 جنوری 2005 کو کینیا کے سیاحتی شہر نواشا میں سوڈان کی حکومت اور عسکریت پسند جماعت ایس پی ایل ایم کے درمیان وہ آخری اور حتمی معاہدہ طے پایا تھا جسکی رو سے چھ سال بعد 9 تا 15 جنوری 2011 تیل کی دولت سے مالا مال جنوبی سوڈان میں تاریخی ریفرینڈیم منعقد ہوا۔

توقعات کے عین مطابق ریفرینڈیم کے نتائج مقامی افریقی مذاہب اور مسیحوں پر مشتمل علیحدگی پسندوں کے حق میں آئے اور یوں 9 جولائی کو جنوبی سوڈان ایک آزاد اور خودمختاز مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر معرض وجود میں آیا۔ چند ہی دنوں بعد 11 جولائی کو اقوام متحدہ نے اسے بطور رکن ملک تسلیم کرلیا۔

یہ بھی کتنی دلچسپ بات ہے کہ اکیسیوی صدی میں جہاں سوڈان اور انڈونیشیا ایسے وسیع و عریض مسلمان ملکوں میں اقلیتوں کو استصواب رائے کا حق دیکر راتوں رات علیحدہ مملکت کی بنا ڈالی جارہی ہے وہیں مشرقی ترکستان سے چیچینیا اور کشمیر سے ارکان تک مسلمان خود اس حق سے محروم ہیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>