صفحہ اوّل » کاشف نامہ

کشف حجاب

مصنف: وقت: پیر، 8 جنوری 2018کوئی تبصرہ نہیں

8 جنوری 1936 وہ دن ہے جب اس وقت کے ایرانی حکمران رضا شاہ پہلوی نے حجاب پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ حکم ملتے ہی شاہی پولیس نے تعمیل حکم میں شاہراہوں، بازاروں، باغات، دفاتر اور تعلیمی اداروں سمیت تمام عوامی مقامات پر باحیا خواتین کو سرعام بے حیا کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اسکارف، چادر، نقاب یہاں تک کہ سر پر ایسی ٹوپی بھی زبردستی اتروادی جاتی جس سے سر یا بال کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اس واقعے کو ایران “کشف حجاب” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس سخت گیر پابندی کا نتیجہ یہ ہے ہوا کہ خواتین کی اکثریت نے خود کو گھروں تک محدود کرلیا۔ یرواند آبراهامیان نے اپنی کتاب “آ ہسٹری اوف ماڈرن ایران” میں لکھا ہے کہ پابندی کے دوران کالج اور یونیورسٹی میں خواتین کا نظر آنا گویا کوئی حیرت کی بات ہوا کرتی تھی۔ لاکھوں بچیوں نے تعلیم اور ہزاروں خواتین نے اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں۔ پینتالیس لاکھ ایرانی خواتین میں سے صرف چار ہزار خواتین اس قانون پر عمل پیرا ہوکر گھروں سے باہر نکلیں۔ کئی خواتین حکم ادولی کے الزام میں سرے عام رسوا کی گئیں، جسکا نتیجہ بعض اوقات خود کشی کی صورت میں بھی برآمد ہوتا تھا۔

مورخین اس پابندی کو اسلامی انقلاب کیلئے پیدا ہونے والی سوچ کا سب سے پہلا ماخذ قرار دیتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پہلوی حکومت کے خلاف مشہد اور تہران میں لاکھوں افراد نے احتجاج کیا ۔ احتجاج تو کچل دیا گیا لیکن جن لاکھوں باعصمت خواتین نے خود کو گھروں تک محدود کرلیا تھا، انہیں واپس باہر لانے کی کوئی کوشش بارآور ثابت نہ ہوئی۔ یوں 1941 میں نئے بادشاہ محمد رضا پہلوی نے خواتین کے خاموش بائیکاٹ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پابندی ختم کردی۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>