صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

مظلومیت کا استعارہ

مصنف: وقت: جمعہ، 19 جنوری 2018کوئی تبصرہ نہیں

کل سے ایم کیو ایم کے کچھ دوست سیخ پا ہیں کہ ایک پٹھان کیلئے تو ہر آنکھ نم ہے مگر مہاجروں کیلئے کبھی کسی نے آواز بلند نہیں کی۔ اس ہنگامے میں عوامی نیشنل پارٹی بھی کیوں پیچھے رہے، کراچی کے انکاونٹر میں انہیں “پنجابی پختون” دشمنی نظر آرہی ہے۔

جب لاشیں سیاسی یا نظریاتی جھگڑے میں آکسیجن کی صورت اختیار کرجائیں تو گِدھوں کے مسکن اور انسانی معاشرے میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ ہم زینب کے سانحے میں بھی دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح فرد واحد کا مجرمانہ فعل کچھ لوگوں کے مفادات کی غذا بنا۔ کسی نے کہا کہ مذہب ایسے جرائم کے اسباب فراہم کرتا ہے تو کوئی گویا ہوا کہ ن لیگ قاتلوں کی محافظ ہے۔

زینب کے سانحے میں سیاسی اور نظریاتی گدھ بروئے کار آئے تھے جبکہ نقیب کے معاملے میں لسانی گدھ متحرکہوگئے ہیں۔ اس ملک میں ہزاروں نوجوان یونہی ماروائے عدالت خون میں نہلائے گئے ہی۔ یہ پہلا پختون نہیں تھا جو مارا گیا اور نہ مارے جانے والے سارے ہی پختون ہوتے ہیں۔ مہاجر، بلوچ یہاں تک کہ پنجابی بھی اسی طرح بے دردی سے قتل ہوئے ہیں۔

نقیب کے حسین چہرے، سرمئی زلفوں اور ایچ ڈی تصاویر نے اسے امر کیا۔ لوگوں نے اسکی تصویریں دیکھیں تو چینخ اٹھے۔ اسکا سراپا، طرز زندگی اور شوق اس الزام سے میل نہیں کھاتا تھا، جس میں ملوث کرکے اسے خون میں نہلایا گیا۔ اسکی نسلی شناخت یا لسانی پیچھان کا معاملے میں کہیں کوئی کردار نہیں تھا۔

بات یقینا تلخ ہے مگر سچ یہی ہے کہ ظلم کے ہر واقعہ پر اجتماعی ضمیر نہیں جاگا کرتا، کچھ سانحے تمثیل، عنوان اور استعارہ بن جاتے ہیں۔ شام میں ہزاروں بچے قتل ہوئے مگر بحیرہ روم کے کنارے اوندھے منہ پڑے ایلن کردی نے جتنے لوگوں کو رولایا، اسکی مثال نہیں ملتی۔

“ایلن کردی”، “زینب” اور “نقیب” مظلوموں کا استعارہ ہیں۔ انکی تصویریں اس ظلم کے خلاف چلتی پھرتی تحریک ہیں، جن کا خود یہ شکار ہوئے۔ انہیں خدایا اپنے مفادات کی بھینٹ مت چڑھائیں۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>