صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

جنگ ستمبر کا پورا سچ

مصنف: وقت: ہفتہ، 6 ستمبر 201410 تبصرے

6533تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ6 ستمبر 1965کی شب ہندوستان نے بغیر کسی اعلان جنگ کے اچانک پاکستان پر حملہ کردیا۔  رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستانی افواج کے پندرہویں بکتربند ڈویژن نے میجر جنرل پرساد کی  قیادت میں بین القوامی سرحد عبور کی اور لاہور کی جانب  پیش قدمی شروع کردی۔ دشمن اپنی طاقت کے گھمنڈ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ راتوں رات لاہور شہر میں داخل ہوکر اگلے ہی روز اپنی فتح کا جشن منارہا ہوگا لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ اس نے  کس قوم کو للکارا ہے! ہماری مسلح افواج کے بہادر جوان مادر وطن کے دفاع کے لئےاپنے سے دس گنا بڑی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ لاہور سیکٹر میں پسپائی کے بعد 9 ستمبر کی شب ہندوستان کے  پہلے بکتربند ڈویژن نے کئی سو ٹینکوں کے ساتھ سیالکوٹ کا رخ کیا، جہاں ہمارے چھٹے بکتربند ڈویژن کے سپوتوں نےبے مثال جوانمردی سے لڑتے ہوئے دشمن کےغرور کو خاک میں ملادیا، دشمن بھاگتے ہوئے اپنے درجنوں تباہ شدہ ٹینک چھوڑ گیا۔

تصویر کا یہ پہلا رخ ہماری درسی کتابوں،  اخبارات کے  مضامین اور یوم دفاع کی تقریبات میں بار بار دیکھنے کو ملتا ہےلیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جو دانستہ طور پر ہم سے چھپایا جاتا ہے اور حتی المکان کوشش کی جاتی ہے کہ اس جانب کسی کی نظر نہ جائے۔افسوسناک صورتحال یہ ہےکہ انتہائی گھٹائی کے ساتھ ناصرف قوم کو بے خبر رکھا جاتا ہے بلکہ کئی سفید جھوٹ بھی بولے جاتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی سراپھرا تصویر کے اس دوسرے رخ پر بحث کے دروازے کھولنے کی کوشش کرے تو اسے ہندوستانی ایجنٹ بنانے اور غداری کے تمغے دینے میں ذرا بھی تامل کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔ گویا ہمارے اجتماعی  نظم میں سچ بولنا، حقیقت پسند ہونا اور خود احتسابی کی دعوت دینا غداری ہے۔ اگر یہ غداری ہے، تو ہوتی رہے کیونکہ ہم ہرسال چھ ستمبر کو اس غداری کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی عسکری ہائی کمان سےجنگ ستمبر میں انکی پے در پے ناکامیوں  کے اسباب پوچھتے رہیں گے۔ ہاں! جو سقوط ڈھاکہ، سیاہ چین، کارگل اور ایبٹ آباد واقعات پر جوابدہی کے لئے تیار نہ ہوں وہ کس طرح جنگ ستمبر کی باز پرس برداشت کریں گے۔

آپریشن جبرالٹر کس کی ایماء پر شروع کیا گیا، اسکے اہداف کیا تھے اور یہ کیوں فلاپ ہوا، آپریشن گرینڈ سلم میں ناکامی کے اسباب کیا تھے، ہندوستانی حملے کا آخری وقت تک علم کیوں نہ ہوسکا، آخر کس کی ضمانت پر بین القوامی سرحد پر پیشگی تیاری کو ضروری نہ سمجھا گیا اور آپریشن وند اپ میں کیا ہوا۔ اسپیشل سروس گروپ (SSG) کے اس وقت کے کمانڈر کرنل مہدی نے اپنے ایک مضمون میں ان تمام سوالات کے جوابات کے لئے عدالتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن عدالتی کمیشن تو وہاں بنائے جائیں جہاں کوئی احساس زیاں موجود ہو۔ ہمارا حال تو یہ تھا کہ اس وقت کے کمانڈر انچیف اپنی کتاب ” مائی ویزن” میں ناکامیوں کو قبول کرنے کے بجائے خود کو بطور ہیرو پیش کرتے نظر آتے اور مستعفی وزیر خارجہ زولفقار علی بھٹو عوامی جذبات کو اپنے سیاسی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہوئے جنگی فتح کے ترانے گاتے، فوجی بہادری کا دم بھرتے اور تاشقند معاہدے پر اپنے ہی صدر کو گالیاں دیتے دیکھے جاسکتے تھے۔ ان دونوں خود پسند اشخاص کے ہاتھوں بری طرح استعمال ہونے کے بعد صدر ایوب خان بہت سی حقیقتوں سے واقف ہوچکے تھے لیکن انہوں نے بھی اپنی کتاب “فرینڈ ناٹ ماسٹرز” میں جنگ کا سرے سے ذکر ہی نہ کرکے خاموش احتجاج پر ہی اکتفا کیا۔ قومی سطح کے اکابرین میں سے صرف سابق ائیر مارشل اصغر خان کی کتاب ” دی فرسٹ راونڈ” جنگ ستمبر کے بعض نازک پہلوں پر گفتگو کرتی نظر آتی ہے۔

ذمہ دار طبقے کی خاموشی نے کئی مفروضات جو جنم دیا۔ ایک عرصے تک نجی محفلوں میں یہ کہا جاتا رہا کہ عین اس وقت جب فوج  اکھنور کو فتح کرنے کے قریب تھی میجر جنرل اختر حسین ملک  کو واپس بلاکر انکی جگہ  جنرل یحیی خان کو بھیجا گیا کیونکہ فوج میں جنرل موسی سمیت کئی اور جرنیل اس تشویش میں پڑ گئے تھے کے اگر اختر ملک کی مہم کامیاب ہوگئی تو وہ فاتح کشمیر بن کر پروموشن کے مستحق ہوجائیں گے۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ جنرل موسی خان کے چہیتے یحیی خان کے اگلے محاز پہنچتے پہنچتے وہ اہم دن ہاتھ سے نکل گیا جب باآسانی اکھنور کا کنڑول حاصل کیا جاسکتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ  زولفقار علی بھٹو  اور عزیز احمد  نے مارشل چن یی کے حوالے سے صدر ایوب کو یہ یقین دلایا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہم اپنے فوجی دستوں کو بھیج کر جو کاروائیاں جی چاہے کرتے رہیں، ہندوستان کسی صورت  بین القوامی سرحد توڑ کے حملہ آور نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا جاتا رہا  کہ جنگ ستمبر دراصل قادیانیوں کی سازش تھی اور اسکا پلان فوج کے ایک احمدی افسر میجر جنرل اختر حسین ملک نے دفتر خارجہ کے ایک اہم عہدیدار ایم ایم احمد کے ساتھ ملکر بنایا تھا اور اسکا مقصد ہندوستان کو پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے جواز فراہم کرنا تھا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

کہی سنی باتوں سے قطع نظر، دونوں جانب کی تاریخی کتب اور آزاد مورخین کی آراء تصویر کا ایک دوسرا رخ پیش کرتی ہیں۔ اس دوسرے زاویہ نگاہ سے ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جنگ ستمبر نے جہاں ہماری عسکری کمان کی ہمت، مہارت اور اہلیت کو بری بےنقاب کیا وہیں ہمارے دفتر خارجہ کی کئی سنگین حماقتیں بھی سامنے آئیں۔ جنگ ان حالات میں ہوئی کہ ایک طرف کچھ ماہ قبل رن کچھ سرحد پر کامیابیوں کے زعم نے ہماری عسکری و سیاسی قیادت کو شدید خوش فہمی میں مبتلا کررکھا تھا تو دوسری طرف ہندی افواج پہلے سے زیادہ چوکنا، محتاط اور کسی بھی صورتحال کے نمٹنے کیلئے تیار تھی۔ فتح کشمیر کا منصوبہ دفتر خارجہ نے تشکیل دیا تھا اور اس حوالے سے عسکری قیادت کو یہ ضمانت دی گئی تھی کہ ہندوستان کسی صورت بین القوامی سرحد عبور نہیں کرے گا۔ اس منصوبے کو عملی جامع پہنانے کے لئے میجر جنرل اختر حسین نے جبرالٹر کے کوڈ نیم سے جو منصوبہ بنایا اسکا مقصد دس ہزار فوجی جوانوں کو کشمیری حریت پسندوں کے روپ میں پیراشوٹ اور شمال کے پہاڑی راستوں کے زریعے مقبوضہ وادی میں داخل کرکے کشمیری عوام کو بغاوت اور گوریلہ جنگ کے لئے تیار کرنا تھا۔

لیکن منصوبہ بری طرح ناکام ہوا۔ ایک طرف جب آدھی رات کو فوجی جوان  مقبوضہ وادی میں اتر رہے تھے تو پلان کے بالکل برعکس کشمیری حریت پسند انکی آمد سے بے خبر اپنے گھروں میں سو رہے تھے تو دوسری طرف ہندوستانی افواج کے جاسوسی نظام نے اس دراندازی کا فوری پتہ لگالیا اور شمال کی طرف پیر پاس، کارگل اور کشن گنگا میں ہمارے دراندازی کے مراکز کی جانب جوابی پیش قدمی شروع کردی۔ اس ناکامی کے نتیجے میں  آپریشن گرینڈ سلم کے نام سے ایک نیا پلان مرتب کیا گیا جسکا مقصد جموع میں فوجی اہمیت کی حامل اکھنور سیکٹر پر قبضہ کرکے ہندوستانی سپلائے لائن کو کاٹنا تھا۔ میجر اے ایچ امین اپنی کتاب “پاکستان آرمی ٹل 1965” میں لکھتے ہیں کہ اکھنور میں پاکستان کو ہندوستان پر 6 / 1 کی برتری حاصل تھی۔ ہمارے پاس فوجی جوان، اسلحہ اور ٹینک ہندوستانیوں سے بہت زیادہ تھا لیکن اسکے باوجود ہم اس سیکٹر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ لوگ اس ناکامی کی وجہ میجر اخترحسین سے یحیی خان کو کمان سپرد کرنے میں ایک دن کے نقصان کو گردانتے ہیں۔

اس ناکام مہم جوئی کے حتمی نتیجے کے طور پر جہاں نہ بھارتی سپلائے لائن کاٹی جاسکی اور نہ ہی  مقبوضہ وادی میں عوامی بغاوت کے کوئی اثار نمودار ہوئے وہیں جوابا ّ بھارت نے بین القوامی سرحد توڑ کر پہلے لاہور اور پھر سیالکوٹ پر حملہ کردیا گویا نماز بخشوانے گئے تھے، روزے بھی گلے پڑگئے۔ ہماری عسکری ہائی کمان کو ہندوستان کے حملے کا علم اس وقت ہوا جب رات کے اندھیرے میں دشمن کی فوج تیزی سے لاہور کی جانب بڑھ رہی تھی۔ یہاں تک کہ جب رات گئے جی او سی لاہور کو جگا کر خبردی گئی تو وہ فوری طور پر اسے سچ ماننے سے ہچکچارہے تھے۔ لاہور اور سیالکوٹ پر بھارتی حملے کے جواب میں ہماری فوجی ہائی کمان نے مشرقی پنجاب میں “آپریشن ونڈ اپ” کے نام سے “کھیم کرن” کی طرف پیش قدمی کا منصوبہ بنایا گیا لیکن وہ میدان جنگ بھی الٹا ہمارے ہی ٹینکوں کا قبرستان ثابت ہوا۔ ناقص منصوبہ بندی، غلط مفروضوں اور غیرموزوں وقت کے انتخاب کی وجہ سے فوج کو جسٹر، برکی، واہگہ، اٹاری، چونڈہ اور کھیم کرن کے محاذوں پر بے پناہ جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ سابق ائیر چیف اصغر خان کہتے ہیں کہ کشمیر کشی کے منصوبے کو پاک فضائیہ سے خفیہ رکھنے کا فیصلہ بھی ناقابل معافی جرم تھا۔ جنگ بندی کے وقت ہندوستان کے 220 مربع میل کا ریگستانی علاقہ ہمارے پاس تھا جبکہ دوسری طرف ہندوستان سیالکوٹ، لاہور اور کشمیر سیکٹر میں ہمارے 710 مربع میل کی زرخیز زمین پر قدم جمائے بیٹھا تھا۔

تصویر کے دونوں رخ اپنی اپنی جگہ بالکل درست ہیں۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو آدھا سچ بتاتے ہیں اور آدھا چھپالیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں اس طرح ہم  بہادر کہلائیں گے، ہمارے بچوں  پر ہماری دھاک بیٹھی رہےگی، ہمارے وقار کا تحفظ ہوگا، صبح و شام ہمارے ترانے گائے جائیں گے اور دنیا میں ہماری واہ واہ ہوگی۔ نہیں صاحب نہیں، جھوٹ کی بنیاد پر ریت کی دیوار تو کھڑی کی جاسکتی ہے کوئی معتبر عمارت نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ آدھے سچ اور آدھے جھوٹ سے ادارے تو کیا قومیں اپنا اعتماد کھو دیتی ہیں! کسی دانا نے کہا ہے کہ خودفریبی  قومی خود کشی ہے اور خود احتسابی قومی زندگی کی نوید نو۔

فیس بک تبصرے

10 تبصرے برائے: جنگ ستمبر کا پورا سچ

  1. najeeb.aei@gmail.com says:

    very informative…

  2. najeeb.aei@gmail.com says:

    very informative

  3. متوازن تحریر ہے، قوم کو سچ بتایا جانا ضروری ہے تاہم اگر ہم بچوں کو ایسی باتیں ابتدا ہی سے بتانے لگ جائیں گے تو وہ ڈی مورلائز ہو سکتے ہیں ۔ اگر چہ آپ فوج کے صرف چند بڑے جرنیلوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں تاہم بچوں کو ایسی باتیں بتائیں جائیں تو وہ مجموعی طور پر پوری فوج سے نفرت کرنے لگ جائیں گے، مصلحت کے تحت کچھ باتیں چھپانے میں کیا حرج ہے

  4. جنرل شاہد عزیز کی سوانح ( اعتراف نامہ) “یہ خاموشی کہاں تک” میں وہ 65 کی جنگ کے حوالے سے چند اہم انکشافات کے ساتھ ساتھ محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کے مورال پر جو کچھ لکھتے ہیں وہ پڑھ کر انسان ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ موقع ملے تو ضرور پڑھیے۔

    • شاہد عزیز صاحب کی کتاب بنیادی طور پر کارگل جنگ اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کا احاطہ کرتی ہے، 1965 کی جنگ کے بارے میں مختصر سی گفتگو ہے اور وہ بھی براہ راست نہیں بالواسطہ۔ اس موضوع ہر جنرل موسع خان، ائیر مارشل اصغر خان، الطاف قریشی، عمر ایوب خان اور قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں اہم معلومات ہیں اسکے علاوہ کچھ غیر ملکی مصنفین کی کتابیں بھی قابل زکر ہیں جن میں Devin T. Hagerty کی کتاب ساوتھ ایشیا ان ولڈ پالیٹکس اور جنرل جوگندر سنگھ کی کتاب پس پردا شامل ہیں۔ جنرل محمود کی کتاب “دی متھ اوف اوف 1965 وکٹری کے کچھ حصے نیٹ پر دیکھیں، مارکیٹ سے یہ کتاب غائب کردی گئی ہے۔ ایک اور ایم کتاب آپریشن جبرلٹر ہے جو پروفیسر محمف فاروق قریشی نے سید سجاد حیدر کے حوالے سے لکھی ہے۔

  5. بہت سے اہم رازوں سے پردہ اٹھاتی تحریر

  6. provide name of these who proove / certify your story says:

    Provide the name of authentic books who proove your story.

    • ۔ اس موضوع ہر جنرل موسع خان، ائیر مارشل اصغر خان، الطاف قریشی، عمر ایوب خان اور قدرت اللہ شہاب کی کتاب میں اہم معلومات ہیں اسکے علاوہ کچھ غیر ملکی مصنفین کی کتابیں بھی قابل زکر ہیں جن میں Devin T. Hagerty کی کتاب ساوتھ ایشیا ان ولڈ پالیٹکس شامل ہیں۔ جنرل محمود کی کتاب “دی متھ اوف اوف 1965 وکٹری کے کچھ حصے نیٹ پر دیکھیں، مارکیٹ سے یہ کتاب غائب کردی گئی ہے۔ دو اور ایم کتاب، ایک آپریشن جبرلٹر ہے جو پروفیسر محمف فاروق قریشی نے سید سجاد حیدر کے حوالے سے لکھی ہے اور دوسری “پاکستان آرمی ٹل 1965” ہے جو میجر اے ایچ امین نے لکھی ہے۔

  7. کاشف صاحب آپ نے بلکل درست نشاندہی کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہماری تاریخ غلط بیانیوں سے بری ہوئی ہے۔ ہم ہر جگہ اور ہر مقام پر جھوٹ بول کر عوام کو مطمعن کرنا چاہتے ہیں۔

    جھوٹ کا کلچر ہماری سوسائٹی میں اتنا رائج ہو چکا ہے کہ آپ ہر طرف اسی کا راج نظر آرہا ہے۔ یہاں آپ سچ کی پزیرائی تو ایک طرف، اس کی شنوائی تک ممکن نہیں ہے۔

  8. علی عمران says:

    وکی پیڈیا پر موجود انڈین پروپیگنڈے کا اردو ترجمہ ہونے کے علاوہ اس مضمون میں کوئی خاص معلومات نہیں ہے۔ اگر مصنف وکی پیڈیا کے علاوہ مستند کتابیں پڑھنے کی زحمت کرتے تو قوم کو انڈین جھوٹ پڑھنے کا موقع نہ ملتا

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>