صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

بیکن ہاوس میں ایک نشست

مصنف: وقت: پیر، 1 جون 2015کوئی تبصرہ نہیں

362480-Meet-1433143858-387-640x480بیکن ہاوس اسکول سسٹم کراچی کے صدر دفتر میں بلاگرز کے ساتھ  ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جسکا مقصد سوئس نظام تعلیم “انٹرنیشنل  بیکالاریٹ” (آئی بی)  اور نونہالوں کی ذہنی نشونما کے لئے بنائے گئے مرکز “جمبوری” سے بلاگرز کو روشناس کرانا تها۔  یہ یقینا ایک  احسن قدم تھا، جس سے بلاگرز کو ملک کے اس اہم تعلیمی ادارے  اور اس میں رائج مختلف تعلیمی نظام  کو قریب سے دیکھنے، سمجھنے اور جانچنے کا موقع ملا ہے۔ مجھے اس ایونٹ کا دعوت نامہ چند روز قبل  لاہور کے معروف اردو بلاگر  رائے ازلان  کی طرف سے موصول ہوا جو آج کل بیکن ہاوس اسکول میں نیو میڈیا  کی ذمہ داریوں سے وابستہ ہیں۔

بیکن ہاوس کے ہیڈ اوف کارپوریٹ کمیونیکشن سید علی تبریز بخاری  اور برانڈ مینجر آئی بی عمیر یحیی نے آئی بی  کے نصاب، ٹیچنگ تکنیک، طریقہ امتحانات اور متبادل نطام تعلیم کے موضوعات  پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ نظام تعلیم بچوں کو وہ مضامین پڑهاتا ہے جو وہ پڑهنا چاہتے ہیں، وہ سیکھاتا ہے جو وہ سیکھنا چاہتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کے کوئی بهی چیز ان پر زبردستی مسلط نہ کی جائے۔ امتحانات کے روایتی اصولوں کے برعکس اندرونی (انٹرنل ) و بیرونی (ایکسٹرنل) آزمائش کا ایک منفرد طریقہ کار رائج ہے جس میں کوئی بهی طالب علم پاس یا فیل نہیں ہوتا۔  لازمی مضامین کی تعداد کم  اور اختیاری مضامین کی تعداد زیادہ ہے جبکہ اختیاری مضامین کی کم از کم تعداد بھی مقرر نہیں کی گئی ہے۔ اس نظام کے چار گریڈ ہیں، پرائمری ائیر پروگرام (پی وائے پی)، مڈل ائیر پروگرام (ایم وائے پی)، ڈپلومہ پروگرام (ڈی پی) اور کیرئیر ریلٹیڈ پروگرام (سی پی)۔ بیکن ہاوس کراچی اس وقت ڈیفنس، کلفٹن اور سوسائٹی (پی ای ایچ ایس) کی تین شاخوں میں ڈپلومہ پروگرام آفر کررہا ہے جبکہ ان ہی شاخوں میں جلد ہی پرائمری اور مڈل پروگرام بهی متعارف کرانے کا اردہ رکهتا ہے۔

پچهلے برس کیمبریج سسٹم سے متعلق ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا جس کے مطابق کیمبریج سسٹم کو پاکستان میں مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ اس رپورٹ میں واضع طور پر بتایا گیا تھا کہ  برسوں کی محنت ، تشہیرسازی اور بڑی  سرمایہ کاری  کے باوجود آج بھی اے لیول اور او لیول  ملک کے چند بڑے شہروں کے مخصوص طبقوں اور علاقوں تک محدود ہے۔ ہم آغا بورڈ کا حشر بھی دیکھ چکے ہیں جو  جتنے زور و شور سے سامنے آیا تھا اتنی ہی  خاموشی سے چند اسکولوں تک محدود ہوکر رہ گیا  ہے۔ ان حالات میں” آئی بی” کا پاکستان میں کیا مستقبل ہے اسکا اندازہ لگانا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ میں یہ نہیں کہ رہا کہ اس نظام میں نقص ہے بلکہ میرے نزدیک  یہ کیمبریج سسٹم اور آغا خان بورڈ سے بہت بہتر، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، عمرانی اور نفسیاتی اصولوں کے عین مطابق  ہے  لیکن  مسئلہ فیس اسٹریکچر کا ہے جو اسے ایک خاص طبقے تک محدود کررہا ہے۔

کسی بھی تعلیمی نظام کو برآمد کرتے ہوئے ہمیں تین عناصرکا خیال رکھنا چاہئے، پہلا متعلقہ معاشرے کی مقامی ضرورت، دوسرا  سماجی خدوخال  اور  تیسرا اکثریت کی پرچیزنگ پاور۔  مغرب میں یقینا دنیا کے بہترین تعلیمی نظام موجود ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ سارے نطام مغرب کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دئے گئے ہیں جبکہ ہمارا ملک ایک مختلف تہذیبی، ثقافتی  اور معاشی  پس منطر رکھتا  ہے۔ نیز اگر طالب علم ایک پراڈیکٹ ہے تو ہماری مارکیٹ  کی کھپت اور ضرورت  کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ جبکہ  معاشرے میں کسی بھی قسم کی نئی تقسیم، احساس کمتری و برتری اور ذہنی خلیج کو پروان چڑھنے سے روکنے کے لئے سماجی خدوخال اور پرچیزنگ پاور کو مدنظر رکھنا  بھی ناگزیر ہے۔

ہمارے یہاں کافی عرصے سے یکساں نظام تعلیم کی بھی بحث چل رہی ہے اور اکثر دانشوروں کے خیال میں انواح و اقسام کے نظام تعلیم ہمارے معاشرے میں تقسیم اور عدم مساوات کا سبب بن رہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نطام دوسرے نظام سے اس قدر مختلف اور جدا ہوتا ہے کہ ان سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ و طالبات ایک ساتھ کھڑے ہوں تو دو مختلف صدیوں کے انسان معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری طرف مغربی ممالک میں موجود تمام نظام تعلیم  یکساں اصولوں پر چل رہے ہیں۔ میرے مطابق مسئلہ یکساں نظام تعلیم کا نہیں بلکہ تمام نظام تعلیم کے لئے یکساں اصول کا ہے۔

“آئی بی” بہرحال ایک بہترین نظام تعلیم ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اسکے نتائج اسی وقت سامنے آسکتے ہیں جب اسے ہماری  معاشرتی ضروریات، سماجی خدوخال اور اکثریت کی پرچنگ پاورسے ہم اہنگ کیا جائے۔ اگر ایسا ممکن ہوا تو یقینا اس نظام سے فارغ ہونے والے طلبہ و طالبات ایک نئی برگر کلاس کو جنم دینے کے بجائے خود کو اسی ملک، اسی معاشرے اور اسی سماج  کا بھرپور حصہ تصور کریں گے۔

بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>