صفحہ اوّل » کاشف نامہ

عام آدمی اور پیچیدہ بیانیے

مصنف: وقت: جمعہ، 20 جنوری 2017کوئی تبصرہ نہیں

پاکستان کے حقیقی مسائل وہ ہیں جن سے ایک عام آدمی کو روز مرہ کی زندگی میں سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہمارے پانچ درجن دانشور چاہتے کہ ہم اپنے حقیقی مسائل ایک طرف رکھ کر بیانیے، نظریے اور تہذیب کی لڑائی میں باہم دست و گریباں ہوجائیں، لڑیں جھگڑیں اور مسلسل حالت جنگ میں رہیں۔

اس لاحاصل کشمکش سے یقیناً ان دانشوروں کی قدر و قیمت ضرور بڑھ جائے گی، اخبار کالم کے نرخ اور اغیار بیرونی دوروں کی مواقع بھی بڑھا دیں گے لیکن سماج میں جس قدر خلفشار اور فساد برپا ہوگا، اُنہیں اِس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ دراصل یہ چار دقیق کتابیں ہاتھ میں پکڑ کر، دو ایک معروف مفکرین کی تسبیح اٹھاکر، فلسفے کی کالی چادر اوڑھ کر اور نظریے کا گہرا چشمہ لگا کر اپنی نفیس اردو میں نفرت کی تجارت کرسکتے ہیں یا تقسیم کی نئی دیوار اُٹھا سکتے ہیں لیکن کارل مارکس کا پر تو نہیں بن سکتے۔ ٹھیک ہے کہ جنسی آزادی اور بعض مذہبی قوانین کے خاتمے کو ہی اُن کے یہاں کامل ترقی اور خوشحالی کا ضامن سمجھا جاتا ہو لیکن کیا واقعی جمہور بھی انہی چیزوں کی متلاشی ہے؟

یہ کہیں گے اہل دانش پر لازم ہے کہ جمہور کے لئے نشان منزل طے کرے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ گفتگو کو مسلسل اِسی رخ پر استوار رکھ کر دراصل عمومی ذہن پر یہ افراد ایک ایسی فکری بمباری کے مرتکب ہورہے ہیں جس کا پیش خیمہ صرف تباہی ہے۔ اگر یہ پھر بھی تخیلیاتی دنیا کی بے خودی میں مست رہنے، نظریاتی مباحث کے پیچ و پر ہلانے اور طبل جنگ بجانے ہی کو اپنا فرائض منصبی سمجھتے ہیں تو کم از کم جمہور کے ازراہ تالیف قلوب کے واسطے ہی سہی لیکن اپنی صفوں میں کچھ ایسے دل جلے بھی ضرور پیدا کریں جو تعلیم، سائنس، ٹکنالوجی، بجلی، پانی، سڑک، گیس، ٹرانسپورٹ، نکاسی آب، رئیل اسٹیٹ، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، تھانہ کچہری اور ایسے دیگر خالص عوامی اہمیت کے موضوعات پر عام آدمی کی آواز بن سکیں۔ لیکن ہاں اُن کو کب جمہور کی فکر ہے، فکر تو محض اپنی فکر کی ہے۔

یہ بھی ارشاد ہوسکتا ہے کہ میاں تم ان معمولی باتوں پر ہلکان ہونے والے ہماری آفاقیت کو نہیں پہنچ سکتے۔ جب تک اوپر سے قبلہ ٹھیک نہیں ہوگا، مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ اِس گھسی پٹی توجیح کی تعبیر پڑوسی ملک ہندوستان میں اظہر من الشمس ہے۔ پچاس سالہ کانگریسی سیکولرازم کا حاصل یہ ہے کہ نہ خدا ہی ملا، نہ وصال صنم۔ کبھی اُنہوں نے سوچا کہ وہاں دستور کی درستگی، معاشرے پر کیونکر اثرانداز نہ ہوسکی؟ کیوں کانگریس بدعنوانی کا عنوان اور بی جے پی شائننگ انڈیا کا استعارہ بن گئی؟ ترکی بھی اِس کی مثال ہے۔ جس بیانیے کی حفاظت کو قومی ترقی کا زینہ بنایا گیا تھا، اُس کے ملبے پر خوشحالی نے دستک دی۔ اِن تمام مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ترقی کا تعلق نظریے سے نہیں، عام آدمی کا معیار زندگی بہتر کرنے سے ہے۔

ممکن ہے یہ بھی کہا جائے کہ ملک میں فرقہ واریت اور گروہ بندی تو پہلے سے موجود ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آپ اُسے بڑھا رہے ہیں یا کم کررہے ہیں؟ مزید براں جس فکر کیلئے یہ دانشور جنگ چھیڑنا اور سماج کی بنیادیں ہلانا چاہتے ہیں اُس کے لئے اُن کی تیاری کیا ہے؟ خروج کے لئے جو شرط ہیں، کیا وہ مکمل کرلی ہیں؟ کوئی کامل نظریاتی جماعت اور کوئی اجلا لیڈر؟ مزید براں حقیقی عوامی مسائل میں الجھنے کیلئے اُن کے پاس وقت نہیں یا اُسے اپنے خودساختہ معیار سے کم تر سمجھتے ہیں لیکن ویلن ٹائن ڈے، فیشن، ہم جنس پرستی اور نوجوان جوڑوں کی رومانوی ملاقات ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے کیلئے اُن کے پاس وقت ہی وقت ہے۔ پی آئی اے اور پاکستان ریلوے سے صارفین کو پہنچنے والی مشکلات اُن کے قرطاس ابیض پر آئے نہ آئے، صدقے کا بکرا زوق مزاح کی تصویر ضرور بنتا ہے۔

مسلمانان ہند کی تاریخ ہے کہ نظریاتی صف بندی کو ہمیشہ جمہور نے مسترد کیا ہے۔ تقسیم سے قبل ہندوں کے ساتھ معاملات ایک عام آدمی کی روز مرہ زندگی کا حقیقی مسئلہ تھا ناکہ آزاد اور مدنی رح کے پیچیدہ افکار۔ تقسیم کے بعد بھی لوگ روٹی، کپڑے، مکان اور سڑک پر ووٹ دیتے آئے ہیں، خوامخوا تقسیم، سماج کی نئی انجینئیرنگ اور جنگ و جدال کا ماحول نہ بنائیں، ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>