صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

وسطی پنجاب کی سیاست

مصنف: وقت: جمعہ، 26 اپریل 20132 تبصرے

مشرف دور میں کی گئی نئی حلقہ بندیوں کے مطابق قومی اسمبلی کی 272 جنرل نشستوں کا چوون فیصد یعنی 148نشستوں کا حلقہ انتخاب پنجاب میں واقع ہے اوران 148 میں سےتقریبا چونسٹھ فیصد یعنی 94 وسطی پنجاب کے21 اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان بھر کے سیاسی مبصرین ان21 اضلاع کو پاکستانی سیاست کا اصل انتخابی میدان قرار دیتے ہیں اور اسکی وجہ نہ صرف اعدادی برتری ہے بلکہ تاریخی ، جغرافیائی اور نفسیاتی اہمیت بھی ہے۔ اسی وجہ سے 1970 میں زولفقار علی بھٹو، 1977 میں تحریک نظام مصطفی ، 1988 میں بینظیر بھٹو اور نوے کی دہائی میں نواز شریف نے ان اضلاع کو اپنی سیاست کا مرکز و محور بنائے رکھا اور آج ان ہی تاریخی روایات پر چلتے ہوئے عمران خان بھی اس علاقے کو پانی پت کا میدان بنانا چاہتےہیں۔ گویا پاکستان کی تقدیر آج لاہور ، گجرات، فیصل آباد، سیالکوٹ اورراولپنڈی کے ووٹروں کے ہاتھوں میں ہے۔ دو ماہ قبل لاہور کے ایک قہوا خانے میں چند دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا ، شام جوان تھی اور پاکستانی سیاست موضوع بحث تھی۔ کسی نے یکدم کہا، اسلام آباد کا راستہ لاہور سے ہوکر گزرتا ہے ۔ اس بندے کودرست تفصیلات مہیا نہ تھیں ورنہ کہتا کہ اسلام آباد کا راستہ لاہور سے شروع ہوتا ہے، اورجی ٹی روڈسے گرزتے ہوئے مرگلہ کے کوہ زاروں تک پہنچتا ہے۔

پنجاب کے ان 21اضلاع کی کل قریب آبادی کم و بیش پانچ کڑوربیاسی لاکھ نفوس پر مشتمل ہے ، آبادی کی غالب اکثریت پنجابی ہے، پنجابیوں کے علاوہ کشمیری اور ہزارے وال ایسی نسلی اقلیتیں بھی مختلف اضلاع میں صدیوں سے آباد ہیں۔ آبادی کی اصل تقسیم برادریوں کی بنیا د پر ہے ، چوہدری، وڑائچ،جٹ، آرائیں، بٹ، ملک اور گجر بڑی برداریاں سمجھی جاتی ہیں ۔ شرع خواندگی کا تناسب 45 فیصد تک ہے جب کہ دیہی اور شہری آبادی کا باہمی تناسب بھی کم و بیش برابر ہی ہے۔پانچ دریاوں کے سنگم میں پھیلا ہوا یہ میدانی علاقہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیاء میں اپنی زرخیزی کے لئے مشہور ہے اور اسی بنا پر لوگوں کی اکثریت کا زریعہ معاش زراعت پر منحصر ہے ۔قیام پاکستان کے بعد صنعتوں نے بھی ترقی کی اور فیصل آباد، سیالکوٹ اور لاہور میں بڑے بڑے کارخانے لاکھوں لوگوں کے روزگار کا زریعہ بنے۔اس علاقے کاسب سے بڑا طرع امتیاز یہ ہے کہ انگریزوں کے دور سے لیکر آج تک مسلح افوج کی افرادی قوت کا بڑا حصہ بھی اسی علاقے سےلیا جاتا ہے ۔مجموعی طور وسطی پنجاب کے لوگوں کا معیار پاکستان کے دیگر تمام علاقوں سے بلند ہے۔ لوگ قدرے تعلیم یافتہ ، خوشحال ، مذہبی لحاظ سے متحرک اور سیاسی اعتبار سے آزاد ہیں۔

ماضی قریب پر نظرڈالی جائے تو وسطی پنجاب کے اس خطے میں کبھی جماعت احمدیہ نے سر اٹھایا تو کبھی مجلس احرار ختم نبوت کا مشن لیکر میدان میں آئی ، کبھی عیسائی مشینریوں کا زور ہوا تو کبھی تبلیغی جماعت نے جنم لیا اورکبھی کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کا راج چلا تو کبھی جماعت اسلامی کا دہرنا دیکھا گیا۔ غرض پچھلی ڈیڑھ صدی سے وسطی پنجاب میں ایک ہنگامہ برپا رہا ہے اور کچھ خبر نہیں کہ گردش ایام کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔اگر پاکستان کی سیاست کو دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم کیا جائے تو پنجاب کے ان اضلاع میں یہ نظریاتی تقسیم بھی اپنے نقطہ عروج پر نظر آتی ہے البتہ انتخابی لڑائی میں ماسوائے 1970 اور 1988 کے مجموعی طور پر دائیں بازو کا پلڑا ہی ہمیشہ بھاری نظر آیا ہے۔ 1970 کے انتخابات میں اسلامی سوشلزم کے نعرے کی بدولت زولفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی ناقابل تسخر ثابت ہوئی اور ان تیرہ کی اضلاع کی تمام نشستیں جیت لیں۔بھٹو بلاشبہ ایک بڑے لیڈر تھے لیکن انکی پھانسی نے انکوایسا امر کیا کہ 1977 سے لیکر 2008 تک ہر انتخابات میں بھٹو اور بھٹو مخالف فیکٹر آمنے سامنے ہوتے تھے ۔ لیکن اب لگتا 2013 کے انتخابات تاریخ کا دھارا بدلنے جارہا ہے کیونکہ پہلی بار انتخابی مہم میں بھٹو کا نام کہیں نظر نہیں آرہا ہے اور اگر کسی نعرے کی دھوم ہے تو وہ تبدیلی کے کے نعر ے کی ہے۔

تمام سیاسی تجزیہ نگار متفق ہیں کہ وسطی پنجاب میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان ہورہا ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر فی الواقعہ مقابلے سے باہر ہے۔انتخابی مہم میں نواز شریف کے پاس شہباز شریف کے پراجیکٹس ہیں اور عمران خان کے پاس تبدیلی کا نعرہ۔لیکن تاحال یہ بات وسوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ آیا عوام شہباز شریف کے پراجیکٹس سے مرعوب ہیں یا عمران خان کے نعروں سے۔ قیاس گمان یہی ہے کہ پورے وسطی پنجاب میں اا مئی کے روزگھمسان کی لڑائی پڑے گی اور ہوا کا رخ کسی بھی سمت چل سکتا ہے۔ جن حلقوں میں دلچسپ مقابلے متوقع ہیں ان میں این اے 55اور 56 روالپنڈی، این اے 117 ناروال، این اے 120، 122، 125اور 129 لاہور، این اے 105 گجرات اور این اے 110 سیالکوٹ شامل ہیں، جہاں سے شیخ رشید، عمران خان ، نواز شریف، خواجہ سعد رفیق، حنیف عباسی، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، ابرالحق، خواجہ آصف اور چوہدری پرویز الہی ایسے مظبوط امیدوار انتخاب لڑرہے ہیں۔

اگر قبل از انتخابات جوڑ توڑ کے عمل کو دیکھا جائے تو ایک طرف تو عمران خان خودپسندی اور انا کی بھینٹ چڑھ کر اور دوسری طرف نواز شریف ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر سنگین سیاسی غلطیاں کرتے نظر آرہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق جب مقابلہ دو بڑی جماعتوں کے درمیان فرق صرف چند ہزار ووٹوں کا رہ جائے تو تیسری اور غیر جانب دار قوت کے ووٹ کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ وسطی پنجاب کی تیسری قوت جماعت اسلامی ہے اور اگر 1993 کے انتخابی نتائج کا دقیت نظر سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی کے ووٹ بینک نے 1988 اور 1992 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان لڑائی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ اس لڑائی سے بے نیاز خاموشی سے بیٹھی پاکستان پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اس تقسیم در تقسیم کا اصل فائدہ اسکو پہنچے گا لیکن پیپلز پپارٹی والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں کیونکہ صاف نظر آرہا ہے کہ راجہ پرویز اشرف، چوہدری احمد مختار اور لطیف کھوسہ ایسی مظبوط شخصیات کی ضمانتیں ضبط ہونے جارہی ہیں۔

عددی، تاریخی ، جغرافیائی اور نفسیاتی اہمیت کی بنیاد پر اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وسطی پنجاب کا یہ معرکہ جس نے جیت لیا گویا اس نے 2013 کے انتخابات کا میدان مار لیا ۔ گویا پاکستان کی تقدیر آج لاہور ، گجرات، فیصل آباد، سیالکوٹ اور راولپنڈی کے ووٹروں کے ہاتھوں میں ہے۔ دو ماہ قبل لاہور کے ایک قہوا خانے میں چند دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا ، شام جوان تھی اور پاکستانی سیاست موضوع بحث تھی۔ کسی نے یکدم کہا، اسلام آباد کا راستہ لاہور سے ہوکر گزرتا ہے ۔ اس بندے کودرست تفصیلات مہیا نہ تھیں ورنہ کہتا کہ اسلام آباد کا راستہ لاہور سے شروع ہوتا ہے، اورجی ٹی روڈسے گرزتے ہوئے مرگلہ کے کوہ زاروں تک پہنچتا ہے۔

نوٹ : یہ اندازے ہر حلقے کے موجودہ ذمینی حقائق کی روشنی میں  قائم کئے گئے ہیں، کچھ بعید نہیں کہ انتخابات کہ روز زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی آجائے اور پاکستان تحریک انصاف کی سیٹوں میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوجائے۔

فیس بک تبصرے

2 تبصرے برائے: وسطی پنجاب کی سیاست

  1. Sadiq Ali says:

    Nice research and presentation of data………. but projection is again biased!!!!!!!

  2. دوست says:

    جماعتِ اسلامی کے حوالے سے میری ہمدردیاں آپ کے ساتھ ہیں. ذاتی طور پر مجھے امید ہے کہ اس بار بھی جماعت آٹھویں نویں قوت ہی رہے گی جیسا کہ پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ رہی ہے (علاوہ ضیاء اینڈ کمپنی کے دور کے).
    فیصل آباد کے ہجے آپ نے دو بار غلط لکھے ہیں، اسے بولنے کی رعایت کی وجہ سے پڑھا الف کے ساتھ جاتا ہے لیکن لکھا فیصل آباد ہی جاتا ہے.

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>