صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

کوئی نہ سر اٹھا کہ چلے ۔۔

مصنف: وقت: بدھ، 13 جون 2012کوئی تبصرہ نہیں

ملک ریاض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک روئیے کا نام ہے جو خود کو ہر قانون، ہر ضابطے اور ہر اصول سے بالاتر سمجھتا ہے اور اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی بھی حد تک طاقت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے کسی نہ کسی سطح پر اس روئے کا شکارضرور ہوتا ہے۔ البتہ ملک ریاض اس رویے کی انتہا کا نام ہے کہ جب کبھی قانون، ضابطے اور اصول اسکے راستے میں حائل ہوئے اس نے قانون، ضابطے اور اصول سب خرید لیے، کیا جرنیل، کیا صحافی، کیا سول سرونٹ اور کیا سیاستدان سب اس سرمایہ دار کہ دوست ہیں، اسکے تنخواہ دار اور تحفے تحائف سے مالامال۔ کامران خان اور شاہین شہباہی ایسے ہزاروں مکار صحافی ملک ریاض کے لئے فقط بکاؤ مال ہیں، وہ بولی لگاتا ہے اور یہ بچھے چلے جاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی انصار عباسی اور طلعت حسین ایسے ہی نام ہیں۔ ہماری صحافتی دنیا کے بڑے بڑے لوگ، اندر سے کتنے چھوٹے اور گند آلود ہیں اسکا اندازہ لگانا بھی عام لوگوں کے بس سے باہر ہے لیکن وہ جو ادراک رکھتے ہیں۔ شعبہ ابلاغ عامہ میں زمانہ طالب علمی کے دوران ایک دو نہیں کئی بڑے ناموں سے واسطہ بڑا لیکن خدا نے انکے خیر و شر سے محفوظ رکھا اور شاید اس میں طبیعت کی خودداری کا بڑا حصہ تھا۔

قلم کی تجارت اور زبان کی قیمت لگانے والے نو دولتیے ریا ض ٹھیکیدار عدالتوں، ایوانوں اور جرنلوں کو خریدتے رہے ہیں لیکن کیا وہ افتخار چوہدری کی عدالت کو خرید سکے؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔ ملک ریاض کے تمام مقدمات معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور کہیں بھی کوئی غیر معمولی سختی یا چھوٹ کا شائبہ تک نہیں گزرا پھر الزامات کی بنیاد کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں فقط ڈرامہ، مکاری، عیاری اور کچھ لوگوں کی ذاتی منفعت۔ دنیا جانتی ہے کہ ملک ریاض کا بنیادی فلسفہ ہے کہ ہر چیز بکتی ہے لیکن اسکے فلسفے کا بھرم ٹوٹ گیا، افتخار چوہدری کو نہ خریدا جاسکا، ملک ریاض کو شکست ہوگئی کیا پاکستان کا امیر ترین شخص شکست تسلیم کرسکتا ہے اور ان حالات میں جب اسکا بہترین دوست ملک کا صدر ہو اور آرمی چیف سے اسکی نیاز مندی ہو؟ نہیں بلکل نہیں، چیف جسٹس کے خلاف نو دولتیے کا جذبہ انتقام، زرداری، کیانی اور امریکہ کی تھپکی اور پاکستانی میڈیا زندا باد۔

ملک ریاض ایسے اثر رسوخ رکھنے والے شخص کے معاملے کو صرف ایک سرمایہ دار کا ذاتی معاملہ قرار دینا اعلی درجہ کی بے وقوفی ہےیا یہ سمجھنا کہ پرویز مشرف، نواز شریف، زرداری اور عمران خان، جرنل کیانی اور غیرملکی سفراء سے بیک وقت بہترین تعلقات استوار کرنے والا شخص اتنی آسانی سے چیف جسٹس کے بیٹے کو رشوت دیتا رہا یا مبینہ طور پر اسکے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہے یا یہ کہ ملک ریاض ایسا شخص جو ہمیشہ پس منظر میں رہنا پسند کرتا ہے بغیر کسی مقصد کے منظر عام پر آگیاسنگین خودفریبی اور غلط فہمی ہے۔ دفاعی امور کی نامور تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقی نے اپنی کتاب ملٹری انکارپوریٹیڈ میں پاک بحریہ کے سابق سربراہ اور ملک ریاض کے مابین بحریہ ٹاون کے منصوبے میں بدعنوانی کے راز کھولے تھے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج آسمان سر پر اٹھانے والا میڈیا پاک بحریہ کے سابق سربراہ پر لگائے جانے والے الزامات پر کیونکر خاموش رہا، وجہ ایک ہی کہ جو شخص اپنی دولت کے بل بوتے پر نواز شریف اور زرداری ایسوں کو بھوربن میں ملوا کر معاہدہ کروا سکتا ہے، جو مشرف کو محفوظ راستہ دلواسکتا ہے جو ارکان اسمبلی کی وفاداریاں خرید سکتا ہے، میڈیا اسکے سامنے اپنی توپوں کا رخ کیسے کر سکتی ہے آخر نمک حلالی بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے۔

ملک ریاض کا سرمایہ، زرداری و کیانی کی آشیرباد اور کامران خان ایسے تماش بینوں کی بھربھور پرفارمنس۔ مقاصد کا ایک انبار ہے اور سب سے بڑا مقصد این آر او اور لاپتہ افراد کے مقدمات ہیں جو بیک وقت ایوان صدر اور جی ایچ کیو کی در و دیوار پر لرزا طاری کئے ہوئے ہے۔ پھر عام انتخابات بھی سر پر ہیں اور کرپشن کے لاتعداد کیس عدالت کے سامنے ہیں۔ صاحب جس عدالت نے وزیر اعظم اور اسکے وفاقی وزراء کو سزائیں دی ہو، جس کرائے کے بجلی گھر کے خواب پر پانی پھیرا ہو، جس نے اسٹیل ملز کو کوڑیوں کے دام بکنے سے روکا ہو، جس نے سالوں سے روکے ویج بورڈ ایوارڈ کے نفاز کا فیصلہ دیا ہو اسکے دشمن بھی لاتعداد ہوتے ہیں۔ مجھے ناجانے کیوں حضرت مسلم بن عقیل یاد آگئے ایک وقت تھا کہ سارا کوفہ انکے ہاتھ پر بیت کرچکا تھا اور پھر ایک وقت تھا جب کوفہ کا ہر دروازہ انکے لئے بند تھا،

نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کے کوئی نہ سر اٹھا کہ چلے

عجیب بات ہے کہ چیف جسٹس نہ بکے لیکن پھر بھی وہ اسکے بیٹے کو غیر ملکی دورے کرارہا تھا، رقوم دے رہا تھا کسی دلال کی طرح عیاشی کا سامان مہیا کررہا تھا اور وہ بھی ایک ایسے بیٹے کو جو اپنے باپ کا لاڈلہ ہرگز نہیں تھا، جسکے کردار کے کمزور پہلوں سے سب سے زیادہ خائف خود اسکا اپناباپ تھا اور جسکی رہائش اپنے خاندان سے دور لاہور میں تھی، اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ صدر پاکستان کا دوست بلیک میل ہورہا تھا عجیب بات ہے کہ آرمی چیف کا نیاز بلیک میل ہورہا تھا، عجیب بات ہے کہ میاں صاحب اور عمران خان کا دوست بلیک میل ہورہا تھا، عجیب بات ہے کہ وہ شخص جو اپنے اثر رسوخ کے لحاظ سے ملک کے چند طاقت ور ترین اشخاص میں شامل ہوتا ہے بلیک میل ہورہا تھا، عجیب بات ہے کہ جو شخص اپنے اشتہارات کے لئے مین اسٹریم میڈیا کے گھنٹوں خریدتا رہا ہےبلیک میل ہورہا تھا۔ آخر ملک ریاض کو کس بات کا خوف تھا جو وہ ارسلان افتخار کو کڑوروں روپے کی رشوت دینے پر مجبور ہوا، کیا مجبوری تھی، کیا ارسلان نے ملک ریاض سے گن پوائنٹ پر یہ سب کچھ کرایا۔ آخر کیا وجہ تھی کہ ملک ریاض نے ایف آئی آر اور قانونی جارہ جوئی، میڈیا کا چور دروازہ استعمال کیا۔

ثابت ہوا کہ ملک ریاض نے رشوت دی لیکن کیا ثابت ہوا کہ ارسلان افتخار نے رشوت لی؟ پہلے جو جرم کا اقرار کررہا ہے، جو قرآن ساتھ رکھ کر یہ کہ رہا ہے کہ اسنے اپنے پیسوں کے ذریعے عدالت پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اسکو الٹا ٹانگو لیکن میڈیا یہ کیس خود لڑنا چاہتا ہے۔کوشش ہے افتخار چوہدری کو دباو میں لاکر بے اثر کردیں یا اس حد تک مجبور کرے کہ وہ سر اٹھا کے نہ چل سکیں اور مجبورا منظر سے غائب ہوجائیں، سازشوں کے جالے بننے جاچکے اور عجب کرپشن کی غضب کہانیاں شروع ہوچکی، کامران خان، کامران شاہد، نزیر ناجی، افتخار بھٹی، نجم سیٹھی اینڈ کمپنی میڈیا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے اور اچھا ہے ایسا میڈیا نہ رہے جس کا کام خبروں کی ترسیل کے بجائے خبروں کی تجارت ہو۔

مجھے امید ہے کہ اس دفعہ میڈیا گردی نہیں چلے گی، کرپٹ نظام کے اسٹیک ہولڈرز اور تبدیلی کے خیرخواہوں کا تصادم ہوگا اور ایک ایک کرکے چہرے بے نقاب ہونے لگے گے۔کامران خان اور شاہین شہباہی ایسے ہزاروں مکار صحافی ملک ریاض کے لئے فقط بکاو کا مال ہیں، وہ بولی لگاتا ہے اور یہ بچھے چلے جاتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کی قیمت نہیں لگائی جاسکتی انصار عباسی اور طلعت حسین ایسے نام ہیں۔ ہماری صحافتی دنیا کے بڑے بڑے لوگ، اندر سے کتنے چھوٹے اور گند آلود ہیں اسکا اندازہ لگانا بھی عام لوگوں کے بس سے باہر ہے لیکن وہ جو ادراک رکھتے ہیں ۔شعبہ ابلاغ عامہ میں زمانہ طالب علمی کے دوران ایک دو نہیں کئی بڑے ناموں سے واسطہ بڑا لیکن خدا نے انکے خیر و شر سے محفوظ رکھا اور شاید اس میں طبیعت کی خودداری کا بڑا حصہ تھا۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>