صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

اور اب سوشل میڈیا

مصنف: وقت: منگل، 19 نومبر 20132 تبصرے

ہونا1 تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت سانحہ راولپنڈی کے ذمہ داروں کے خلاف کریک ڈاون کرتی، فوری کاروائی کے نتیجے میں ان لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا جو پولیس سے اسلحہ چھیننے اور جلاو گھراو میں ملوث تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت دانستہ طور پر  اپنی بد انتظامی کو چھپانے اور طاقتور گروہوں کو مطمئن رکھنے کے لئے حقائق پر پردا ڈالنے اور قاتلوں کو راہ فرار فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ حکومت کا دعوا ہے کہ وہ سنجیدہ ہے اور تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بناچکی ہے۔ لیکن کیا مسجد و مدرسہ پر حملہ کرنے والے دہشتگرد، خاص طور پر وہ افراد جنکی شکلیں کیمرے کی انکھ میں محفوظ ہوچکی ہیں، عدالتی  کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا انتظار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں گے اور کیا کرفیو کے دوران خاموشی سے طلبہ کی لاشوں کو انکے آبائی علاقوں میں منتقل کرکے حکومت نے دانستہ بددیانتی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ حکومت ان سوالات پر خاموش ہے اور جمعہ  کے روز اچانک سن بلوغت کو پہنچنے والا مین اسٹرئم میڈیا  اس قسم کے  سوالات کی تکرار کرکے غیر ذمہ داری  کا مظاہرہ  نہیں کرسکتا ہے۔ ان حالات میں سوشل میڈیا نے خون دل میں انگلیاں ڈبوتے  ہوئے تن تنہا کاغذ اور قلم کی حرمت کو بحال رکھا ہوا ہے  اور یہی اسکا جرم ہے۔

سوشل میڈیا ایک ایسے طاقتور متبادل میڈیا کے طور پر ابھر رہا ہے جو ناصرف حکومت بلکہ میڈیا مالکان اور صحافتی چاچے ماموں کے لئے بھی درد سر بن چکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ  اب مین اسٹریم میڈیا آزادی کے ساتھ خبروں پر اجارہ داری قائم رکھنے سے قاصر ہے، بڑے بڑے صحافتی بت  منٹوں میں گرجاتے ہیں، خود کو تنقید سے ماورا سمجھنے والے صحافتی ادارے اکثر منہ چھپائے پھرتے ہیں اور جنہیں یہ ہیرو بناتے ہیں سوشل میڈیا انہیں زیرو کردیتا ہے، جنہیں یہ لوگ زیرو کرتے ہیں سوشل میڈیا انہیں ہیرو بنادیتا ہے۔ ان طاقتور گروہوں کی تشویش اس لئے بھی  بڑھتی جارہی ہے کہ انہیں وہ لوگ چیلنج کرتے ہیں جنہیں بقول انکے اسکا استحقاق نہیں۔ سب سے پرانا اور گھسا پٹا نعرہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے زریعے غلط اور گمراہ کن معلومات پھلائی جاتی ہیں جس سے نفرت، اشتعال اور فساد پھیل رہا ہےاور  یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا اچھے بھلے وائٹ کالر لوگوں کی دھنائی کردیتا اور انکے خلاف غیراخلاقی مہم چلائی جاتی ہے۔ لیکن کیا یہ سارے کام ہمارا مین اسٹریم میڈیا نہیں کررہا جو بظاہر “ٹرینڈ”، “ایکسپرینس”، “پروفیشنل” اور “ہائیلی پیڈ” بھی ہے تو آئیں مین اسٹریم میڈیا سے آغاز کریں لیکن دراصل یہ  گھسے پٹے نعرے  بذات خود گمراہ کن ہیں کیونکہ انکا اصل  مقصد متنازعہ  مواد  کی آڑ میں پورے سوشل میڈیا کو سبق سیکھانا ہے ۔

سوشل میڈیا پر فرقہ وارنہ اور نفرت انگیز مواد کا موجود ہونا کوئی نئی چیز نہیں ہے۔  یو ٹیوب اور دوسری ویڈیو شئیرنگ سائٹس  پر درجنوں ایسے چینلز ہیں جن سے روزانہ  ہزاروں میگا بائٹ کے  فرقہ وارنہ، نفرت انگیز اور پرتشدد ویڈیوز اپلوڈ کئے جاتے ہیں۔ ایسے سینکڑوں گستاخانہ  فیس بک پیجز، ٹوئیٹر اکاونٹ، ویب سائٹ اور یو ٹیوب چینلز موجود ہیں جو اسلام، صحابہ کرام اور مقدس ہستیوں کی توہین  میں کوئی کسر روا نہیں رکھتے اور صرف یہی نہیں  بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسندوں سے لیکر قبائلی علاقوں میں سرگرم  طرح طرح کی عسکریت پسند تنظیموں کی ویب سائٹ  بھی پوری آزادی سے کام کررہی ہیں۔ حکومت اور مین اسٹریم میڈیا کو ان میں سے کسی سے بھی کوئی مسئلہ نہیں، انکا مسئلہ تو وہ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں جو اپنے بلاگ اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس کے زریعے  مین اسٹریم میڈیا کی اجارہ داری کو چیلنج کررہے ہیں۔ یہ وہ لوگ انکی خبروں اور تجزیوں پر جرح کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو انکی دو عملی پر سوال اٹھاتے ہیں, یہ وہ لوگ ہیں جو ایسے حقائق سامنے لے کر آتے ہیں جنہیں چھپایا جارہا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے زریعے  بہت سی غلط  اور من گھڑک خبریں بھی پھیلتی ہیں لیکن وہ غلط اور من گھڑک خبریں بھی اسی سوشل میڈیا پر کاونٹر ہوتی ہیں۔ اگر کوئی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر غلط تصویر یا ویڈیو شئیر کرے تو کوئی دوسرا اسکی چھان بین کرکے احتساب کا کام بھی بخوبی انجام دے دیتا ہے۔ یہاں مین اسٹریم میڈیا والا معاملہ نہیں ہوتا کہ ایک چینل سارا دن ایک فیک پکچر/ ویڈیو  دیکھا کر طوفان کھڑا کردے اور کوئی  یہ کہنے والا ہی نہ ہو کہ جناب آپکی پکچر / ویڈیو ہی فیک ہے۔

سوشل میڈیا پر چار قسم کے لوگ ہیں، پہلے عام لوگ جو تفریح اور وقت گزاری کے لئے اسکا استعمال کرتے ہیں، دوسرے زندگی کے مختلف شعبوں  میں کامیاب لوگ جنکی فین فالونگ کافی زیادہ ہوتی ہے، تیسرے مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کا پراپیگنڈا ونگ اور چوتھے سوشل میڈیا کے مزدور جنکے مالی مفادات سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں یعنی بلاگرز اور تیکنیکی ماہرین۔  حکومت اور مین اسٹریم میڈیا کا اصل نزلہ اسی چوتھے گروپ پر گررہا ہے۔ انگریزی بلاگرز کیونکہ عام پاکستانیوں کی دسترس میں نہیں اس لئے زیادہ تر اردو بلاگرز اردو ہی زیر عتاب ہیں اور بقول ایک معروف اردو بلاگر کہ اردو بلاگرز کو گھانس بھلے نہ ڈالی جائے، نظر انہی پر رکھی جاتی ہے۔ یہی اردو بلاگرز ہیں جو ناصرف سانحہ راولپنڈی کے  اصل حقائق سامنے لے کر آئے بلکہ انہوں  نے بہت سے ایسے سوالات بھی کھڑے کردئے ہیں جو حکومت اور طاقتور حلقوں کے لئے سر کا درد بنے ہوئے ہیں۔ جمعہ  کے روز اچانک سن بلوغت کو پہنچنے والا مین اسٹرئم میڈیا  اس قسم کے  سوالات کی تکرار کرکے غیر ذمہ داری  کا مظاہرہ  نہیں کرسکتا۔ ان حالات میں سوشل میڈیا  نے خون دل میں انگلیاں ڈبوتے  ہوئے اور تن تنہا کاغذ اور قلم کی حرمت کو بحال رکھا ہوا ہے اور یہی اسکا جرم ہے۔

فیس بک تبصرے

2 تبصرے برائے: اور اب سوشل میڈیا

  1. یہ بات تو طے ہے کہ اب سوشل میڈیا کو دبانا ناممکن ہے۔ ہاں حکومت سیل فون اور انٹرنیٹ وقتی طور پر بند کر سکتی ہے مگر ہمیشہ کیلیے نہیں۔ وہ دن دور نہیں جب سوچل میڈیا پر ہی لوگ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کر لیا کریں گے اور دھاندلی آسانی سے بے نقاب ہونے لگے گی۔

  2. حقیقت یہی ہے کہ سوشل میڈیا اور اردو بلاگرز ہی ایسے لوگ ہیں جو کہ عام افراد کی پہنچ میں ہیں،اور عوام کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں۔

    پاکستانی کی سطح پر اردو بلگنگ اور سوشل میڈیا پر اردو ہی کامیاب و کامران ہے۔اسی لئے خوف بھی لوگوں کو انہیں سے آتا ہے۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>