صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

داتا کی نگری کا سفر

مصنف: وقت: جمعرات، 31 جنوری 201341 تبصرے

داتا کی نگری سے لوٹے قریب ہفتہ ہونے کو ہے لیکن وہ نگری ہے کہ بھلائے نہیں بھولتی۔ لاہور شہر، بلاگرزکانفرنس اور ملک بھر سے آنے والے ساتھی اردو بلاگرز سے ملاقات کی دلفریب یادیں ذہن میں ایسی رچ بس گئی ہیں کہ ادھر کراچی میں بیٹھا بھی خود کو لاہور کی گلیوں میں گھومتا پھرتا محسوس کرتا ہوں۔ لکشمی چوک کی کڑھائی، اندرون لاہور کی زندہ دلی، فورٹریس کی رنگینیاں، کشادہ سڑک کے ساتھ چلتی نہر، مال روڈ پر پھیلی عمارتیں اور باغات اور سب سے بڑھ کر مغل دور کی تعمیرات۔ لاہور میں دیکھنے اور گم ہوجانے کو بہت کچھ ہے لیکن ہم کراچی والوں کو تیز چلنے کی عادت ہے اور لاہور دھیرے دھیرے چلتا ہے۔ البتہ بہت سی چیزیں لاہور اور کراچی میں مشترک ہیں جیسے رات دیر جاگتے رہنا، جیسے کھانے پینے کا شوقین ہونا، جیسے ہنستے گاتے رہنا۔ میرا سفر کیونکہ مختصر اور خاص طور پر بلاگرز کانفرنس کے حوالے سے تھا اس لئے لاہور کی سیر اتنی نہ ہوسکی تھی کہ جتنا اسکا حق تھا۔ بلال محمود کے برجستہ اور کھرے انداز، شاکر عزیز کےکاٹ دار طنزیہ فقرے، محمد سعد کا پراسسنگ کرتا دماغ، ذوہیر چوہان کی خاموش طبعیت ، خرم ابن شبیر کی معصوم مسکراہٹ، نجیب عالم بھائی کا خالص لاہوری انداز اور ریاض شاہد صاحب کی پروقار شخصیت کے حسار نے کانفرنس میں ایسے الجھائے رکھا کہ لاہور گردی کا موقع ہی نہ ملا مگر پھر بھی جو کچھ دیکھا ابھی تک اسکے سحر نکل نہیں سکا، جیسے کہ اقبال کا مزار۔

خاموشی، تاریکی اور سرمستی میں رچی بسی بادشاہی مسجد کے مرکزی دروازے پر منوں مٹی اوڑھے سو رہے علامہ محمد اقبال کے مقبرے کا اصل سحر تو ان خودی میں بے خود درویشوں پر طاری ہوتاہے جنکی فکر و دانش کی پرواز اس قبر میں سونے والے مرد قلندر کی بانگ دراکے زیر اثر ہولیکن سنا ہے کہ ارمغان حجاز کے مکتب عشق کاہر طالب اس گدا کی گدائی کا کچھ نہ کچھ فیض ضرور پاتاہے۔ اسی خیال اور امید سے قدم تیز ہورہے تھے اور جیسے جیسے مقبرے کی عمارت قریب آرہی تھی، وجود سمٹتے ہوئے، جذبات بھپرتے اور خیالات کے حسار میں سمند ر اترتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ دروازے کے سامنے قدم رک گئے اور اہل قبر کے ہیت سے اندر جانے کی ہمت نا ہوئی، کچھ دیر کو باہر ہی ٹھر گیا، ہیجانی کیفیت میں ٹھراؤ آیا تو کچھ تصویریں لیں اور اندر جانے کا سامان مہیا ہوا ۔ مقبرے کے اندر کچھ نہ تھا، ادب تھا، خودی تھی،اقبال تھے اور میں تھا۔میں نے بڑے بڑے اولیا اللہ کے مزارات پر حاضری دی لیکن جس راحت، اطمینان اور سکون کا احساس مجھ اپنے پیرو مرشد کےقدموں میں ہوا اسے خیال کی زنجیروں میں قید کرنا، بیان کے اصولوں میں میں پرونا اور الفاظ کا لباس دینا میرے لئے ناممکن ہے۔ فاتحہ پڑھ کر باہر آیا تو دیگر دوست بادشاہی مسجد کے چبوترے پر گروپ تصاویر لے رہے تھے، مجھے بھی کوئی کافی دیر سے آوازیں دے رہا تھا، دھیان بٹا تو احساس ہوا، اقبال کو خدا حافظ کہہ کر شاہجہاں کی بادشاہی مسجد کی طرف چل نکلا۔ بادشاہی مسجد کا چبوترا بھی عجیب ہے، آدھے لاہور کو اپنے ارد گرد سمیٹا ہوا ہے۔ شاہی قلعہ، گردوارہ ، شاہی محلہ ،مینار پاکستان گویا حد نگاہ بڑھاتے جائیں اور تاریخ کا سفر کرتے جائیں۔ میں اسی خواب و خیال کی آوری میں کہیں دورکھویا ہوا تھا کہ برادر محسن عباس واپس لے آئے، کیمرا تیار تھا اور سوالات کی بوچھاڑ تھی۔ مختصر سے انٹرویو کے بعد ہم چوبترے سے اترتے گئے۔ شام گہری ہورہی تھی، سائے ساتھ ساتھ چلنا شروع ہوچکے تھے اور سورج اپنی آخری کرنیں لےکر کہیں دور ڈوب رہا تھا ۔ شاہی قلعہ، شاہی محلہ اور ارد گرد کے کچھ تاریخی، ثقافتی اور ادبی نوعیت کی جگہوں پر گھومتے گھومتے رات ہوگئی۔

لاہور میں دو روزہ قیام کے دوران ذیادہ تر وقت بین القوامی اردو بلاگر کانفرنس میں گزر گیا، اس لئے بہت سی اہم جگہیں جیسے داتا کا مزار، گوال منڈی، انارکلی بازار، باغ جناح کے ساتھ واقعہ مسجد دارلسلام اور قرآن اکیڈیمی دیکھنے کا خواب پورا نہ ہوسکا البتہ دن بھر کانفرنس کی مصروفیت کے باوجود جتنا کچھ دیکھ لیا وہ بھی کچھ کم نہیں۔ کانفرنس کا احوال تو برادر بلال محمود اپنی پوسٹ میں لکھ چکے ہیں ہم تو صرف یہ کہیں گے بلعموم کانفرنس ایک کامیاب تجربہ تھا اور اس طرح کے میل میلاپ کا سلسلہ مستقبل میں جاری رہنا چاہئے۔ اچھی بات یہ ہے کہ لاہور کے باہر سے آنے والے بلاگر ز کی کافی مہمان نوازی ہوئی، بہت سے بلاگر مل بیٹھے اور اپنے خیالات بالمشافہ شئیر کئے، میڈیا پر خبریں بھی لگیں اور سوشل نیٹ ورک پر کسی حد تک واہ واہ بھی ہوئی، یہ سب کچھ اردو بلاگنگ کے فروغ کے لئے نہایت احسن ہے۔مزید یہ کہ نبیل، بلال ، خاور کھوکھر اور عمار ابن ضیاء کو اردو بلاگنگ کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے پر تعریفی سرٹیفکیٹ دینا بھی خوش آئند ہے۔ البتہ منتظمین کے اعراض و مقاصد سے متعلق کئی سوالات ایسے ضرور ہیں جنکے جوابات ابھی تک معمہ ہیں اور اردو بلاگرز کو اس پر مل بیٹھ کر سوچنا ضرور چاہئے۔

میں کراچی پہنچ چکا ہوں لیکن میرا دل ابھی لاہور ہی میں ہے، لاہور اور لاہور ہی نہیں پورے پنجاب کے لوگ بڑے مہمان نوا ز ہیں، جس طرح انہوں نے کراچی والو ں کی عزت افزائی کی اس سے دل بہت شاد ہوا۔ لاہور اور پنجاب کے بلاگران سے وعدہ ہے کہ اگر زندگی نے وفا کی تو انشاء بہت جلد ناصرف لاہور بلکہ گجرات ، سیالکوٹ اور کشمیر کی کشش میں کھینچا آپ کے پاس حاضر ہوں گا کیونکہ اس دفعہ تو بلال محمود کا برجستہ اور کھرے انداز، شاکر عزیز کےکاٹ دار طنزیہ فقرے، محمد سعد کا پراسسنگ کرتا دماغ، ذوہیر چوہان کی خاموش طبعیت ، خرم ابن شبیر کی معصوم مسکراہٹ، نجیب عالم بھائی کا خالص لاہوری انداز اور ریاض شاہد صاحب کی پروقار شخصیت کے حسار نے کانفرنس میں ایسے الجھائے رکھا کہ لاہور گردی کا موقع ہی نہ ملا مگر پھر بھی جو کچھ دیکھا ابھی تک اسکے سحر نکل نہیں سکا، جیسے کہ اقبال کا مزار۔

فیس بک تبصرے

41 تبصرے برائے: داتا کی نگری کا سفر

  1. مجھے لاہور میں صرف ایک مقام پر پہنچ کر انوکھا احساس ہوا تھا اور میں آج تک جب بھی اُسے سوچتا ہوں تو جیسے رونگٹے سے کھڑے ہوجاتے ہیں؛ اور وہ مقام ہے شاہی قلعہ۔ وہاں کا الگ ہی ڈھب ہے، الگ ہی کیفیت ہے، الگ ہی احساس ہے۔ بس جی کرتا ہے کہ بے خود ہوجاؤ، نگاہوں میں وہی مناظر پھر جائیں کہ دربار لگا ہے، شور بپا ہے، درباری آ جا رہے ہیں، باغات لہلہا رہے ہیں۔ میرا وہاں سے واپس آنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا۔

    • ہم م م م واقعی دل ہمارا بھی ایک لحظہ اس تصور کیلئے للچایا، لیکن اسکے بعد کے احساسات بہت تکلیف دہ تھے۔ائے کاش

        • دراصل تکلیف اس لئے ہوتی ہے کہ جب حقیقت کی طرف دیکھتے ہیں تو نا وہ دربار کا رونق دونق رہتا ہے اور نا ہی مسلمانوں کا وہ شاہی رعب وغیرہ اور نا ہی وہ سکون جو کہ ایک اسلامی حکومت کے ہوتے ہوئے مسلمان محسوس کرتے تھے۔ہا کہی وہ شاہی قلعہ کی چہل پہل ہوتی ہے۔بلکہ اسکی جگہ وہرانی ہی ویرانی۔

          کسی جگہ کی آبادی کا تصور دل میں بنا ہو اور پھر اچانک نظر پڑے تو وہاں ویرانی ہی ویرانی ہو ،اف

          پھر زوال کے اسباب پر نظر پڑتی ہے تو وہی اسباب آج دوبارہ نظر اتے ہیں ،بس دل ایک دم پھٹنے لگتا ہے ،دم گھٹنے لگتا ہے ،اور انتہائی تکلیف دہ امر بن جاتا ہے۔

    • شاہی قلعے کو اندر سے دیکھنے کا بڑا اشتیاق تھا لیکن چونکہ اس دفعہ خاص طور پر کانفرنس کے لئے گیا تھا اس لئےوقت کی شدید قلت تھی اور یقینا اسی وجہ سے یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ جب لاہور گردی کے لئے جاوں گا تو شاہی قلعے دوبارہ جاوں گا، شاید پھر ان احساسات کو محسوس کرسکوں جو آپ نے محسوس کئے تھے۔

  2. واہ کیا کمال لکھتے ہیں جناب بہت ہی خوب
    بارہا دیکھی جانے والی ان جگہوں کو آپ کی تحریر پڑھ کہ ایک بار پھر سے دیکھنے کا خیال امڈ آیا ہے۔

    زبردست

  3. پردیسی says:

    تحریر بھی خوب اور انداز تحریر بھی خوب
    لاہور کی پسندیدگی اور عزت افزائی کا بے حد شکریہ

  4. اچھا نقشہ کھینچا۔
    لیکن بھائی
    آپ کو اردو بلاگرز کانفرنس میں بھیجا تھا۔
    سیر سپاٹے اور مفتے کے سری پائے کھانے کیلئے نہیں۔
    اردو کی ترویج و ترقی کی کانفرنس تھی ستر سے سو نا معلوم بلاگرز نے شرکت کی۔
    کوئی اعلامیہ شلامیہ طے ہوا ہو گا وہ تو لکھو۔
    کچھ محسوسات تو لکھو۔
    اصل بات گول کیوں کردی؟

  5. اچھی تحریر ہے خاص کر اقبال کے مزار پر حاضری والی کیفیت خوب بتائی میں اس ہی خوف سے اقبال کے مزار کے اندر نہیں گیا کہ پہلی بار مجھ پر بھی اس سے ملتی جلتی کیفیت ہو گئی تھی اور اب میں حاضری سے ڈرتا ہوں۔
    یہ ہی حال داتا کے دربار پر ہوتا ہے اپنا!!!

  6. دوست says:

    میں تاں فاتحہ پڑھ کے بھاگ آیا.

  7. وسیم رانا says:

    واہ کیا زبردست نقشہ کھینچا ہے۔ہلا کر رکھ دیا۔

  8. میرے خیال میں تنقید کی بجائے اردو بلاگران خود اس سے اچھا ایونٹ کر کے دکھائیں تو زیادہ مناسب ہو گا

    • ریاض بھائی ہم نے کہاں کوئی تنقید کی ہے، ہم تو کانفرنس کو کامیاب بنانے والوں میں سے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اردو بلاگنگ کی ترویج و ترقی کے لئے اس قسم کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جانا جائے۔ البتہ متنظمین کے اعراض و مقاصد دیگر شرکاء اور بلاگرز کی طرح ہمیں بھی سمجھ نہیں آئے۔

  9. میرے خیال میں اردو بلاگران کا فرض ہے کہ خود سے ایک بہت اچھا ایونٹ منعقد کریں ۔

    • ریاض بھائی، بہت اچھی تو نہیں البتہ کوئی معقول قسم کی بیٹھک ضرور ہوسکتی ہے۔ میرے خیال سے اسکے لئے کراچی اور بیرون ملک مقیم بلاگرز کو آگے آنا ہوگا۔

  10. لاہور اور کانفرنس کے بارے جتنے احباب نے جو کچھ بھی لکھا ہے… بہت بہتر لکھا… لیکن مجھے اس حوالے سے آپ کی تحریر کا انتظار تھا… اور آپ نے مایوس نہیں کیا… الفاظ کا خوبصورت استعمال واقعی کوئی آپ سے سیکھے…
    آپ نےلاہور گردی کے بارے میں تو تفصیل سے لکھ ہی دیا… لیکن کانفرنس کے متعلق آپ بھی دوسرے احباب کی طرح بات گول کر گئے… کانفرنس کے اغراض و مقاصد جو ان کی ویب سائٹ پر لکھے گئے تھے… ان کا کیا بنا…؟ بلاگرز ڈائریکٹری…!!! بہترین تحاریر کا مجموعہ وغیرہ وغیرہ… ان کے بارے میں کوئی کچھ بھی نہیں لکھ رہا…؟ اس کانفرنس سے اردو بلاگنگ کو کیا فائدے ہوں گے… اردو بلاگز کی ریڈرشپ وسیع کرنے کے لیے کیا اقدام کیے جانے چاہیے… مزید یہ کہ اس بات کی امید کیا اور کتنی ہے کہ اردو بلاگرز بھی لفافے نہیں قبولیں گے…؟

    • کانفرنس کے اعراض و مقاصد میری سمجھ میں نہیں آئے اس لئے اس پر کیا اظہار خیال کروں؟ جہاں تک بلاگرز دائریکٹری، بلاگ مجموعہ وغیرہ کا تعلق ہے تو ایسا کچھ میری نظروں سے نہیں گزرا۔

      اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس کانفرنس سے اردو بلاگنگ کو کیا فائدے ہونگے، میرے خیال سے یہ فیصلہ وقت کرے گا۔ ایک فوری فائدہ یہ ہوا کہ اردو بلاگنگ کی خبر بن گئی اور کچھ لوگوں کے نام سامنے آگئے ہیں۔ اب یہ اردو بلاگرز پر منحصر کرتا ہے کہ وہ اس موقع سے کس حد فائدہ اٹھاتے ہیں۔

      میرے خیال سے اردو والوں کو ریڈر شپ کی فکر نہیں کرنی چاہئے، ہماری ٹارگٹ آڈینس بہت بڑی ہے اس لئے ہماری ریڈر شپ خودبخود بڑھتی جائے گی۔

      ہمارا پورا معاشرا کرپشن سے آلودہ ہے اس لئے یہ خیال کرنا کہ بلاگرز اس سے محفوظ رہیں گے خام خیالی ہے۔ جیسے جیسے بلاگرز کی اہمیت بڑھے گی، لفافے والے بلاگرز بھی پیدا ہوتے جائیں گے۔ البتہ زندا صرف وہی رہے گا جو آزاد ہو کر لکھے گا کیونکہ بلاگنگ ایسا آزاد میدان ہے جہاں ہر شخص کسی اجازت کے بغیر اپنی قوت آزمائی کرسکتا ہے۔

  11. بہت خوب کاشف بھیا۔ بہت خوبصورت تحریر، پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ میں نے بھی آپکی طرح نہایت ہی کم وقت میں کچھ اہم مقامات کی سیر کی، آپکی تحریر پڑھ کر وہ اپنا سفر یاد آگیا۔ اور یقین جانئیے سارا لاہور ایک جانب لیکن جو احساسات علامہ کے قدموں میں ہوئے وہ کہیں اور نئے ہوئے۔

    کامیاب اور خوشگوار کانفرنس پر تمام بلاگران خصوصاً جن حضرات نے شرکت کی کو دِلی مبارکباد۔ اللہ بلاگستان کو مزید ترقی اور تمام اُردو بلاگران کو مزید اتحاد کےساتھ محنت کرنے کی توفیق دے۔

  12. حجاب says:

    اچھا انداز ہے لکھنے کا ……

  13. ماشاءاللہ ۔ آپ نے عمدہ انداز میں منظر کشی کی ہے۔
    اقبال رحمۃ علیہ سے اسی طرح کی ملتی جلتی عقیدت مجھے بھی ہے۔ میرے والد مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کو بھی تھی۔
    مجھے جب بھی لاہور جانا ہوا۔ پہلی فرصت میں اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پہ حاضری دی۔ وہاں رعب و داب کا اتنا اثر دل پہ ہوتا ہے ۔ جیسے اقبال رحمتہ اللہ ابھی اٹھیں گے اور قوم کے بارے کچھ پوچھ بیٹھیں گے۔
    نام فقیر تہیں دا باہُو قبر جنہاں دی جِیوے ہُو
    دل انکے احترام سے اسقدر معمور ہوتا ہے کہ سوائے فاتحہ پڑھنے اور احتراما چند ثانیے سے زیادہ کھڑا نہیں رہا جاسکتا۔ جب بھی لاہور جانے کا اتفاق ہوا پہلی فرصت میں مزار پہ گیا ہوں۔یوں بھی ہوا دور دراز کا سفر کر کے لاہور پہنچنے پہ مزار پہ فاتحہ پڑھی اور پھر اپنے آبائی علاقے کو روانہ ہوا۔عجیب اتفاق ہے زیادہ تر شام اور رات کو مزار اقبال رحمتہ اللہ علیہ پہ جانا نصیب ہوا۔

  14. مہتاب says:

    کاشف بھائی ماشا اللہ بہت ہی خوب تحریر ہے. مزار اقبال پے حاضری کی کیفیت کا بیان لاجواب ہے.

  15. نورپامیری says:

    کسی وجہ سے کافی سالوں بعد شہر میں وارد ہونے کے باوجود دوران کانفرنس لاہور کی سیر نہیں کر سکاتھا، ایک تشنگی سی باقی تھی جو آپ کا بلاگ پوسٹ پڑھ کر جاتا رہا۔

    • نور صاحب، آپ گلگت والے بڑے پیارے لوگ ہیں ملکر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ ادھر جامعہ کراچی میں میرے بہت سے دوست گلگت اور بلتستان سے تعلق رکھتے تھے، ان میں سے کئی گلگت واپس جاچکے ہیں اور اکثر ہمیں گلگت گردی کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ بہرحال تحریر پڑھنے اور تعریف کرنے کا شکریہ

      • کاشف بھائی، یہ جان کر خوشی ہوئی کہ گلگت والے آپ کواچھے لگتے ہیں۔

        میں نے زندگی کے پانچ قیمتی سال کراچی میں گزارے ہیں اور اس دوران جامعہ کراچی آنا جانا لگا رہتا ہے، کبھی کسی دھرنے میں شرکت کےلئے تو کبھی کسی تقریب میں۔ چار سال ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھا اور پھر تقریبا دس مہینے تک ایک ادارے میں ملازمت بھی کی۔ اسلئے، کراچی تو مجھے دوسرا گھر لگتاہے۔

        آپ جب بھی گلگت بلتستان آنا چاہے مجھے ضرور بتا دیجئے۔ وادی ہنزہ میں پاک چین سرحد کے قریب قریب میرا گاوں ہے، انشااللہ آپ کی خدمت کرنے کی بھر پور کوشش کریں گے۔

        • نور صاحب، نیکی اور پوچھ پوچھ، انشاءاللہ جب کبھی اللہ نے سفر کی ہمت دی، خوبصورت لوگوں کی خوبصورت سرزمین گلگت بلتستان کی سیر کو آوں گا اور ہنزا آکر آپ کو بھی تکلیف دوں گا۔

  16. بہت اچھی تحریر ہے پڑھ کر اچھا لگا۔ آپ کی تحریر پڑھ کر میرا دل کر رہا ہے کہ لاہور کی سستی چیزوں کا ذکر بھی کیا جائے

  17. شائد آج پہلی بار آپ کی باقائدہ کوئی تحریر پڑھی ہے اس سستی اور کاہلی کا زمہ ہم اپنے غم روزگار کو دے سکتے ہیں. خیر پڑھ کر احساس ہوا کہ اب تک کیا مس کرتا رہا. میرا اپنا تعلق لاہور سے ہے شائد یہ ایک وجہ تھی کہ اس تحریر کو اس فہرست میں ڈالے رکھا جس میں “پہلی فرصت کی فرصت” شامل کیا کرتا ہوں. پڑھنے کے بعد لاہور بارے ایک تازگی کا احساس ہوا لاہور کے “سسٹر سٹی” میں رہتے ہوئے بھی وہ احساس نا مل سکا جو بزاتِ خود لاہور میں ہے.
    شاندار تحریر تھی جس نے مجھ پر واجب قرار دے دیا ہے ائندہ بھی یہاں حاضری دینے کا.

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>