صفحہ اوّل » تاریخ، سیاست اور پاکستان, فیچرڈ لسٹ

یہ دیوبند اور ہے، وہ دیوبند اور تھا

مصنف: وقت: بدھ، 5 نومبر 20141 تبصرہ

wagah borderہوسکتا تها کہ ہم میں سے بهی کوئی اس شام سیاحت کی غرض سے واہگہ بارڈ پر ہوتا، بے آبرو ہوکر مارا جاتا اور جسم کے لوتھڑے گرد و پیش میں بکهر جاتے۔ اگر جسم کا کوئی عضؤ شناخت کے قابل رہتا تو اسے گهر والے رو پیٹ کر منوں مٹی تلے دبا آتے۔ احسان اللہ احسان کہتے ہیں کہ حملے انکی تنظیم نے کروائے ہیں اور اس تنظیم کا نام سنتے ہی سوشل میڈیا پر سرگرم نام نہاد جہادیوں نے تاویلات گهڑنا شروع کردی ہیں۔ ان میں سے کئی کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، دین کا علم نہ ہونے کے برابر اور عمل صفر بٹا صفر لیکن  شریعت اور جہاد کی باتیں ایسے کرتے ہیں جیسے شیخ السلام ہوں۔ انکا اسلام اسلام نہیں، انکا جہاد جہاد نہیں اور انکی دیوبندیت دیوبندیت نہیں۔ یہ صرف قاتل ہیں، سفاک قاتل۔ اللہ، اللہ، اتنے سفاک تو داعش والے بهی نہیں جنہیں شیخ حامد العلی، شیخ مقدسی اور شیخ ابوقتادہ  بهی خارجی قرار دیتے ہیں۔

deobandاگر خارجیت یا اس سے بھی بڑا کوئی فتوا لگ سکتا ہے تو وہ احسان اللہ احسان اور انکی تنظیم پر بھی ضرور لگنا چاہئے اور یہی وقت ہے کہ علماء کھل کر اس تنظیم کے خلاف فتوے دیکر اور انہیں کسی طرح دیوبندیت کا چہرا استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔۔ پچھلے چند مہینوں میں دیوبند مکتب فکر کے اکابر اور جید علمائے کرام سے ملاقاتوں کے نتیجے میں مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں موجود کسی بھی دوسرے مذہبی مکتب فکر کے مقابلے میں علمائے دیوبند کی آراء اور طرزعمل سب سے زیادہ معتدل اور ترقی پسند ہے لیکن بدقسمتی سے انکی سوچ، نظریہ اور طرز عمل نیچے کی سطح پر ٹھیک انداز میں نہیں پہنچ رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قریبا سال پہلے مولانا فضل الرحمان صاحب نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تها کہ یہ عجیب بات ہے کہ اوپر کی سطح پر مولانا سلیم اللہ خان، حفیظ جالندهری، مفتی رفیع عثمانی، مفتی تقی عثمانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر و دیگر کچه اور بات کررہے ہوتے ہیں اور نیچے طلبہ اور عوام کے درمیان کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح چند روز قبل ہمارے ایک دیرینہ دوست سے نجی ملاقات میں شیخ الحدیث مولانا فضل محمد کے صاحبزادے نے برجستہ کہا کہ اگر مفتی نظام الدین شامزئی صاحب پاکستانی طالبان کی حرکتیں دیکھ لیتے تو ان سے متعلق اپنا فتوا بدل لیتے۔ بنوری ٹاون کے دارلفتاء کے نگران مولانا سلمان صاحب نے جامعہ کی ویب سائٹ میں آن لائن فتواوے کا سلسلہ شروع کیا ہے، کچه روز قبل انہوں نے بھی عجیب بات کہی کہ اکابرین دین پاکستان میں قتال فی سبیل اللہ کے قائل نہیں، اکابرین سے ہٹ کر جہاد اور قتال فی سبیل اللہ ہی اصول کی بنیاد پر غلط ہے چہ جائے کہ خود کش حملے اور فساد فی الرض کو درست قرار دیا جائے۔ جلوت اور خلوت میں اکابرین دین پاکستان میں قتال اور قتال فی سبیل اللہ کے نام پر کھلی دہشتگردی پر شاکی و پریشان نظر آتے ہیں لیکن دوسری طرف کچھ نام نہاد جہادی جنکی اپنی زندگیاں شریعت کے برعکس چل رہی ہوتی ہیں دیوبندیت کا لبادہ اوڑھ  کر سوشل میڈیا پر دہشتگردی کی مضموم کاروائیوں پر تاویلات تلاش کرتے پهرتے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال اوریا مقبول جان ایسی ہے جو پورا مہینہ مفتی اعظم بن کر جس نظام کے خلاف فتوے دیتے ہیں، نیا مہینہ شروع ہوتے ہی اسی نظام سے تنخواہ وصول کرنے قطار میں لگ جاتے ہیں۔ بنوری ٹاون سے فارغ ایک معروف عالم سے موصوف گهنٹوں اختلاف کرتے رہے یہاں تک کہ جمہوریت کو کفر قرار دینے سے دستبردار نہ ہوئے مگر جاتے جاتے مولانا کو اپنے بیٹے سے ملوایا اور عرض کی مولانا اسکے سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے لئے دعا کریں، مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا، ضرور یہی تو میری کامیابی ہے.

ahsanullah ahsanاحسان اللہ احسان کی تنظیم اور انکے لئے تاویلات گهڑنے والے جہلا اپنی جہالت سے ناصرف شریعت، جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کی پیٹھ میں چهرا گهونپ رہے ہیں بلکہ دیوبند مکتب فکر کو جسکی شناخت اعتدال پسندی رہی ہے، اسے بهی بدنام کرنے میں کوئی کثر روا نہیں رکھ رہے ہیں۔ دیوبند کی شناخت تو شیخ الہند محمود الحسن ہیں، اشرف علی تهانوی ہیں، حسین احمد مدنی ہیں، علی میاں ہیں، انور شاہ کاشمیری ہیں، عطااللہ شاہ بخاری ہیں، شبیر احمد عثمانی ہیں، شفیع عثمانی ہیں اور مفتی محمود ہیں۔ وہ جن کی فکری اور علمی مرتبے کی پزیرائی مسلمہ ہے، وہ جو ہندوں کے ساتھ مشترکہ قومیت کی بات کرتے ہیں، وہ جو جمہوریت پر یقین رکهتے ہیں، وہ جو تکفیر کے معاملے میں سب سے زیادہ معتدل ہیں، وہ جو واقعہ کربلا پر مظلومین کا دم بھرتے ہیں اور وہ جو سب کو جوڑ کر رکهنے والے ہیں۔ شیخ الہند نے ابوالکلام آزاد کو امام الہند کے لئے تجویز کیا، آج کے دو ٹکے کے یہ فسادی اس وقت ہوتے تو شاید شیخ الہند پر خودکش حملے کررہے ہوتے. شیخ الہند محمود حسن اور حکیم الامت اشرف علی تهانوی نے ندوا التعلماء جیسا ادارہ قائم کیا جسکا مقصد ناصرف علی گڑه اور دالعلوم میں فاصلہ کم کرنا تها بلکہ تمام مکاتب فکر کو جوڑنا بهی تها، یوں اس منصوبے میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ علماء سب کو شامل کیا گیا اور اسکے نصاب اور قوائد کی تیاری کا کام مولانا شبلی نعمانی کو دیا گیا، آج کے یہ فسادی اس دور میں ہوتے تو شبلی نعمانی اور حکیم الامت پر خودکش حملے کررہے ہوتے، مجلس احرار کے سربراہ عطااللہ شاہ بخاری کی مجلس میں شیعہ علماء بھی کثرت سے آیا جایا کرتے تهے اور یقینی طور پر اس بنیاد پر وہ بهی خود کش حملے کے مستحق ہوتے، حسین احمد مدنی جمہوریت اور ہندوں کے ساته تعاون کے بہت بڑے حامی اور وطن پرست تهے، یوں انہوں بهی خودکش حملے کا نشانہ بنایا جاتا۔

45احسان اللہ احسان کی تنظیم، جنداللہ اور لشکر جھنگوی مسلکی اعتبار سے دیوبندی ہوسکتے ہیں لیکن انکا تعلق دیوبند کی فکر، طرز عمل اور طرز استدلال سے ہرگز نہیں ہے۔ کل بهی دیوبند سب سے معتدل مکتبہ ہائے فکر تها اور آج بهی ہے، کل بهی ہر دینی و ملی محاز پر دیوبند سب سے آگے تها اور آج بهی ہے، کل بهی اکابرین دیوبند کی فکر، علم اور دانش کی دهوم تهی اور آج بهی ہے، کل بهی دیوبند کے پلیٹ فارم پر تمام مکاتب فکر جمع ہوتے اور آج بهی ہوتے ہیں۔ دیوبند نے ہمیشہ جمہوریت، اعتدال پسندی، وطن پرستی اور جہد عمل کو فروغ دیا، دیوبند کی صفوں میں چھپنے والے ان فسادیوں اور انکے فساد پر تاویلات گھڑنے، جمہوریت اور وطن پرستی کو کفر بنانے اور اعتدال پسندی پر طعنہ مارنے والوں کا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور رشید احمد گنگوہی کے چمن علم و فکر سے کوئی تعلق نہیں ہے، قصہ مختصر واہگہ بارڈر حملہ دیوبندیت کی زد ہے. نام نہاد دیوبندی احسان اللہ احسان کہتے ہیں کہ حملے ان کی تنظیم نے کروائے ہیں اور اس تنظیم کا نام سنتے ہی سوشل میڈیا پر سرگرم فیس بکی جہادیوں نے تاویلات گهڑنا شروع کردی ہیں۔  اللہ، اللہ اتنے سفاک تو داعش والے بهی نہیں جنہیں جنہیں شیخ جولانی، شیخ مقدسی اور شیخ ابوقتادہ  بهی خارجی قرار دیتے ہیں۔

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ برائے: یہ دیوبند اور ہے، وہ دیوبند اور تھا

  1. حمزہ says:

    ایک معتدل تحریر۔ ۔ ۔ ایک چیزاور شامل کرنا چاہوں گا کہ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو طالبان کی مخالفت میں ساری حدیں پار کر جاتے ہیں اور خود کو سیکولر کہتے ہوئے بھی کسی ایک فرقے پر الزمات کی برسات کر کے فرقہ واریت کا بیج بونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے سیکولر جہادیوں کے بارے میں بھی لکھیے۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>