صفحہ اوّل » دینیات کی کتاب سے

غامدی صاحب اور تجدد پسندی

مصنف: وقت: جمعرات، 2 ستمبر 201047 تبصرے

حال ہی میں خوارج ،معتزلہ، باطنیہ، بہائیہ، بابیہ، قادیانیت اورپرویزیت کی طرح ایک نئے فتنے نے سر اٹھایا ہے جو اگرچہ تجدد پسندی کی کوکھ سے بر آمد ہوا ہے مگر اس نے اسلام کے متوازی ایک نئے مذہب کی شکل اختیار کر لی ہے، اس فتنے کا نام ہے ’’غامدیت!‘‘ہے۔

اگر ہم تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو عباسی دور حکومت میں جب یونانی فلسفہ عربی زبان میں منتقل ہوا تو اس کے ردِعمل میں مسلمان دو گروہوں میں منقسم ہوگئے۔ ایک عظیم اکثریت نے تو اسے قرآن و سنت کی روشنی میں یکسر مسترد کرکے اسکے تار پود بکھیر دیے، جبکہ دوسرے گروہ نے مرعوب ہوکراس کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے۔ پہلا گروہ اہل سنت کے نام سے موسوم ہوا، اور دوسرے نے معتزلہ(راہ حق سے منحرف گروہ) کے نام سے شہرت پائی۔ معتزلہ نے عقل کو اصل قرار دے کر شریعت کو اس کے تابع کردیا، پھر کیونکہ یونانی فلسفہ کے اعتقاد اسلامی عقائد و افکار سے بہت مختلف تھے اور ان کو فروغ دینے کیلئے ایک بہت بڑی رکاوٹ خود آپ ﷺ کی سنت تھی جو قرآن کی حتمی تعبیر کی شکل میں مسلمانوں میں رائج تھیں، چنانچہ انہوں نے انکار سنت کی راہ بھی اپنائی ۔ نتیجے کے طور پر یونانی فلسفے کی روشنی میں جدید اصولوں کی بنیاد پر معتزلہ کا ایک نیا اسلام وجود میں آیاجس کا کوئی تصور صحابہ اور سلف صالحین کے دور میں موجود نہیں تھا۔ خلافت عباسیہ میں حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس فکر کو کچھ عرصے پھلنے پھولنے کا بھی موقعہ ملا، لیکن آئمہ اہل سنت کی بے مثال قربانیوں، انتھک جدوجہداور سخت مخالفت کی بنا پر یہ فرقہ عوام الناس میں مقبولیت حاصل نہ کر سکا اوراعتزالی فکرکا دور اولین اپنے انجام کو پہنچا اورایک تاریخی واقعے کی حیثیت سے کتابوں کے صفحات تک محدود ہو کر رہ گیا۔

انیسوی صدی ہجری میں جب یورپ میں سائنس نے پاپا ئیت سے ایک طویل تصادم کے بعد علمی تفوق پایا تو اس کے اثرات عالمگیر سطح پر مرتب ہوئے۔سائنس کو انکار مذہب کے مترادف سمجھا جانے لگا اور الحاد و لادینیت کا دور دوراں ہوا۔ پہلے کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کی طرف سے دو طرح کا طرز عمل سامنے آیا۔ ایک طرف راسخ اور پختہ فکر علماء تھے جنہوں نے واضح کیا کہ مذہب کی بنیاد وحی ہے، اور دنیا کی کوئی بھی مسلمہ حقیقت مذہب کے خلاف نہیں ہوسکتی، اور مغرب میں اصل معرکہ مذہب و سائنس کے بجائے عیسائی پادریوں کے ذاتی نظریات اور سائنسی دریافتوں کے مابین ہے۔ ان حضرات میں مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ، مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اور سید مودودی کے اسمائے گرامی نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ اس کے بالمقابل دوسرے گروہ نے ایک اور راہ اپنائی وہ یہ کہ انہوں نے اپنی مرعوبانہ ذہنیت کی بنیاد پر مغربی نظریات کو مسلمہ حقائق کا درجہ دے کر وحی کو ان کے مطابق ڈھالنے کے لئے تاویلات شروع کردیں۔ یہ فکر اعتزال کا دور ثانی تھا جس کی سرخیل سرزمین ہند میں سر سید احمد خان نے ڈالی۔ مغربی افکار کی رو سے ہر وہ بات جو طبعی قوانین کے خلاف ہو اسے خلاف عقل قرار دے کر رد کردیا جاتا تھا، چنانچہ سرسیدنے قدرت (نیچریت) کی برتری کا نعرہ لگایا۔ لغت عرب کی مدد سے قرآن کی من گھڑت تاویلات پیش کیں۔ احادیث کو مشکوک قرار دیا اور امت کے اجتماعی معاملات طرز عمل کو آئمہ و مجتہدین کے ذاتی خیالات و اجتہادات کہہ کر نظر انداز کردیا۔ نتیجے کہ طور پر نیچرو لغت کی بنیاد پر وضع کردہ اصولوں کے تحت اسلام کی جوتعبیرو تشکیل نو مسلمانوں کے سامنے آئی وہ ان کے صدیوں کے اجتماعی تعامل سے یکسر بیگانہ تھی۔ سرسید کی اس اعتزالی فکر کی دوسری کڑی جناب غلام احمد پرویز ہیں جو اپنے امام سرسید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لغت پرستی اور انکارسنت کے حوالے سے کافی معروف ہوئے۔

ایک بار پھر جب11اکتوبر 2001کو عالمی استعماری اتحاد نے اسلام کے خلاف نئی صلیبی جنگ کا آغاز کیا توعام مسلمانوں کے کسی ردعمل سے بچنے کیلئے یہ کہا گیا کہ یہ جنگ اسلام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ یہ پروپیگنڈہ اس بڑے پیمانے پر پھیلا یا گیا کہ یہودیوں اورامریکہ سے نفرت کرنے والے عام مسلمان بھی اس پروپیگنڈہ میں Trap ہوگئے۔ دوسرے مرحلے میں یہ ضرورت پیش آئی کہ زرئع ابلاغ کی طاقت اور جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کی قوت سے راسخ العقید ہ اور پختہ مسلمانوں کو ’’انتہا پسند ‘‘Extremistاور ’’دہشت گرد ‘‘Terroristکا Titleدے کر ان کے خلاف بھر پور زہر اگلا جائے یہاں تک کہ یہ خود مسلمانوں میں تنہا ہوجائیں۔ باقی بچ جانے والے عام مسلمانوں کوکھلم کھلا کفر کی دعوت عام دینے کے بجائے انکے سامنے اسلام کا ایک ایسا نیا Version پیش کیا جائے، جس کا نام تو اسلامی ہومگر درحقیقت وہ جدت اور دنیا داری سے مامورصحیح اسلام سے متوازی علیحدہ دین ہواور اس کے ساتھ ہی زرئع ابلاغ کی بھر پور طاقت سے اس نئے مذہب کی خوبصورت اور جاذب نظر انداز میں تشہیر کی جائے۔ اس سلسلے میں امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ  “عوامی جمہوری اسلام – شراکت دار، ذرایعے اور تدابیر“ اور دوسری “نظریات کی جنگ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اہل مغرب کو اس کے لئے کوئی زیادہ محنت نہ کرنی پڑی کیونکہ مسلمانوں میں موجود بہت سے لوگ خود ہی آستین کا سانپ بن کر اسلام کے مقابلہ میں عالم کفر سے جاملے۔ بس ان لوگوں نے اپنے اس نئے اسلام کو معتدل اور روشن خیال اسلام (بیچ کا اسلام یعنی منافقت ) Moderate & Enlightened Islam کا نام دیا اوراس نئے اسلام سے ہر اس چیز کو نکال باہرکیا جس پر کسی بھی پہلو سے اہل مغرب معترض تھے۔

فہم سلف سے منحرف ،متجدد فکر ، روشن خیال اور مرعوب زدہ طبقے میں ’’المورد‘‘ادارہ علم و تحقیق سب سے پیش ہے۔جس کے سربراہ اول ازکر جناب جاوید احمد غامدی ہیں۔ انہوں نے اس احتیاط کے پیش نظر کہ کہیں علماء انہیں بھی سرسید اور پرویز کے ساتھ منسوب نہ کر دیں، لغتِ قرآن کے بجائے عربی معلی یعنی عربی محاورے کا نعرہ لگایااور انکار سنت کا کھلم کھلا دعوی کرنے کے بجائے حدیث و سنت میں فرق کے عنوان سے اس مقصد کو پورا کیا۔ وہ اپنی نسبت مولانا امین حسین اصلاحی اور ان کے استاد حمید الدین فراہی کے واسطے سے مولانا شبلی نعمانی ؒ سے کرتے ہیں،(کیونکہ ان حضرات کے علمی تفردات کے باوجود اہل علم انکے بارے میں قدرے نرم ہیں جس کا سبب مذکورہ بالا اصحاب ثلاثہ کی وہ گرانقدر دینی و ملی خدمات ہیں جو انکی کمزوریوں اور تسامحات کے ازالے کے لئے کافی ہیں) لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ غامدی صاحب جس اسلام کو پیش کررہے ہیں وہ دبستان شبلی کا اسلام ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ وہ پرویز وسرسید کا اعتزالی اسلام ہے۔

عالمی سرمایہ دارانہ نظام، استعماری طاقتیں اوراسلام دشمن یہودی لابی کے عزائم کے سامنے دین اسلام ہی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔لہذا وہ ایسے تمام افراد کی بھر پور حمایت اور اعانت کرتے ہیں جومسلمانوں میں جدت کے نام سے غیر اسلامی افکار کا جواز نکالتے ہیں اور انکے اجماعی معاملات کو متنازعہ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے غامدی صاحب اور انکے معاصرین جیسے نام نہاد دانشور ڈاکڑ جاوید اقبال، ڈاکڑ مبارک علی اور مہدی حسن کو اہل مغرب کی خاص معاونت و حمایت حاصل ہے ۔ مغربی ممالک کے ٹکڑوں پر پلتے نام نہاد اسلامی و پاکستانی میڈیاکے دروازے ان حضرات پرکھلے ہیں ،تا کہ یہ دین سے ہی خلافِ دین حرکات کی جھوٹی تاویلات پیش کریں کہ عام مسلمان بے جانے بوجھے گمراہ ہو جائیں۔امریکی اخبار ات و جرائد کی خبروں سے معلوم ہوا کہ عالمی استعماری طاقتوں اور یہودی لابی نے ایک خصوصی کمیشن تشکیل دے کرکروڑوں ڈالرپرمشتمل ایک بہت بڑا فنڈ اس مد میں مختص کررکھا ہے۔یہ کمیشن دین اسلام کی غلط اور من گھڑت تصویر پیش کر نے والوں کی حوصلہ افزئی کرتاہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ اسی کمیشن نے متعدل اور انتہا پسند اسلام کے نام دو مختلف طبقہ ہائے اسلام کی تھیوری تیار کی تھی اور یہی پاکستان میں معتدل Moderate اسلام کے نام سے نیا اسلام متعارف کرانے والے جناب جاوید احمد غامدی ،ڈاکڑ جاوید اقبال، ڈاکڑ مبارک علی ,مہدی حسن اور شعیب منصورکی حوصلہ افزائی کرتاہے۔ کمیشن کا مقصد یہ بھی ہے کہ مندرجہ بالاحضرات کو بھرپورMidia Exposureدیا جائے ۔ چونکہ یہاں ہمارابنیادی موضوع جاوید احمد غامدی ہیں اس لئے اپنی توجہ موصوف کے عزائم اور ٹی وی چینلز کے ذریعے پھیلتی انکی شہرت پر مرکوز رکھتے ہوئے یہ بتاتے چلیں کہ تقریبا تمام ٹی وی چینلزپرمختلف ناموں سے موصوف کے پروگرام جاری ہیں، جیو ٹی وی کا پروگرام ’’غامدی‘‘آج ٹی وی کے پروگرام ’’اسلام‘‘ اور پی ٹی وی کے پروگرام ’’فہم دین‘‘کے علاوہ بھی دینی موضوعات پر تقریبا تمام ٹوک شوز میں بحیثیت مذہبی اسکالر مدعو ہوکر دین کا غلط تصور عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ موصوف جو پرویزی دور حکومت کی نوازیوں کے سبب ’’اسلامی نظریاتی کونسل ‘‘کے رکن بھی ہیں پی ٹی وی کے پروگرام میں نامحرم نوجوان عورتوں کے بیچ و بیچ بیٹھ کر تجدد زدہ اور معتدل اسلام کی بھٹرکیاں چھوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ 24گھنٹے میں کسی بھی وقت اپناٹی وی کھول کر ریموٹ گھمائیں آپ کومو صوف ضرورکسی نہ کسی چینل پر بیٹھے اسلام کی جڑ کاٹتے نظر آئیں گے۔جیسا کہ ہم پہلے عر ض کر چکے ہیں کہ اسلام کے متبادل غامدیت پھیلانے کی اس مہم پرلاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں، جو پاکستان کے باہر سے پاکستان کے دشمن نام نہاد میڈیا ،پاکستانی میڈیا(درحقیقت یہودی و طاغوتی میڈیا)کو ادا کر رہے ہیں۔

یوں تو غامدی صاحب اور انکے ساتھیوں کے گمراہ عقائدکی ایک لمبی فہرست ہے مگر ہم یہاں وقت اور جگہ کی تنگی کے باعث ان میں سے صرف چند کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لے کر موصوف کے عقائد و عزائم کی بابت رائے قائم کر نے کا اختیارآپ پر چھوڑتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ ہم سب کوفتنہ غامدی سے محفوظ رکھے گا اور اس فتنہ کوجڑ سے قلع قمع کرنے کیلئے اپنااپنا حصہ ڈالنے کی توفیق عطا کرے گا۔

متفقہ اسلامی عقائد کے برخلاف غامدی صاحب کی  خود تراشیاں

۱۔ عورت مردوں کی امامت کر سکتی ہے ،اور نکاح خواں بھی بن سکتی ہے۔۔۔

۲۔ بنو ہاشم (سید زادے اور سید زادیاں)کو زکوۃ دینا جائز ہے۔۔۔

۳۔ امریکہ افغانستان اور عراق پر حملے میں حق بجانب ہے۔۔۔

۴۔ قرآن کی صرف ایک ہی قرات درست ہیں اور باقی عجم کا فتنہ ہیں۔۔۔

۵۔ ہندو مشرک نہیں ہیں اورمسلمان لڑکی کی شادی ہندو لڑکے سے جائز ہے۔۔۔

۶۔ مسلمانوں کے تمام صوفیاء گمراہ تھے۔۔۔

۷۔ اسلام میں قتل کی جگہ صرف دو جرائم (قتل اور فساد ) پر دی جا سکتی ہے۔۔۔

۸۔ زکوۃ کا نصاب منصوص و مقرر نہیں۔۔۔

۹۔ مرتد کے لئے قتل کی سزا نہیں ہے۔۔۔

۱۰۔ دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا۔۔۔

۱۱۔ شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں۔۔۔

۱۲۔ یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں۔۔۔

۱۳ سنت قرآن سے مقدم ہے ۔۔۔

۱۴۔مسجد اقصی پر مسلمانوں کا نہیں یہودیوں کا حق ہے۔ ۔۔

۱۵۔نبی کریمﷺ کی رحلت کے بعدکسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتااورمرتد کے لئے قتل کی سزا نہیں ہے۔۔۔

۱۲۔ مشت زنی Self Ejaculacation of Spirmفطری عمل ہے اس لئے جائز ہے۔۔۔

۱۷۔ اسلام میں زنا پر کوئی حد رجم نہیں۔۔۔

۱۸۔ داڑھی رکھنا دین کی رو سے ضروری نہیں۔۔۔

۱۹۔عورت کیلئے دوپٹا اوٹھنا شرعی حکم نہیں۔۔۔

۶۰۔سور کی کھال کی تجارت جائز ہے۔۔۔

۶۱۔مجسمہ سازی جائز ہے۔۔۔

۶۶۔مرد عورت اکھٹے ہوکر نماز پڑھ سکتے ہیں۔۔۔

۶۶۔موسیقی انسانی فطرت کا جائز اظہار ہے۔۔۔

۶۳۔رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا۔۔۔

۶۴۔ چوری پر ہاتھ کانٹے کا حکم عارضی تھا ، اب ایسی سزائیں جائز نہیں۔

۶۔ حور کوئی علیحدہ مخلوق نہیں بلکہ ایک صفت ہے، جنت میں جنتی مردوں اور عورتوں کو یہ صفت حاصل ہوگی۔۵

(جاری ہے)

فیس بک تبصرے

47 تبصرے برائے: غامدی صاحب اور تجدد پسندی

  1. سیدھا رستہ صرف ایک ہی ہے جو اللہ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنی مخلوق تک پہنچا دیا تھا۔
    غامدیت جیسے لاتعداد گمراہی کے رستے وجود میں آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ لیکن جو کوئی بھی قرآن اور سنت کو مضبوطی اور یکسوئی سے تھامے رہے گا اس کو اللہ انشاء اللہ اپنے فضل سے ان فتنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا.

  2. عثمان says:

    :mrgreen:
    چاہوں تو ابھی اس پوسٹ اور اس میں جگہ جگہ موجود غلطیوں کی سرجری شروع کردوں۔ لیکن پھر ایک نہیں بلکہ درجنوں نہ ختم ہونے والی ابحاث شروع ہوجائیں گی۔ اور ہمارے لوگوں میں تو ویسے ہی تنقید و برداشت کا مادہ نہیں ہے۔ یہ بلاگستان کسی بھی معقول بحث کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اور مجھے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کی مذہبی سوچ تبدیل کرنے سے بھی کوئی سروکار نہیں۔ میرے لئے میرا دین ، آپ کے لئے آپ کا دین۔
    اس لئے بحث و تنقید کی بجائے صرف اور صرف۔۔
    “ماشااللہ!” ، “جزاک اللہ!”۔۔۔ :mrgreen:

  3. سعد says:

    اگلی تحریر کا انتظار رہے گا۔۔۔

  4. نعمان says:

    آپ کی تحریر میں تاریخ اور استدلال کی کئی خامیاں ہیں مگر میں ان کے ذکر سے گریز کرونگا۔ کیونکہ جیسا عثمان نے کہا کہ پھر بحث کہیں کی کہیں پہنچ جائیگی۔ اس لئے میری طرف سے بھی سبجان اللہ اور جزاک اللہ۔

    مجھے غامدی صاحب کے نظریات سے قطعا اتفاق نہیں میرے خیال میں ہر ایسی کوشش جو مذہب میں سائنس کی تادیلات گھڑنے کے لئے کی جائے وہ چیزوں کو محض مزید پیچیدہ کردیتی ہے۔

  5. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    عثمان صاحب اورنعمان صاحب، تحریرلکھنےکےبعدتبصرجات کامقصدیہی ہوتاہےکہ اگرآپ لوگوں کواس میں کوئی اختلاف ہوتواس پربحث کریں اوربحث برائےاصلاح ہوتوبہترہوتی ہےبحث برائےبحث نہ۔
    اللہ تعالی سےدعاہےکہ اس پرفتنہ دورسےہمیں ہرطرح کےفتنہ سےبچائے۔ اوردین اسلام کی صحیح تعلیمات پرعمل پیراکی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

  6. احمد انجینئر says:

    سنا ہے یہ صاحب کبھی جماعت اسلامی میں تھے. کیا یہ سچ ہے؟ کاشف صاحب پکےجماعتی ہیں اور جماعتی خاندان سے تعلق بھی رکھتے ہونگے ، کیا آپ یہ بات معلوم لرکے ایمانداری سے بتا سکتے ہیں؟ پھر مزید بات کرتے ہیں
    ویسے آپ نے سچ فرمایا کہ اسلام کی جڑ کاٹنے کیلیئے ہی یہ ساری بھاگ دوڑ ہے. مگر سوال یہ ہے کہ ایسے لوگ پہلا قدم کہاں رکھتے ہیں؟ کہاں انکا پہلا ڈیرا ہوتے ہے؟ زید حامد بھی سرگرم جماعتی تھا اور بھی بے شمار. جیسے ارشاد حقانی وغیرہ

    دوسرا آپ نے باطل مزاہب کا تزکرہ کیا ہے مگر ان سب کے باپ اور دادا مزہب کا نام نہیں لیا. ہم وجہ پوچھنے کیا جسارت کر سکتے ہیں؟ اگر وہ ان سب کے بات دادا باطل نہیں تو یہ اسکے مقبلے میں معمولی فتنے باطل کس اصول پر ہونگے؟

    جوابات کا انتطار رہے گا تاکہ بات آگے بڑھائی جاسکے

  7. اگلی تحریر کا انتظار رہے گا!!
    میں نے 2006 میں ایک لکھی تھی جس میں ایک ریسرچ کا زکر کیا تھا جو مغرب کی مسلمانوں میں سے ایک ایسے گروہوں کی تلاش کے سلسلے میں تھی۔ تحریر یہ ہے!
    http://pensive-man.blogspot.com/2006/11/blog-post_22.html

  8. تو گویا آپ نے جماعتی نظریات کی ترویج کا بیڑہ اٹھا لیا ہے. اسکے بعد تحریر میں غیر جانبداری کیسے رہ سکتی ہے. غلط تاریخ اور اس سے اخذ کردہ اپنی مرضی کے نتائج کے بعد اس سے وہی لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جنکو مزید انتظار ہے. میں بھی یہاں سے جزاک اللہ اورماشائاللہ جیسے ستائشی جملوں کے بعد اجازت چاہونگی. مگر یہ اضافہ کرنا چاہونگی کہ اہل سنت والجماعت کی اکثریت والے اس ملک سے غامدی صاحب کو اپنی رہائیش ہٹانی پڑی. یہ ملک آپ اور جماعت اسلامی جیسے تقلید پسندوں کے قبضے میں ہے. ایسے فاسقوں کو یہاں سے باہر رہنا چاہئیے. چونکہ میں نے غامدی صاھب کو کچگ ایسا خاص نہیں سنا بس آپ جیسے لوگوں کی اس طرھ کی باتیں سنی ہیں اس لئے نہیں معلوم کہ جو باتیں آپ نے ان سے اخذ کر کے بتائ ہیں وہ کس ھد تک درست ہیں اور اگر یہ سب کی سب درست ہوں تو بھی یہ انکا اپنا فہم دین ہے. دین پہ لسی کی اجارہ داری نہیں. اسکے لئے سورہ ئ بقرہ کی ابتدائ آیات کو سمجھ لینا کافی ہے جو در حقیقت قرآن کا آغازہے. اب اگر آئیندہ میں آپ لوگوں کے لئے مومنین جیسے الفاظ استعمال کروں تو اعتراض نہیں ہونا چاہئیے. کیونہ فاسقوں کے ملک بدر ہونے کے بعد تو مومن ہی اس ملک میں بچ گئے ہونگے.
    اس بات پہ ضرور غور کریں اگر کبھی مذہب کی ظاہری علامتوں پہ فکر اور بحث کرنے سے فرصت ملے کہ آخر وہ کیا وجوہات تھیں کہ جماعت اہلسنت والجماعت کو اسلام کے نزول کے دو ڈھائ سو سال بعد مذہب کو جامد کرنے کی اتنی اشد ضرورت محسوس ہوئ.
    یہاں وضاحت کے لئے. میں خاندانی طور پہ اہل سنت والجماعت ، فقہ حنفی سے تعلق رکھتی ہوں. مگر دماغ جامد نہیں کیا. خدا نے بقول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجھے آزاد پیدا کیا ، اور میرے دماغ کو بھی.

  9. فاروق says:

    اب تو مجھے یقین ہو گیا کہ آپ بھی سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانے کے اعلہ کی ماند ہیں۔
    کبھی آپ نے تحمت کا سنا ہے، ہوگا۔ يہ سارا کچھ ایک شخص کے بارے میں لکھ دینے سے پہلے کیا آپ نے سوچا، یہ اتنی ریسرچ کی ، کہ کہیں آپ اس کے مرتقب نہ ہو جائیں؟ ایک نافص اسلامی شرعئیت جو اس کی سزا مقرر کرتی ہے، اس کا بھی آپ کو علم ہوگا۔ بدقسمتی یہ خوشقسمتی ہے ابھی کوئی اسی چیز یہ قانون نافذ نہیں، اسلئے ہمیں اللہ ہی پوچھے ۔ ۔ ۔

  10. سلمان says:

    کاشف صاحب اس فرقہ کے بارے میں کوئ لنک ھے تو دے تاکہ آپ کی بات کی تصدیق ہو سکے حقیت ھے یا صرف کتابی باتیں ھے ۔۔۔ : 🙄

  11. سلمان says:

    جناب اگر یہ پوسٹ کسی کِتاب سے لےکر لکھی گئ ھے تو اُس کا لنک بھی ۔۔۔۔۔۔ ❗

  12. صحیح یا غلط لیکن یہ تحریر قابلَ غور ضرور ہے، دراصل ہم لوگوں نے ہر بلاگر کو کسی نہ کسی کیٹیگری میں فٹ کیا ہوا ہے اور ہم اُس کی تحریروں کا جواب بھی اُسی تناظر میں دیتے ہیں.

    آپ نے اس تحریر میں بہت محنت کی ہے اور اگر نیک نیتی سے کی ہے اور آپ حق بجانب ہیں تو یقینا` آپ کو اس کا اجر بھی ملے گا. نیک نیتی کا ذکر کسی بدگمانی کے باعث نہیں ہے کیونکہ دلوں کا حال اللہ جانتا ہے سو انجان لوگ اتنا کہنے کا حق تو رکھتے ہیں.

    پھر آپ کی تحریر میں جو عقائد غامدی صاحب کے حوالے سے پیش کئے گئے ہیں اُن کے حوالہ جات کا اہتمام نہیں کیا کوئی کیسے یقین کرے کہ یہ عقائد غامدی صاحب کے ہی ہیں. مزید بہتر ہوتا کہ آپ قران و حدیث کا نقطہ نظر بھی ان موضوعات پر بیان کر دیتے کیونکہ اردو بلاگستان میں زیادہ تر بلاگرز مسلمان ہی ہیں وہ آپ کی مانیں یا نہ مانیں قران و حدیث کی ضرور مانیں گے. بہر کیف آپ کی مزید تحریر کا انتظار مجھے بھی رہے گا. ایک ربط مجھے بھی میسر آیا ہے اسے بھی دیکھ لیجے گا.

    http://www.difaehadees.com/img/ghamdi_fitna.jpg

    اُمید ہے کوئی بات طبیعت پر گراں نہیں گزرے گی.

  13. میرا خیال تھا کہ کچھ مثبت یا تعمیری تنقید بھی ہو گی مگر اکثریت نے طنز و توصیف سے ہی کام لیا اور موضوع پر بحث سے گریز کیا۔
    غامدی صاحب سے جڑے عقائد پر حوالہ جات لازمی چاہیے کیونکہ کچھ عقائد ایسے ہیں جو کہ میرے خیال سے غامدی صاحب جیسے ذہین شخص کے نہیں ہو سکتے البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنے زیادہ ٹی وی چینلز پر موصوف کے پروگرام ہوتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو ان سے بڑا عالم پاکستان میں نہیں یا انہیں جان بوجھ کر اتنا وقت دیا جا رہا ہے۔

    غامدی صاحب میرے خیال سے پہلے جماعت اسلامی میں تھے اور اب بھی مولانا مودودی کے کافی حد تک معتقد ہیں مگر نظریاتی اختلافات کافی ہیں۔
    شروع میں احادیث کو سہولت سے مسترد کر دیا کرتے تھے مگر اب کافی احتیاط برتے پائے جاتے ہیں۔

    تاریخ کی غلطیوں کی طرف جن احباب نے اشارہ کیا انہوں نے صرف ارشاد کو ہی کافی سمجحا اور یہ بتانے کی تکلیف گوارہ ہی نہیں کی کہ کونسی غلط تاریخ بیان کی گئی ہے ، کسی غلطی کی نشاندہی اور ساتھ میں کوئی حوالہ تو دیا جاتا یا صرف طنز ہی کافی ہے

  14. تحریر اچھی ہے اور چند ایک باتیں ہیں جن کی وضاحت مزید کر دیتے تو اچھا تھا۔
    زرا ہٹ کے!
    غامدی صاحب بھی اوائل العمری میں کچھ کسی کی زیادتی کا شکار ھوگے ہوں گے۔
    انہیں پاکستان کے اسی فیصد لوگ اپنے جیسے کانے دکھائی دیتے ہیں۔ان اسی فیصد کی زندگی آسان کرنے کیلئے اس طرح کے شوشے چھوڑ رھے ہوں گے۔
    ان کی ہمدردی کو سمجھئے ۔الزام مت دیں۔کشف جی آپ ظالم و دہشت گرد دکھائی دیتے ہو۔
    اگرغامدیصاحب باقی چار آنکھوں والے بیس فیصد میں شامل ہونے کیلئے بضد ہیں تو انہیں ہجرت کرنے پر مجبور نہ کریں۔
    ویسے ہمیں آپ بے شک اسی فیصد میں سمجھئے ۔لیکن ہم آپ سے بیس فیصد میں ہونے کا ثبوت نہیں مانگتے:lol:
    ویسے میں غیر مقلد ہوں جنہیں ھٹ دھرم مولوی کہا جاتا ھے۔نظریاتی طور پران کے قریب ہوں لیکن ان مولویوں سے بھی بھاگ جاتا ہوں۔
    اہلحدیث کہا جاتا ھے ان مولویوں کو۔
    اور ہم ذرا جینز پہننا پسند کرتے ہیں۔
    انداز جوانی ھے ذرا جھوم کے چلتے ہیں
    لیکن ذہن کو جامد نہیں کیا میں نے۔ ہمیشہ علمیت نہیں جھاڑتا کہ کچھ ایسا اپنے پلے ہے بھی نہیں۔
    سامنے نظر آنے والی باتوں کا تجزیہ یا مشاہدہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اور دین کے فہم کی اللہ سے دعا کرتا ہوں۔کوشش یہی ہوتی ھے کہ دوسروں کی برتری دیکھ اپنی اوقات نہ بھول جاوں۔ کہ اس طرح احساس کمتری کا شکار ہو جاوں گا۔
    یا خود مجھے اگر اللہ نے نوازا ھے تو پاکستان میں موجود میرے ہم جنس جو ہیں انہیں حقارت سے نہ دیکھوں۔
    کہ وہ میرے ہیں میں ان کا ہوں۔
    اپنے نظریات نہ ان پر مسلط کروں۔ اگر میری نہ مانیئں تو ان کی ایسی کی تیسی نہ کروں۔
    کچھ سوچے سمجھے بغیر جوش علمی دریاومیں الٹی سیدھی ھانک دیتا ہوں۔جس سےمجھے اپنی عزت کا خیال نہیں رہتا۔
    دوسرے ہی شرم کر جاتے ہیں۔
    مسئلہ کوئی نہیں جناب آپ کی عزت اور ہماری عزت میں فرق ھے۔:lol: 😆 😆
    جن حضرات کو ہمارا تبصرہ سمجھ نہیں آیا وہ سر کھجائیں اور گذر جائیں۔:
    اور جنہیں سمجھ آئی وہ بھی خاموش رہ کررمضان کا ثواب دارین حاصل کریں۔
    mrgreen: :mrgreen: :mrgreen:

  15. سلمان says:

    بہتر ہے كہ لوگ سنی سنا ئ باتوں بر کان نہ دھریں غامدی صاحب کی سائٹ وزٹ کریں
    http://www.ghamidi.net
    http://al-mawrid.org
    http://www.understanding-islam.org
    http://www.ishraqdawah.org

  16. احمد انجینئر says:

    سب سے ذہین شخص وہ گزرا ہے جس نے تقیہ ایجاد کیا یا یوں کہہ لیجیئے جس نے ایک دین کی بنیا رکھی اور اسکے نیچے سہارے کو ایک ہی پلر لگایا اور وہ تھا تقیہ!!
    کیا عجیب شخص تھا!!!

    فوزیہ وہاب نے بھی کہا تھا کہ وہ کسی کی پوتی ہے 😀

    ویسے کچھ لوگوں کو کتنا مشکل لگ رہا ہوگا اور دل پر چھریاں چل جاتی ہونگے جب حضرت عمر یا عثمان یا ابوبکر صدیق کے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہ لگانا پڑتا ہوگا
    لیکن کاروباری مجبوری انسان سے کیا کچھ کروا دیتی ہے.

    کل رات انشاءاللہ ان سوالوں کے جواب دیں گے جنکا کاشف صاحب نہ دے سکے-

  17. میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاوں گی ۔ کیونکہ یہاں بحث باعلم لوگوں کے درمیاں ہے ۔۔۔جہاں تک میں نے غامدی صاحب کو سنا ہے ۔۔۔ اور سنتی ہوں ۔۔۔ کیونکہ وہ خواتین کے حق میں زیادہ بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس لیے اکثر مرد حضرات انکے بارے میں ایسا سوچتے ہیں جیسا کے اوپر بیان ہو چکا ہے ، ویسے اس طرح کا کوئی بیاں میری نظروں سے نہیں گزراہ ۔ یہاں کسی بلاگر نے کہاں تھا کہ لنک ساتھ ہوتا تو کم از کم ہمارے علم میں اضافہ ہو جاتا ۔۔۔۔۔۔

  18. لفنگا says:

    تمام تبصرہ نگار خواتین و حضرات سے التماس ہے کہ آپ کے کی مرضی کا نقطہ نظر رکھنے والا یا آپ کے حقوق کی حمایت کرنے والا عالم ضروری نہیں کہ حق پر ہو. کسی کی پوری بات سنے بنا آپ حمایت یا مخالفت بھی نہیں کر سکتے.
    اسلام قرآن و حدیث کا مجموعہ ہے.
    ہماری بد قسمتی ہے کہ قرآن کا ترجمہ تک جانتے نہیں اور احادیث پر متفق نہیں….
    اسلام کے افکار کو جدیدیت کے لبادہ کی قطعی ضرورت نہیں. بس عصری تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے جس سے ہم قاصر ہیں. اور صرف ان علما سے استفادہ حاصل کرتے ہیں جن کی بات ہمارے اعمال و نطریات کو درست ثابت کرتی ہو.
    غامدی صاحب اور وہ لال ٹوپی والے انقلابی کی شخصیت تو ہے ہی مشکوک….

  19. سیارہ پر اس بلاگ کی تازہ تحریر
    ‘وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ’
    ظاہر ہو رہی ہے. مگر بلاگ پر وہ نظر نہیں آتی.کیا شائع کرنے کے بعد ڈیلیٹ کر دی گئی ہے؟

  20. ابوسعد says:

    کاشف صاحب براہ کرم آپ اپنی تحریر میں مولانا مودوی کی توصیف کرنے سے گریز کریں اس طرح آپ پکے جماعتیے کہلائے جائیں گے جو آپ نہیں۔
    یہاں کچھ وضاحتیں ضروری ہیں۔
    پہلی وضاحت یہ ہے کہ غامدی صاحب بہت ہی وسیع علم رکھتے ہیں۔ ان کی دوسری خوبی ہے کہ وہ خود نمائی کے قائل نہیں۔ وہ کسی پر کفر کا فتویٰ لگانے سے گریز کرتے ہیں اور انتہائی مدلل انداز میں اپنی گفتگو قارئین تک پہنچاتے ہیں۔ جس نوجوان اور مغربی طبقے کو ہمارے جید علمائے کرام متاثر کرنے میں ناکام رہے ہیں غامدی صاحب نے ٹی وی کا استعمال کرکے ان کو قریب کردیا۔ غامدی صاحب کو اچھی طرح جاننے والا کوئی بھی فرد ان کی ان خوبیوں سے بخوبی واقف ہوگا۔
    غامدی صاحب کبھی جماعت اسلامی کا حصہ نہیں رہے لیکن وہ جماعتی اسلامی کے بانی رکن مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کے شاگرد رہے ہیں۔ اصلاحی صاحب مولانا مودودی کی انتخابی پالیسی کی وجہ سے علیحدہ ہونے والے افراد میں سے ایک ہیں۔ اس وقت باقی جن شخصیات نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی تھی ان میں جناب ارشاد حقانی مرحوم اور جناب ڈاکٹر اسرار احمد رحمۃ علیہ شامل ہیں۔
    لال ٹوپی والا زید حامد کبھی جمعیت کا کارکن رہا ہے لیکن اپنی حرکتوں کے سبب رکن تو کیا رفیق بھی نہیں بن سکا۔ البتہ ان کو رخصت کرنے میں ڈاکٹر فیاض عالم ، نوفل شاہ رخ ‘ اور دیگر جو ساتھی پیش پیش رہے وہ سب کسی نہ کسی طریقے سے جماعت کی فکر سے متاثر رہے ہیں اور اسی فکر نے ان کو ادراک دیا کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے والے زید حامد کو ایکسپوز کرنا ضروری ہے۔
    جہاں تک غامدی صاحب کے متعلق کاشف نصیر کے آرٹیکل کا تعلق ہے اس میں اکثر باتیں وہ ہے جس کے حوالہ جات آپ کو خود غامدی صاحب کی ویب سائٹ اور المورد کی سائٹ کے لیے ان کے اپنے میگزین وغیرہ میں مل سکتے ہیں۔ غامدی صاحب کے چند ایک نظریات ایسے ہیں جس پر ان کے خلاف اگرچہ کفر کا فتویٰ لگانے سے گریز کرنا چاہیے تاہم وہ لوگوں کے سامنے آنا ضروری ہے۔ میری تجویز ہے کہ ہم ایک ایک پوائنٹ کو ڈسکس کریں ۔ ہوسکتا ہے عثمان اور انجینئر صاحب ہمیں قائل کردیں تو ہم اپنی رائے سے رجوع کرنے میں وقت نہیں لگائیں گے کیوں کہ غامدی صاحب کے ساتھ ہمارا کوئی زمین کا پھڈا نہیں ہے۔

    • عمران علی says:

      محترم ابو سعد صاحب السّلام علیکم:
      بحوالہ آپ کا پوسٹ :ستمبر 3, 2010 بوقت 3:19 شام
      “——-لال ٹوپی والا زید حامد کبھی جمعیت کا کارکن رہا ہے لیکن اپنی حرکتوں کے سبب رکن تو کیا رفیق بھی نہیں بن سکا۔ البتہ ان کو رخصت کرنے میں ڈاکٹر فیاض عالم ، نوفل شاہ رخ ‘ اور دیگر جو ساتھی پیش پیش رہے وہ سب کسی نہ کسی طریقے سے جماعت کی فکر سے متاثر رہے ہیں اور اسی فکر نے ان کو ادراک دیا کہ مذہب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے والے زید حامد کو ایکسپوز کرنا ضروری ہے۔——”

      محترم ابو سعد صاحب، انداز تحریر سے تو آپ اچھے خاصے مہذب لگتے ہیں ، لیکن محترم زید حامد صاحب کے بارے میں آپ کی رائے بہت بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے۔مجھے آپ کے الفاظ پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ محترم زید حامد اس دور میں اسلام کے حقیقی مجدد ہیں، آج جب کفر کے سرغنے اسلام کے قلعہ یعنی مدینہ ثانی پاکستان کی طرف اپنے خوفناک جبڑے کھولے آگے بڑھ رہے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں، آپ کے اس مجاہد کے خلاف اس قسم کے الفاظ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلام کے خلاف بہت بڑی ہرزہ سرائی ہے۔ میرے دوست اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارا پیارا ملک پاکستان، ہمیشہ قائم و دائم رہے اور اسلام کی تجدید ہو تو برائے کرم اس قسم کے الزامات سے گریز کریں اور آپس کے اختلافات کو بھلا کر اس وقت یہود و صیہونی طاقتوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں ، دشمن تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہیں اور وہ آ کر ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپ دے۔ خدا را اسلام کی خاطر ایک ہو جائیں اور اپنے آپس کے اختلافات کر بھلا کر “ایک اللہ ، ایک قرآن ، ایک رسول” کے نام پر اکھٹے ہو جائیں۔ ہمیں ابو الاعلی مودودی، سمیت کسی بھی عالم دین سے کوئی شکوہ نہیں، وہ سب اپنے اپنے وقت میں اسلام کی خدمت کر کے چلے گئے ہیں اور اس وقت اسلام کی خدمت کا موقع اللہ نے ولی اللہ محترم زید حامد کو سونپا ہے، کیوں کہ زید حامد وہ ہیں کہ جنہوں نے

      معاشی دہشت گردی جیسا پروگرام پیش کرکے یہود کے پس پردہ عزائم کو بے نقاب کیا
      جمہوریت کی لعنت کو بے نقاب کیا
      اسلام کا درست تشخص ظاہر کیا
      پاکستانیت کو زندہ کیا اور نوجوانوں میں ایک نئی روح پھونکی

      خداراہ اس ولی اللہ کو پہنچانیے ، وگرنہ روز حشر آپ اللہ اور اسکے رسول کے سامنے کیا جواب دیں گے؟؟؟؟؟

      • زید حامد : مجدد اسلام 🙂
        کوئی بتلاو کہ ہم بتلائے کیا !

        • عمران علی says:

          اس طرح کا طنز کرنا کیا ثابت کرتا ہے، بندہ کارٹون بنا کر نہیں، دلائل سے بات کرتا اچھا لگتا ہے۔

          • محترم، علمی گفتگو صاحب علم سے ہوتی ہے، جیسے غامدی صاحب بہرحال ایک علمی شخصیت ہیں، انہوں نے اپنے فکر اور دینی فہم کے لئے قلم کا سہارا لی اس لئے ان سے اختلاف بھی قلم سے ہی اچھا لگتا ہے۔ لیکن اگر آپ علمی بحث و مباحثہ کے دوران زید حامد ایسے غیر سنجیدہ شخص کا ذکر کریں تو یا تو بندا رو سکتا ہے یا ہنس سکتا ہے۔

  21. کاشف نصیر says:

    احمد عرفان شفقت اور جاوید اقبال : متفق اور آمین۔
    @ عثمان اور نعمان : کچھ جزباتی لوگوں اور طنزیہ گفتگو کرنے والوں کی وجہ سے ہمیں ڈائیلاگ نہیں روکنا چاہئیے۔
    @ سعد، شعیب صفدر اور محب : اگلی قسط کے لئے آپ حضرات کو انتظار کرنا پڑے گا، کیونکہ میں اب شاید طویل عرصہ تک کوئی مذہبی پوسٹ شائع نہ کروں۔
    @ عنیقہ : میں نہیں مانتا کہ کوئی بھی صاحب قلم غیر جانبدار ہوسکتا ہے۔ ہر ذی شعور شخص کی اپنی رائے ہوتی ہے اور وہ اپنی تحاریر اور تقاریر کے زریعے اسکی ترویج بھی کرتا ہے۔ آپ کی بھی ایک ذاتی رائے ہے اور آپ بھی اپنے بلاگ پر اسکی ترویج کرتی ہیں۔ لوگ آپکو ایم کیو ایم اور روشن خیال طبقے کی نمائندہ بلاگر کے طور پر جانتے ہیں۔ اسی طرح میری بھی ایک ذاتی رائے ہے اور میرا بھی حق ہے کہ میں اسکی ترویج کروں۔ البتہ میں کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ میری ہاں میں ہاں ملائیں۔ ایک وضاحت ضروری ہے کہ میں کیا میری پوری جدی پشتی میں بھی کسی کا تعلق کبھی جماعت اسلامی سے نہیں رہا. میرے تمام کزن، چچا، پھوپھو اور خالہ خالو وغیرہ ایم کیوایم کے حامی ہیں. شاید آپ نے میرے وہ مضامین نہیں پڑھے جس میں میں نے جماعت پر تنقید کی ہے، آپ ذرا “کپتان مگر اصول پسند بہت ہیں” پڑھیں۔
    @ احمد انجینئر : جی ہاں غامدی صاحب اپنی عمر کے ابتدائی حصہ میں جماعت اسلامی میں تھے لیکن بعد میں امین احسن اصلاحی کے ساتھ وہ بھی جماعت سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ جماعت کی اہم بات یہ کہ اس میں کئی طرح کہ لوگ آئے اور گئے۔ سابق جماعتیوں میں مولانا منظور احمد نعمانی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، ارشاد احمد حقانی مرحوم کہتے تھے کہ جماعت لوگوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور جب وہ سوچنا شروع کرتے ہیں تو جماعت چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپکو جماعت سے کچھ زیادہ ہی عناد ہے جو میرے نزدیک درست نہیں۔ اور ہاں احمد صاحب یہ مضمون ہی لے لیں جو میں نے دو برس قبل جامعہ صدیقہ کے مجلہ کے لئے لکھا تھا اور یہ وہی دیوبندی مدرسہ ہے جہاں میں ایک برس استاد بھی رہا ہوں.
    http://jamiasiddiqia.com/
    http://en.wikipedia.org/wiki/Jamia_Siddiqia
    میں خود بھی دیوبندی فکر کا قائل ضرور ہوں لیکن شاید میرا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ میں فرقہ پرست نہیں اور ہاں میں ہاں ملانے کے بجائے علماء کرام سے سوال کرتا ہوں اسلئے کچھ لوگ مجھے جماعتی سمجھتے ہیں.
    @ فاروق اور محمد احمد: اس قسط میں صرف مقدمہ لکھا ہے، اگلی قسط کا انتظار کریں اس میں تمام حوالے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک پوری بحث موجود ہیں۔
    @ سلمان : دوسری قسط کا انتطار کریں جس میں تمام حوالے موجود ہیں اور اگر فوری تشفی نہ ہو تو انجمن خدام القرآن، لاہور کی شائع کردہ کتاب فکر غامدی کا مطالعہ کریں۔
    @ یاسر : بس میں بھی ٹھیک اسی طرح کا دیوبندی ہوں
    @ تانیہ : میں نہیں سمجھتا کہ وہ خواتین کے حقوق کے داعی ہیں البتہ وہ انہیں اخلاقی قیود سے آزادی ضرور دلانا چاہتے ہونگے۔
    @ سعد : غامدی صاحب کے بارے میں آپکی رائے سے متفق ہوں کہ وہ جس مدلل انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہیں اس سے پڑھا لکھا بہت متاثر ہوتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مولانا مدودی صاحب کہ بعد پڑھے لکھے طبقے میں دین پہنچائے اور ان میں دین کے صحیح فہم کو متعارف کرانے کا کام کم ہی کیا گیا جسکی وجہ سے غامدی صاحب اور انکے شاگردوں کو ایک کھلا میدان ملا ہوا ہے۔غیرِ علماء میں ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ علیہ اس حوالے سے بہت فعال تھے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ علماءِ حق بھی اپنی طرف سے اس کمی کو محسوس کریں اور پڑھے لکھے طبقے سے اسکی ذہنی سطح پر آکر بات کیا کریں۔ سعد میں ہرگز جماعتی نہیں لیکن سید ابوالعلی المدودی کی فکر سے کسی درجہ میں متاثر ضرور ہوں اور اگر اس گناہ کی وجہ سے کوئی تنگ نظر مجھے جماعتی سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے۔

  22. باذوق says:

    گروہ طاہر القادری کی طرح دورِ حاضر میں ایک مقبول گروہ “غامدیت” بھی ہے. اگر کوئی واقعتاَ مکمل حوالہ جات کے ساتھ “غامدیت” کی تفصیل جاننا چاہتا ہو تو اس کے لیے سنجیدگی سے وقت بھی نکالنا لازمی ہے.
    حقائق سے واقفیت کے لیے کچھ اہم کتب ڈاؤن لوڈ کریں اور فرصت سے مطالعہ فرمائیں :

    1 : آئینہ غامدیت۔۔تعارف اور نظریات کی ایک جھلک

    2 : اسلام اور موسیقی –شبہات و مغالطات کا ازالہ

    3 : جواب اصول مبادی

    4 : اصولِ اصلاحی اور اصولِ غامدی کا تحقیقی جائزہ

  23. کاشف نصیر صاحب، ماشاللہ، میری ایسی کون سی تحریر ہے جو آپکی ان تحریروں کء مقابل لا کر کھڑی کی جاءے اور یہ کہا جائے کہ لوگ آپکو ایم کیو ایم کا سمجحتے ہیں۔ گستاخی معاف یہ صرف وہ لوگ سمجھتے ہیں جو اپنے اوپر سے پنجابی ازم کی چھاپ نہیں مٹا پاتے۔ آپ مجحے صرف اور صرف کراچی والا ہونے کا طعنہ دے سکتے ہیں اور بس۔
    احمد انجینیئر، اللہ نے یقیناً آپکے لئے بہشت میں جو مقام ارفع رکھا ہے اس سے آپکو واقف کرا دیا ہے۔ اس لئے اب آپکے لئے دوسوروں پہ فتوی لگانا ضروری اور جائز ہے۔ کہئیے، آپکے نام کے ساتھ بھی رضی اللہ عنہ لگا دوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے کارنامے تو وہ لوگ بھی انجام نہیں دیا کرتے تھے آپ تو اس سے زیادہ کے مستحق ہیں ۔ یہ الگ بات کہ کسی نے ابھی تک آپکے مرتبہ ء خاص کو پہچانا نہیں۔ بہشت میں اپنے اس مرتبے اور درجے سے بھی ضرور واقف کرائیے گا۔ تاکہ ایک اور فرقہ متعارف کرایا جائے۔ احمد انجینیئر کا۔ آءیے اور ان سے اپنے دین دار ہونے کی سند اورفردوس بریں کا پرمٹ لیجیئے۔
    یاسر، کم علم شخص اگر اپنی جہالت پہ اس درجے فخر کرے تو وہی باتیں کہتا ہے جو آپ ارشاد فرماتے ہیں۔ خدا، آپکی جہالت میں برکت دے اور اس پہ فخر کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ تاکہ آپ بھی چند دنوں میں احمد انجینیئر کی طرح اس طرح کے پرمٹس دینے کے قابل ہوں۔
    آپ سب اپنی کوششوں سے دین کی سر بلندی تو کیا اپنے ہی سر بلند کر لیں تو بڑی بات ہے۔
    ایسے مسلمان جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔ اور باقی دنیا مسلمان نہ ہونے میں عافیت محسوس کرے۔ صرف بنیادی اسلامی اخلاقیات پہ ہی عمل کر لیں تو بڑی بات ہے۔ اسلامی اصولوں پہ بات کریں گے اور فہم دین کو پھیلائیں گے۔ اپنے آپ سے باہر تو جھانک نہیں سکتے۔ آخر اسلام بے چارے کا کیا قصور ہے جو آپ لوگ اسے ملیا میٹ کرنے پہ تل گئے ہیں۔ صرف یہ کہ آپ ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو مسلمان تھا
    کاشف نصیر صاحب، اب آپ کے بلاگ پہ جماعت اسلامی، اہل حدیث، اہل سنت والجماعت اور احمد انجینیئر جیسے ثقہ مسلمانوں کے نمائیندوں کے اجلاس منعقد ہوا کریں گے تو یہاں لوگ صرف ان نمائیندوں کے با برکت خیالات پہ سر دھننے ہی آئیں گے۔ آپکی یہ خدمت اردو بلاگستان میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اردو بلاگ کو مبارک ہو ایک اور مثالی اسلامی بلاگ کا داخلہ۔ جزاک اللہ۔

  24. علمی دریاو جی۔
    ہم جیسے جاہل کا لکھا نقل کر کے سب کو نصیحت نہ کریں۔
    اللہ کا شکر ھے۔نقل کر کے عالم فاضل علمی دریاو نہیں بنے۔نہ ہی بننے پر مضر ہیں۔

  25. احمد انجینئر says:

    یہ لگی مرچی کس پکوان کا پتہ دیتی ہے؟

    ہر کسی کو تقیہ سے الو نہیں بنایا جاسکتا اسی ایسوں کی ہانڈی بیچ چوراہے میں پھوٹ جاتی ہے
    اول فول بکنے اور بے سروپا باتوں سے ایسی فضا پیدا کرنا آپ جیسے کا خاصہ ہے یہ ٹیکنالوجی یہود نے سکھائی جب اصلیت سامنے آنے لگے تو شور شرابہ کرنا شروع کردو اور قوم ، دین ملک کے نعرے لگاؤ. ایسا ماحول پیدا کرو تم پھر سے پردے میں چلے جاؤ.
    آپ اور آپکے قبیل پہلے بھی ہزار بار مالک بلاگ کو اسی ہتھکنڈوں سے دباؤ میں لاچکے ہو کہ جیسے آپ کی اصلیت دکھائی گئی تو آپ نہ آئیں گے ارو یہ بلاگ اور مالک بلاگ کا نقصان عظیم ہوگا. بس ساری باتیں کرلوع آپکی اصلیت پر بات نہ کرو.
    جن کے خمیر سے اٹھے، انہی جیسے ہوگئے

    آپکی جلن اور اول فول صاف پتہ دیتا ہے اصلیت کا

    اسی لیئے کہا تھا کہ سب سے ذہین شخص وہ گزرا ہے جس نے تقیہ ایجاد کیا. کیا ظالم شخص تھا کمبخت!!

  26. احمد انجینئر says:

    @ کاشف

    معافی کے ساتھ…. آپ کی تعلیم کیا ہے تو آپ ایک مدرسے میں پڑھاتے رہے؟ارو کیا پڑھاتے رہے؟ جب آپ خود دل سے قائل نہیں تو کسی کو کیا سمجھاتے تھے وہاں؟
    دوسرا دیوبندی کوئی الگ سے مذہب نہیں آپکو تو یہی نہیں معلوم مدرسہ دیوند کیا ہے .
    آپ کا فرمانا ہے کہ آپ ہو بات انکی نہیں مانتے . یعنی میٹھا ہپ ہپ ، کڑوا تھو تھو
    آپ سقہ علماء کو تو ناقص کہنے پر اتر آئے ہیں. کیا یہ وہی واردات نہیں کہ مشرف کہتا تھا میں سچا پاکستانی ہوِں اور ملک کی جڑ بھی کاٹتا تھا
    جاگنے کی راتوں میں آجکل رمضان ہے اس لیئے اس ساری بحث کو زرا بعد غامدی اور جماعت اسلامی پر لائیں گے دونوں کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے . بیٹے کا گالی کیا دینی، پہلے توع اسکی ماں کا محاصبہ کرو جس نے تربیت غلط دی
    ارتداد اور فتنہ سازی کو لوگ دین کی خدمت سمجھ لیتے ہیں 🙁

  27. احمد انجینئر says:

    سب سے پہلا منصوبہ بند، گہرا، طاقتور اور سب سے بڑی فتنہ پرور قوم یہود سے اسلام کے خلاف جو فتنہ اٹھا وہ رافضیت تھا باقی سارے کے سارے فتنے اسی سے پیدا پوتے ہیں
    رافضیت ایک ایسا دریا بن گیا جس سے ہی بہایت، اسمعلیت، سید قطب کے احادیث کا خلاف فتنہ ، پرویزیت، مودودیت ، غامدیت وغیرہ نکلے
    جسکو دلیل سے بات کرنی ہو آگے آئے. البتہ جسکو دکان اور بکری سے غرض ہے وہ لگا رہے . پہلے کون سا بلاگ پر کوئی خیر کا کام ہوریا ہے، اوپر بیان کیئے گئے مزاہب کے کارکنان ” عبداللہ” بن کر ایک دوسرے کی عاقبت بنا رہے ہیں

  28. انجنئیر صاحب اگر خیر کا کام نہیں ہورہا تو آپ یہاں کیا کررہے ہیں، کیوں اپنا قیمتی وقت برباد کرنے کیلئے ان گناہ گاروں کی نگری میں تشریف لے آئے ہیں.

    کاشف بھائی کو تو میں جانتی ہوں وہ عالم دین نہیں، اگریزی، کمیوٹر اور تاریخ کے استاد تھے اور اب ایک سریا کپمنی میں ملازم. جماعتی ہرگز نہیں لیکن کسی کوئے کے مینڈک بھی نہیں، برداشت اور میانہ روی کوئی ان سے سیکھے.علمائے اہل سنت کی عزت کرنا اور سقہ علماء کے تقدس کا خیال رکھنا وہ آپ سے بہتر جانتے ہیں. لیکن وہ گناہ گار نوجوان اور آپ ٹیھرے صاحب کشف و الہام بزرگ.

    اور ہاں کبھی دنیا کو شیعہ سنی عینک اتار کر بھی دیکھا ہے اور کبھی میں اور میری میں سے آگے بھی کچھ سوچا ہے؟ اب سید قطب بھی آپ کی ہٹ لسٹ میں آگئے انکی جوانمرادنہ موت اور عرب مجاہدین میں انکی عت کا ہی رکھ لحاض رکھ لیتے. کیا آپ کو پتا ہے جب بہت سے خانقاہوں کی رونق بڑھا رہے تھےتھے تو وہ اکیلے سید قطب تھے جو جہاد کا بھولا ہوا سبق بتا رہے تھے

    ویسے کیا کبھی کالج یا یونیورسٹی میں جمیعت کو والوں سے ٹھکائی تو نہیں ہوئی آپ کی؟

  29. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    پتہ نہیں کیابات ہےکہ ہم لوگ بجائےتحمل سےدوسری کی بات کادلیل سےجواب دیں ایکدوسرےکورگیدنےکی کوشش کرتےہیں اوراپنےخیالات دوسرےپرٹھوسنےکی کوشش کرتےہیں۔ برائےمہربانی موضوع کےاندربات کی جائےتوبہترہےاوراگراس کی جڑکہ یہ غامدیت کس کی پیداوارہےاس کےمتعلق دلیل سےجواب ہی بہترہے۔باقی کچھـ ایسےلوگ بھی ہیں کہ جوکہ پات کوہائي جیک کرناجانتےہیں اورپراپیگنڈہ ان کاسب سےبڑاہتھیارہے۔
    اللہ تعالی سےدلی دعاہے کہ دین اسلام کےمتعلق جوشہبات جوکدورتیں ہم نےپال لیں ہیں ان کوسچے دل سےعلم کےپانی سےدھوئیں۔تاریخ پراعتماداچھی چیزنہیں کیونکہ کبھی کبھی تاریخ غلط بھی ہوتی ہے۔اللہ تعالی ہم کودین اسلام کی صحیح سمجھـ بوجھـ عطاء فرمائیں ۔ آمین ثم آمین

    والسلام
    جاویداقبال

  30. غامدی صاحب کی طرز فکر میں یقینا غلام احمد پرویز کا پرتو نظر آتا ہے۔ ایک طرف تو ان کا حدیث سے قدرے انحراف ہے، اور دوسری طرف سرسید کی علمی چھاپ بھی ہے۔
    ذاتی طور پر اگرچہ کہ ان کی کئی تشریحات سے مجھے اختلاف ہے لیکن جہاں پر وہ بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کرے ہیں اور اسلامی وسعت نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں وہاں وہ روائتی عالموں سے بہت بہتر معلوم ہوتے ہیں۔
    آپ نے اعتراضات کی ایک لسٹ لگائی ہے۔عبادات، داڑھی، پردہ، حقوق نسواں وغیرہ پراختلاف ہو سکتاہے۔ عالم اسلام ان سے بھرا پڑا ہے۔ چند اعتراضات پرالبتہ غامدی صاحب درست ہیں۔ قتل مرتد، یاجوج ماجوج ، رجم اور تکفیر پر غامدی ٹھیک ہیں۔
    مزید یہ کہ بانیان دیوبند نے بھی رام چندر اور کرشن کو اللہ کا نبی مانا ہے۔

  31. جعفر says:

    ہاں جی لطف القادیان صاحب کو تو غامدی انکل اچھے لگنے ہی ہیں

  32. محترم جعفر صاحب، امن دوست لوگ ایک مسلمان کو اچھے ہی لگنے چاہیئں۔

  33. السلام و علیکم و رحمتالله و برکاتھ
    ماشا الله بہت خوب لکھا ہے ایک ایسی تحریر جس سے اختلاف کرنا الله سے ڈرنے والوں کے لیے بہت مشکل ہے. الله سبحانہ و تعالی آپکو جزاۓ خیر عطا فرماتے اور آپکو حتیٰ المقدور دین کی خدمات کی توفیق عطا فرماتے

  34. بندہ خدا says:

    رافضی عزائم۔۔

    قرضاوی کی شہادت

    جمع و ترتیب: محمد زکریا

    ائمہء کرام نے اسلام میں پیداہونے والی بدعتوں کو چاربنیادی گروہ میں تقسیم کیاہے، ان میں سے ایک رافضہ ہیں ۔معاصر سنی علماء کا یہ فرض بنتاہے کہ وہ سلف صالحین کی پیروی میں رافضہ کی بابت کسی نئی رائے سے بچیں ۔اسی میں ان کی اور امت کی نجات ہے۔

    ٹھیٹ سنی علماء کوچھوڑکر، اہلسنت کی کئی دوسری سرکردہ شخصیات ایرانی انقلاب سے شدید متاثر رہی ہیں ۔پاکستان کے علاوہ عرب ملکوں میں خصوصاًمصرمیں انقلاب ایران ک وبطور نمونہ پیش کرنے والی متعدد شخصیات رہی ہیں ۔اِس موضوع پر ٹھیٹ علماء سے الگ رائے رکھنے والے ان علماء کرام میں ایک چیزمشترک دیکھی گئی ہے اوروہ یہ کہ ایک طبعی عرصہ گزرنے کے بعد سب ہی کو یہ اعتراف کرنا پڑتاہے کہ انقلاب ایران سے سنی مسلمانوں کے حصے میں سوائے رافصیت کے مزیدفروغ کے اورکچھ حاصل نہیں ہوا،اور یہ کہ ایک خاص مفہوم کے تحت اٹھائی جانے والی ’اتحاد بین المسلمین‘ کی اِس صداسے بھی ایران کے ’آیات‘ کو ہی فائدہ پہنچاہے۔اس صدا سے ایران نے بڑے سیاسی فوائدحاصل کیے ہیں اورکیے ہی چلاجارہا ہے۔یہ اعتراف ان سب شخصیات کو یکے بعددیگرے کرنا پڑا ہے جواس نیک مقصدکے لیے ایران کے افسوں کا شکار ہوئے تھے۔ مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ حق کی طرف جلد ہی پلٹ آتا ہے، لیکن ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ ایران سے خیرخواہی رکھنے والے سنی حلقے اپنے پہلوں کی گواہی کوکیوں نہیں معتبر سمجھتے! اورآخریہ بات ان پرتب ہی کیوں کھلتی ہے جب ان علماء کی زائد وسعت قلبی سے سنی خطے ایک اورگھاؤکھاچکے ہوتے ہیں ۔

    مصرکے علامہ یوسف قرضاوی عالم اسلام کے ممتاز علماء میں شمارہوتے ہیں ۔خلیجی ممالک سمیت تمام سنی ممالک میں ان کی خدمات کوسراہا جاتاہے۔ علامہ یوسف قرضاوی اسلام آن لائن ویب سائٹ کی سرپرستی کرنے کے علاوہ عرب ٹی وی چینل خصوصاً قطر کے’الجزیرہ‘چینل میں اکثربہ طورمہمان خصوصی شریک ہوتے ہیں ۔جدیدمسائل پران کی بیشتر آراء کو سنی علماء کی آراءمیں ہی شمار کیاجاتا ہے، گو چند امور میں جمہور علمائے سنت ان کے مؤید نہیں ۔ وہ مسائل جن میں علامہ قرضاوی جمہور علمائے سنت سے الگ رائے اپنا کر رہے، ان میں سے ایک ان کا ایرانی قیادت کی جانب ایک گونہ قربت کا میلان رکھنا اور اس کے ساتھ مل کر امت کی بھلائی کے کچھ منصوبوں کو پروان چڑھانے کی کوشش میں لگا ہونا تھا۔ مگر آخر شیخ قرضاوی کو اپنی یہ رائے بدلنا پڑی۔ نہایت اہم ہوگا کہ ہمارے برصغیر کے حلقے بھی قرضاوی کے مؤقف میں آنے والی اس تبدیلی سے آگاہ ہوں ، خصوصاً ہمارے یہاں کے وہ قابل احترام حلقے جو اب بھی ویسے ہی سوچتے ہیں جس طرح قرضاوی اپنی رائے بدلنے سے پہلے سوچتے تھے….

    گزشتہ دنوں علامہ یوسف قرضاوی نے اس بات کو محسوس کرتے ہوئے کہ ایران کی عرب سنی ممالک میں سیاسی اور مذہبی مداخلت کی وجہ سے سنی ممالک میں رافضی اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں کہا کہ سنی اکثریتی ممالک میں رافضہ کی بڑھتی ہوئی تعدادپرمقتدر شخصیات اورمحکموں کو سخت نوٹس لینا چاہیے۔ علامہ یوسف قرضاوی نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ ایسے خطے جہاں تاریخ میں کبھی بھی رافضہ نہیں پائے جاتے تھے وہاں اس فرقےکے اب باقاعدہ اجتماعات ہونے لگے ہیں ،جیسے مصر،تیونس،سوڈان اور الجزائر۔ آخر ان ممالک میں آج جاکر روافض کیوں پیدا ہونے لگے ہیں ؟ صحافیوں کے ساتھ قرضاوی کی گفتگو میں دیگر سنی علماء کا بھی کہنا تھا کہ فرقہ رافضہ اپنی موجودہ صورت میں سنی مذہب سے مصادر کے لحاظ سے بھی مختلف ہے اورشخصیات کی طرف رجوع کرنے کے لحاظ سے بھی مختلف ہے۔ اس صورت میں دونوں مذ اہب کے پیروکارہم مذہب کہلائیں یا یہ کہنا کہ ان دونوں مذاہب میں کوئی بڑافرق نہیں ایک صائب بات نہیں ہے۔

    .

    چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سنی علاقوں میں سیاسی برتری حاصل کرنے کے لیے ان حلقوں میں غیرمعمولی تحریک پائی جاتی ہے جس کا سنی علماءنے نوٹس لینے کا فیصلہ کرلیاہے۔گو ہم اس بات سے بھی ہرگز غافل نہیں کہ، اورہمارے سنی حلقوں کو اس بات سے متنبہ رہنا چاہیے کہ ان مسائل میں گرمی لاکر دشمن چاہتاہے کہ وہ مسلمان خطوں میں فتنہ اور بدامنی پیداکردے۔ علامہ یوسف قرضاوی نے اس امکان کی جانب بھی توجہ دلا کر اپنی ذمہ داری پوری کی ہے ۔ یادرہے کہ علامہ یوسف قرضاوی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے والے تقریباً دوسو علماء کرام میں سے 13کاتعلق مصرسے ہے۔باقی علماء میں سے ڈاکٹرحمدی عبید، سرپرست اعلی’ مرکز تنویر دراسات اسلامیہ‘،جامعہ ازھر کے شیخ احمدطہ ریان، ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ شعبہ شریعت اور ڈاکٹر علی سالوسی،’مجمع فقہاءشریعت‘کے نائب اول شامل ہیں ۔

    علامہ یوسف قرضاوی سنی علماءکے اس گروہ میں شامل سمجھے جاتے رہے ہیں جواہل سنت میں رواداری کی وجہ سے ایران کے رافضی انقلاب کو اسلامی انقلاب کہتے رہے ہیں ۔اغلب یہی ہے کہ سنیوں کے ایسے جید علماء پر ’خامنیائیوں ‘کا دجل ظاہر نہیں ہوا تھا اور اب بھی سنی حلقوں میں ایسی شخصیات یا تنظیمیں تک پائی جاتی ہیں جوایران کے انقلاب کواسلامی انقلاب کہتے ہیں اورایران کے ’آیاتوں ‘کو سنیوں کے ہمدرد۔ مصر اور خلیج کے علماء نے علامہ یوسف قرضاوی کے مذکورہ بالا انتباہ کوجس سنجیدگی سے لیاہے اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سنی علماء کی وسعت نظری کا بے جا استعمال امت کے لیے کس قدر خطرناک ہو سکتاہے۔ پاکستان کے بھی وہ قائدین جوانقلاب ایران کی تعریفیں کرتے وقت ذمہ داری کاثبوت نہیں دیتے یا ایران کے سیاسی عزائم سے وہ صرف نظرکیے ہوئے ہیں ،انہیں چاہیے کہ وہ بھی سنی علماء کرام کے مذکورہ بالا عزم میں ان کے دست و بازو بنیں ۔علامہ یوسف قرضاوی سنی علماء میں سے ایران کے ساتھ رواداری میں سب سے بڑھ کر تھے اگران کوبھی ایران اپنے توسیعی عزائم سے اطمنان نہیں دلا سکا تواس کے کیا معنی ہوسکتے ہیں !

    .

    علماءاہل سنت کا اس بات پراجماع ہے کہ رافضہ سنیوں سے ایک الگ فرقہ ہے اورجب تک وہ سنی مسلمانوں کے مصادر از قسم کتب حدیث ستہ اوردوسری مرویات سے دین حاصل نہیں کرتے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی توہین سے باز آکران کا اسی طرح احترام نہیں کرتے جس طرح سنی مسلمان کرتے ہیں اس وقت تک ان کے مسلمانوں کے معتبر اسکول آف تھاٹ میں شمار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایران میں جو رافصیت یاشیعت پائی جاتی ہے یہ بعینہ وہی ہے جسے صحابہ کرام اوران کے بعد تابعین کرام نے بدعتی فرقوں میں شمار کیا ہے۔جوحکم ان کا خیرالقرون میں تھا وہی حکم آج بھی ہے۔اہل سنت کا یہ وصف ہے کہ وہ سلف صالحین کے اقوال سے نکل کر ایک ہی مسئلے میں نئی رائے اختیار کرنے کو بدعت کہتے ہیں ۔ایران میں نہ صرف رافضیت پائی جاتی ہے بلکہ فارسی زبان کو بھی مذہب یا اس سے بڑھ کر اہمیت دی جاتی ہے۔ دورِ جاہلیت کا نو روز آج بھی پورے اہتمام سے منایا جاتا ہے۔ ایران کے صوبہ’اھواز‘یا’احواز‘میں عرب شیعہ کے ساتھ تہران دوسرے درجے کے شہریوں کاساسلوک کرتا ہے اوراھوازمیں علیحدگی کی تحریک’انقلاب اسلام‘ کے بعد سرد کیا ہوتی الٹا اھوازیوں میں فارسی بولنے والوں کے خلاف نفرت میں ہی اضافہ ہواہے۔ ہمارے ہاں انقلاب ایران کی ’سالگرہ‘ منانے والے بہت سے پائے جاتے ہیں تودوسری طرف ایران ہی کے عرب شیعہ ایران کے انقلاب کوشیعہ مذہب کا انقلاب بھی نہیں کہتے۔ وہ اسے فارسی انقلاب کہتے ہیں ۔بنابریں امت کو یہ قطعاً ضرورت نہیں ہے کہ وہ ائمہء سلف سے الگ کوئی نئی رائے آج اختیارکریں ۔عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :فاِن عبد اللہ بن المبارک ویوسف بن اَسباط وغیرہما قالوا: اصول اثنتین وسبعین فرقۃ ہی اَربع: الخوارج، والروافض، والقدریۃ، والمرجئۃ، قیل لابن المبارک: فالجہمیۃ؟ قال: لیست الجہمیۃ من اَمۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ’عبداللہ بن مبارک اوریوسف بن اسواط فرماتے ہیں کہ بہترفرقوں میں اصل بنیادی فرقے یہ چارہیں :خوارج، رافضہ، قدریہ اورمرجئہ۔ پوچھاگیااورجہمیہ؟فرمایاجہمیہ امت محمدیہ میں شمارہی نہیں ہوتے۔(مجموع فتاوی ابن تیمیہ)

    رافضہ کی حقیقت بتاتے ہوئے ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : واَصل قول الرافضۃ: اَن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نص علی عَلِیٍّ نصًا قاطعًا للعذر، واَنہ اِمام معصوم، ومن خالفہ کفر، واَن المہاجرین والاَنصار کتموا النص وکفروا بالاِمام المعصوم، واتبعوا اَہواءہم وبدلوا الدین، وغیروا الشریعۃ، وظلموا واعتدوا، بل کفروااِلا نفرًا قلیلًا:اِما بضعۃ عشر اَو اَکثر، ثم یقولون:اِن اَبا بکر وعمر ونحوہما ما زالا منافقین. وقد یقولون: بل آمنوا ثم کفروا”رافضہ کے عقائد کا بنیادی عنصریہ عقیدہ ہے کہ نبی علیہ السلام نے خلافت کی ذمہ داری کے لیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ایک قطعی نص جاری فرمائی تھی کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی کے پاس کوئی باقی ہی نہ رہے، اوریہ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام معصوم ہیں ،اوریہ کہ اُن کی مخالفت کرنے وال اکوئی ہو اُسے کافر کہا جائے گا۔نیز مہاجرین اورانصارصحابہ دونوں ہی نبی علیہ السلام کے اس ناقابل ترمیم فرمان کے چھپانے کے گناہ کے مرتکب ہوئے اوراس طرح انہوں نے امام معصوم سے کفرکر لیا تھا۔صحابہ نے اس طرح اپنی خواہش نفس کوترجیح دی اوراس کے پیچھے چلنے لگے اورسارے ہی دین کوبدل کر رکھ دیا،شریعت میں ترامیم کرڈالیں، اوریہ کہ انہوں نے انتہاء درجے کا ظلم کیا بلکہ وہ سب ہی کافرہوگئے تھے ماسوائے چندیاکچھ زیادہ ہستیوں کوچھوڑکر۔ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :رافضہ کہتے ہیں کہ بلاشبہہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوران جیسے دوسرے اصحاب نفاق میں مبتلا رہے۔رافضہ میں سے بعضے اس بات کویوں کہتے ہیں کہ پہلے تووہ ایمان دارہی تھے لیکن بعدمیں کافرہوگئے تھے۔

    آگے چل کر امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :واَ کثرہم یکفر من خالف قولہم،رافضہ کے اکثریت اپنے مخالفین کی تکفیرکرتی ہے۔ ویسمون اَنفسہم المؤمنین،ومن خالفہم کفارًا،رافضہ اپنے لیے مومن کالفظ استعمال کرتے ہیں اوراپنے مخالفین کو کافر کہتے ہیں ۔ ویجعلون مدائن الاِسلام التی لا تظہر فیہا اَقوالہم دار ردۃ، اَسواء حالاً من مدائن المشرکین والنصاری؛ ولہذا یوالون الیہود والنصاری والمشرکین علی بعض جمہور المسلمین. ومعاداتہم ومحاربتہم، کما عرف من موالاتہم الکفار المشرکین علی جمہور المسلمین، ومن موالاتہم الاِفرنج النصاری علی جمہور المسلمین، ومن موالاتہم الیہود علی جمہور المسلمین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’مسلمانوں کے جن علاقوں میں شیعہ برسراقتدارنہیں ہوتے وہ ان علاقوں کو’ دارالردہ‘ کہتے ہیں ،مشرکین اورنصاری کے علاقوں کو سنی علاقوں سے بہتر سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شیعہ ہمیشہ سنیوں کے مقابلے میں اہل شرک اوریہودیوں کاساتھ دیتے ہیں انگریزوں سے بھی ان کی وفاداری کی یہی وجہ ہے ۔ان کی سیاسی پشت پناہی کے مستحق مسلمانوں کے مقابلے میں یہودی ہواکرتے ہیں ) (مجموع فتاوی ابن تیمیہ)

    قارئین جس طرح یہ بات صحابہ سے لے کر امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ تک تسلیم شدہ حقیقت تھی اسی طرح آج بھی شیعہ کاسیاسی جھکاؤ غیرمسلموں کی طرف ہے۔ عراق اورافغانستان کے سنی علاقوں میں امریکہ کے انگریزوں کی بہ آسانی رسائی کرانے میں ایران کا واضح ہاتھ رہا ہے جس پر ان کے سیاسی قائدین کو فخربھی ہے اوراب تک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی جوہری ترقی میں روزبروزاضافہ ہونے کے باوجود اس پرامریکہ حملہ نہیں کرتاجبکہ صومالیہ میں منتخب اسلامی حکومت پر اپنے حمایت یافتہ پٹھو حکومتوں سے حملہ کروا دیتاہے، اس لیے کہ اول الذکرشیعہ ہیں اورثانی الذکرسنی ہیں ۔

    رافضہ کا معاملہ اس قدر اہل سنت نے واضح کرر کھا ہے کہ جب کسی کو سنی کہاجاتاہے تو اس سے یہی مرادہوتاہے کہ جسے سنی کہاگیاہے وہ شیعہ نہیں ہے۔

    سنی حلقے یہ خدشہ ظاہرکررہے ہیں کہ علامہ یوسف قرضاوی کی صراحت کے بعدرافضہ انہیں ناصبی کہہ کراپنا بغض نکالنے کی کوشش کریں گے۔ عرب ممالک میں سنی علماء نے علامہ یوسف قرضاوی کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کر کے انہیں سنی حلقوں کا تحفظ فراہم کردیا ہے۔پاکستان کے بھی سنی حلقوں کوشیعوں کے ستائے ہوئے علماء کے ساتھ اظہار یک جہتی میں عرب علماء کاساتھ دیناچاہیے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا:المومن اخو المومن یشد بعضہ بعضاً(مومن مومن کابھائی ہی ہے وہ ایک دوسرے کی قوت کا باعث بنتے ہیں ۔)

    قارئین یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ شیعوں کے فریب میں آکر بہت عرصے تک ایران کے لیے سنیوں کے دل کشادہ کرنے کی مخلصانہ کوشش کرنے والے اہل سنت کے ایک بڑے عالم پر یہ بات کھل گئی ہو کہ شیعہ’ اتحاد بین المسلمین‘ کے نام پر محض اپنی نفری ہی بڑھاتے ہیں ۔اس سے پہلے اسی نتیجے پرعالم عرب کے بہت سے ممتاز سنی علماء عرصہ درازتک سنی اورشیعوں میں ’غلط فہمی‘دور کراتے کراتے یہی کہتے سنے گئے کہ شیعہ تو فریب کرتے ہیں ۔مصرکے ممتاز عالم دین اور تلمیذ خاص علامہ محمد عبدہ علامہ محمد رشیدرضا رحمۃ اللہ علیہ، مصرکے سابق وزیراوقاف ڈاکٹر محمد بہی،جامعہ ازھرکے شیخ عبداللطیف سبکی، شام کے اورجامعہ ازھرہی کے پروفیسرڈاکٹرمصطفی سباعی، کبار علماء کمیٹی،جامعہ ازھرکے ممتازعالم دین شیخ محمدعرفہ، اسی کمیٹی کے شیخ طہ محمدساکت اوراب علامہ یوسف قرضاوی۔ان میں سے ہر ایک نے صدق دل سے یہ کوشش کی کہ کفر کے مقابلے میں شیعہ اورسنیوں میں قربت پیدا کی جائے۔سنی واقعتامخلص تھے اوردوسری جانب اسی طرح کے رافضی جنہوں نے بغداد میں کل ہلاکوں خان کوگھسایا تھا توآج امریکہ کو! ایران کے محمدتقی قمی نے مصر میں جس’دارالتقریب‘کی بنیادرکھی تھی اورجس میں مذکورہ بالا سنی جید علماء کی شمولیت یاتائید رہی ہے ان علماء پر بعدازاں جوکچھ منکشف ہوااس کا تذکرہ ہم ان شاءاللہ اگلے شمارے میں کریں گے۔

    • حسین بن عمر says:

      بندہ خدا !
      سلام علیکم و رحمۃ اللہ
      آپکی تحریر پڑھکر بہت خوشی بھی ہوئی اور اطمنان بھی ، میں نے آج پہلی مرتبہ اس بلاگ کو دیکھا اور پڑھا ، رافضیت کے حوالہ آپکا مطالعہ قابل تعریف ہے ، رب تعالی آپکے علم و عمل میں اضافہ فرمائے ، اور امت مسلمہ کو نیک سمجھ عطاء فرمائے ، آپنے بھت کچھ لکھا ، میں سادہ سے الفاظ میں رافضہ شیعہ کے بارے میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ:
      جو کبھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باسعادت و مبارک اولاد رضی اللہ عنہم سے وفا نہ کرسکے وہ کسی اور سے کیسے وفاء کرسکتے ہیں ؟
      جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھ کر سیدنا حسین نواسہ رسول رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا ، اور پھر اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے ، دروازے اور کھڑکیاں بند کرلیں ، نواسہ رسول رضی اللہ عنہ کو اکیلا تن تنہا چھوڑدیا ، اور پھر اُنہی میں سے کافی لوگ فوج میں داخل ہوئے اور نواسہ رسول کو شہید کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کرنے کے بعد اپنے گھروں سے روتے ، پیٹتے ہوئے ، ماتم کرتے ہوئے نکلے یہ کہتے ہوئے کہ ” ہم نہیں تھے “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ایسے بدبختوں سے کسی سنی مسلمان کو خیر و بھلائی کی توقع ہوسکتی ہے؟؟؟
      جو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی عزت کو داغ دار کریں اور مومنوں کی مائیں ازواج مطہّرات رضی اللہ عنہنّ اجمعین کے خلاف غلاظتیں بکیں ، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی محبوب ترین زوجہ پر تہمت لگائیں ،اور جو دنیا و آخرت میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے بازو اور جانثار ساتھی اور سسرِ رسول سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر لعن طعن کو ایمان کا بنیادی رکن قرار دیں ، اور جو دامادِ رسول ذوالنورین سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنی زبانوں کو بے لگام کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے کوئی بھی مسلمان اُن سے اسلام و مسلمانوں کی عزت کی امید کرسکتا ہے؟؟؟
      جنہوں نے قرامطہ کے دور میں کعبۃ اللہ سے حجرِ اسود کو چرایا جو ۳۵ دن تک اُن کے پاس رہا ، جن فاطمیوں کو ایّوبی نے سبق سکھایا ، جنہوں نے ہر زمانے میں موقع پاکر سنّیوں کو ذبح کیا ، اور آج بھی عراق و شام میں کر رہے ہیں ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ظالموں اور بدکاروں سے رحمت و شفقت اور نیکی امید کرنا سوائے ہلاکت و بربادی کے کچھ نہیں ۔
      حیرت اُن سنّی مسلمانوں پر جو اتنا سب کچھ جاننے کے باوجود بھی آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں؟؟؟؟
      اگر کسی کے متعصب شیعہ کے حمایتی کے پاس میرے ان سوالوں کا جواب ہے تو وہ ازراہِ کرم و احسان ضرور مجھے مطلع کرے اور میری اصلاح کرے:
      کیا آج تک قرآن کریم کی کوئی بھی علمی یا عملی خدمت شیعوں نے کی ہے؟ اگر ہاں تو کیا اور کب ؟؟؟
      اللہ تعالی کے پاک کلام کا کوئی ایسا قاری جسکی تلاوت سے دنیا واقف ہو؟؟؟ اگر ہاں تو کون ؟؟؟
      کیا آج تک حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی خدمت ، علومِ حدیث کے کسی بھی شعبہ میں ، کوئی کتاب ، کوئی تحقیق ، کوئی معتبر محدّث ، کوئی حدیث کا امام جو سنّیوں کا نہیں صرف اُن کا امام ہو ، کچھ بھی اگر شیعوں کی طرف اسلام و مسلمانوں کے لیے ہو تو بتائیے کب اور کہاں ؟؟؟
      کیا اسلامی تاریخ میں کوئی بھی ایسا اسلامی معرکہ یا جنگ جو شیعوں نے لڑی ہو مسلمانوں سے نہیں بلکہ صلیبیوں سے ، یہودیوں ، تاتاریوں سے ، ہندوں و مجوسیوں سے ؟؟؟؟ اگر ہاں تو مجھے بتاکر میرے فکر کو اس حوالہ سے تبدیل کریں کہ شیعوں نے جنگ تو کی ہے مگر مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ مسلمانوں سے کی ہے جو وہ آج بھی شام و عراق میں کر رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف کافروں کی مدد کے لیے کی ہے ، حتی کہ فاتح فلسطین سلطان صلاح الدین ایّوبی رحمہ اللہ کو بھی نہیں بخشا ، اور وہ آج بھی اپنے اس کام کے ساتھ بہت مخلص ہیں جسکا ثبوت ، افغانستان ، عراق ، شام ، یمن ، بحرین وغیرہ میں دیکھا جاسکتا ہے،
      کیا اسلامی تاریخ میں کوئی بھی ایسا شیعہ فاتح ، ہیرو ، مجاہد ہے جسے دنیا اسلامی فاتح کے نام سے جانتی ہو ؟؟ ہاں میر جعفر و میر صادق کو دنیا آج تک نہیں بھولی !!!
      آخر کیا وجہ ہے کہ خلفائے راشدین میں خلفائے ثلاثہ سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں اور اسی طرح سیدنا معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے زمانے میں بھی اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا اور دائرہ کار بڑھتا ہی چلا گیا لیکن خلیفہ رابع دامادِ رسول پدرِ حسنین اور سرتاج سیدہ فاطمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانہ میں اسلامی فتوحات کا دائرہ تقریباً رُک ہی گیا ؟؟؟ جواب صرف یہ ہے کہ یہ صرف اور غیر صحابہ شیعانِ علی کی وجہ سے ہوا ، جن کا ساتھ سیدنا علی رضوان اللہ علیہ کو فائدہ نہ دے سکا وہ کسی اور کو کیا دیگا ؟؟؟؟
      اس طرح کے اور بہت سے نا ختم ہونے والے سوالات ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کے جواب سے تاریخ خالی ہے ، اگر کسی حامی شیعیت و شیعہ کے پاس ہیں تو وہ ہمیں دے ورنہ للہ اب بھی وقت ہے آنکھیں کھولیں اور اس غفلت کی نیند سے جاگیں اپنوں اور غیروں ، دوستوں اور دشمنوں میں فرق کو پہچانیں ، اہلِ حق کا ساتھ دیں اور اہلِ باطل کے خلاف کمر بستہ ہوجائیں کہ باطل کا انجام سوائے شکست و بربادی کے کچھ نہیں ۔
      عطاء کردے انہیں یا رب بصارت بھی بصیرت بھی

  35. بندہ خدا says:

    میرا نام بندہ خدا نہیں اور نہ مجھے پتا تھا کہ اس نام سے کوئی اور بھی لکھتا ہے یہ ایک فرضی نام ہے غلطی کی معذرت

  36. viagra says:

    I think that is right bout that. Nice info and thanks. Need to get in google feed.

  37. Crazy Prince says:

    Ghamidi is an *********. you know what I mean!

  38. نعمان نیر کلاچوی says:

    محترم المقام کاشف صاحب نہایت ادب کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ براہ کرم شخصیت پر تنقید کرنے سے گریز کیا کریں کیونکہ شخصیت پر تنقید صرف خدا کا حق ہے ہمیں ہرگز یہ اختیار حاصل نہیں کہ کسی کے حق و بطل کا فیصلہ اپنے معلوماتی فہم پر کریں آپ بے شک غامدی صاحب کے علمی کام پر تنقید کرسکتے ہیں اگر آپ اس قابل ہیں تو……(علمی پس منظر)
    یقین جانیئے راقم موصوف کو بڑے قریب سے جانتا ہے بغیر کسی تعصب اور نفسیاتی ارتکاز کے عرض کررہا ہوں کہ موصوف نے علم وتحقیق میں بال سفید کئے ہیں……عزیز من! اگر آپ اپنے اندر تحقیق واجتہاد کی صلاحیت پاتے ہیں تو بسم اللہ آپ موصوف کے علمی وتحقیقی کام پر بے دھڑک نقد کریں مگر صرف دلائل کی بنیاد پر……واضح کردوں محترم کہ علم کی دنیا میں جذبات اور طبعی ارتکاز کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ علمی دنیا میں استدلال کو بنیادی حیثیت حاصل ہے….مجھے اس بات سے قطعا کوئی سروکار نہیں کہ آپ کے جذبات کیا ہیں آپ کا نفسیاتی اور طبعی ارتکاز کس جانب میلان رکھتا ہے مجھے تو بس آپ کا استدلال متاثر کرے گا…
    براہ کرم مجھے آپ اس بات کی اجازت دیں کہ میں بلا تردد یہ کہہ سکوں کہ آپ کی درج بالا تحریر کی کوئی علمی حیثیت نہیں…
    باقی رہی آپ کے نفسیاتی اور طبعی ارتکاز کی تو معاف کیجئے گا مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں اور وہ اس لئے کہ مجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا………….جزاک اللہ خیرا
    دعا گو

  39. @ محترم نعمان صاحب : آپکے اعتراضات کے بعد میں نے اپنی درج بالا تحریر کا ایک بار پھر بغور جائزہ لیا اور مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا کہ میں نے اپنی اس تحریر میں کہیں بھی غامدی صاحب کی شخصیت کو موضوع بحث نہیں بنایا بلکہ اس طالب علم نے تو فقط غامدی صاحب کے اصول دین، فہم اسلام اور عوامی و تبلیغی کام پر اعتراضات داخل دفتر کئے ہیں، جس کا مجھے پورا پورا استحقاق حاصل ہے۔

    غامدی صاحب اور انکے حامی ناقدین کا ایک مسئلہ میری سمجھ سے بالاتر ہے اور وہ یہ کہ انکے نزدیک غامدی صاحب پر آج تک کوئی بھی مدلل اعتراض ہوا ہی نہیں، روایتی مولوی تو ایک طرف ڈاکٹر اسرار احمد ایسے جدید دنیا کی دلیل اور منطق میں بات کرنے والے اسکالرز کے اعتراضات کو بھی غیر مددللل قرار دیکر سہولت کے ساتھ مسترد کردیا جاتا ہے تو پھر صاحب میں کیا اور میری اوقات کیا۔ معلوم ہوتا ہےکہ غامدی صاحب اور انکے فکری ہمسفر ہی علم و تدبر اور فہم و فراست کے ناقابل تسخیر معمار ہیں اور دین و شریعت کی تفسیر اور اجہتاد کے تمام تر قوت ان ہی لوگوں کے ہاتھوں میں مکمل ہوچکی ہے۔

    مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ حلقہ غامدی میں میری تحریر سے کس حد تک کھلبلی مچی ہے مجھے تو صرف یہ غرض ہے کہ عام اور سیدھے سادھے مسلمان دبستان سرسید کے نئے اعتزالی اسلام سے دھوکہ نہ کھائیں، سرسید بھی ناکام ہوئے، غلام احمد پرویز بھی ناکام ہوئے اور جاوید احمد غامدی بھی اپنی تمام تر میڈیا پراجیکشن کے باوجود بری طرح پٹ رہے ہیں، باطل باطل ہوتا ہے اور باطل کا انجام ہی مٹ جانا ہے۔

    • عمران علی says:

      محترم کاشف نصیر صاحب،
      حضرت یہ فرمائیے گا کہ “قرآن کریم کی رو سے مرتد کی سزا قتل ” کہاں ہے؟؟ قرآن کریم کی کس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرتد کی سزا موت ہے؟؟؟؟اللہ نے مشرکین کو قتل کرنے کا بھی حکم نہیں دیا ، دریں حالیکہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا “گناہ” شرک ہے، تو مرتد کی سزا اللہ نے موت کیسے تجویز کر دی؟؟؟؟

      • محترم عمران علی صاحب : مرتد سے متعلق احکامات حدیث میں ملتے ہے۔ امام بخاری اپنی صحیح میں ابن عباس سے روایت لاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے اپنا دین بدلہ اسکو قتل کردو۔ اس حدیث کو جمہور علمائے امت نے تواتر کے ساتھ ہر دور میں نقل کیا اور اس کی سند کو صحیح لکھا۔ یہ حدیث کی صحت پر علماء امت کے دلائل کو غامدی صاحب بھی رد نہ کرسکے اور انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے یہ مرتد کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن انہوں نے اس حدیث کی ایک نئی تشریح کر ڈالی کہ یہ حکم عارضی تھا۔ حیرت ہے کہ غامدی صاحب پورے چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں کوئی ایک بھی محدث ایسے نہ تلاش کرسکے جس نے غامدی صاحب سے پہلے اس حدیث کی غامدی صاحب کے فہم کے مطابق تشریح کی ہو۔ امت مسلمہ نے ہمیشہ اس حکم کو دائمی سمجھا اور ہر آئمہ نے اس حکم کو اپنی اپنی فقہ میں قائم رکھا۔

  40. محمد اسلام says:

    بھت خوب

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>