صفحہ اوّل » تاریخ، سیاست اور پاکستان, دینیات کی کتاب سے, کاشف نامہ

گھرکب آؤ گے

مصنف: وقت: ہفتہ، 2 اکتوبر 201029 تبصرے

لاکھوں کروڑوں لوگ ایک آس کی پیاس لئے شدید بے چینی میں تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے ہوائی اڈے سے دارلسلطنت تک ایک لمبی قطار بنا رکھی ہے کہ تمہارا فقید المثال استقبال کرسکیں۔ نوجوان سب سے آگے اور مستعد ہیں، بزرگ بھی تمہاری نشان راہ تک رہے ہیں اور بچوں کا بھی ایک جم غفیر ہے۔ انکے ہاتھوں میں ہار ہیں، انکے لبوں پر والہانہ پن ہے اور انکی آنکھوں میں امید کے چراغ جل رہے ہیں۔ خدا کی قسم ایسا استقبال آج تک کسی کا نہیں ہوا ہوگا، پرویز مشرف تم گھرکب آؤ گے، دیکھو یہ قوم کس طرح تمہاری منتظر ہے۔

استقبالیوں میں سب سے آگے جواں سال حسان اپنی دادی کے ساتھ کھڑا چچا جان سے خوش گپیوں میں مصروف ہے اور اسکی دادی کی پشت پر جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے آٹھ سو طلبہ و طالبات پھولے نہیں سما رہے۔ دائیں سمت پر کشمیر کے ایک لاکھ بیس ہزار کفن پوش اور بائیں سمت پر افغانستان اور قبائلستان کے ایک لاکھ مرد و زن۔ضعیف اکبر بگتی بھی نظر آرہے ہیں اور چھ ماہ کا سلیمان بھی، مرحومہ بے نظیر بھی ہیں اور درجنوں مقتول علماکرام بھی۔یہی نہیں لاہور سے علامہ اقبال بھی آئے ہوئے ہیں اور کرچی سے قائد اعظم و قائد ملت بھی۔ آخرپرویز مشرف تمہاری شخصیت اور کردار میں ایسا کیا خاص ہے جو عدم کے یہ مسافر بھی اپنی اپنی گوشہ نشینی چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور منتظر فردا ہیں۔

سنا ہے کہ ابھی وہ ہزاروں لوگ جو تم نے لاپتہ کردئے تھے کے اہل خانہ بھی تمہارا پوچھتے ہوئے آئیں گے اور وہ ہزاروں اسیران ملت جو گوانتانوبے اور بگرام کے زندان خانوں میں پابند سلاسل ہیں بھی تمارے منطقی انجام کی خصوصی دعائیں کریں گے۔ تمہارے ہجر میں فردا ڈاکڑ عبدالقدیر خان بھی سخت اضطرابی کیفیت میں ایک گلدستہ لئے اپنے لان کا چکر لگا رہے ہیں، ڈاکٹر شازیہ بھی امریکہ سے خصوصی طور پر ایک تحفہ لے کر تمہارے لئے آرہی ہیں اور چیف جسٹس اوف پاکستان بھی اپنے دو برسوں کی خوش گوار یادوں کا سرمایہ تمہارے قدموں میں بچھانے کے لئے بے چین ہیں۔لیکن پرویز مشرف تم گھر کب آؤ گے!

تم نے نو برس تک پورے جاہ جلال کےساتھ اس قوم کی تقدیر پر اکیلا راج کیا، راج ایسا کہ بات زبان سے نکلے اور عمل پزیر ہوجائے۔ کونسا اختیار تھا جو ہاتھ میں نہیں تھا، کونسی طاقت تھی جو ساتھ نہیں تھی، کونسے وسائل تھے جو بروئے کار نہ لائے جاسکتے تھے۔ لیکن بے حیائی کے سیلاب، فکری انحطاط کے طوفان اور کشت و خون کی برسات کے علاوہ تمہارے اور کون سے کارنامے ہیں جو تم گنواو گے۔

تم نے اور تمہارے حورایوں نے اقصادی اور معاشی ترقی کے بڑے بڑے بت کھڑے کئے لیکن وہ صرف چند ٹھوکروں سے گر کر پاش پاش ہوگئے۔ آج پھر تم اس ملک کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لانے کی بات کررہے ہو لیکن جب تمہارے نام کا سکہ چلتا تھا تو تم نے اس سمت میں کیا کیا تھا، کیا یہ بتانا پسند کرو گے کہ تم نے کتنے ڈیم بنوائے تھے، کتنی بجلی گھر لگوائے تھے، کتنے موٹر وے اور ہوائی اڈے بنوائے تھےاور کتنی صنعتیں لگوائیں تھیں۔ کیا تم نے شہد کی نہریں جاری کردی تھیں، کیا تم نے اسٹیل کو منافع بخش بنادیا تھا، کیا تم نے کرپشن کا خاتمہ کردیا تھا۔ نہیں تو تم نے کیا کیا، سوائے اس قوم کو پیچھے کی سمت لے جانے کہ۔

تم نے تو اس ملک کو بھارت اور بنگلا دیش سے بھی بیس سال پیچھے کردیا ہے۔کیا تعلیم کے شعبے میں جس رفتار ان دو ممالک نے پچھلی ایک دہائی میں ترقی کی اسکا نصف بھی یہ قوم دیکھ سکی،کیا آئی ٹی وی، توانائی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں ہی انکا کسی سطح پر مقابلہ کیا جاسکا یا کیا علاج معالجہ اور صحت کی سہولیات میں ہی ان کو زیر کیا جاسکا۔

تم نے نو سال روشن خیالی اور جدت پسندی کے راگ الاپے لیکن کیا سائنس و ٹکنالوجی کے میدان کوئی ایک بھی ایسا کارنامہ ہے جسے تم اپنی چھاتی پر سجا سکو۔ تم نے نو سال خوشحالی کے بلند بانگ نعرے لگائے لیکن متوسط طبقے کو لیز پر لی گئی گاڑیوں اور مکانات جن کے سود بھرنے سے اب وہ قاصر ہیں اور کیا ملا، کیا افراط زر کی شرح میں مجموعی طور پر سو گناہ اضافہ نہیں ہوا، کیا غریب غریب تر اور امیر امیر تر نہیں ہوگیا، کیا بے روزگاری اور خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ نہیں ہوا، کیا غیر ملکی قرضوں میں تین گنا اور ملکی قرضوں میں دو گنا اضافہ نہیں ہوا۔کیا ٹیکسٹائل کی صنعت برباد نہیں ہوگئی کیا پی آئی اے خسارے میں نہیں چلا گیا، کیا تم نے قومی اداروں کو کوڑیوں کے دام من پسند افراد کو فروخت نہیں کردیا، کیا اسٹاک ایکسینج کی کساد بازاری میں بڑی مچھلیوں نے چھوٹی مچھلیوں کی زندگی بھر کا سرمایہ ہڑپ نہیں کرلیا، کیا برادر اسلامی ملک کو تاراج کرنے کے لئے جو امداد ملی اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور بد انتظامی نہیں ہوئی اور کیا آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں جو ملکی و غیر ملکی امداد ملی اسے مال مفت دل بے رحم کی عملی صورت نہیں بنایا گیا۔

بے غیرتی اور منافقت کی اعلی مثال دینی ہو، تکبر اور گھمنڈ کے بت کھڑے کرنے ہوں، دین فروشی اور عہد شکنی کا پیمانہ دیکھانا ہو تو اس اکیسوں صدی میں تم سے بڑا عبداللہ بن ابی کون ہے۔ یاد کرو تم چور دروازے سے اقتدار میں آئے اور منتخب وزیر اعظم کو پاپند سلاسل کیا، عدلیہ پر شب خون مارا اور ایک ہی وار میں اسے ضمیر فروشوں سے بھر دیا، سودی بینکاری پر پابندی سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آیا تو اللہ سے کھلی جنگ چھیڑ دی، ریفریم ڈیم رچا کر صدر بنے اور پارلمینٹ کو اپنے کھیت کی مولی میں تبدیل کردیا، قوم سے وردی اتارنے کا عہد کیا لیکن عہد شکنی کی مثال بن گئے، محسن پاکستان کو اپنے اقتدار کی سولی پر چڑھا کر بے آبرو کیا، سینکڑوں مسلمانوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کرکے کمال ڈھٹائی سے اپنی کتاب میں اعتراف جرم کیا، شوکت عزیز ایسے عالمی اداروں کے چاکروں کو ملکی معیشت تباہ کرنے کا ٹھیکہ دیا، تمام مکاتب فکر کی سخت مخالفت کے باوجود حدود اللہ میں ترامیم کی جسارت کی، قبائلی علاقوں میں امریکہ سے ڈرون حملے کرواکر محب وطن پاکستانیوں کو افواج پاکستان کے سامنے لاکھڑا کیا، بلوچستان میں ایک بزرگ سیاست دان کو قتل کروا کر بلوچوں میں محرومی کے جزبات راسخ کردئے، بھارت سے دوستی کے نام پر کشمیریوں کی آروزوں کا سودا کیا، لال مسجد میں آٹھ سو معصوم طلبہ و طالبات کے خون کی ہولی کھیلی اور عدلیہ نے سر اٹھایا تو اسے بری طرح کچلنے کے لئے آخری حد تک گئے۔ پرویز مشرف تمہارے کون کون سے جرائم بیان کروں، بس اتنا مت بھولنا کہ تم نے صدیوں ہمارا سکوں لوٹا ہے لیکن اب کی بار تمہارے لئے اقتدار کی کرسی نہیں پھانسی کا پھندا ہے۔

تمہارا معاملہ تو یوں ہے کہ رسی جل گئی لیکن بل ختم نہیں ہوئی، وہی اکڑ، وہی بدمعاشی اور وہی خود پر ناز۔ آج بھی خود کو خدا سمجھتے ہو، آج بھی خود کو عقل کل مانتے ہو اور آج بھی اپنے مخالفین کو گمراہ کہتے ہو۔بلوچستان اور فاٹا میں سورش اور ملک بھر میں سیاسی عدم استحکام کیا تمہارا رچایا ہوا نہیں ہے اور معیشت کی یہ ڈوبتی کشتی اور مہنگائی کی یہ آگ کیا تمہاری لگائی ہوئی نہیں اور کیا یہ موجودہ انتہاپسندی اور دہشت گردی تمہارے دور کی ایجاد نہیں۔ آج تم این آر او پر معافی مانگ رہے ہو لیکن اسکے نتیجے میں جو چور اچکے حکمران ہوئے اسکا حساب کون دیگا۔ جو سرمایہ دارانہ معاشی پالیسی تمہارا ایک حواری بناکر گیا ہے اور جس کا مزا یہ قوم آج تک چکھ رہے ہیں اسکا جواب کون دیگا۔ تمہیں اس ملک سے رفوچکر ہونے پر کس نے مجبور کیا تھا اور آج تم گھر واپسی کی بات کررہے ہو تو کس نے روکا ہے۔ سنتے ہو لاکھوں کروڑوں لوگ ایک آس کی پیاس لئے شدید بے چینی میں تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے ہوائی اڈے سے دارلسلطنت تک ایک لمبی قطار بنا رکھی ہے کہ تمہارے فقید المثال استقبال کرسکیں۔ نوجوان سب سے آگے اور مستعد ہیں، بزرگ بھی تمہاری نشان راہ تک رہے ہیں اور بچوں کا بھی ایک جم غفیر ہے۔ انکے ہاتھوں میں ہار ہیں، انکے لبوں پر والہانہ پن ہے اور انکی آنکھوں میں امید کے چراغ جل رہے ہیں۔ خدا کی قسم ایسا استقبال آج تک کسی کا نہیں ہوا ہوگا، پرویز مشرف تم گھرکب آؤ گے، دیکھو یہ قوم کس طرح تمہاری منتظر ہے۔

 

فیس بک تبصرے

29 تبصرے برائے: گھرکب آؤ گے

  1. بگٹی سے آج ہمدردی جاگی ہے۔ اپنے قبیلے کا مطلق العنان بادشاہ تھا- ظالم اور جابر بھی تھا۔ کئی قتل کر رکھے تھے نواب صاحب نے۔ اگر اپنی ضد میں حادثاتی موت مر گئے تو اپنا ہی نقصان کیا۔
    جامعہ حفصہ میں اگر کچھ معصوم مارے گئے تو قصور ان مسلح باغیوں کا تھا ، نہ کہ پاک فوج کا۔ کون سا ملک اپنے دارالحکومت میں مسلح بغاوت برداشت کرتا ہے؟
    ڈاکٹر قدیر صاحب نے جو کچھ کیا۔ لیبیا کے قذافی صاحب نے قبول کر لیا۔
    اور ضیا کی حدود کو اللہ کی حدود مت کہیں۔ خدا کا خوف کریں۔ باالجبر زیادتی کرے والی عورت کو چار گواہ لانے کا مطالبہ کون سا انصاف ہے؟
    مشرف کی واپسی کا پاکستان کو کم ہی فائدہ ہو گا۔ مجھے تو موصوف سے اتنا گلہ ہے کہ ملا سے دوستی انہیں بھی کرنی پڑی۔

  2. عثمان says:

    طرز تحریر دلچسپ ہے. ایسا لگتا ہے کہ “محبوب” کو خط لکھا گیا ہے. 😀

  3. محترم کاشف نصیر صاحب، دوسرا تبصرہ میں نے ارسال نہیں کیا۔ معلوم نہیں کسطرح شامل ہوا ہے۔

  4. بہت زبردست !!
    بہت پسند آئی یہ تحریر۔
    میں نے کہیں اعلان کیا تھا۔اسے جوتا مارنے والے کو پچاس ہزار دوں گا۔
    آپ نے اتنے سارے تیار کر لئے!!!
    عالم برزخ سے بھی انوائیٹ کر لئے۔
    آج سے میں اپنا اعلان واپس لیتا ہوں۔
    مالخولیائی دیوث کے چانٹے کو جوتے مارنے والے کو ہم کوئی پیسے نہیں دیں گے۔
    ثواب حاصل کر نے کیلئے جوتے ماریں۔

  5. میں آپ کی کافی باتوں سے اختلاف رکھتا ہوں۔ آپ یقینا گلاس آدھا خالی دیکھنے کے عادی ہیں۔

  6. جعفر says:

    عمدہ لکھا ہے
    لطف القادیان صاحب کی تکلیف سمجھ میں آتی ہے
    کیونکہ مشرف انکل اور حضرت گاما بی اے کا مشن ایک ہی تھا

  7. مُش صاحب کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے۔ اور میں تو یاسر صاحب کی طرف سے 50 ہزار کی آس لگائے بیٹھا تھا۔ اب صرف ثواب کے لیے جوتا کاری۔ خیر اگر جوتا کاری کی کوئی چھوٹی موٹی فیس مقرر کردی جائے تو کثیر سرمایہ حاصل ہوسکتا ہے۔ جو کہ معیشت کو استحکام بخشنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟

    اور ہاں تحریر کی تعریف تو رہ ہی گئی۔ زبردست ہے۔

  8. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    کاشف بھائي، آپ نےبہت خوب لکھاہے۔ اس میں کچھـ باتوں سےآپ سےاختلاف ہےکیونکہ ایک آدمی تواتناکچھـ نہیں کرسکتاان کاساتھـ دینےوالےسیاست دانوں کوبھی ساتھـ میں عبرت کانشان بناناچاہیےکیونکہ یہ جنرل ان سیاست دانوں کی بدولت ہی توہمارےکندھوں پرسوار ہوتےہیں۔

    والسلام
    جاویداقبال

  9. السلام علیکم
    ماشاءاللہ بہت خوب لکھا ہے آپ نے کاشف۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بحثیتِ قوم اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتیوں کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن اسی ظلم کرنے والے کو دوبارہ سر آنکھوں پر بھی بٹھاتے ہیں اور پھولوں کے ہار بھی پہناتے ہیں۔ ہمارے رہنما اگر غلطی سے کبھی پکڑے جائیں اور کرپشن کی سزا کاٹ جیل سے نکلیں تو ہمی عوام کا ایک جمِ غفیر ان کے استقبال کو باہر کھڑا ہوتا ہے اور کندھوں پر اٹھا کر زندہ باد کے نعرے لگاتا اپنے ووٹوں کے ذریعے دوبارہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا آتا ہے۔
    مشرف نے جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا اس کے بعد واپسی کا تصور کرنا بھی مشکل تھا لیکن مشرف کو اپنی قوم کی سائیکی معلوم ہے۔ حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو اب بھی ہم لوگوں میں مشرف ازم کا حامی ایک بہت بڑا طبقہ موجود ہے جو واپسی کی صورت میں ان انکل کو بھرپور سہارا دے گا 🙁 

  10. سعد says:

    جو قوم زرداری کو صدر منتخب کر سکتی ہے اسے مشرف کیا چبھتا ہے؟

  11. md says:

    جمات کا نام -آل پاکستان مسلم لیگ ہے – منشورمیں ہے -تمام فیصلے قران اور سنت کے مطا بق ہونگے – یہ سنتے ہی – فلم سٹار میرا، عتیقہ اوڈو، لیلےٰ نے رکنیت کے فارم بھر دئے ہیں – بہت شکریہ

  12. جفر صاحب،
    جماعت احمدیہ کا مشن مشرفوں، شریفوں، زرداریوں کی دنیا سےتعلق ہی نہیں رکھتا – بلکہ مودودیت، قطبیت، پرویزیت، دیوبندیت، بریلویت، وہابیت وغیرہ بھی دنیا کی سیاستیں ہیں۔ احمدیت اللہ تعالیٰ کے نظام کی جماعت ہے۔ خلافت حقہ کی ماننے والی ہے۔
    آپ کو کیا سمجھ ان باتوں کی۔

  13. کاشف بھیا بہت خوب… دل خوش ہو گیا تحریر پڑھ کر. لکھنے کا انداز واقعی بہت عمدہ ہے. آپنے اپنے حصے کے استقبال کا حق ادا کر دیا. الفاظ نہیں تعریف کیلئے…..
    یہ شروع کے تبصروں میں جو گند ہے کچھ سمجھ نہیں آیا.

  14. کاشف بھائی !-

    وہ یعنی بزدل جرنیل واپس آئے تو بہت سی ۔ باتاں۔ ہونگی۔

    مشرف بے غیرت و ننگ وطن ننگ دین ننگ ملت تو تھا ہی مگر ابھی بھی پاکستای قوم میں بہت سے لوگ اسے سرسید کی طرح ملت کا زبردستی رہنماء منوانے پہ منافقانہ زور لگائیں گے۔

    مرز غلام قادیان ملعون مطعون جو ٹٹی میں گر کر مر گیا تھا ۔ اس کذاب کی آخری قسط اور موجودہ دور میں مسلمانوں کی پیٹھ پہ وار کرنے کے لئیے قادیان کے بانیوں نے اسی مشرف بزدل جرنیل کا انتخاب کر رکھا ہے۔جبکہ پوری قوم جرنیل کی نہ صرف مخالفت کرتی ہے بلکہ اس سے ۔حساب۔ صاف کرنا چاہتی ہے۔ تو ظاہری سی بات ہے قادیانیوں یعنی احمدیوں کے پیٹ میں مروڑ تو اٹھے گا۔

  15. احمد says:

    کاشف صاحب نے تازہ تحریر کا زکر کیا اور دریافت فرمایا کہ ہم نے تبصرہ کیوں نہیں کیا؟ اصل میں تو ہم معمولی آدمی ہیں بھلا ہمارے کچھ کہنے سے کیا پونے لگا اور دوسری بات کہ بلاگس لکھنے والے اور تبصرے کرنے والے جو لوگ ہیں انکے ہی برادریوں والے ملک و ملت کو تباہ کرتے ہیں تو ایسی منافقانہ اور مگر مچھی ماحول میں کسی کی نصیحت کیا کام دے گی
    اپنے تبصرے میں عبداللہ ولد الطاف حسین کی خالہ اسماء نیشنل و وفادار پیرس فرانس کا تبصرہ مشرف پر پڑھنے کو ملا اور وہی ہم یہاں لگا کر پوچھنے والے تھے اب کیا فرماتے ہیں علماء بلاگرز؟
    بدقسمتی سے وہ تبصرہ تلاش کرنے پر بھی نہ ملا غالباً بی بی سی پر دیکھا تھا

    حضرت کاشف نے کافی اچھا لکھا ہے مگر بات تب ہوگی جب دل اور بصیرت بھی الفاظ کا ساتھ دے
    صرف مشرف ٹٹو کی کیا حیثیت ہے؟ اسکے ساتھ جو تھے اور جو اسکو لائے تھے اور جن اقوام کا وہ تھا اصل مجرم تو وہی ہیں
    پہلے ملک کا طے کرلو کس کا ہے پھر دیکھیں گے. صاف شفاف ریفرنڈم کروالو جسکا ملک نکلا اسکو دے دیا جائے گا وہ اصل مالک اسکو کیسے چلانا ہے . اگر شیعوں کی اکثریت نکلی تو ملک انکا، قادریوں کی نکلی تو انکا، قادیانیوں کی نکلی تو انکا اور اگر کسی اور کی نکلی تو انکو دینا ہوگا
    اسلام کے نام پر دھوکا کیا گیا ہے، مسلم لیگ میں بے دین ، دین بیزار، شیعہ ، قادیانی اوپر بیٹھے تھے خون مسلمانوں کا استعمال ہوا اور اب تک دھوکا ہورہا یے
    مزید وقت لینے اور الو بنانے کو اب سپریم کوٹ نے نیا لبادہ لے لیا ہے فوج کل مسلمان بنی پھرتی تھی آج کل جام لٹاتی ہے
    اگر ملک میں ختم نبوت پر ایمان لانے والا ہی صدر بنتا ہے تو زرداری کیسے بن گیا؟ کوئی بتائے گا یا ہم بتائیں؟

    دودو ہاتھ ہونے تک اب فیصلہ نہیں ہونے لگا اور مجرم کو سزا نہیں ملنے لگی
    جہاد سیف کا اور جہاد تبلیغ کا یہ دونوں جب عروج پر پہنچیں گے تو اس بات کا تصفیہ ہوگا اور ملک بناتے ہوئے جو دھوکا دیا گیا تھا اسکا بھی خاتمہ ہوگا

    بلاگز لکھتے رہنے سے جس مین دل اور بصیرت بھی ساتھ نہ دے اور جلوس نکالتے رہنے اور چیف چیف کرنے رہنے سے یہ ظلم نہیں ختم ہوگا

    امید ہے پاکستانی پراٹھے کی طرح تبصرہ طبیعت زیادہ بھری نہیں کزرا ہوگا اور باقی جن پر گزرا ہے تو انکی پروا نہیں انکی قوم کا اعمال نامہ تھا

  16. احمد says:

    اس ملک کی جگہ ایک نیا ملک بنے گا یہ ہو کر رہے گا اب دو طبقات ہیں
    ایک ملک ٹکڑے کرکے اپنا اپنا حصہ لینا چاہتا ہے یعنی ایک آج کا بنگالی طبقہ ہے جس کے پیچھے وہی لوگ ہیں جو کل کے بنگالی کے پیچھے تھے ہاتھ انکے بھی کچھ نہیں آیا ہاتھ انکے بھی کچھ نہیں آئے گا
    ایران بلوچستان کا کے خواب دیکھ رہا ہے امید ہے پھر جماعت اسلامی وہاں چلی جائے گی
    قادیانی اپنے حصہ کیلئے رال ٹپکاتے ہیں
    اور ساگ کھانے اور لسی پینے والے قادری اپنی خدمات کا صلہ مانگنے واشنگٹن تک چلے گئے

    دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کا آج کل خون بہایا جارہا یے اور علماء شہید کئے جارہے ہیں وہ کہتے ہیں ملک رہے گا مگر اسکی حدود کم نہیں بلکہ بڑھے گی اور اس میں خلفاء راشدین کا نظام آئے گا

    یعنی ملک کا کچھ ہونے ہی والا ہے اب زیادہ دیر لولی پاپ اور کورٹ پاپ کا چکر نہیں چلنے لگا

    مگر آثار یہی بتاتے ہیں کہ پہلے طبقہ کے ہاتھ صرف زلت آئے گی انشاء اللہ

  17. احمد says:

    قادیان کا بھونپو کہتا ہے
    “جعفر صاحب،
    جماعت احمدیہ کا مشن مشرفوں، شریفوں، زرداریوں کی دنیا سےتعلق ہی نہیں رکھتا – بلکہ مودودیت، قطبیت، پرویزیت، دیوبندیت، بریلویت، وہابیت وغیرہ بھی دنیا کی سیاستیں ہیں۔”
    یہ سب جانتے ہیں کہ مشرف کے ساتھ سارے قادیانی اور شیعہ تھے، اسکی بیوی بھی قادیانی ہے. ہم اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں ہمارے پاس بہت بڑی گواہی موجود ہے کہ خود مشرف بھی قادیانی تھا اور اب لطف القادیان کہتا ہے انسے ہمارا تعلق نہیں
    اپنے قبیلے کی پردہ پوشی جس کو ہم فیس میکنگ کہتے ہیں کیلئے دیوبندیت، وہابیت کا نام بھی لے دیا مگر یہ خبیث یہ نہیں جانتے کہ یہ پہلوں کی طرح نہ کوئی فرقہ ہے، نہ مزہب اور نہ سنت اور اصحاب رسول سے انحراف.
    یہی جوہ یہ کہ اب سارے کافر اور ابن یہود شیعہ اور قادری پادری سب کھل کر سامنے آگئے ہیں اور انہی کو ٹارگٹ کر رکھا ہے
    جہاد میں بھی اب یہ تنہا ہیں ان ہی کا سر کٹ رہا ہے، قلم بھی انہی کے خلاف ہے اور ساری دنیا ملک مٹانے کے درپے ہے. اب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اصحاب رسول کی پیروی کرنے اور قربانی دینے والوں کا نام فتنہ پردازوں کے ساتھ لکھا جائے؟
    جن لوگوں نے قادیانیوں کا بنایا اور اٹھایا انہی نے شیعوں،مودودیت، قطبیت، پرویزیت، بریلویت اور آجکل نے نئے فتنوں کی پرورش کی اور اب تو پردے بھی اٹنے لگے ہیں
    دوسرا سوال یہ بھی ہے کہ قادیانی نے اپنے سے بھی بڑے فتنے کا نام کیوں نہیںلیا؟

    کیسا آزمائش کا دور ہے. باتیں کرنا آسان ہے. ہماری طرح تبصرہ لھ دینا آسان سا کام ہے مگرکفار اور انکے لے پالکوں سے ٹکرا جانا اور راہ خدا گردن کٹا دینا بہت مشکل کام ہے، بے شک آگے مرتبے بھی انہی کے ہیں

    اے مجاہدو!
    یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تمہارے ہیں

  18. بھئی صاحب، مشرف صاحب آپ سنیوں کو مبارک ہوں۔ احمدی کم از کم باعمل مسلمان لگنے چاھیئں۔ اگر کسی کے بارہ میں کہا جائے کہ بے ایمان ہے، بد اخلاق ہے اوراحمدی ہے تو سخت تعجب ہوتا ہے۔ شاز ہی ایسی باتیں سچ ثابت ہوتی ہیں۔
    میرے علم میں کوئی ایسا مشرف کا حامی نہیں جو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہو- ہاںملا اور ملا نواز قسم کے موقع پرستوں کوہر “لبرل ٹائپ“ کو احمدی قرار دینے کا شوق ہے۔
    باقی آپ رہیں اور آپ کی خود ساختہ سازشیں۔

    سلام

  19. مشرف جیسے فضول ٹاپک پر تو غصے کے مارے گفتگو بھی صحیح طرح نہیں ہوپاتی آپ نے پتا نہیں اتنی بڑی تحریر کیسے لکھ دی ۔ کیا بلڈ پریشر نارمل کرنے والی گولیاں ساتھ ہی رکھی تھیں
    مع السلام
    عرفان بلوچ

  20. عبداللہ says:

    وہ تو خیر جب آنا ہوگا تب آہی جائے گا یہ بتاؤ کہ تم کب جاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افغانستان جہاد کرنے جس کا ڈھنڈھورا تم دن رات پیٹتے رہتے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  21. عبداللہ says:

    کاشف نصیر یہ ہے روشن خیال اسلام کی ایک شکل !!!!!!!!!

    http://www.voanews.com/urdu/news/American-Muslims-Gathering-08Oct10-104581059.html

  22. پرویز مشرف کے لئے میں بہت کچھ لکھنا اور کہنا چاہتا ہوں مگر افسوس نہ ہی تہذیب اسکی اجازت دیتی ہے اور نہ کوئی نہایت بری گلی اس کم کا حق ادا کرسکتی ہے.کاش کہ وہ وقت آۓ جب اس ملعون سے اس کے جرائم کا حساب لیا جاسکے اور اس شیطان لعين کو عبرت کی ایک مثال بنایا جا سکے. انشا الله مجھے اس منصف اعلۍ سے یہ امید ہے کے وہ اس لعنتى کردار کو ضرور اسکے انجام تک پوھنچاۓ گا. آمین

  23. پرویز مشرف کے لاتعداد جرائم میں دین سے بغاوت کا بیج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بونا بھی ہے. اسنے جس فصل کی آبیاری کی وہ پک چکی ہے. اسی صفحہ پر عبدللہ کا تبصرہ اس بات کی ایک واضح مثال ہے. یہ لوگ دین کو سمجھنے کے لیے بھی قرآن و سنّت کی بجاۓ امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں. کسی نے سچ ہی کہا کہ بلندیوں کی طرف سفر میں ایک حد ہوتی ہے جبکہ پستیوں کا سفر غیر محدود ہوتا ہے. جتنا چاہو نیچے گرتے چلے جاؤ

  24. abdulla adam says:

    jo chup rahay ge zuban e khanjr
    laho pukaray ga aasteen ka

  25. محترم ڈاکٹر جواد صاحب، مشرف صاحب سے قبل امیر الموءمنین ضیاءالحق، خلیفۃالمسلمین نواز شریف ، دختر مشرق بینظیر، قائد عوام بھٹو، فیلڈ مارشل ایوب خان، سب کے سب امریکہ کو قبلہ بنائے ہوئے تھے۔ مشرف کو الزام دینا ناانصافی ہے۔

  26. لطف السلام صاحب
    آپکے جذبات پرویز مشرّف کے لیے قبل فہم ہیں. پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام بے دین، قادیانی ، شیعہ اور تمام دین بیزار لوگوں کی جو خدمت پرویز مشرّف نے کی ہے شاید ہی کوئی اور کرسکے. دنیا میں تو شاید ان جرائم کا حساب نہیں لیا جاسکے لیکن ملک کو ایک خونی جنگ میں محض اپنے اقتدار کی خاطر دھکیل دینا، معصوم پاکستانیوں کو امریکا کے ہوتھوں فروخت کردینا ، امریکیوں کو پاکستان میں دروں حملوں کی اجازت دینا، جامعہ حفصہ میں معصوم بچیوں کا قتل عام، ڈاکٹر عافیہ کو امریکی درندوں کے حوالے کرنا، ڈاکٹر عبدل قدیر خان کی ڈی بریفنگ اور انکے ساتھ مجرموں والا سلوک ، بلیک واٹر جیسی بنام زمانہ تنظیموں کو پاکستانیوں کے قتل کی اجازت دینا اور ایٹمی پروگرم کو تقریباً ختم کر دینا ایسے جرائم ہیں جن کی دنیا کے کسی قانون میں کوئی گنجائش نہیں نا ہی کوئی زندہ قوم ان جرائم کو برداشت کر سکتی ہے .
    جن حکمرانوں کا نام اپنے لیا ان پر بد عنوانی ، اقربا پروری یا آئین کی خلاف ورزی کے الزامات تو عائد ہو سکیں مگر ان میں سے کسی کے بارے میں یہ نہیں کہ سکتے کے وہ قومی مجرم یا امریکا کا ایجنٹ ہے . یہ اسکی خدمات ہی تو ہیں ہے ابھی تک وہ ایک سربراہ مملکت کا پروٹوکول اور تحفظ لے رہا ہے. حالانکہ پرویز مشرّف جیسے لوگوں کو استعمار ٹویلٹ پیپر کی طرح استعمال کر کے پھینک دیتا ہے. پرویز مشرّف نے پاکستان کے خلاف وہ جرائم کیے ہیں جنہیں آج تک کوئی دوسرا نا کر سکا اور نا شاید آئندہ کر سکے گا.

  27. عبداللہ says:

    مسٹر جواد ،ڈاکٹریٹ تو جناب نے غالبا نفرت پھیلانے میں کی ہے،خیر،
    میری باتیں آپ جیسے کم عقلوں کے لیئے ہوتی بھی نہیں ہیں ،گھٹن میں پل کر بڑے ہونے والوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کی سوچ سطحی ہوکر رہ جاتی ہے،
    رہی دین کو سمجھ نے کے لیئے قرآن و سنت کے علم کی بات تو الحمدللہ اللہ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے دین کا صحیح فہم عطا فرمایا مجھ ناچیز کو!

  28. لطف القادیان تم صرف اتنا لکھ دیا کرو کہ تم قادیانی ہو ، اتنا لمبا تبصرہ کر کے کیوں انگلیاں تھکاتے ہو ۔ ہمیں باقی بات ویسے ہی سمجھ آجاے گی کہ اس پوسٹ میں تم نے کیا لکھنا تھا ۔ صرف آئیندہ سے اتنا لکھنا کہ میں قادیانی ہوں ۔ بات ختم

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>