صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

امید اور ناامیدی کے درمیان

مصنف: وقت: بدھ، 17 اپریل 2013کوئی تبصرہ نہیں

جیسے جیسے 11 مئی کا دن قریب آرہا ہے ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے، پہلے سے ہی سورش زدہ وفاق کے انتظام قبائلی علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں صرف پچھلے دو روز میں تشدد کے مختلف واقعات میں سو سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف تو نگران حکومتیں اور الیکشن کمیشن اوف پاکستان کے کانوں پر جوں نہیں رینگ رہی اور پاکستانی تاریخ کے اس نازک ترین انتخابات کو غیر سنجیدہ لیا جارہا ہے تو دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومینٹ بطور سابق حکمران اس کشیدہ صورتحال کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے اسے اپنے خلاف سازش قرار دیکر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے۔مختصر لفظوں میں یوں لگتا ہے کہ جیسے فخرو الدین جی ابراہیم اینڈ کمپنی انتخابات کے انعقاد سے زیادہ جمہوریت اور الیکشن کمیشن کو تماشہ بنانے اور سابقہ حکمران جماعتیں اپنی مایوس کن کارگردگی کو مظلومیت کے پردے پیچھے چھپانا چاہتی ہیں لیکن ان تمام مایوس کن حالات کے باوجود میری امیدیں جوان ہیں، کسی کے کچھ کرنے یا کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، انتخابات ہونے ہیں سو ہونگے، مثبت نتیجہ آنا ہے سو آئے گا۔

ایم کیو ایم، اے این پی اور پاکستان پیپلز پارٹی پر مشتمل روشن خیالوں جماعتوں کی حکومت پچھلے پانچ برسوں سے مسلسل برسراقتدار تھی لیکن یہ جماعتیں اچھی حکمرانی کو درکنار ملک میں امن و امان قائم رکھنے میں بھی بری طرح ناکام رہیں۔ ان کے پانچ سالہ دور اقتدار میں صرف کراچی میں تشدد کے مختلف واقعات میں آٹھ ہزار افراد قتل کئے گئے جبکہ اسٹریٹ کرائم، اغوا برائے تاوان اور رہزنی کے واقعات میں بھی دو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات تو یہ تھی کہ یہ تینوں جماعتیں پانچ سالوں تک بجائے حالات کو سدھارنے کی سنجیدہ کوششوں کہ ایک دوسروں کو ان واقعات کے لئے مورد الزام ٹھراتی رہیں حالانکہ تینوں جماعتوں کے سیاسی نظریات کم و بیش یکساں، سیاسی مفادات ایک دوسرے سے وابستہ اور سیاسی حلقہ انتخاب ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں اور اس الزام تراشیوں کا سوائے اسکے کوئی جواز نہ تھا کہ ان تینوں میں ہی یہ خرابیاں بدرجہ اتم موجود ہوں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ روشن خیال جماعتوں کی یہ حکومت مثالی ثابت ہوتا، ملک دور آمریت میں ملوث کی گئی جنگ سے باہر آجاتا، بلوچستان میں سورش کا خاتمہ ہوتا، روشن خیالی اور تعلیم عام ہوجاتی، قانون کی حکمرانی قائم ہوتی، خواتین کو انکا جائز مقام حاصل ہوتا اور اقلیتوں کو انکے غضب شدہ حقوق واپس ملتے لیکن ہوا کیا ملک غیر ملکی جنگ کے ڈھڑے میں ڈوبتا چلا گیا، بلوچستان میں علیحدگی کی لہرقابو سے باہر ہوگئی، مذہبی انتہاپسندی میں اضافہ ہوا ، تعلیم عام کیا ہوتی جعلی ڈگریاں عام ہوگئی، قانون کی حکمرانی معمہ بن گئی ، خواتین پر تشدد کے واقعات میں سو فیصد اضافہ ہوا اور اقلیتوں کا جینا محال ہوگیا۔اگر آج ملک میں امن نہیں ہے،” دہشت گرد” مظبوط ہوتے جارہے ہیں اور ان عسکریت پسند ان تین جماعتوں کے جانی دشمن بن چکے ہیں تو اس میں کسی اور کا نہیں خود انکا قصور ہے، انکی ناقص حکمرانی ،، انکی نااہل انتظامیہ کا قصور ہے اور نہ غلط پالیسیوں کا قصور ہے۔ آج ان سیکولر جماعتوں کو چاہئے کہ کسی اور کو مورد الزام ٹھرانے کے بجائے خندا پیشانی سے اس بات کا اعتراف کریں انکی نام نہاد لبرل حکومت اپنے آپس کی لڑائیوں اور بدحکمرانی کے سبب ترقی اور روشن خیالی کے راستے پر ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہیں اور آج یہ حال ہوگیا کہوطن عزیز میں آزادنہ انتخابات کا انعقاد بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں لگتا۔

حکومت گئی تو نگران حکومت اور الیکشن کمیشن بھی عجیب لائی ہے، میری رائے میں نگران حکومت کا تصور ہی غلط ہے اور اسکا ثبوت طویل غور و غوز کے بعد اتفاق رائے سے قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں کے ایک ماہ کے کارنامے ہیں۔ الیکشن کمیشن سے مگر یہ امیدیں نہیں تھیں، فخروالدین جی ابراہیم ضعیف ضرور ہیں لیکن انکی ایمان داری کی شہرت کے پیچھے انکا ضعف چھپ جاتا تھا۔ اب لگتا ہے میری غلط تھی، تاریخ کی اس سب سے زیادہ آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن نے خود کو اب تک صرف بے اثر ثابت کیا ہے، ضمنی انتخابات کی شکل میں اپنے سب سے پہلے امتحان میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد عام انتخابات کے انتظامات بھی میری سابقہ رائے میں تبدیلی کا سبب بن رہے ہیں۔ کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کےنام پر دستور پاکستان کے شق 62 اور 63 کوتماشہ بنایا گیا، کراچی میں نئی حلقہ بندیوں اور ووٹرز کی تصدیق سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کو مزاق بنایاگیا، نگران حکومتیں جانب داری کا مظاہرہ کررہی ہیں اور چیف الیکشن کمیشنر کسی بے پرواہ کبوتر کی طرح اپنی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ مختصر لفظوں میں یوں لگتا ہے کہ جیسے فخرو الدین جی ابراہیم اینڈ کمپنی انتخابات کے انعقاد سے زیادہ جمہوریت اور الیکشن کمیشن کو تماشہ بنانے اور سابقہ حکمران جماعتیں اپنی مایوس کن کارگردگی کو مظلومیت کے پردے پیچھے چھپانا چاہتی ہیں لیکن ان تمام مایوس کن حالات کے باوجود میری امیدیں جوان ہیں، کسی کے کچھ کرنے یا کرنے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، انتخابات ہونے ہیں سو ہونگے، مثبت نتیجہ آنا ہے سو آئے گا۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>