صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

کپتان اور تحریک انصاف

مصنف: وقت: اتوار، 21 اپریل 201317 تبصرے

تبدیلی کون نہیں چاہتا لیکن تحریک انصاف کو تبدیلی کا نشان سمجھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ بیساکھیوں کے سہارے پر کھڑی یہ جماعت اپنے پچھلے تمام امتحانات میں بری ناکام ہوکر ابن الوقت سیاستدانوں کے گھر کی لونڈی، خون آلود نظام کے ٹھیکے داروں کا مسکن اور نااقبت اندیش پیشہ وروں کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئی ہے۔ مسئلہ ہرگز کپتان سے نہیں، اسکی ذات محترم ہے۔ جھوٹ، وعدہ خلافی اور بدعنوانی کا کوئی داغ اسکی شخصیت کو مسخ نہیں کرتا، وہ مستقل مزاج، نڈر اور مخلص ہے اور اس میں بقدر ضرورت لیڈری جمانے اور لوگوں کو مرعوب رکھنے کی صلاحیت بھی ہے لیکن ان تمام اوصاف کے باوجود وہ انتظامی اہلیت سے محروم، سیاسی تدبر سے خالی، نظریاتی فکر میں کنفیوژ اور سب سے بڑھ احمقوں کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ کپتان غلطیاں کررہا ہے اور افسوس کہ ان غلطیوں پر مسلسل اصرار ہے۔ ناقدین تو ایک طرف اب ہارون رشید، حسن نثار اور مبشرلقمان ایسے ہمنوا بھی مضطرب اور فکرمند ہیں۔

تحریک انصاف کی سولہ سالہ تاریخ ایک طرف ہے اور دوسری طرف پچھلا ایک سال، گویا ایک طرف تنظیمی بدحالی ہے اور دوسری طرف چوں کا مربع، بندا جائے تو جائے کدھر۔ انقلابیوں کا دعوا ہے کہ خوبیوں کی بنیاد پر کپتان کی ذات پر یقین کیا جائے، کئی دفعہ یقین کرنے کو دل چاہا لیکن خامیاں در خامیاں سامنے آنے لگیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ حسن ظن اتنا نہیں ہونا چاہئے کہ دن کو رات اور رات کو دن مان لیا جائے، خرافات کو حقیقت پر قیاس کیا جائے اور کھوٹے سکوں اور جواہرات میں تمیز ختم کردی جائے۔ ایسے روئے قوموں کو مشکلات سے دوچار کرتے ہیں اور منزل کہیں قریب آکر کھوجاتی ہے۔ شاہرائے زندگی میں معاملہ اجتماعی ہو یانفرادی ہر قدم پر روک کر اگلے قدم کی منصوبہ بندی اور پچھلے قدم کا احتساب ناگزیر ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ عمران خان سے تمام تر حسن ظن کے باوجود مجھے تحریک انصاف سے کوئی امید خیر نہیں، تنظیمی اعتبار سے اسکا حال مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے مختلف نہیں، ٹکٹ کی تقسیم سے لیکر جلسے جلسوں اور پارٹی اجلاسوں تک ہر جگہ وہی روایتی ماحول نظر آتا ہے۔ وہی چہرے، وہی انداز سیاست اور وہی مکر و فریب۔ انقلاب کی چھاپ دور تک نظر نہیں آتی۔

تحریک انصاف کا المیہ صرف یہ نہیں کہ یہ مفادپرستوں کا کوٹھا ثابت ہوئی اور اسے چوروں اور رہزنوں نے اپنے مقدر کا سکندر بنالیا بلکہ اس کا اصل المیہ تو یہ ہے اس نے عمران خان کی شخصیت کے سحر کو زائل کرکے اسے ایک ناکام منتظم اور ایک ناکام سیاستدان کے روپ میں پیش کیا۔ 31 اکتوبر لاہور، 25 دسمبر کراچی اور 23 مارچ کوئٹہ کے بعد کپتان کے لئے میدان سازگار تھا، نوجوان تیار تھے اور چلے تو زمانہ ساتھ چلے والی کیفیت تھی۔ ایسے وقت میں رکنیت سازی، تنظیمی آئین کی تشکیل اور پارٹی دفاتر کے قیام میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے تھا اور ان سب معاملات کو عام انتخابات سے ایک برس قبل ہی مکمل کرلینا چاہئے تھا۔ لیکن ہوا کیا، جب وقت قیام آیا تو انقلابی سجدے میں گر پڑے۔ پارٹی الیکشن، جی ہاں پارٹی الیکشن جس نے تحریک کے مستقبل کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ باقی ملک کا ذکر کیا کیا جائے جب لاہور ایسا شہر بھی بدنام زمانہ چوروں ڈکیتوں نے خرید لیا۔انقلابی جماعتیں تو جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومینٹ ایسی ہوتی ہے۔نظم جماعت، اطاعت امیر اور دعوتِ تحریک میں انکا ہر رکن اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ مجھے 2008 کے انتخابات میں میاں اسلم کا وہ تاریخی جملہ نہیں بھولتا جب انہوں نے نواز شریف کی پرکشش پیشکش یہ کہ کر مسترد کردی تھی کہ مجھے جماعت اسلامی کی رکنیت قومی اسمبلی کی رکنیت سے زیادہ عزیز ہے۔ کیا تحریک انصاف میں ایسے مخلص، نڈر اور جانباز کارکنان موجود ہیں؟ اگر یہ بھیڑ اور شیر کی فوج والا معاملہ ہے تو عمران خان وہ شیر نہیں جو کسی بھیڑ کی فوج کو شیروں کے جھنڈ سے لڑا سکے۔ کپتان نہ بھیڑوں کو ایسا احساس زیاں دے سکتا ہے کہ وہ فقر کی شان چڑھ کر تلوار ہوجائیں اور نہ وہ انکے لئے موت کے آئینے ایسی دوستی پیدا کرسکتا ہے کہ فنا ہوجانا، زندا رہنے سے دلکش معلوم ہو۔ کسی نےکہا تھا لیڈر وہ ہوتا جس کی آواز پر لوگ گردنیں کٹوانے چلے آئیں۔

عام انتخابات میں تین ہفتے ہیں اور ہوا کے اصل رخ کا اندازہ آخری ہفتہ میں ہوگا۔ حالات برقرار رہے تو تحریک انصاف کے حصہ میں بیس سیٹیں ہیں اور ہوا چل پڑی تو چالیس سے پچاس۔ دنوں صورتوں میں نئے اور پاکباز چہرے کہیں نظر نہیں آئیں گے۔ جماعت اسلامی سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمٹ میں لیت و لال سے کام لیکر کپتان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ سیکولر بھیڑیوں کے نرغے میں ہے۔ لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتا کہ اسکا اصل نقصان جماعت اسلامی کو نہیں، خود تحریک کو ہوگا۔ وسطی پنجاب کے جن جن حلقوں سے تحریک انصاف ہارے گی وہاں فرق صرف جماعت کے ووٹوں کا ہوگا۔ ذاتی حیثیت میں کپتان سے تمام حسن ظن اپنی جگہ بحیثیت لیڈر وہ غلطیاں کررہا ہے اور افسوس کہ ان غلطیوں پر مسلسل اصرار ہے۔ ناقدین تو ایک طرف اب ہارون رشید، حسن نثار اور مبشرلقمان ایسے ہمنوا بھی مضطرب اور فکرمند ہیں۔

فیس بک تبصرے

17 تبصرے برائے: کپتان اور تحریک انصاف

  1. بہت اچھا تجزیہ کیا ہے آپ نے، جماعتِ اسلامی سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کرنے میں صرف عمران خان کو ہی تامل نہیں ہے، نواز شریف سمیت کسی بھی بڑی جماعت نے جماعتِ اسلامی سے اسلئیے سیٹ ایڈ جسمنٹ نہیں کی کہ جماعتِ اسلامی نے اپنے اوپر طالبان کی چھاپ لگا لی ہے، اور کوئی بھی بڑی جماعت، جماعتِ اسلامی کو اس چھاپ کے ساتھہ قبول کرنے کا رسک نہیں لے سکتی، جماعتِ اسلامی پاکستان میں طالبان کی دہشتگردی کے سب سے بڑی ہامی ہے، اس حمایت کا خمازہ جماعت کو الیکشن میں بھگتنا پڑے گا، اب انیس سو اسی کا دور نہیں ہے، یہ دو ہزار تیرہ ہے، جبکہ جماعتِ اسلامی ابھی بھی انیس سو اسی میں ہی زندہ ہے۔

    عمران خان کا یہ دعوا کہ وہ کلین سوئپ کریں گے، بلکل ہی احمقانہ سوچ پر مبنی ہے، سندھہ اور بلوچستان میں عمران خان کو کچھہ خاص پزیرائی نہیں ملی ہے نہ ہی انکا زور ان دونوں صوبوں پر ہے، پنجاب اور سرحد سے البتہ خاصی سیٹیں مل سکتی ہیں لیکن وہ بھی اتنی تعداد میں نہیں کہ وہ تنہا حکومت بنا سکیں، کسی سے اتحاد نہیں کریں گے یہ اعلان وہ پہلے ہی کرچکے ہیں، تو ظاہر ہے عمران خان مسقبل کے اپوزیشن لیڈر تو بن سکتے ہیں وزیرِاعظم نہیں۔ انہیں اپنی سوچ میں لچک لانی ہی ہوگی اگر وہ چاہتے ہیں کے حکومت بنائیں۔

    • نواز شریف نے جماعت اسلامی سے اس لئے اتحاد نہیں کیا کہ جماعت اسلامی پر طالبان کی چھاپ ہے؟ پھر جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اہلسنت والجماعت سے اتحاد کیونکر کرلیا 🙂 🙂 🙂

    • محترم بہت معزرت کے ساتھ عرظ ہے کہ 80 کی دہائی میں جماعت ایسی کوئی مقبول قوت نہیں تھی جیسے کے آج ہے اور یہ بھی آپ کی خام خیالی ہی ہے کہ آج جماعت پر طالبان کی چھاپ ہے-
      جماعتِ اسلامی پاکستان کی ایک مقبول نظریاتی جماعت ہے- ملک کے طقریباً ہر حصّے میں اِس کے نظریاتی ووٹرز موجود ہیں جو نا صرف منظّم ہیں بلکہ فعال بھی ہیں-
      پاکستان کے انتخابی نظام میں جماعتِ اسلامی کی بظاہر ناکامی کی صرف اور صرف دو ہی وجوہات ہیں.. اور وہ یہ کہ اول تو جماعت شخصی سیاست پر بلکل یقین نہیں رکھتی بلکہ اِس کے برعکس نظریاتی سیاست کرتی ہے- اور دوم یہ کہ جماعت اپنے بنیادی نظریات پر بلکل بھی کمپرومائز نہیں کرتی، یعنی بنیاد پرست ہے-
      جہاں تک سیٹ اڈجسمنٹ کا تعلق ہے، اِس کا 100% فائدہ اُس جماعت کو ہے ہوتا ہے جس کے ساتھ جماعتِ اسلامی معاہدہ کرتی ہے کیونکہ جماعت کے ڈیڈیکیٹڈ ووٹرز اپنی تنظیم کے اڈجسمنٹ کے فیصلے کو حکم کا درجہ دیتے ہوئے پوری دیانتداری سے اس معاہدے کی پاسداری کرتے ہیں- جبکہ دوسری جماعت (جِس کے ساتھ معاہدہ ہوا ہوتا ہے) کے بارے میں یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ اُس کے ووٹرز بھی معاہدے کو اُتنی ہی اہمیت دیتے ہیں کہ نہیں-
      شکریہ!

  2. بہت اعلٰی تجزیہ کیا ہے آپ نے محترم

  3. آج کل لگتا ہے ، دماغ خوب اور ٹھیک ٹھاک جگہ پر کام کر رہا ہے۔
    میرا بھی یہی خیال ہے پی ٹی آئی پچیس سے چالیس سیٹیں شاید جیت جائے۔
    الیکشن کے بعد حکومت بنانے کا لمحہ ہر جماعت کیلئے کٹھن ہوگا۔
    اور یہی وقت حالات کو مزید ناساز بنا سکتے ہیں۔
    الیکشن کے بعد کا اندازہ بھی لکھیں۔

  4. شازل says:

    پی ٹی آئی صرف روڑے اٹکا سکتی ہے حکومت بنانے کاخواب ابھی دیوانے کا خواب ہے

  5. اچھا لگا کہ آپ نے ایم کیو ایم کو کم از کم انقلابی جماعت تو تسلیم کیا. اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم ہی وہ دو غیر روایتی جماعتیں ہیں جو نا صرف یہ کہ منظم اور مستحکم انفرااسٹرکچر رکھتی ہیں بلکہ حقیقی معنوں میں متوسط طبقے کی نمائندہ جماعتیں ہیں. یہ الگ بات ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی سخت مخالف ہیں.

    باقی رہی کپتان کی بات تو آپ کے تجزیے سے سو فیصد متفق ہوں.تحریک انصاف اپنے “انقلاب”کے ذریعے فیس بک پر تو ضرور “نیا پاکستان” بنا سکتی ہے، مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی صورت حال پیش کرتے نظر آتے ہیں. مجھے ڈر ہے کہ 2013ء کے الیکشن کے بعدتحریک انصاف کا بھی وہی حشر ہونے والا ہے، جو 2008 ء کے الیکشن کے بعد ق لیگ کا ہوا تھا!

  6. آپ اچھے لکھاری ہیں یا بن گئے ہیں ۔ ہو سکتا ہے اب تک اپنی محبوب صحافت کی سند بھی حاصل کر چکے ہوں ۔ آپ کراچی کے باسی ہیں لیکن میاں محمد اسلم تو اسلام آباد کے سیکٹر ایف 8 کے حصہ 4 میں رہتے ہیں ۔ اُن کی بات آپ نے کہاں سے سُنی ؟ آدمی وہ مجھے اچھے لگتے ہیں ۔ ایک بار پہلے ووٹ دے چکا ہوں اور اب بھی ارادہ ہے ۔ وجہ عوام کا درد رکھنا اور دوغلا نہ ہونا ہے گو میرا جماعت اسلامی سے تعلق نہیں ہے ۔ اب آتے ہیں موضوع کی طرف ۔ عمران خان بطور کپتان کامیاب ضرور ہوئے لیکن اس دور میں بھی خود پسندی اس کا شیوہ رہا ۔ بھارتی ٹیم کے خلاف بھارت میں کھیلتے ہوئے جب جاوید میانداد ورلڈ رکارڈ بنانے کے قریب تھا ۔ وقت بھی بہت تھا کہ اچانک بغیر کسی سے بات کئے عمران خان نے اننگ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اس فیصلے پر بھارتی کپتان سنیل گواسکر نے بھی حیرت کا اظہار کیا تھا ۔ پھر جب جاوید میانداد اچھی بیٹنگ کی سب سے زیادہ اننگز کا ریکارڈ بنانے کو تھا تو اُسے ٹیم سے فارغ کر دیا ۔ ورلڈ کپ جس پر عمران نازاں ہے کیا عمران نے جیتا تھا یا کہ پوری ٹیم کی محنت اور تعاون کے نتیجے میں جیتا تھا ؟ پھر انعام لیتے ہوئے عمران نے صرف یہ کہا تھا ”میرے وہم کا غلبہ تھا شوکت خانم میموریل ٹرسٹ “۔
    It was my obsession Shaukat Khanum Memorial Trust
    سوائے عمران کے دنیا کے تمام کپتانوں نے جیتنے پر ہمیشہ کہا کہ ٹیم کی محنت اور تعاون سے فتح ملی ۔
    چنانچہ اب بھی صورتِ حال یہی ہے جس کی وجہ سے وہ درست فیصلے نہیں کر پاتا ۔ اُس کے کردار کا ایک اور پہلو ہی بھی ہے کہ پچھلے ایک سال میں اُس نے اپنے دعوؤں کو بار بار خود ہی جھٹلایا ہے ۔ اُس کی خوش دلی کا یہ حال ہے کہ کل تقریر کرتے ہوئے عمران نے کہا ”ہم بلے سے صرف چھکے نہیں لگائیں گے ۔ اس سے پھینٹی بھی لگائیں گے“۔
    اُس کے پیرو کاروں میں جو نئے جوان شامل ہوئے ہیں وہ زیادہ تر روشن خیال ہیں باقی کا ذکر آپ نے کر دیا ہے ۔ میں حالات کا مطالعہ کرتا رہا ہوں اور مجھے کچھ کچھ شک ہونے لگا ہے کہ اسے داہنے بازو کی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ن کو کمزور کرنے کیلئے سامنے لایا گیا ہے ۔ لانے والا کو ہے یہ ابھی واضح نہیں ہوا ۔ کچھ لوگوں کا خیال زرداری کی طرف ہے جو کہ بہت ہی شاطر آدمی ہے

    • آپ خواہ مخوہ میں دایئں ، بایئں بازو میں کنفوژ ہو رہے ہیں- حقیقت میں ایساکچھ نہیں-
      دنیا کی تاریخ کا ڈھنگ ہی یہی رہا ہے کہ لیڈروں اور سپاہ سالاروں کا نام امر ہوتا ہے کارکنان کا ذاتی حثیت میں ذکر بہت کم ہوتا ہے-
      جہاں تک شوکت خانم کا تعلق ہے تو وہ بھی اسی کی لگن اور محنت کا نیتیجہ ہے اور اکثر عمران پاکستانی عوام کی دریا دلی کی داد دیتے ہیں-
      آپ جیسے جہاندیدہ آدمی سے اس طرع کا سطحی تبصرہ دیکھ کر دلی افسوس ہوا-
      باقی کبھی اسلام آباد آئے تو آپ سے چائے پینے آہیں گئے 🙂

    • میرے خیال میں جاوید میانداد والا معاملہ ایسا نہیں جسکی بنیاد پر کپتان کی نیت پر شک کیا جائے۔

  7. Sadiq Ali says:

    یہ تجزیہ پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عمران خان ہی ملک کے موجودہ تمام مسائل کا ذمہ دار ہے۔۔۔۔
    اسے چاہیے کہ ایک بلاگر کانفرنس منعقد کر وا کر ان الزامات کی جگ رسائی سے بچ جائے!!!

  8. میرے خیال سے عمران خان کو حمایتیوں سے زیادہ مخالفین نے پیر و مرشد مانا ہے تبھی وہ کپتان اور اس کی پارٹی سے فرشتوں جیسے کام کی توقع رکھ رہے ہیں. تحریک انصاف کو تو صرف سولہ سال ہوئے ہیں لہذا اس کا موازنہ ان جماعتوں سے نہیں کیا جاسکتا جو کئی دہائیوں سے سیاست کے میدان میں ہیں. عمران خان تو نیا ہے اس لیے غلطیاں کرے گا بھی اور کچھ سیاسی غلطیاں ایسی بھی ہوں گی کہ جس کا کسی کو کوئی گمان بھی نہیں ہے.

    جتنی سیٹیں آپ نے لکھیں میرے خیال سے اگر وہ مل گئیں تو وہ بھی کامیابی ہی تصور کی جائے گی. مجھے تو حیرت ہے کہ تحریک انصاف کی سیکولر جماعتوں کے نرغے ہونے کے باوجودـ مذہبی جماعتوں اور ان کے ہمدردو نے بھی اپنی بندوقوں کا رخ تحریک انصاف کی طرف ہی کیا ہوا ہے.

    رہی بات جماعت کی تو معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ جماعت کو قاضی صاحب کے بعد مدبر یا مناسب قیادت میسر نہیں آسکی اور انقلابی سوچ کو عملی جامہ پہنانے والا جذبہ بھی وقت کے ساتھ کم ہوتا جا رہا ہے. متحدہ کا نام تو شاید آپ نے اس لیے لکھ دیا کہ آپ کو کراچی میں رہنا ہے 😀 ورنہ متحدہ کا ماضی تو کہتا ہے کہ پہلے خود ان کی جماعت میں انقلاب کی ضرورت ہے.

  9. کاشف صاحب یہ بات پہلے بھی کئ بار کہی جا چکی ہے کہ دونوں جماعتوں میں ایسے عناصر ہیں جو تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی میں مفامت نہیں چاہتے- اگر عمران سیکولروں نے نرغے میں ہے تو جماعت کس کے نرغے میں ہے-
    چند ناموں کو چھوڑ کر کون سے خون آلود نظام کے پشتی بان اس جماعت میں ہیں-اور ساتھ میں یہ بھی عرض کر دیتے کہ ان کا تناسب دوسری جماعتوں میں کس قرد ہے-
    ایم کیو ایم کا انقلابی فلسفہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کراچی والے اور سارے پاکستان بخوبی اس سے واقف ہیں- اور اسی انقلابی جماعت کہ وہ وزارء بھی یاد رکھنے چاہیں جنہوں نے غیر ملکی شہریت چھوڑنے کی بجانے وزاتیں چھوڑیں تھیں-
    جماعت اسلامی باوجود منظم، حقیقی جمہوری جماعت ہونے کہ بڑی تعداد میں ووٹروں کو قائل نہیں کر سکی-
    جہاں تک جزبے اور فقر کی سان کی بات ہے تو جماعت کہ پیچھے 70، 80 سالوں کی محنت شامل ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جماعت کا ہر کارکن اسی جذبے کا آئینہ دار ہے-
    تحریک انصاف میں بھی ایسے کارکنوں کی کمی نہیں جو اپنے نظریے اور جوش میں جماعت کی کارکنان سے کم ہوں-

  10. dohra hai says:

    تحریر اِنتہائی جاندار ہے مگر مُجھے یہ کہنے دیجئے کہ لِکھنے والے نے اِس خوبصورت تحریر کے ساتھ اِنصاف نہیں کیا ہے۔”انقلابی جماعتیں تو جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومینٹ ایسی ہوتی ہے۔نظم جماعت، اطاعت امیر اور دعوتِ تحریک میں انکا ہر رکن اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔” یہ آپ ہی کا کہا ہوا فِقرہ ہے جناب باِلکُل ہوتی ہیں پورا مُلک اِنقلاب کےلئے رو رہا ہے۔ تڑپ رہا ہے تو پھِر کِدھر ہے وہ اِنقلا ب اور کِتنی طاقت بن پائیں یہ پارٹیاں کُچھ بتانا پسند فرمائیں گے۔؟شدِت جذبات میں اندے ہوئی جارہی ہے نئی نسل اور عِمران کو اپنا سب کچھ مانے جا رہی ہے بہت غلط رویہ ہے اندھا اعتقاد ہے مگر آپ کو اُن پر تنقید کرتے وقت اپنے شِدت اختیار کرتے روئے پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔پی ٹئ آئی 16 سال سے ایک جماعت ہے مگر ڈیڑہ سیٹ سے زیادہ آج تک کُچھ حاصل نہ کر پائی جماعت اِسلامی تو دور کی بات کِسی بھی لحاظ سے کِسی چھوٹی پارٹی سے بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا البتہ 30 اکتوبر کے بعد ایک ایسی فضا بنی کہ جماعت بڑہتی چلی گئی۔ بہت سے بڑے بڑے نام آئے اورچلے گئے۔ الیکشن کروائے گئے بہت بھونڈے انداز میں ہی صحیح مگر ایک درست سِمست پر اُٹھائے ہوئے قدم کو کم ازکم درست تو جانییں۔بُرے لوگ سیلیکٹ ہوگئے بہت بُرا ہوا تو اپنی سزا بھُگتیں گے جماعت تباہ ہو جائے کی ہم لوگ پھِر کِسی اور طرف دیکھنے لگیں کے مُمکن ہے پی ٹی آئی کل بھی عِمران خان پر کھڑی تھی آج بھی عِمران خان پر کھڑی ہے۔ابھی بہت لمبا سفر باقی ہے سالوں پر مُحیط ۔ آپ تنقید کیجئے مگر کم از کم ایک موقع دینے کے بعد ۔ جماعت اِسلامی بہت اچھ جماعت ہے مگر وہ جہاں پر بھی ہے اُس میں عمران خان پر اِلزام نہیں بنتا ۔ہر کِسی نے اپنا فیصلہ خود کرنا ہوتا ہے اور خود ہی بھُگتنا ہوتا ہے۔ اِفتخار اجمل صاحب کی اپنی رائے ہے۔ نواز شریف کے وہ دِل سے پسند کرتے ااُن کا حق ہے وہ تنقید کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں مگر کُچھ ایسے بھی تھا۔عِمران نے ورلڈکپ ڈھائی بالروں اور ڈیڑہ بیٹسمینوں سے جیتا تھا۔ میانداد مکمل فِٹ نہٰیں تھا ایک رمیض راجہ تھا عامر سہیل نیا تھا سہیل فضل نے سکور نہیں کیا۔ سلیم ملک مکمل آوٹ آف فارم اعجاز کا کردار پارٹ ٹائم باولر کے سوا کچھ نہ تھا۔اِنضمام کو عِمران خالصتا خود سے لے کر گیا حتی کی میانداد بھی اُسے ریجیکٹ کر چُکا تھا۔ سعید انور اور وقار یونس ورلڈ کپ سے پہلے ان فِٹ ہوکر باہر ہو گئے تھے۔سیمی فائینل کے لئے جاتے ہوے جہاز میں عِمران خان نے پورے ٹورنامنٹ میں سکور نہ کر سکنے والے اور پِچھلے میچ میں 5 پر آوٹ ہونے اِنضی سے کہا تُم بہت فارم میں ہو ڈینی موریسن کو تُم نے جو چوکہ لگایا وہ شارٹ بتار ہی تھی کہ تُم فارم میں ہو تُمہیں سکور کرنا ہے۔ اِنضی کا کہنا ہے کہ اِس سے پہلے جاوید بھائی میری ٹھٰک ٹھاک کلا س لے چُکے تھے ۔ مگر خانصاحب نے میرے اعتماد کو پھِر سے زِندہ کر دیا اور پھِر سیمی فائنل مین جو ہوا سب نے دیکھا۔ اِس بندے کو اللہ نے ڈٹ جانے اور فیصلہ کرنے کی ہمت دی ہے۔ سیمی فائنل میں کپتان وِکٹ گرنے پر ون ڈاون آگیا ۔ ایک پہاڑ سافیصلہ تھا۔ فائنل میں بھی یہی کیا۔ میں یہ سب نہ لِکھتا مگر افتخار اجمل کی لِکھی تنقید نے مُجھے یہ لکھنے پر مجبور کیا ہے۔ اب اِس کے بعد اگر کپتان اپنے کینسر ہسپتا ل کی بات کر تا ہے تو اُس کا حق ہے۔مُجے ورلڈ کپ جیتنے کے فورا بعد گراوند ہی کے اندر رمیض راجہ کے بولے گئے الفاظ ابھی تک یاد ہیں ” ہُن ساڈ ایے کر بن جان گے تے خان صاحب دا ہسپتال

  11. بہت عمدہ جناب….
    اگر عمران خان صاحب یہ دعویٰ کریں کہ انکی پارٹی دیگر پارٹیوں سے اچھی ہے اور اس پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں لگا وغیرہ ،تو اس میں کوئی کسی بھی قسم کے اعتراض کی ضرورت نہیں محسوس ہوتی. مگر جب وہ یہ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ایک انقلابی جماعت ہے تو بات غلط ہوجاتی ہے. مستقبل قریب میں مجھے جماعت اسلامی کی سیاسی کامیابی کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں اسی لیے سمجھتا ہوں کہ تبدیلی ضرور آنی چاہیے اور عمران خان کو موقع ملنا چاہیے. وہ یقینآ بہتر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں. لیکن یہ بھی بہت ضروری ہے کہ عمران خان خودکش غلطیوں سے دامن چھڑائیں. پہلے ممبر شپ پھر پارٹی الیکشنز نے اور پھر پارٹی ٹکٹ کی تقسیم نے مداحوں کو مایوس کیا ہے.

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>