صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

پاک سرزمین کا نظام

مصنف: وقت: پیر، 15 اپریل 20139 تبصرے

حیرت ہے کہ جو لوگ جمہوریت کو نظامِ کفر قرار دینے میں کوئی تامل نہیں برکتے اور اختلاف رائے میں غلو سے کام لیتے ہیں، وہی ملوکیت، شخصی حکومت اور خاندانی استبداد کے نظام پر دو حرف بھیجنا بھی گوارا نہیں کرتے۔پچھلے دنوں جمہوریت اور دستور پاکستان کی رد میں لکھی گئی کی ایک بہت بڑی جہادی شخصیت کی کتاب کے مطالعہ کا موقع ملا، حیرت ہوئی کہ عالم اسلام کی اتنی بڑی جہاندیدہ شخصیت نے بھی جمہوریت اور دستور پاکستان کو مطلق “کفر” قرار دیتے ہوئے جن عناصر کو بنیاد بنایا وہ صرف اور صرف جمہوریت یا عوامی نمائندوں کی حکومت کے ساتھ مختص نہیں بلکہ ان خرابیوں کا شخصی یا خاندانی حکومتوں میں رونما ہونا بھی عین ممکن ہے۔ اس کتاب میں جمہوریت اور دستور پاکستان پر اٹھائے گئے بڑے اعترضات کی ترتیب کچھ اس طرح ہے۔

آئین پاکستان پر اٹھائے گئے اعتراضات
1۔آئین اپنے اطلاق کے لحاظ سے پارلیمنٹ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ چاہے تو شریعت کی بالادستی کو تسلیم کرنے سے انکار کردے۔
2۔آئین میں بعض اشخاص اور اداروں کو قانونی محاسبہ سے بالاتر رکھا گیا ہے۔ (شق ۱۴۸)
3۔آئین کی رو سے سربراہ ریاست کو سزائیں معاف کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
4۔آئین میں سربراہ ریاست کے لیے مرد ہونے کی شرط نہیں لگائی گئی۔
6۔آئین میں سود کے خاتمے کا صرف وعدہ کیا گیا ہے جس پر آج تک عمل نہیں ہوا۔ (شق ۳۸ )
7۔آئین میں جج کے لیے عادل اور عالم ہونے کی شرط نہیں جبکہ اسلام کی شرط بھی صرف شرعی عدالت کے جج کے لیے ہے۔

جمہورت کو نظام کفر قرار دینے کے اسباب
1۔ جمہوریت قرآن و سنت کو اکثریت اور جمہور کی رائے اور فیصلے کے تابع بناتی ہے۔
2۔ جمہوریت بیعت کو منسوخ کرکے اسکی جگہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کا تصور دیتی ہے جو “اولامر من کم” کی منافی ہے۔
3۔ جمہوریت حصول اقتدار کا جزبہ عام کرتی ہے، حالانکہ اقتدار کے لئے خود کو پیش کرنے کی اسلام میں ممانعت ہے۔

جمہوریت اور دستور پاکستان پر لگائے گئے ان اعتراضات سےشریعت کا ادنیٰ علم رکھنے والا کوئی شخص بھی اختلاف نہیں کرسکتا۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انکی بنیاد پر پورے نظام کو مطلق “کفر” اور اس میں شرکت کرنے والے ہر شخص کو عالمِ کفر کا نمائندہ اور دجال کا پیروکار قرار دینا درست ہے؟ یقینا نہیں کیونکہ تکفیر کے دو بنیادی اصول فقہا نے بیان کردئے ہیں، اول یہ ہے کہ کوئی قول، چاہے بظاہر کفریہ ہی کیوں نہ معلوم ہو، اگر اپنے اندر ایک سے زائد مفاہیم کا احتمال رکھتا ہو اور ان میں سے کوئی ضعیف احتمال بھی ایسا ہو جو اسے دائرے کفر سے نکال دے تو اسے اسی مفہوم پر محمول کیا جائے گا تا آنکہ قائل خود تسلیم کرے کہ اسکی مراد کفریہ مفہوم ہی ہے اور دوسرا اصول یہ ہے کہ کسی اجتہادی مسئلے سے اختلاف کی بنیاد پر تکفیر نہیں ہوسکتی، تکفیر کے لیے قطعی، واضح اور غیر محتمل نص سے ثابت شریعت کے کسی قاعدے اور حکم کا انکار لازمی ہے۔

اگر ہم ازراہ بحث مان لیں کہ مصنف کی رائے درست ہے تو پھر ان فتووں کی زد میں مولانا محمود حسین مدنی، ابولکلام آزاد، ظفر احمد عثمانی، شبیر احمد عثمانی، عطاللہ شاہ بخاری،مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، حق نواز جھنگوی، مولانا ایثار الحق قاسمی اور مولانا اعظم طارق سمیت ایسے لاتعداد اکابرین امت بھی آئیں گے جو مختلف ادوار میں انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں، دالعلوم دیوبند، جامعۃ العلوم اسلامیہ اکوڑہ کھٹک اور جامعۃ العلوم اسلامیہ کراچی بھی اسکا نشانہ بنے گیں کیونکہ ماضی میں یہ مدارس بھی مختلف دینی جماعتوں کی سیاسی نرسری کا کردار ادا کرتی رہی ہیں اور حکیم الامت حضرت اشرف علی تھانوی، مفتی شفیع عثمانی اور علامہ یوسف بنوری سے لیکر موجودہ زمانے کے مولانا سلیم اللہ خان، مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی تک لاتعداد جید علماء کرام بھی اس کفر کی تائید میں برابر کے مجرم قرار پائیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک طرف جمہوریت اور آئین پاکستان مطلق “کفر ” نہیں ہیں اور دوسری طرف مصنف کے اعتراضات بھی درست ہیں تو پھر پاک سرزمین کا نظام کیسے چلے گا اور یہ خرابیاں کیسے دور ہونگی۔ مزید یہ کہ جب اللہ کی مدد سے میدان جہاد میں مجاہدین سرخرو ہونگے تو وہ خلافت، وامرہم شوراء بینھم اور بیعت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کونسا طریقہ کار اپنائیں گے؟

ابتدائی عمر میں ہی ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم سے تعلق پیدا ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اقامت دین کے تصور سے اگاہی حاصل کرنے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی، قرآن کریم سےصحیح وقت پرقربت پیدا ہوئی، رسول صلی اللہ و علی وسلم سے محبت کے تقاضوں کو جاننے میں مدد ملی، فرقہ واریت اور فروعی مسائل سے جان چھٹی، دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں سے ایک رشتہ الفت استوار ہوا اور حالات و واقعات کا تجزیہ کرنے اور حقائق کو گہرائی میں سمجھنے کا شوق پروان چڑھا۔ اس فکری اور روحانی تربیت کے تزکرہ کا خیال اس لئے پیدا ہوا کہ دین اسلام کے وسیع تر مفہوم میں اقامت دین و خلافت فی الررض کے تصور کا موجودہ حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کوئی عملی نمونہ زیر بحث لانے سے قبل میری ’اس مدرسہ ہائے فکر سے نسبت کی واضع ہوجائے جو محترم ڈاکٹر اسرار احمد اور انکے واسطے مولانا سید ابولعلی مودودی، امام الہند مولانا ابولکلام آزاد اور شیخ الہند محمود الحسن (رح) پر مشتمل ہے۔

کچھ لوگوں کوحیرت ہوگی کہ ڈاکٹر صاحب اور سید مودودی کے درمیان بنیادی اختلاف تو اسی ایک نقطۂ پرہے لیکن میرے مطابق لوگوں میں عام خیال غلط فہمی پر مبنی ہے اور دراصل ڈاکٹر صاحب اور سید مودودی کا بنیادی اختلاف صرف اور صرف منہج انقلاب کا ہے۔ سید صاحب کا منہج انقلاب انتخابی ہے تو دوسری طرف ڈاکٹر صاحب کا منہج انقلاب خروج ، مزاحمت اور بغاوت پر مشتمل ہے۔ لیکن اس اسلامی انقلاب کے وقوع پزیر ہوجانے کے بعد اسکا تصور حکومت کیا ہوگا، وہ کس طرح کام کرے گا ، اسکا بنیادی ڈھانچہ کیسا ہوگا اور اس اسلامی فلاحی ریاست کی کیا کیا ذمہ داریاں ہونگی جیسے موضوعات پر دونوں اشخاص تقریبا ایک ہی رائے پر پہنچتے ہیں۔ موجودہ دور میں منہج انقلاب سے متعلق یہ اجتہادی اختلاف صرف ان بزرگوں میں ہی نہیں علمائے کرام کے ہر طبقہ میں نظر آتا ہے لیکن کہیں بھی یہ اجتہادی اختلاف کفر اور اسلام کا مسئلہ نہیں بنتا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر صاحب اور سید مودودی ملوکیت اور خاندانی استبداد کے نظام کو بھی ٹھیک اسی طرح مضر قرار دیتے ہیں جتنا کہ مادر پدر آزاد مغربی جمہوریت کو، اس کے مقابلے میں دونوں عامۃ المسلمین کے برگزیدہ ، صاحب الرائے، پرہیزگار اور باصلاحیت نمائندوں پر مشتمل ایک مجلس شوراء کی ضرورت پر دلائل دیتے نظرآتے ہیں اور پھر اس مجلس شوراء کو امیر یا خلیفہ کا حلقہ انتخاب بھی قرار دیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں جمہوریت مخالفت میں انتہائی روئے کا شکار قرار دئے جانے والے ڈاکٹر اسرار احمدتو ایک درجہ آگے بڑھتے ہوئے اراکین شوراء کے انتخاب کے لئے ووٹ کے طریقہ کار کو پیش کرنے میں بھی کسی خس و پیش کا اظہار نہیں کرتے۔ مزید یہ کہ وہ جہاں ایک امیریا خلیفہ “اولامر من کم” کی روشنی میں امامت کے وسیع تر اختیار ات تجویز کرتے ہیں وہیں اپنی اس مجوزہ مجلس شوراء کو خلیفہ یا امیر کے مواخذے کا اختیار دینا بھی نہیں بھولتے ۔ انہیں اعتراض ہے تو صرف طریقہ انقلاب، مغربی طرز جمہوریت اور پاکستان کےاستبدادی انتخابی مشینری سے جس کے ہوتے ہوئے صرف ایک مخصوص ٹولہ کامیابی حاصل کرکے ایوان اقتدار تک پہنچتا ہے وگر نہ انکے نزدیک بھی ، اور صرف انکے نزدیک ہی نہیں علمائے کرام کی واضع اکثریت کے نزدیک بھی چند نقائص کے باوجود بھی آئین پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ عین اسلامی ہے، جمہوریت بطور “نظام انتخاب” جائز ہے اور خدا کی خلافت میں امت کے ہر فرد کو برابری حاصل ہے، گویا

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیریں
ہر شخص ہے ملت کے مقدر کا ستارا

فیس بک تبصرے

9 تبصرے برائے: پاک سرزمین کا نظام

  1. مجھے آپ سے شدید اختلاف ہے کہ جمہوری نظام اور خلافت میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے. اسلام کا نظام حکومت شورائیت پر مبنی ہے. جمہوریت پر ہر گز نہیں. کیا آپ اسلامی نظام میں اسلم ٹی ٹی ، اصغر لنگڑا، خالد بکرا کو بھی اس بات کا حق دیں گے کہ وہ خلیفۃ المسلمین کا انتخاب کرے؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ عوام الناس کو اگر ووٹ کا حق دیا گیا تو وہ دینداروں کو ووٹ دینے جائے گی؟ جناب ! منافقوں کے لیڈر بھی منافق ہی ہوسکتے ہیں دیندار ہر گز نہیں.عوام کبھی بھی حکمرانی کے قابل نہیں رہے. حکومت کرنا عوام الناس کا کام نہیں ہے. آپ خواہ مخواہ میں اسلامی نظام حکومت میں جمہویت کی کلیاں کیوں ٹانکنا چاہتے ہیں؟ مغربی طرز جمہوریت ، انتخابی مشنری اور دیگر عوامل کی مذمت کرنا عجیب سا ہے جبکہ خود عوام دین اسلام کو اپنی زندگیوں میں نچلی ترین سطع سے اوپر لانے کے لیے تیار نہیں.
    جب آپ ہر کسی کو ووٹ کا حق نہیں دے سکتے تو جمہوریت کی بات بھی نا کیجئے. خلافت میں ووٹ کا حق چنیدہ لوگوں کو ہوتا ہے جو اپنے مقام و مرتبے کی وجہ سے خود بخود شورائیت کا حصہ ہوتے ہیں اور خلیفۃ المسلمین کے انتخاب کا حق رکھتے ہیں. موجودہ اور گذشتہ صدی میں دنیا بھر میں عوام کو جو تقدیس دی گئی ہے کہ بہت ساری اشتراکی اور اشتمالی اور نام نہاد اسلامی ریاستیں تک بھی جمہوری تصور حکمرانی سے پیچھا نہیں چھڑا سکیں نتیجتآ روس میں پولٹ بیورو ، سپریم کونسل ، سپریم لیڈر اور مجلس خبرگان جیسے ادارے قائم کرکے منتخب جمہوری قوتوں کے سروں پر بیٹھ گئے اور اپنے اپنے نظام ہائے حکومت میں جمہوریت کی کلیاں ٹانک دیں.
    آپ کو اسلامی نظام حکومت کی شورائیت کے لیے کڑی شرائط تجویز کرنی ہوگی ورنہ یہی ہوگا کہ ہم پاکستانی آئین کی لفاظیوں سے خود کو بہلاتے رہیں گے. آج بھی اگر مشرف جیسا لبرل آجائے تو وہ اس آئین کی اسلامی شقوں کی دھجیاں اڑا سکتا ہے اور جس پر ڈنگر چوری کے فلسفے سے نظریہ حیات اخذ کرنے والی قوم تالیاں پیٹتی اور داد و تحسین کے ڈونگرے بجا تی پھر سے دیکھی جاسکے گی.
    قصاص و دیت کے قانون کا کیا حشر ہوا. حسبہ بل ایک مذاق بن کر رہ گیا ، سود ابھی تک بڑے دھڑلے سے جاری ہے، اسلامی عائلی قوانین می تبدیلیوں کی کیسی کیسی کوشش نہیں کی گئی.
    یہ نظام دجالی نظام ہے اور دجال کی طرح اس نے اسلامی نظام حکومت کا فریب دیا ہوا ہے. یہ نظام مولانا ڈیزل جیسوں کو تو منٹوں میں قابو کرلیتا ہے.اکوڑہ خٹک ، بنوری ٹاؤن کے علما اسکے آگے کچھ بھی نہیں. اس نظام کی مونچھ کا ایک بال بھی نہیں اکھاڑ سکے. نہیں جناب انتخابات اس دجالی نظام کو علاج ہر گز نہیں ہوسکتے. یہ ملک ضرور بالضرور اسلامی اور دجالی قوتوں کا میدان جنگ بنے گا یا پھر عذاب الٰہی کا شکار ہوکر نیست و نابود ہوجائے گا.

    • اگر آپ میری تحریر دوبارہ پڑھیں، میں نے کہیں نہیں لکھا کہ
      جمہوری نظام اور خلافت میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے
      یا
      پاکستان میں رائج نظام عین اسلامی ہے
      یا
      انتخابات ہی پاکستان میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کا راستہ ہیں

      اول تو یہ کہ میری اس تحریر کا مرکزی خیال پاکستان میں رائج “جمہوریت” کی تکفیر اور عدم تکفیر سے تعلق رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ کسی چیز کی تکفیر میں تامل کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسے جائز یا درست ثابت کیا جارہا ہو۔

      اور میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ :
      جیسا کہ آپ نے لکھا اور جس سے مجھے سو فیصد اتفاق بھی ہے کہ “خلافت میں ووٹ کا حق چنیدہ لوگوں کو ہوتا ہے جو اپنے مقام و مرتبے کی وجہ سے خود بخود شورائیت کا حصہ ہوتے ہیں اور خلیفۃ المسلمین کے انتخاب کا حق رکھتے ہیں”۔ لیکن میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مقام و مرتبہ کے حامل افراد کون ہیں؟ عوام یا پھر کون،کون،کون؟؟؟؟

      • لیکن میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مقام و مرتبہ کے حامل افراد کون ہیں؟ عوام یا پھر کون،کون،کون؟؟؟؟
        ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
        اس کا فیصلہ کرنا اتنا مشکل کام نہیں ہے جو بھی انقلاب لیکر آئے وہی چنیدہ افراد نامزد کرے گا. مثال کے طور پر اگر دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد اس انقلاب کو لاتے ہیں تو وہ ظاہر ہے وہ اپنے مسلک کے اچھی شہرت کے علمائے دین کو اس بات کا پابند کریں گے کہ امیر المومنین کا انتخاب کریں. اگر یہ کام جماعت اسلامی کرپاتی ہے تو وہ اپنے اندر سے اور باہر سے افراد کو اس کام کے لیے مقرر کرسکتی ہے.

        • خلیفہ کا انتخاب اور مجلس شوراء کی تشکیل کوئی ایک دفعہ کا مسئلہ نہیں ہے کہ انقلابی اسے آپس میں بانٹ لیں، یہ مستقل محکمہ ہے اور اسکو انقلاب کے بعد مسلسل چلتے رہنا ہے اس لئے آپکی رائے ناقابل عمل ہے۔

          • یہ میری رائے نہیں ہے دنیا کا دستور ہے. جس کے پاس طاقت ہے بات اسی کی مانی جاتی ہے.
            آپ غالبآ اس مسئلہ کا کوئی جمہوری حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں. ادارے بنانا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے کہ اصول و ضوابط اور شرائط لاگو کی جاسکتی ہیں. شرط صرف یہ ہے کہ انقلابی قیادت مخلص ، ذہین اور دانشمند ہو جس کے پاس طاقت اور اقتدار ہو.
            ایران کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جس میں سپریم کمانڈر مجلس خبرگان کے اراکین کو نامزد کرتا ہے اور وہ مجلس اپنے قوائد و ضوابط کے تحت کام کرتی چلی آرہی ہے کسی نزاع کے بغیر.
            مشکل صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب انقلابی بھی قوم کی طرح تقسیم ہوجائیں.یعنی ایک علاقہ طالبان کے پاس چلا جائے تو دوسرا علاقہ جماعت اسلامی کے پاس آجائے. لیکن اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور مذہبی اتحاد کی سیاسی کوششیں اکثر کامیاب ہی ہوئی ہیں. تو کچھ عجب نہیں کہ کسی ایسی صورتحال میں کسی ضابطہ پر ہم آہنگی پیدا ہوجائے.

          • آپ ایران کی مثال دیتے ہوئے بھول گئے کہ انہوں نے خود اپنے “تصور امامت” کے برخلاف انتخابات کا نظام رائج کر رکھا ہے، حالانکہ شیعہ مذہب میں امام منجانب اللہ ہے اور خلیفہ یا انتظامی عہدے کے لئے انتخاب کے طریقہ کار کا کوئی مذہبی جواز سمجھ نہیں آتا۔ اس کے برخلاف اہلسنت والجماعت کا تصور خلافت کیا ہے اس پر ابن تیمیہ سے ابوالکام آزاد اور سید ابولعلی مودودی تک سب نے بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

  2. میں دین کی بات نہیں کرتا جو کہ ہمیشہ اقلیت نے صحیح طور اپنایا اور یہی اصولِ فطرت ہے ۔ دنیاوی تعلیم میں بھی گریڈ اے میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں ۔ کوئی ہے جو مجھے بتائے کہ کس مُلک میں اصلی جمہوریت ہے ؟ سب جگہ سرمایہ دار کی اجارہ داری ہے یا پھر غُنڈوں کی ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سقراط کو زہر کا پیالہ کیوں پینا پڑا تھا ؟ ویسے آپ اس بڑی شخصیت کا نام بتا دیتے تو واضح ہو جاتا کہ بات میں کتنا وزن ہے

  3. عمران علی says:

    لیکن میں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مقام و مرتبہ کے حامل افراد کون ہیں؟ عوام یا پھر کون،کون،کون؟؟؟؟

    اس بات کا فیصلہ اللہ کی کتاب کرے گی، مگر مسئلہ یہ ہے اگر اللہ کی کتاب کو اسی کتاب کی روشنی میں سمجھا جائے، ہمارے بزرگوں نے اپنے وقت کے حساب سے جو کچھ سمجھا تھا، اسے دیکھنے سمجھنے کے لیے ہمارے لیے وقت ہے اور نہ ہم انکے غلط یا درست ہونے کی فضول کی بحث میں الجھنا چاہتے ہیں، کیونکہ اس بابت اللہ کا بڑا واضح فیصلہ ہے کہ یہ وہ قومیں ہیں جو تم سے قبل گزر گئیں، انکی بابت تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا کیا، تم سے تو صرف وہی پوچھا جائے گا، جو کچھ تم نے کیا۔

    آج کل میں سورۃ الرعد کی تلاوت کر رہا ہوں، اس میں اسلامی افسران تعنات کرنے کے لیے کچھ معیارات گنوائے گئے ہیں، ذرا ملاحظہ کیجیے کہ کتنے کڑے مراحل ہیں، کجا یہ کہ جمہوریت جہاں ہر چور اچکا، لٹیرا اور ڈاکو پارلیمینٹیرین بن کر ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالنے پہنچ جاتا ہے، واضح رہے کہ یہ آیات میں نے برسبیل تذکرہ شیئر کروا دی ہیں، اگر کوئی صاحب، اسلامی نظام حکومت پر بات کرنا چاہیں تو وہ بلا تردد سوالات پوچھ سکتے ہیں۔اور ہم انہیں اسلامی نظام حکومت کا طریقہ کار انشاءاللہ سمجھانے کی کوشش کريں گے۔

    أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ 13:19
    ترجمہ : تو سوچو جو یہ مانتا ہو کہ جو کچھ بھی تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر اترا ہے، حق ہے،اس کی مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہو؟درحقیقت اس میں تو صرف ارباب عقل و دانش کے لیے رہی یاددھانی (رہنمائی )ہے۔
    الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ الْمِيثَاقَ 13:20
    یعنی وہ ارباب عقل و دانش جو
    1: اللہ سے کیا گیا عہد نبھاتے ہیں اور اس حلف کی کبھی بھی حدود شکنی نہیں کرتے۔

    وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ 13:21

    2: اللہ نے جن احکام کی پابندی کا حکم دیا ہے،ان احکام کی پابندی کرتے ہیں اور اپنے پروردگارسے ڈرتے ہیں اور کڑے احتساب سے خوف کھاتے ہیں۔

    وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ 13:22

    3: اللہ کے روبرو پیش ہونے کی حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے صبر و استقامت سے کا م لیتے ہیں اور قوانین خداوندی کی پیروی کرتے ہیں،
    4: اور رزق کے جن خزانوں سےہم نے انہیں نوازا ہے، اسے خفیہ (عوام سے )و اعلانیہ (حکومتی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے) خرچ کرتے ہیں۔
    5: اس طرح اپنے اچھے اعمال سے برائی کا خاتمہ کرتے ہیں۔انہی لوگوں کے لیے شاندار مستقبل ہے۔

    جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ 13:22

    یعنی وہ پائیدار باغات کے وارث ہوں گے اورانکے آباؤاجداد، ازواج(Spouses) اور اولادوں میں جس کسی نے بھی انکا ساتھ دیا و ہ بھی ان باغات کے وارث ہوں گے ۔اور ہماری کائناتی قوتیں ہر دروازے سے انکے لیے مسرت و شامانی کے پیغامات لیے وارد ہوں گی۔

    سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 13:23

    اور انکے صبر و استقامت پر انہیں سلامتی کی نوید سنائیں گی۔پس یہی تو شاندار مستقبل ہے۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>