صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

اسلامی جمعیت طلبہ اور زبیر صفدر

مصنف: وقت: ہفتہ، 27 اپریل 20133 تبصرے

جماعت اسلامی کے زیر انتظام سوشل میڈیا کانفرنس کے پہلے روز رات کے کھانے پر کراچی سے آئے تمام مہمان جمع تھے، اکثر ایک دو کہ گروپ میں محو گفتگو اور چند ایک خاموش۔ میں میز کے بائیں جانب سب سے آخر میں بیٹھا کبھی برادر فہد، وقار اور کامران کے ساتھ گفتگو میں خود کو مصروف کرلیتا اور کبھی ارد گرد کے ماحول اور آمنے سامنے بیٹھے لوگوں کے چہرے پڑھنے لگتا۔ کھانے کے انتظار میں کافی دیر ہوچکی تھی، لاہور شہر کے اکثر ہوٹلوں میں یہی خرابی ہے کہ آرڈر لے کر بھول جاتے ہیں اور کھانا سرو کرنے میں گھنٹہ، دو گھنٹہ لگانے میں کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ ہم ٹھرے کراچی کے باسی، ایسے انتظار کے عادی کہاں ہیں۔ سو ایک صاحب گویا ہوئے کہ کیوں نہ تعارف کا سیشن ہی کرلیں اور پھر کیا دائیں سے بائیں تعارف کا سلسلہ چل پڑا۔اس پورے سلسلے میں سب سے مختصر اور جامع تعارف کچھ یوں تھا، میرانام زبیر صفدر ہے اور اسلامی جمعیت طلبہ کا کارکن ہوں۔یہ زبیر صفدر کون ہیں، میں نے ساتھ بیٹھے وقار کے کان میں سرگوشی کی، جواب ملا اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلی۔زبیر صفدر! میں نے اس شخص کو ایک پھر دیکھا، یہاں تک کہ اسکی شخصیت کے سحر میں کھو گیا۔ خاموش، منکسر،سادہ، لیڈری کے تمام عوامی تصوارت سے یقلم محروم، دھیمے مزاج کا ستھرا انسان جو پچھلے ایک گھنٹے سے میز کی دوسری طرف میرے روبرو بیٹھا تھا۔ایسا خاموش کہ اسکی خاموشی سے حکمت کی موتیاں بکھریں، ایسا منکسر کہ اسکی انکساری اسے اوروں کی نظروں سے ڈھانپ لے، ایسا سادہ کہ اسکی سادگی سے حسد محسوس ہونے لگے۔ کیا یہ شخص ہے اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلی۔

زبیر صفدر کو میں کافی دیر تک دیکھتا رہا ، میں نے کئی بار کوشش کی کہ اسکی ذات میں “بدمعاشی” کا کوئی پہلو ڈھونڈ سکوں، کسی طرح بھی اسکی امن پسندی، عاجزی، صلح جوئی، علمیت اور سادگی کو جھوٹ اور منافقت ثابت کرسکوں۔ کھانے کے بعد میں نے اسے باتوں میں الجھانے کی بھی کوشش کی حالانکہ ایسا کرنا میرے عمومی روئے سے میل نہیں کھاتا اور نہ میں مشہور شخصیت کو دیکھ کر انکے قریب جانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن تجسس نے مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔ان تمام کوششوں کے باوجود میں کسی بھی زاوئے سے اس شخص اوراسکی نظامت میں کوئی کمی ، خرابی یا نقص تلاش نہ کرسکا۔ سچ تو یہ ہے کہ زبیر صفدرگلشن علم میں پروان چڑھنے والی اس عظیم الشان تحریک اسلامی کا ٹھیک ٹھیک امین ہے جسکی ابیاری کبھی ظفراللہ خان، خرم مراد، ڈاکٹر اسرار احمد ، پوفیسر خورشید احمد، سید منور حسن، ڈاکٹر کمال خان، متین الرحمان نظامی، لیاقت بلوچ، معراج الدین خان، امیرالعظیم اور سراج الحق ایسے صالحین کیا کرتے تھے اور جس نے سوشلزام کو فی الواقعہ اسکے گھر میں شکست دی، جس نے تعلیمی اداروں میں الحاد اور لادینیت کی بیماریوں کا علاج کیا، جس نے پاکستان کو راجہ ظفر الحق، مخدوم جاوید ہاشمی اور احسن اقبال ایسے اجلے سیاست دان، محمود غزنوی اور طاہر مسعود ایسے دیانت دار اساتزہ، حسین حقانی اور میاں محمد عامر ایسے ہونہار دماغ، ظہور نیازی اور احمد حسن ایسے صحافی، اوریا مقبول جان ایسے ستھرے بیوروکریٹ اور کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشان حیدر ایسے مرد مجاہد دئے۔

زمانہ طالب علمی میں میرا اسلامی جمعیت طلبہ سے کوئی تعلق قائم نہیں ہوسکا۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ جمعیت نے مجھے قائل کرنے کی کوشش نہ کی۔ پہلے کالج اور پھر یونیورسٹی میں کئی بار مجھ پر کوشش کی گئی، کبھی براہ راست اور کبھی درس قرآن، تقاریری مقابلوں، ہفتہ کتب اور ہفتہ طلبہ کی دعوتوں کی صورت۔ لیکن میں اپنی تمام تر اسلام پسندی کے باوجود جمعیت کے نظم سے کوس و دور رہنے کو ہی بہتر سمجھتا تھا اور اپنے ضمیر کو مطمین رکھنے کے لئے کبھی کبھار تبلیغی سرگرمیوں میں وقت گزار لیتا تھا۔جمعیت سے دوری کی سب سے بڑی وجہ جمعیت کے بارے میں ایک عمومی تصور تھا کہ جمعیت کے لڑکے کالجوں اور یونیورسٹی میں ہنگامے کرتے اور لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ خود میں بھی یونیورسٹی کے ابتدائی دنوں میں پوائنٹ میں طالبات کے دروازے سے داخل ہونے کی پاداش میں جمعیت کے ایک نامعلوم کارکن کے ہاتھوں سرزشت کا شکار ہوا ۔ لیکن اس سرزشت اور عمومی تصور کے برخلاف مجھے سچ کہنا چاہئے اور سچ یہ ہے کہ میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کسی کارکن کولڑکیوں کو چھیڑتے، نقل کراتے، سیٹیاں بجاتے، اساتزہ کا تمسخر اڑاتے، گریبان کو چاک کئے بدمعاشیاں کرتے اور بھتہ جمع کرتے نہیں دیکھا۔ اگر اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان بدمعاش ہوتے تو وہ گلی محلوں میں بھی بدمعاشیاں کرتے، چوری کرتے، ڈاکے ڈالتے، کھالیں چھنتے، بھتے لیتے، زبردستی ووٹ بھگتاتے اور مخالفین کو چن چن کر قتل کرتے لیکن کیا وجہ ہے کہ اسلامی جمیعت طلبہ کے یہ “بدمعاش” اپنے گھر، گلی اور محلوں میں شرافت کا پیکر نظر آتے ہیں؟

ایسا نہیں ہے کہ جمعیت کے نوجوانوں میں کوئی خرابی نہیں ہو، ایک خالص اسلامی دعوتی تحریک کے طور پر طلبہ کے اطوار اور اخلاق میں جو اوصاف ہونے چاہئیں، اکثر نظر نہیں آتے۔ تربیت کے نظام میں دین داری، اکرام مسلم، اخلاقیات، ضبط، صبر محض اور اصول بقائے باہمی سیکھائے جانے، مخالفین کے ساتھ ہر ممکن طور پر تصادم سے گریز کرنے اور عام طلبہ و طالبات کے ساتھ زبردستی سے پرہیز کرنے کی سخت ضرورت نظر آتی ہے ۔ لیکن ان تمام تر خامیوں کے باوجود جمعیت کے اچھے کاموں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے سیکولر اور نسلی بنیادوں پر کام کرنے والی طلبہ تنظیموں کے برابر لاکھڑا کیا جاسکتا ہے۔ سمجھنا چاہئے کہ جب دو متصادم قوتیں ایک دوسرے کے خلاف ایک ہی جگہ پر کام کررہی ہوں تو مڈبھیڑ، تو تو میں میں اور جھگڑوں کا ہوجانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی، غیر معمولی بات ان جھگڑوں میں تشدد کا عنصر ہے اور میں نے کبھی جمعیت پر تشدد اور قتل و غارت گری میں ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس اور باقاعدہ الزامات نہیں سنے۔ اسلامی جمعیت طلبہ پر ایسے الزامات لگانے والے اکثر یا تو لاعلم ہیں یا پھر متعصب، کئی تو ایسے جو کالجوں اور یونیورسٹی کی شکلیں بھی نہیں دیکھ سکے۔ میرے والد محترم 1979 میں جامعہ کراچی میں زیر تعلیم رہے اور میری طرح طلبہ تنظیموں سے دور پرے کا تعلق بھی نہ رکھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہ تھا جمعیت کے مخالف تھے، انہوں نے ہمیشہ جمعیت کے لئے کلمہ خیر ہی ادا کئے اور اپنے ہم عصر حسین حقانی، محمود غزنوی وغیرہ کی قابلیت کے معتقد رہے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں این ایس ایف کی اشتراکی دعوت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہاں تک سید منور حسن ایسے اشتراکی بھی این ایس ایف چھوڑ کر حلقہ مودودی میں آگئے۔

الطاف حسین نے گو کہ آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹ ارگنائزیشن 1979 میں قائم کی لیکن 1979، 1980 اور 1981 میں جامعہ کراچی کے انتخابات میں انکی یہ تنظیم بری طرح شکست کھاتی رہی یہاں تک کہ وہ شدید مایوسی کے عالم میں ملک چھوڑ کر امریکہ چلے گئے اور وہاں ٹیکسیاں چلانے لگے۔ چند سال بعد انکی بطور سیاسی رہنما واپسی پاکستان سیکورٹی اسٹبلشمنٹ کے نئے گیم پلان کا حصہ تھا جسکا مقصد شہر کراچی کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کرکے نظریاتی سیاست کو دفن کرنا تھا، اس گیم پلان کا دوسرا حصہ طلبہ یونین پر پابندی تھی۔ اس پابندی کے بعد سالوں تعلیمی اداروں پر راج کرنے والی این ایس ایف اپنی موت آپ مرگئی اور آج صرف کاغذات میں زندا ہے جبکہ دوسری طرف اسلامی جمعیت طلبہ ناصرف فعال اور متحرک ہے بلکہ زبیر صفدر ایسے ہونہار نوجوان کی زیر نظامت مزید پھل پھول رہی ہے۔زبیر صفدر! میں نے اس شخص کو ایک پھر دیکھا یہاں تک میں اسکی شخصیت کے سحر میں کھو گیا۔ خاموش، منکسر،سادہ، لیڈری کے تمام عوامی تصوارت سے یقلم محروم، دھیمے مزاج کا ستھرا انسان جو پچھلے ایک گھنٹے سے میز کی دوسری طرف میرے روبرو بیٹھا تھا۔ایسا خاموش کہ اسکی خاموشی سے حکمت کی موتیاں بکھریں، ایسا منکسر کہ اسکی انکساری اسے اوروں کی نظروں سے ڈھانپ لے، ایسا سادہ کہ اسکی سادگی سے حسد محسوس ہونے لگے۔ کیا یہ شخص ہے اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلی۔

فیس بک تبصرے

3 تبصرے برائے: اسلامی جمعیت طلبہ اور زبیر صفدر

  1. آپ کی یہ تحریر تو 15 سال پیچھے لے گئی. کیا دور یاد دلادیا ہے. کیسا جوش اور ولولہ ہوا کرتا تھا کیا کیا صحبتیں تھیں.
    جمعیت سے تعلق نا ہونے کے باوجود آپ کی معلومات اور مشاہدہ حیرت انگیز ہے.

  2. mani says:

    خؤبصورت تعارف

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>