صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

راستے جدا ہوچکے ہیں

مصنف: وقت: جمعرات، 14 نومبر 201315 تبصرے

کیا فوجی ترجمان بیان جاریmunwar-hassan کرتے ہوئے یہ بھول گئے تھے کہ یہ وہی سید منور حسن ہیں جنہوں نے میجر جرنل ثناء اللہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے طالبان کو سخت تنقید کانشانہ بنایا تھا۔ کیا ترجمان یہ بھی بھول گئے تھے کہ یہ وہی جماعت اسلامی ہے جس نے مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر بھارت اور مکتی باہنی کا مقابلہ کیا اور یہ سوال تک کرنا گوارا نہ کیا کہ ہمیں دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر آپ پلٹن میدان میں کیا کررہے تھے؟  کیا ترجمان یہ بھی بھول گئے تھے کہ یہ وہی جماعت اسلامی ہے جس نے کمیونزم کے خلاف فکری، عملی اور حربی میدان میں بیک  وقت آپکا ساتھ دیا۔ کیا ترجمان یہ بھی بھول گئے تھے کہ یہ وہی جماعت اسلامی ہے جو کشمیر پالیسی میں آپکا ہراول دستہ رہی اور جس نے کارگل کے مسئلے پر اسوقت آپکے حق میں آواز بلند کی جب منتخب وزیر اعظم بھی آپکے ساتھ کھڑے ہونے سے کترارہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ ترجمان کچھ نہیں بھولے بلکہ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کرتے ہوئے اسلامی تحریکوں کو واضع پیغام دیا ہے کہ اب راستے جدا ہوچکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوج ایم کیو ایم ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کی شکل میں نئے اتحادی تلاش کرچکی ہے یا ابھی نئے اتحادیوں کے لئے بکنگ جاری ہے اور شا ید ان جماعتوں کی بیرون ملک مقیم قیادت کو یہی سوال چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا ہے۔

افسوس تو یہ ہے کہ جس بات کو بنیاد بنا کر یہ طوفان سر پر اٹھایا گیا وہ بات دراصل امیر جماعت نے کی ہی نہیں تھی، گویا وہ بات انکو بری لگی جسکا سارے افسانے میں ذکر ہی نہ تھا۔ اگر تعصب اور بغض کی عینک اتار کر دیکھا جائے تو اپنے انٹرویو میں انہوں نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ وطن عزیز کے لئے جان دینے والے، دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے والے یا پاکستانی شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے دوران مرنے والے فوجی جوان شہید نہیں ہیں بلکہ انہوں نے تو سلیم صافی سے یہ جوابی استفسار کیا تھا کہ”اس جنگ میں لڑنے والا امریکی شہید نہیں، تو دیکھنا ہوگا کہ جوامریکی فوج کا ساتھ دیتا، امریکیوں کے مقاصد کو اگے بڑھاتا اور امریکہ سے ڈکٹیشن لیتا ہے وہ کیا ہے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔” فوجی ترجمان کے ردعمل، میڈیا کے شور شرابے اور سیاسی جماعتوں کی خوشامد نے دراصل بلواسطہ طور پر اس خیال کو قبول کرلیا ہے کہ افواج پاکستان دل و جان سے امریکی مقاصد کے حصول کے لئے اپنے ہی شہریوں کے خلاف لڑرہی ہے۔ اگر واقعی یہی صورتحال ہے تو فطری طور پر کسی بھی خالص اسلامی تحریک کا فوج کے ساتھ تعاون جاری رکھنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اسلامی تحریکوں کا بنیادی ڈھانچہ ہی ماددی مصلحت، ملکی مفادات، وطنیت اور قومی ریاست کے تصوارات کے برخلاف الہہیت ، امت اور حق و باطل کے نظریات پر ہی کھڑا ہوتا ہے ۔اقبال نے وطنیت کے رائج تصور کی کچھ یوں تعریف کی تھی۔

ان تازہ خداوں میں بڑ ا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اسکا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

بظاہر یہ سارا معاملہ اس بحث سے شروع سے ہوا جسکا حتمی فیصلہ رب کائنات نے خود کرنا ہے لیکن یہ بات اتنی سادہ بھی نہیں ہے جتنی سمجھی جارہی ہے۔پھر سید منور حسن نے پہلی باریہ سوالات نہیں اٹھائے ہیں، اپنے لاتعداد خطبات اور ٹی وی شوز میں وہ یہ سوال پہلے بھی اٹھا چکےتھے۔ ایک سال پہلے شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں بھی انہوں نے جو باتیں کہیں تھی، ٹھیک وہی باتیں انہوں نے ایک سال بعد سلیم صافی کے پروگرام میں کیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس بار یہ ہائیپ بنائی گئی؟ جن لوگوں کو سوات امن معاہدے کے بعد مولانا صوفی محمد کا جلسہ عام سے خطاب یاد ہو وہ اس صورتحال کا درست تجزیہ کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگائیں گے۔ نہ اس وقت صوفی محمد نے کوئی نئی بات کی تھی اور نہ ہی اب سید منور حسن نے اپنا کوئی نیا خیال پیش کیا ہے۔ البتہ سید منور حسن کے سوالات کے ردعمل میں آنے والے روئیے نے ایک تیر سے کئی شکار کئے ہیں، صرف جماعت اسلامی پر غداری کا داغ نہیں آیا بلکہ افواج پاکستان نےاپنے گرتے ہوئے مورال کو بحال کرنے، ایک طویل عرصے کے لئے طالبان کے ساتھ مزاکرات کا گلا گھونٹنے اور نیشنل اسٹیٹ یعنی قومی ریاست کے تصور کو عام کرنے کا بھی انتظام پیدا کرلیا ہے ۔

کمال بات یہ ہے کہ فوجی ترجمان نے جماعت اسلامی سے براہ راست استفسار کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا۔ معافی کا یہ مطالبہ اس سے پہلے کبھی کسی اور سے نہیں کیا گیا، نہ بائیں بازو کے شعرا اور دانشوروں سے جنہوں نے فوج کو براہ راست بار بار للکارا، نہ ان سے جنہوں نے قیام پاکستان کے پچاس سال بعد دہلی پہنچ کر قیام پاکستان کو تاریخ انسانی فاش ٖغلطی قرار دی اور اپنے بزرگوں کے اس جرم پر معافی کے طلبگار ہوئے، نہ ان سیاستدانوں سے جنہوں نے مختلف وقتوں میں فوج کو چیلنج کیا اور نہ ہی ان لوگوں سے جو اکبر بگٹی سے لیکر برہمداغ بگٹی تک ہر اس شخص کو شہید قرار دیتے نہیں تھکتے جس نے لسانیت ، عصبیت اور لادینیت کی بقا کے لئے فوجی جوانوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے زیادہ کمال بات یہ ہے کہ جمہوریت کے دعویداروں میں کوئی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ فوج کس حیثیت میں ایک سیاس و مذہبی جماعت سے براہ راست سے استفسار کررہی ہے؟ درحقیقت معافی تو ہماری فوج کو خود مانگنی چاہئے ،سیٹو اور سینٹو ، تاشقنداور سندھ طاس ایسے معاہدوں پر، 71 اور 98 کی جنگوں میں بدترین شکست پر، 65 کی جنگ سے متعلق جھوٹ بولنے پر،48 سے لیکر 2013 تک مختلف نجی فورسز کی سرپرستی کرنے پر، مشرقی پاکستان ، بلوچستان ، فاٹا ، کراچی اور لال مسجد میں آپریشن پر، ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر دباؤ ڈال کر ایسے جرم کا اعتراف کرانے پر جو درحقیقت انہوں نے کیا ہی نہیں تھا ، افغانستان پرامریکی جارہیت کا حصہ بننے پر، منتخب وزیر اعظم کو تختہ دار پر لٹکارنے پر، گمشدہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں پر اور چار بار اس ملک کے دستور کو پامال کرکے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر۔ لیکن ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے جب جمہوریت کے ترانے پڑھنے والے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ روک لیں، کارگل وار پر کمیشن ہی نہ بنائیں اور پرویزمشرف کو چور دروازے فراہم کریں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی اسلامی تحریکوں نے فوج کے اس پیغام کو سمجھ لیا ہے یا انہیں ابھی کوئی شک ہے۔ اگر سمجھ لیا ہے تو مستقبل کا کیا لائحہ عمل طہ کیا گیا ہے ،تصادم یا صبر محض، یکجہتی یا خاموشی۔ کچھ روایتی مذہبی جماعتیں پاکستان کی النور پارٹی بننا چارہی ہیں لیکن مصری النور پارٹی کی طرح انکے ہاتھ بھی نہ خدا آئے گا اور نہ ہی وصال صنم۔ وہ فوج کا ماضی اور حال بھول گئیں، یا یہ سمجھ رہی ہیں کہ فوجی ترجمان وقتی بھول چوک کا شکار ہے جسکا فائدہ اٹھا لیا جائےلیکن میرے خیال میں ترجمان کچھ نہیں بھولے بلکہ انہوں نے ایک تیر سے کئی شکار کرتے ہوئے اسلامی تحریکوں کو واضع پیغام دیا ہے کہ اب راستے جدا ہوچکے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فوج ایم کیو ایم ، اے این پی اور پیپلز پارٹی کی شکل میں نئے اتحادی تلاش کرچکی ہے یا ابھی نئے اتحادیوں کے لئے بکنگ جاری ہے۔ شا ید ان جماعتوں کی بیرون ملک مقیم قیادت کو یہی سوال چین سے بیٹھنے نہیں دے رہا ہے۔

قلم کاروان کے لئے لکھی گئی تحریر

http://www.qalamkarwan.com/2013/11/rastay-juda-ho-chukay.html

فیس بک تبصرے

15 تبصرے برائے: راستے جدا ہوچکے ہیں

  1. کاشف بھائی،

    آپ نے فرمایا کے ضیاع الحق کا ساتھہ جماعت نے نیک نیتی اور خلوص کے ساتھہ دیا تھا، میرے بھائی وہ خودکش حملہ آور بھی پوری نیک نیتی اور جنت کے حصول کا اپنا حق سمجھہ کر ہی خود کش حملہ کرتا ہے جو ہزاروں بے گناہ معصوم لوگوں کا قاتل ہوتا ہے، اگر غلط کام کی تاویل نیک نیتی اور خلوص مان لی جائے تو پھر اس خود کش حملہ آور نے کیا قصور کیا ہے جسے ساری دنیا لعنت ملامت کرتی ہے؟

    ملک و قوموں کے تقدیر کے ساتھہ کئے گئے فیصلے بلیک بورڈ پر لکھی تحریر نہیں ہوتے کہ جب چاہا اسے معافی کے ڈسٹر سے مٹا دیا اور جب چاہا دوبارہ لکھہ لیا، مودودی صاحب کا ہی فرمان ہے کہ غلطی کبھی بانچ نہیں ہوتی، وہ بچے دیتی ہے، جماعت کی ایک غلطی کے بعد نتائچ آج تک بھی آرہے ہیں، کیا غلطی مانگنے سے وہ سب بدل جائے گا جو آج تک ہمارا مقدر ہے؟ اس ایک غلطی کے نتیجے میں جو کچھہ ہمیں ملا اسکا اندازہ یقیناَ اس وقت خود جماعت اسلامی کو بھی نہ ہوگا ورنہ مجھے یقین ہے کہ جماعت کبھی بھی ضیاع الحق کے ان جرائم میں حصہ دار نہ بنتی، مجھے جماعت اسلامی کے لوگوں کی نیت پر زرا بھی شک نہیں ہے لیکن ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو، تنظیم کا نام ہے جماعت اسلامی، اور فراست کا کہیں دور بہت دوووووووووووووور تک کوئی واسطہ ہی نہیں ہے، لیڈر تو وہ ہوتا ہے مومن تو وہ ہوتا ہے جو عشروں کے پار دیکھہ لیتا ہے، تو یہ تو طے ہوگیا کہ کے اس وقت کی جماعت کی لیڈر شپ اور شوریٰ فہم و فراست سے یکسر آری تھے، لگ بھگ وہ ہی لوگ آج تک بھی جماعت کے کرتا دھرتاوں میں شامل ہیں اور بد قسمتی سے آج بھی انکو اپنی ناک سے آگے کا منظر نظر نہیں آرہا، آج بھی یہ لوگ مستند دہشتگردوں کی ہمایت میں مرے جا رہے ہیں، جسے منور حسن صاحب شہید قرار دینے پر بضد ہیں وہ ہی حکیم محسود قاضی حسین احمد کو لا دین کہہ چکا ہے، یہ بات آپ بھی جانتے ہیں میں بھی جانتا ہوں کے بانی جماعت اسلامی کے مودودی صاحب کا ریاست کے اعلانِِ جہاد کے بغیر جہاد کرنے پر کیا نظریہ تھا، مجھے تو حیرت ہے کہ جماعت آج کہاں کھڑی ہے؟ وہ مودودی صاحب جنکے علم و فراست کی ایک دنیا معترف ہے انکے پیروکار آج انکی تعلیمات کو ہی فراموش کر چکے ہیں، دین کی خود ساختہ تشریحات کر کہ عام معصوم لوگوں کے قاتلوں کے ساتھہ کھڑے ہیں، ایک طرف پورا پاکستان کھڑا ہے اور ایک طرف جماعت اسلامی اور یہ دہشتگرد کھڑے ہیں، کیا یہ ہو وہ مومن کی فراست ہے جس سے ڈرنے کا حکم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے؟ اگر مان بھی لیا جائے کے فوج نے جماعت اسلامی کو آج تک اپنے مقاصد کے لئیے استعمال کیا اور اب مطلب نکل جانے کے بعد لات مار دی ہے، تو یہ دودھہ پیتے بچے تھے کیا؟ ان میں عقل شعور دانش عشروں کے پار دیکھنے کی صلاحیت کچھہ بھی نہیں تھا کیا؟ تو پھر مجھے کہنے دیجئیے کے یہ لوگ اس قابل بھی نہیں کہ انکا سجدہ سہو قبول کیا جاسکے، ان میں اہلیت ہی نہیں کہ یہ لوگ اس منصب پر مزید فائز رہ سکتیں۔

    یہ بات درست ہے کہ صرف جماعت اسلامی ہی نہیں باقی تمام جماعتیں بھی کسی نہ کسی صورت سے افواج پاکستان کی ہی پیداوار ہیں، لیکن ان سب میں اور جماعت سمیت کسی بھی دوسری مذہبی جماعت میں یہ فرق ہے کہ وہ خود کو اسلام کا علمبردار نہیں کہتیں، انکی بدمعاشیاں انکی حرام خوریاں نوشتہِ دیوار ہیں وہ اسلام کے نام پر پارسائی کا دعویٰ بھی نہیں کرتیں، پیپلز پارٹی کرپٹ جماعت ہے سب کو معلوم ہے، کراچی میں امن کمیٹی کے نام پر دہشتگردوں کی سرپرستی کرتی ہے سبکو معلوم ہے، ایم کیو ایم بھتہ خوری میں ملوث ہے سبکو معلوم ہے، ایم کیو ایم کے لوگوں نے مخالفین کو قتل کیا ہے سب کو معلوم ہے، اس ہی طرح اے این پی و دیگر جماعتیں بھی ان ہی سب کاروائیوں میں ملوث ہیں یہ کون نہیں جانتا؟

    لیکن ان سب میں اور جماعت اسلامی میں فرق لفظ اسلام کا ہے، یہ ہی سارے کام دانستہ یا غیر دانستہ جماعت اسلامی نے بھی کئے ہیں، اگر باقی جماعتوں نے اپنے ہی شہریوں سے بھتہ وصول کیا ہے تو جماعت اسلامی نے یہ بھتہ امریکہ سے ڈالر کی صورت میں وصول کیا ہے، اگر ان تنظیموں نے اپنے ہی شہریوں کو قتل کیا ہے تو جماعت اسلامی بھی آج طالبان دہشتگروں کی ہمایت کر کے وہ سب خود کش حملے اور چالیس ہزار پاکستانیوں کا خونِ نہ حق اپنے نامہِ اعمال پر لے رہی ہے، ضیاع الحق کا ساتھہ دینے کی ایک غلطی نے جو بچے دئیے جسکا نتیجہ کلاشنکوف کلچر ہیروئن منشیات اور افغانیوں کی صورت میں پاکستان کو ملا یہ سب بھی اس ایک غلطی کے بچے ہی ہیں، کیا اسے مومن کی فراست سے تعبیر کیا جاسکتا ہے؟

    نہیں ہرگز نہیں، یہ طے ہوگیا کہ جماعت اسلامی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے نام کے ساتھہ اسلام کا لفظ جوڑے، جتنی بے حرمتی اس لفظ کی ہونی تھی ہوگئی اب مزید سے اجتناب کیا جائے اور کم از کم اتنی تو اخلاقی جرت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جائے کہ اپنے نام سے لفظ اسلامی ہٹا دیا جائے، قاتلوں لٹیروں بینک لوٹنے والوں، جبری شادیاں کرنے والوں، خود کش حملہ کرنے والوں، جہاد کے نام پر فساد کرنے والوں جیسا کہ خود قاضی حیسن احمد فرما چکے ہیں کہ پاکستانی طالبان جہاد نہیں فساد کر رہے ہیں، اگر ان سب کا ہی ساتھہ دینا ہے اگر انہیں شہید ہی ڈکلئیر کرنا ہے تو پھر خدارا کم از کم اسلام کا نام تو استعمال نہ کریں، اپنے نام سے اسلامی نکال کر جو کرنا ہے کریں تاکے دین فروشی سے بچ سکتیں۔

    مجھے یقین ہے آج اگر مودودی صاحب زندہ ہوتے تو یہ سب دیکھنے کے بعد وہ شرم اور جماعت اسلامی بنانے پر بھی پوری قوم سے معافی مانگتے اور جماعت اسلامی کو ختم کرنے کا اعلان کر دیتے، کیوں کہ پوری جماعت اسلامی میں صرف ایک ہی شخص تھا جو مومن کی تعریف پر پورا اترتا تھا، وہ نہیں رہا تو دنیا نے دیکھا کہ جماعت کہاں سے چلی تھی اور اب کہاں کھڑی ہے، مودودی صاحب نے بلکل درست فرمایا تھا کہ غلطی بانچ نہیں ہوتی۔

  2. حکیم محسود کے معاملے میں آپکا استدلال اسلئیے قابلِ قبول نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص زاتی زندگی میں کیسا ہے اسکا عمل کیا ہے اسکے معملات حقوق اللہ اورسے متعلق کیا ہیں وہ اللہ اور بندے کے درمیان کا معاملا ہے جب تک وہ اعلانیہ کسی ایسے جرم کا اقرار نہیں کرتا جو قابل گردن زنی ہو، پھر چاہے وہ فوجی ہو یا عام آدمی، کیونکہ اگر آپکا یہ استدلال مان لیا جائے پھر تو دنیا میں انبیاء اکرام کے علاوہ کسی کو بھی آسانی سے شہید نہیں مانا جا سکے گا۔ حکیم محسود کا معاملا بلکل ہی مختلف ہے صرف فورسز پر ہی نہیں امام بارگاہوں مساجد مزارات اور مون مارکیٹ سے لے کر عباس ٹاون تک تمام دہشتگردیوں کی زمہ داری طالبان نے قبول کی ہے جو ریکارڈ پر موجود ہے جسے اب جھٹلایا نہیں جاسکتا، کرنل امام کو تو اعلانیہ شہید کیا یہ لنک آپکی خدمت میں پیش کئے دے رہا ہوں اپنی آنکھوں سے دیکھہ لیجئیے کے کیسے حکیم محسود نے اعلانیہ انہیں شہید کیا اور پھر زمہ داری بھی قبول کی، ایسے اعلانیہ جرم کے ارتکاب کرنے والے کو کوئی کیسے شہید مان سکتا ہے یہ میری ہی کیا پوری قوم کی سمجھہ میں نہیں آیا، لنک دیکھئیے، https://www.facebook.com/photo.php?v=742649345750365

    اب یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد بھی اگر آپ یا آپکی جماعت اسے شہید کہتی ہے تو کون مانے گا آپکی بات؟ کوئی بھی نہیں مانے گا اور نہ کوئی مان رہا ہے، میرے اپنے کتنے ہی ایسے دوست احباب ہیں جنکہ تعلق جماعت سے ہے وہ خود کہہ رہے ہیں کے کسی بھی طرح شہید نہیں ہے یہ لیکن پھر بھی آپکا اور آپکی جماعت کا استدلال یہ ہی رہا تو اسکا نقصان کسی اور کو نہیں جماعت کو ہی ہوگا، جماعت اپنی پالیسیز کی وجہ سے ہی پہلے ہی پورے پاکستان سے سمٹ کر سرحد کے مضافاتی علاقوں تک محدود ہوگئی ہے بہت ممکن ہے کہ اگلے وقتوں میں وہاں سے بھی نام و نشان مٹ جائے، لوگ پاوں پہ کلہاڑی مارتے ہیں لیکن جماعت اسلامی نے یہ موقف اختیار کر کے کلہاڑی پر پاوں دے مارا ہے۔

    مودودی صاحب کا ایک انٹرویوں اس سنڈے کے اخبار دنیا نیوز کے سنڈے میگزین میں چھپے گا اسے غور سے پڑھہ لیجئیے گا اس میں مودودی صاحب نے ریاست کے بغیر جہاد پر بہت واضع طور پر اپنی رائے دی ہے امید ہے آپکا ابہام دور ہوجائے گا۔

    آگے چل کر آپ نے احناف کو بھی لپیٹ دیا، فاسق و فاجر کی تعریف پڑھہ لیں پہلے آپ کے فاسق و فاجر کہتے کسے ہیں، فاسق و فاجر وہ حکمراں ہوتے ہیں جو اعلانیہ کفر کا ارتکاب کردیں، نماز روزہ حج زکوت وغیرہ پر پابندی لگا دیں، اسلام کے بنیادی احکامات کے اعلانیہ انکاری ہوجائیں، پاکستان میں ایسا حکمراں تو ابھی تک بھی کوئی نہیں آیا جس نے ان سب جرائم کا ارتکاب کیا ہو، مانا کہ یہ سب کرپٹ ہیں، جھوٹے ہیں، غاصب ہیں، دولت کی ہوس کے مارے ہیں، سودی نظام کے ساتھہ چل رہے ہیں، لیکن کیا یہ سب خامیاں پورے عالم اسلام میں صرف پاکستان کے حکمرانوں میں ہیں؟ کیا سعودیہ میں سودی نظام نہیں چل رہا؟ کیا سعودیہ میں بینکنک نہیں ہورہی؟ کیا سعودی حکمران امریکہ کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوئے ہوئے؟ ان سب خامیوں کے باواجود بھی انہیں یا پاکستانی حکمرانوں کو فاسق و فاجر کی فہرست میں نہیں لا سکتے آپ اسلئیے احناف کی رائے تو یہاں لاگو ہی نہیں ہوتی، البتہ میں میں آپکو ایسی کم از کم سو احدیث بتا سکتا ہوں جو ریاست کے اندر ریاست بنانے والوں بے گناہوں کا خون بہانے والوں بغاوت کرنے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے، اسکا عملی مظاہرہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ دنیا کو دکھا چکے ہیں۔

    آپکو اور جماعت اسلامی کو میرا مشورہ یہ ہی ہے کہ اپنے الفاظ واپس لیں پوری قوم سے معافی مانگیں اور جتنے بھی پاکستان کے شہداء ہیں چاہے وہ عام لوگ ہوں یا فوجی جوان ان کے گھر والوں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کے انکے زخموں پر نمک چھڑکیں، ورنہ اسکا نا قابل تلافی نقصان جماعت کو اٹھانا پڑے گا۔

  3. Abbas says:

    jhootay aur bay bunyad ilzaam aap nay Jamaat e Islami kay upar lagai hain..sharam karo

  4. Abbas says:

    fikr e Pakistan.sharam karo tum nay jhootay ilzam Jamaat kay upar lagai. pehaly khud moomin ban jao phir Islami tehreek pay baat karna. sharam nahi atti tum jesay logo ku Jamaat e Islami kay khilaf bonda propaganda kartay huway.MQM bhatta leti hai koi shak nahi.Jamaat e Islami nay America dollar liye iss ka koi saboot nahi.aur agar liye bhi tu uska bhatta lenay koi comparison nahi.yeh comparsion aik jahil hi kar sakta hai. Allah tum ku hidayat dhay. humain Jamaat e Islami pay fakhar hai,aur yeh Almi Islami tehreek zinda rahay ghi. tum jesay Islam dushman ju marzi propaagnda karain

  5. Abbas says:

    Fikr e Pakistan. Jamaat ku army nay nahi banaya.jhoot wu bolo jis pay ka koi sar pair hu. Jamaat e Islami 1941 mai bani.Pakistan kay wajood say pehlay. iss liye Jamaat ka koi dushman bhi yeh nahi keh sakta kay Jamaat ku army nay banaya. tum ku sharam ani chayie jhoot bolnay par. pabandi tu PPP,ANP,MQM jesi secular parties par lagni chayie.iss liye kay Pakistan Islamic republic hai secular mulk nahi.ulta tum munafiqo ki tarhan secular parties ku chor kar Jamaat e Islami ju na dehshatgardi mai aur na bhatt khori mai involved hai uspay pabandi ka mutalba kar rahay hu.

  6. Abbas says:

    Fikr e Pakistan. read this… its must readhttps://www.facebook.com/photo.php?fbid=614709835241986&set=a.145873732125601.37869.144494398930201&type=1&theater
    for people like you…

  7. Abbas says:

    Fikr e Pakistan. apni Munafiqana soch ko Syed Abu Ala Maudoodi RA say mansoob na karo. unho nay Jamaat ku bana kay buhat bara aur neki ka kaam kiya. Jamaat e Islami ka wajood Pakistan mai kisi naimat say kum nahi, munafiqo ku hi itni takleef hugi Jamaat say.

  8. ماشاءاللہ سے جماعت اسلامی نے آپکی کیسی اخلاقی پرورش کی ہے وہ تو آپکے طرزِ گفتگو سے ہی جھلک رہی ہے، اندازِ گفتگو ہی باتا رہا ہے کہ آپ واقعی جماعت اسلامی کے کارکن ہیں۔

  9. میرے تبصرے میں ایسا کچھہ بھی غلط نہیں تھا جو صاحبِ بلاگ نے شائع کرنے سے روک دیا ہے۔ دلیل کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہئیے نہ کے فرار کا راستہ اختیار کر لیا جائے، میرا تبصرہ شائع نہ کرنا ہی آپکی بد دیانتی کا ثبوت ہے۔ میرا مخاطب کاشف نصیر نہیں ہے، کیوں کے میں جانتا ہوں کے یہ کاشف کا بلاگ نہیں ہے۔

    کاشف نظیر صاحب یہ تبصرہ میں نے قلم کارواں کے بلاگ پر دیا ہے کیوں کے انہوں نے میرا تبصرہ شائع نہیں کیا ہے اسلئیے ہی میں آپکے بلاگ پر اپنا تبصرہ دے رہا ہوں۔

  10. @ فکر پاکستان : حکیم اللہ محسود کو شہید ماننے کے لئے صرف یہی اصول کافی ہے کہ وہ کافروں / حربی دشمنوں سے لڑتا ہوا اور (امن کی کوششوں کے دوران) مارا گیا۔ اب اس نے کتنے بندے مارے یا نہیں مارے، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔

    البتہ مسلمان اگر ملسمان کے ہاتھوں مارا جائے تو بہرحال سوالیہ نشان تو بنتا ہے اور پھر عملماء کا کام ہے کہ وہ رائے دیں کہ انکے مطابق دونوں شہید ہونگے، ایک فریق شہید ہوگا اور دوسرا شہید ہوگا۔

  11. آپکا یہ استدلال صرف آپ اور جماعت اسلامی تک ہی محدود ہے باقی پوری قوم ایک طرف کھڑی ہے، رہی فتوے کی بات تو بریلوی علماء اکرام تو حکیم محسود کی ہلاکت پر فتویٰ دے چکے ہیں باقی دوسرے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کی خاموشی سمجھہ سے بالا تر ہے، انکی یہ خاموشی اس سوچ کو تقویت بخش رہی ہے کہ طالبان کو ایک خاص مکتبہ فکر کی ہمایت حاصل ہے اور یہ ان ہی کی پیداوار ہیں، اسلئیے باقی علماء اکرام کو بھی اس مجرمانہ خاموشی کو توڑتے ہوئے لب کشائی کرنی چاہئیے ورنہ یہ بین القوامی اصول ہے کہ خاموشی کو تائید ہی مانا جاتا ہے۔

  12. جماعت اسلامی اکیلے نہیں کھڑی علمائے دیوبند اور مکتبہ اہل حدیث انکے ساتھ ہیں اور بریلوی مکتبہ فکر کی خاموش اکثریت بھی ایسا ہی سمجھتی ہے۔ سنی اتحاد کونسل بریلویوں کی نمائندہ جماعت نہیں۔

  13. علمائے دیوبند ٹی وی پر آکر بات نہیں کرتے بلکہ جب ان سے فتوا مانگا جاتا ہے تو وہ فتوے دیتے ہیں، 2004 میں علمائے دیوبند کا اجمتماعی فتوا موجود ہے۔

  14. سنی اتحاد کونسل میں جتنی بھی جماعتیں ہیں وہ مسلک سے بریلوی ہی ہیں، آپ نے فرمایا دیوبند علماء ٹی وی پر نہیں آتے، تو پھر دیکھنا پڑے گا کہ مفتی نعیم صاحب نے اپنا مسلک تو نہیں بدل لیا۔

  15. بالکل سنی اتحاد کونسل میں تمام جماعتیں بریلوی مسلک سے تعلق رکھتی ہیں لیکن یہ جماعت بریلویوں کی نمائندہ جماعت نہیں۔ مفتی نعیم جو علمائے دیوبند میں اتنے معترف نہیں سمجھے جاتے بالکل ٹی وی پر آتے ہیں لیکن انہوں نے ہرگز سید صاحب کے بیان کو غلط نہیں قرار دیا۔ انہوں نے تو الٹا ٹی وی اینکر کو اسکے روئے پر جھاڑ پلائی تھی۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>