صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

کراچی کی انتخابی صورتحال

مصنف: وقت: منگل، 7 مئی 201310 تبصرے

11 مئی میں اب صرف چار دن رہ گئے ہیں اور ہم پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھومتے ہوئے بلاخر شہر قائد تک پہنچ چکے ہیں۔ کراچی تک پہنچتے پہنچتے سیاسی منظر نامہ کافی حد تک صاف اور واضع ہوچکا ہے۔ پچھلے ہفتے تک سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں کلین سوئپ کررہی ہے اور تحریک انصاف چند ایک نشستیں ہی جیت سکے گی لیکن وہی سیاسی تجزیہ نگار ہوا کے بدلتے ہوئے رخ کو محسوس کرتے ہوئے یہ ماننے پر مجبور نظر آرہے ہیں کہ صونامی اب پنجاب کے کئی شہروں کو بہا لے جائی گی۔ اسی طرح کراچی میں جہاں ایم کیو ایم سترہ نشستوں کا اندازہ لگائے بیٹھی تھی، اب اپنی سات محفوظ نشستوں این اے 242، 243، 244، 246، 247، 254 اور 256 کے علاوہ دیگر دس نشستوں پر دس جماعتی اتحاد کی شدید مزاحمت کا سامنا کررہی ہے اور ان دس میں سے تین حلقے این اے 250، 252، اور 253 تو مکمل طور پر اسکی گرفت سے نکل چکے ہیں۔ اگر ان نشستوں پر ایم کیو ایم کامیاب ہوبھی گئی تو اسکی وجہ تحریک انصاف کو پڑنے والا ووٹ ہوگا۔

ایم کیو ایم ایک متحرک اور منظم جماعت ہے، اسکے تنظیمی ڈھانچے اور نیٹ ورک نے پچھلے پچیس سال کے مسلسل اقتدار کی بدولت بے پناہ ترقی حاصل کرلی ہے۔ گویا اس مظبوط جماعت کو صرف جزباتی بہاو، سیاسی نعروں اور اشتہارات کی مدد سے کمزور نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسکے لئے میدان عمل میں اترنا اور گراس روٹ لیول پر تنظیمی جڑیں پھیلانا بہت ضروری ہے۔ لیکن قابل تشویش بات یہ ہے کہ عمران خان شہر میں اپنی بے پناہ مقبولیت کے باوجود کوئی جلسہ نہیں کررہے، نہ انہوں نے کوئی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی ہے اور نہ ہی شہر کے گلی محلوں میں تحریک انصاف کی کوئی قابل زکر انتخابی مہم نظر آرہی ہے۔

میں اکثر کہتا ہوں کہ عمران خان شہر قائد کے سب سے مقبول رہنما ہیں لیکن اس مقبولیت کے باوجود انکی جماعت تحریک انصاف شہر میں انتہائی غیر مقبول جماعت ہے جبکہ اس کے برمخالف الطاف حسین شہر میں سب سے غیر مقبول شخص ہیں لیکن انکی جماعت کی مقبولیت شہر کے اکثر علاقوں میں آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ تحریک انصاف کی اس عدم مقبولیت کہ بنیادی وجہ کراچی کی سیاست میں عمران کی عدم توجہ ہے۔ میرے مطابق عمران خان کراچی کو نظر انداز کرکے سنگین غلطی کررہے ہیں، انہیں کراچی میں جماعت اسلامی سے اتحاد کرنا چاہئے تھا، کیونکہ عمران خان کی مقبولیت اور جماعت اسلامی کا تنظیمی اسٹریکچر اگر ساتھ ہوتا تو اسکے سامنے ایم کیو ایم کی سیاسی اجارہ داری ریت کا پہاڑ ثابت ہوتی۔ اس اتحاد کی ناکامی کا  نقصان نہ عمران خان کو ہوگا اور نہ ہی جماعت اسلامی کو بلکہ اسکا خمیازہ صرف اور صرف کراچی کے عوام بھگتے گیں۔

کراچی کے مختلف حلقوں میں انتخابی سرگرمی کا جائزہ لینے کے لئے جب میں شہر کے مختلف علاقوں میں گھوم رہا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ سید منور حسن کے جلسے نے کراچی کی سیاست پر طویل عرصے سے جمے برف کو پگھلا دیا ہے، عمران خان کی مقبولیت ایم کیو ایم کو خاموش سرپرائز دینے والی ہے اور پہلی بار جمعیت علمائے اسلام اور چھوٹی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ دینی محاز کم از کم چار حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہونگے۔ کراچی میں قومی اسمبلی کی 272 میں سے 20 اور صوبائی اسمبلی کی 130 میں سے 42 نشستیں ہیں اور میرے مشاہدے کی روشنی میں اگر انتخابات منصفانہ اورشفاف ہوئے تو نتائج کچھ اس طرح ہوسکتے ہیں۔

این اے 239
کل ووٹ : 312401
حلقے میں شامل علاقے : کیماڑی، ہاکس بے، منوڑا کینٹ، بلدیہ ٹاون کے کچھ علاقے
لسانی تقسیم : پشتون، بلوچ، اردو اسپیکنگ


تجزیہ : اس حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل سب سے مظبوط امیدوار ہیں لیکن 1997 اور 2002 کے انتخابی نتائج اور پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی کی بنیاد پر یہ دعوا کیا جاسکتا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل دس جماعتی اتحاد یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے گا۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ دس جماعتی اتحاد کے حمایت یافتہ قاری فضل الحسن اس حلقے میں اس وقت سب سے آگے ہے جب کے پاکستان پیپلزپارٹی کے عبدلقادری پٹیل دوسرے نمبر پر نظر آرہے ہیں۔ این اے 239 میں سندھ اسمبلی کی دو نشستیں پی ایس 89 اور 90 واقعی ہے۔

این اے 240
کل ووٹ : 279723
حلقے میں شامل علاقے : شیرشاہ، پاک کالونی، ریسرلائن، میاں والی کالونی، بلدیہ ٹاون کے کچھ علاقے
لسانی تقسیم : پشتون، بلوچ، اردو اسپیکنگ


تجزیہ : گو کہ قومی اسمبلی کا یہ حلقہ پچھلے بیس برسوں سے ایم کیو ایم مسلسل جیتی آرہی ہے لیکن اس بار ایم کیو ایم کے حامیوں میں وہ جوش و جزبہ نظر نہیں آرہا ہے جو کبھی پہلے ہوا کرتا تھا۔ حلقے کے کئی علاقوں جیسے پاک کالونی اور بلدیہ ٹاون میں ایم کیو ایم کا اب بھی گہرا اثر و رسوخ ہے لیکن ممکنہ طور پر ان علاقوں سے ووٹنگ ٹرن اوور کم رہے گا جس کی وجہ سے شیرشاہ اور سائٹ کے ایم کیو ایم مخالف ووٹوں کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے دس جماعتی اتحاد کے حمایت یافتہ جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار مفتی فضل الحق ایم کیو ایم کے امیدوار خواجہ سہیل منصور کو ٹف ٹائم دیں گے۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں پی ایس 91 اور 92 واقع ہیں۔

این اے 241
کل ووٹ : 268582
حلقے میں شامل علاقے : توحید کالونی، اورنگی ٹاون ایک نمبر تا پانچ نمبر، فرنٹیر کالونی، باوانی چلی
لسانی تقسیم : پشتون، اردو اسپیکنگ


تجزیہ : قومی اسمبلی کے اس حلقے میں اورنگی ٹاون ٹاون، مومن آباد، فرنٹیر کالونی کے علاقے شامل ہیں۔ اورنگی ٹاون میں مشرقی پاکستان سے ہجرت کرنے والے بہاریوں کی غالب اکثریت کی آباد ہے جنکی ہمدردیاں ماضی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ رہی ہیں جبکہ فرنٹیر کالونی اور مومن آباد پختون اکثریتی علاقے ہیں جہاں جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی کا گہر اثر و رسوخ ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے دس جماعتی اتحاد کےحمایت یافتہ جماعت اسلامی کے امیدوار لعیق احمد کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں جبکہ متحدہ قومی موومینٹ کے امیدوار ایس اے اقبال قادری دوسرے نمبر پر رہیں گے۔ واضع رہے کہ اگر جماعت اسلامی کو شکست ہوئی تو اسکی وجہ تحریک انصاف کو پڑنے والا ووٹ ہوگا۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں پی ایس 94 اور 93 واقع ہیں۔

این اے 242
کل ووٹ : 296822
حلقے میں شامل علاقے : اورنگی ٹاون، قصبہ کالونی، پیرآباد اور نیومیاں والی کالونی
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ، پشتون


تجزیہ: ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والے اس حلقے میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کی پوزیشن مستحکم نظر آرہی ہے۔ اس حلقے میں ایم کیو ایم کا اثر رسوخ اتنا گہرا ہے کہ 2002 میں ایک ضمنی انتخاب میں جب تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار معراج الہدی صدیقی کی مدد کررہی تھیں تب بھی ایم کیو ایم کا امیدوار 50000 ووٹ کے بڑے مارجن سےکامیاب ہوا تھا۔ ایم کیو ایم نے اس بار محبوب عالم کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نجیب اللہ خان نیازی کریں گے۔علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے ایم کیو ایم بھاری اکثریت سے یہ نشست جیت لے گی جب کہ مخالف امیدوار کی ضمانت ضبط ہوجائے گی۔۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں پی ایس 95، 96 اور 97 واقع ہیں۔

این اے 243
کل ووٹ :333290
حلقے میں شامل علاقے : نارتھ کراچی (خواجہ اجمیر نگری تا بابا موڑ)، نیوکراچی (پاور ہاوس تا عبداللہ گوٹھ) اور سرجانی ٹاون
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ، پنجابی، پشتون اور بنگالی

تجزیہ :ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والے اس حلقے میں ایک بار پھر ایم کیو ایم کی پوزیشن مستحکم نظر آرہی ہے۔اس حلقہ کی گلی محلوں اور بازاروں میں میرا پچپن گزرا ہے اور آج بھی میں اسی حلقے میں رہائش پزیر ہوں۔ 1988 میں یہ حلقہ این اے 244 اور 245 کا حصہ تھا جبکہ 2002 میں قومی تعمیری نو بیورو نے اس علاقے کو ایک علیحدہ حلقہ بنادیا۔ ایم کیو ایم نےایک بار پھر اس حلقے سے عبدل وسیم کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت پر جماعت اسلامی کے محمد یوسف کریں گے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے بھی متحدہ قومی موومینٹ کی بھاری اکثریت سے میدان مار لے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں پی ایس 98 اور 99 واقع ہیں۔

این اے 244
کل ووٹ :290891
حلقے میں شامل علاقے :فیڈرل بی ائریا (16بلاک تا 21) بفرزون، نیو کراچی (ناگن تا پاور ہاوس-صبا چورنگی)
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ

تجزیہ : ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والے اس حلقے میں فیڈرل بی ائریا کے کئی علاقوں کے علاوہ بفرزون اور نیوکراچی کے کچھ علاقے شامل ہیں۔ متوسط طبقے کے یہ علاقہ ماضی میں جماعت اسلامی کا گڑھ ہوا کرتا تھا اور یہاں سے پروفیسر غفور احمد مرحوم کامیاب ہوتے تھے۔ جماعت اسلامی کا مرکز ادارہ نور حق بھی اس ہی حلقے میں واقعے ہے۔ لیکن 1988 کے بعد سے این اے 244 کی سیاست پر لسانی رنگ نمایاں نظر آتا ہے اور ایم کیو ایم ایک ناقابل شکست جماعت تصور کی جاتی ہے۔ میرے خیال سے اگر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں کوئی سیاسی اتحاد ہوجاتا تو ایم کیو ایم کو پہلی بار اس حلقے سے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایم کیو ایم نے 11 مئی کے انتخابات کے لئے اس حلقے سے شیخ صلاح الدین کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت سے جماعت اسلامی کے ایس ایم بلال اور تحریک انصاف کے خالد مسعود کررہے ہیں۔ اردو بلاگر عمار ابن ضیاء کا ووٹ بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں ہے۔ اس علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بار پھر متحدہ قومی موومینٹ کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں پی ایس 100 اور 102 واقع ہیں۔

این اے 245
کل ووٹ : 290891
حلقے میں شامل علاقے : ناظم آباد (بڑامیدان اور پاپوش نگر) نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی (سیکٹر 11 اے، 11بی،11سی، 8، 9،10 اور 7ڈ2) اور شادمان ٹاون
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ


تجزیہ : قومی اسمبلی کا یہ حلقہ ناظم آباد کے علاقے پاپوش نگر اور بڑا میدان، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاون اور نارتھ کراچی کے کچھ بالائی حصوں پر علاقوں پر مشتمل ہے۔ ماضی میں یہ حلقہ بھی مذہبی جماعتوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن 1988 میں مہاجر پختون فسادات کے بعد سے یہاں متحدہ قومی موومینٹ ناقابل شکست رہی ہے۔ میرے خیال سے اگر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی میں کوئی سیاسی اتحاد ہوجاتا تو ایم کیو ایم کو پہلی بار اس حلقے سے بھی اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ ایم کیو ایم نے اس بار اس حلقے سے رحمان ہاشمی کو ٹکٹ دیا ہے۔ رحمان ہاشمی کا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت پر جماعت اسلامی کے معراج الہدہ صدیقی اور تحریک انصاف کے ریاض حیدر کریں گے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ میرے اندازے کے مطابق ایم کیو ایم کو اس حلقے میں برتری حاصل ہے جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف پیچھے پیچھے ہے۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 103 اور 101 واقع ہیں۔

این اے 246
کل ووٹ : 310045
حلقے میں شامل علاقے : گلبرگ، لیاقت آباد، ایف بی ائریا
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ


تجزیہ :ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والے اس حلقے میں فیڈرل بی ائریا، لیاقت آباد اور ایف بی ائریا کے علاقے شامل ہیں۔ کراچی کی سب سے بڑی سیاسی قوت ایم کیو ایم کا مرکز نائن زیرو اور جنم بھومی عزیز آباد بھی اسی حلقے میں واقعے ہے۔ اس ہی حلقے میں تبلیغی جماعت کا مرکز مدنی مسجد بھی ہے۔ 1988 سے لیکر آج تک اس حلقے میں ایم کیو ایم ناقابل شکست رہی ہے۔ اس حلقے میں ایم کیو ایم کی مقبولیت کا یہ حال ہے کے اگر اسکے سامنے تمام مخالف جماعتیں بھی ایک ساتھ ہوکر آجائیں تو اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ ایم کیو ایم نے اس بار اس حلقے سے نبیل گبول کو ٹکٹ دیا ہے جنکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کے حمایت یافتہ جماعت اسلامی کے امیداوار راشد نسیم اور تحریک انصاف کے عامر شرجیل کریں گے۔ اردو بلاگر عنیقہ ناز مرحومہ کا ووٹ بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں تھا۔ میرے اندازے کے مطابق ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مقابلہ یکطرفہ ہی رہے گا۔اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 103 اور 101 واقع ہیں۔

این اے 247
کل ووٹ : 303455
حلقے میں شامل علاقے : لیاقت آباد کے ناظم آباد سے متصل علاقت، ناظم آباد، گلبہار، مرید گوٹھ، فردوس کالونی اور قاسم آباد
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ


تجزیہ : ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والا قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 247 اگیارہ مئی کو منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی متحدہ قومی موومینٹ کے لئے ایک آسان حلقہ ہی ثابت ہوگا۔ ایم کیو ایم نے اس حلقے سےسفیان یوسف کو ٹکٹ دیا ہے جنکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت پر جمعیت علمائے پاکستان کے نامزد امیدوار سلیم الدین قریشی کریں گے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بار پھر متحدہ قومی موومینٹ کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں اور دس جماعتی اتحاد دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 103 اور 101 واقع ہیں۔

این اے 248
کل ووٹ : 351345
حلقے میں شامل علاقے : لیاری
لسانی تقسیم : بلوچ، اردو اسپیکنگ


تجزیہ : لیاری کراچی کا سب سے قدیم علاقہ ہے جہاں شیدی مکرانی قدیم زمانے سے آباد ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ شہر کراچی بستا اور پھلتا رہا لیکن لیاری ہمیشہ کی طرح آج بھی پسماندہ اور بدحال ہے۔ لیاری میں اگر کسی چیز نے ترقی کی ہے تو وہ صرف جرائم پیشہ گینگ ہیں۔ اس پسماندہ اور ناخواندہ حلقے میں پیپلز پارٹی کا اثر و رسوخ ہونا فطری بات تھی پھر گبول خاندان کا اثر و رسوخ، سونے پر سہاگا ثابت ہوا۔ اس بار پاکستان پیپلز پارٹی نے عبدالرحمان ڈکیت کے ساتھی اور لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیراللہ بلوچ کے دست راست شاہ زین بلوچ کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ گبول فیملی کے چشم و چراغ نبیل گبول پیپلز پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے پر ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر شاہ زین بلوچ کا مقابلہ کریں گے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ بلوچ شیدی ایک شیدی کو ٹکٹ ملنے پر بہت خوش ہیں اور انکی کامیابی کے امکانات اب سو فیصد ہیں ۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 108 اور 109 واقع ہیں۔

این اے 249
کل ووٹ :388099
حلقے میں شامل علاقے : کھمبر والا، کھارادر، میٹھادر، عثمان آباد، دھوبی گاٹھ، گھانس منڈی، گارڈن، لی مارکٹ
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ


تجزیہ : قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 249 بھی شہر کے پرانے علاقوں کھارادار، میٹھادار، دھوبی گاٹھ اور گارڈن کے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں میمن برادری کی اکثریت ہے۔ ایم کیو ایم نے اس حلقے سے فاروق ستار کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت کے ساتھ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نوارانی کررہے ہیں۔امید ہے کہ فاروق ستار کے ساتھ نورانی میاں کا اچھا مقابلہ ہوگا۔علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں ایک بار پھر متحدہ قومی موومینٹ کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ دس جماعتی اتحاد انکے قریب قریب ہونگے۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 111 اور 110 واقع ہیں۔

این اے 250
کل ووٹ : 344657
حلقے میں شامل علاقے : صدر، اردو بازار، کلفٹن، شیرں جناح کالونی، باتھ آئرلینڈ، گزری، کالاپل، ڈیفنس، پنجاب کالونی، دہلی کالونی
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ، پنجابی، پشتون،


تجزیہ : پوش علاقوں پر مشتمل این اے 250 کراچی کا سب سے اہم حلقہ سمجھا جاتا ہے۔ ماضی کے انتخابی نتائج کی روشنی میں اس حلقے کو کسی ایک سیاسی جماعت کا گڑھ قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتوں کو یہاں بائیں بازو کی جماعتوں پر برتری حاصل رہی ہے۔ ایم کیو ایم نے اس حلقے سے ایک بار پھر خوش بخت شجاعت کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت کے ساتھ جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان اور تحریک انصاف کے ڈاکٹر علوی کررہے ہیں۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر نظر آرہی ہے۔ اگر اس حلقے میں عارف علوی کو شکست ہوئی تو اسکی وجہ صدر، اردو بازار اور دہلی کالونی میں 60 فیصد سے ٹرن آوٹ یا جماعت اسلامی کو ملنے والا ووٹ ہوگا۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 113 اور 112 واقع ہیں۔

این اے 251
کل ووٹ : 337193
حلقے میں شامل علاقے : جانثار گوٹھ، محمود آباد، اعظم ٹاون، منظور کالونی، پی ای سی ایچ اسی، جمشید ٹاون اور لائنزائریا
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ


تجزیہ : قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 251 بنیادی طور پر اپر مڈل کلاس کے علاقوں پی ایس ایچ ایس پر مشتمل ہے، اس حلقے میں جمشید ٹاون، لائنز ائریا اور منظور کالونی کے لوئر مڈل کلاس علاقے بھی شامل ہیں۔ 11 مئی کے انتخابی دنگل میں متحدہ قومی موومینٹ نے اس بار سید رضا عابدی کو اتارا ہے جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت کے ساتھ جماعت اسلامی کے زاہد سعید اور تحریک انصاف کے راجہ اظہر حسین سے ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔ اگر اس حلقے سے جماعت اسلامی کو شکست ہوئی تو اسکی وجہ تحریک انصاف کو ملنے والا ووٹ ہوگا۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 115 اور 114 واقع ہیں۔

این اے 252
کل ووٹ : 277553
حلقے میں شامل علاقے : خداداد کالونی، حیدرآباد کالونی، بہادرآباد، دھوراجی، سوسائٹی، پی ایس ایچ ای ایس (بلاک 2 اور 3)، بی آئی بی، جمشید کوارٹر، جہانگیر روڈ، گلشن اقبال 14، گارڈن اور پارسی کالونی
لسانی تقسیم :اردو اسپیکنگ


تجزیہ : اس حلقے میں 2002 میں جماعت اسلامی نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے 10000 ووٹوں کی واضع برتری سے ایم کیو ایم کو شکست دی تھی۔ اس بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں یہ حلقہ ایم کیو ایم کے لئے مشکل ترین حلقہ ثابت ہوگا۔ دس جماعتی اتحاد کی حمایت کے ساتھ جماعت اسلامی نے اس حلقے سے ایک بار پھر محمد حسین محنتی کو ٹکٹ دیا ہے اور انکا مقابلہ ایم کیو ایم کے عبدال رشید گوڈیل سے ہوگا۔ اردو بلاگر محمد اسد کا ووٹ بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ تحریک انصاف دوسرے اور متحدہ قومی موومینٹ تیسرے نمبر پر رہے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں پی ایس 116 اور 117 واقع ہیں۔

این اے 253
کل ووٹ : 398527
حلقے میں شامل علاقے : گلشن اقبال، گلستان جوہر، گلشن معمار اور سہراب گوٹھ
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ


تجزیہ : اس حلقے میں 2002 میں جماعت اسلامی نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے 3000 ووٹوں کی واضع سبقت کے ساتھ ایم کیو ایم کو شکست دی تھی۔ ماضی کے تجربات اور موجودہ حالات کی بنیاد پر 2013 کے انتخابات میں یہ حلقہ ایم کیو ایم کے لئے ایک اور مشکل حلقہ ثابت ہوگا۔ دس جماعتی اتحاد کی حمایت کے ساتھ جماعت اسلامی نے اس حلقے سے ایک بار پھر اسداللہ بھٹو کو ٹکٹ دیا ہے۔ اسد اللہ بھٹو کا مقابلہ ایم کیو ایم کے محمد مزمل قریشی سے ہوگا۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ متحدہ قومی موومینٹ دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اگر جماعت اسلامی کو شکست ہوئی تو اسکی وجہ تحریک انصاف کو پڑنے والا ووٹ ہوگا۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 116 اور 117 واقع ہیں۔

این اے 254
کل ووٹ :309295
حلقے میں شامل علاقے : کورنگی(قیوم آباد تا کورنگی 4) اور بھٹائی کالونی
لسانی تقسیم :اردو اسپیکنگ اور پشتون

تجزیہ : ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والے یہ والا یہ حلقہ بنیادی طور پر کورنگی پر مشتمل ہے۔ ایم کیو ایم نے اس بار اس حلقے سے شیخ محمد افضل کو ٹکٹ دیا ہے انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت کے ساتھ جمیعت علمائے پاکستان کے امیدوار علامہ رجب علی نعیمی کررہے ہیں۔ اس حلقے میں اے این پی کے امیدوار صادق زمان کے قتل کے وجہ سے انتخابات ملتوی ہوگئے ہیں اور ممکنہ طور پر یہاں ضمنی انتخابات جون کے پہلے ہفتے میں ہونگے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے ایک بار پھر متحدہ قومی موومینٹ کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ جمعیت علمائے پاکستان دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 125 اور 124 واقع ہیں۔

این اے 255
کل ووٹ :331927
حلقے میں شامل علاقے : لانڈھی، کورنگی، معین آباد
لسانی تقسیم : اردو اسپیکنگ اور پشتون


تجزیہ : 1992 سے لیکر 2003 تک قومی اسمبلی کا یہ حلقہ متحدہ قومی موومینٹ اور مہاجر قومی موومینٹ کے درمیان میدان جنگ سمجھا جاتا تھا، اس جنگ میں سینکڑوں نوجوانوں نے زندگی کی بازیاں ہاری تھی۔ 2002 میں اس حلقے سے مہاجر قومی موومینٹ کے امیدوار عامر خان نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما اسلم مجاہد دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ پرویز مشرف کے دور میں متحدہ نے مہاجر قومی موومینٹ کے کارکنوں کو اس علاقے سے بے دخل کیا اور آفاق احمد کا تنظیمی نیٹ ورک توڑ دیا۔ جسکے بعد متحدہ قومی موومینٹ کے لئے میدان خالی ہے۔ ایم کیو ایم نے اس بار آصف حسنین کو ٹکٹ دیا ہے۔ آصف حسنین کا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی حمایت پر لڑنے والے جماعت اسلامی کے عبدل جمیل خان اور مہاجر قومی موومینٹ کے سربراہ آفاق احمد سے ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے اس بار متحدہ قومی موومینٹ کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 122، 123 اور 122 واقع ہیں۔

این اے 256
کل ووٹ :371067
حلقے میں شامل علاقے : ڈرگ روڈ، شاہ فیصل کالونی، الفلاح سوسائٹی، گرین ٹاون، ایس ایف سی ٹاون، ماڈل کالونی اور ملیر ہالٹ
لسانی تقسیم :اردو اسپیکنگ، پنجابی اور پشتون


تجزیہ : ایم کیو ایم کے سات محفوظ ترین حلقوں میں شمار کئے جانے والے اس حلقے میں اس بار تحریک انصاف رنگ دیکھا سکتی ہے۔میری اطلاعات کے مطابق گرین ٹاون اور ماڈل ٹاون میں واضع طور پر تحریک انصاف کی ہوا نظر آرہی ہے۔ ایم کیو ایم نے ایک بار پھر اس حلقے سے اقبال علی خان کو ٹکٹ دیا ہے۔ اقبال علی خان کا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی کی حمایت یافتہ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نوارانی اور تحریک انصاف کے سید منظور عباس سے ہوگا۔ اردو بلاگر شعیب صفدر کا ووٹ بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے سے متحدہ قومی موومینٹ کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں جبکہ جمیعت علمائے پاکستان دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 119، اور 120 واقع ہیں۔

این اے 257
کل ووٹ : 386376
حلقے میں شامل علاقے : ملیر سٹی، کیٹل کالونی، سعود آباد، شبیر کالونی، خلداباد، ملیر کینٹ کے کچھ علاقے اور لانڈھی (کچھ علاقے)
لسانی تقسیم :اردو اسپیکنگ، پنجابی اور پشتون


تجزیہ : قومی اسمبلی کے اس حلقے میں ضلع ملیر کے اکثر شہری اور دیہی دونوں ہی علاقے شامل ہیں، 1988 کے بعد سے ماضی کے تمام انتخابات میں ایم کیو ایم اس حلقے میں بھاری برتری سے جیتی رہی ہے لیکن اس بار اس برتری میں کمی آنے کا امکان ہے۔ متحدہ قومی موومینٹ نے اس بار اس حلقے سے ساجد میر کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ انکا مقابلہ دس جماعتی اتحاد کی طرف سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضیاء الدین انصاری کریں گے۔اردو بلاگر فہد کہار  کا ووٹ بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں ہے۔ علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے میں سیاسی پنڈکوں کو ایک اچھا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا، اندازوں کے مطابق متحدہ قومی موومینٹ کو برتری حاصل ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) دوسرے نمبر پر رہے گی۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 127، اور 121 واقع ہیں۔

این اے 258
کل ووٹ : 418663
حلقے میں شامل علاقے : حلقے میں شامل علاقے : لانڈھی ( 4 اور 5)، مظفر آباد کالونی، بلال کالونی، برمیز کالونی، شرفی گوٹھ اور لیبر کالونی
لسانی تقسیم :سندھی، پشتون اور اردو اسپیکنگ

تجزیہ : قومی اسمبلی کا یہ حلقہ شہری دیہی اور صنعتی علاقوں پر مشتمل ہے، دیہی علاقوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کا گہر اثر رسوخ ہے جبکہ شہری علاقوں میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کا زور ہے۔ دس جماعتی اتحاد اس حلقے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار احمد گبول کی مدد کررہی ہے جبکہ انکا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام مرتضی بلوچ سے ہوگا۔ اردو بلاگر وقار اعظم کا ووٹ بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں ہے۔علاقے کے ایک مختصر جائزے کی بنیاد پر میرا تجزیہ یہ ہے کہ اس حلقے میں کانٹے دار مقابلہ ہوگا اور میرے اندازے کے مطابق اس کانٹے دار مقابلے میں پاکستان مسلم لیگ کو پاکستان پیپلز پارٹی پر برتری حاصل ہے۔ اس حلقے میں سندھ اسمبلی کی نشستیں 130، اور 129 واقع ہیں۔

2013 کے انتخابات میں کراچی سے متوقع نتائج کا حلقہ جاتی کارڈ

فیس بک تبصرے

10 تبصرے برائے: کراچی کی انتخابی صورتحال

  1. آپ نے اچھا تجزیہ کیا ہے خیر اصل صورتحال کا تو 11 مئی کو ہی پتا چلے گا
    این اے 244 میں آپ نے این اے 239 کا رزلٹ لگادیا ہے چیک کریں

  2. انتخابات بھی ایک جوا ہوتا ہے ۔ حقیقت 12 مئی کی صبح معلوم ہو گی

  3. بہت خوب کاشف، کافی محنت سے لکھی تحریر لگتی ہے۔ بہت معلوماتی بھی اور بروقت بھی۔
    ویسے میرا ووٹ 258 میں نہیں بلکہ این اے 257 میں ہے 🙂

  4. بھائی آپ نے تو بہت ہی حیران کن تجزیہ پیش کیا ہے جو دیگر تمام زرائع سے موصول ہونے والے نتائج سے بہت مختلف ہے۔ عام طور پر خیال کیا جا رہا ہے کہ متحدہ 17 میں سے کم از کم 13 نشتیں لے گی۔ لیکن آپ نے اسے صرف 11 نشتیں دی ہیں۔ اسی طرح این اے 250 سے نعمت اللہ خان اور خوشبخت شجاعت کا مقابلہ بتایا جا رہا ہے لیکن آپ نے عارف علوی صاحب کی کامیابی کا خیال ظاہر کیا ہے۔
    اللہ کرے آپ کے پیش کردہ نتائج 11 مئی کو حقیت کا روپ دھاریں اور یوں روشنیوں کے شہر پر مسلط اندھیروں میں کمی واقع ہو۔

  5. بہت عمدہ اور معلوماتی تجزیہ۔ میری معلومات کے مطابق حلقہ NA 251 سے محمد حسین محنتی اور حلقہ NA 252 سے زاہد سعید جماعت اسلامی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ براہ مہربانی تصدیق و تصحیح فرمالیں۔

  6. Muhammad Ibraheem says:

    NA-251 se Zahid Saeed
    NA-252 se Muhammad Hussain Mehenti

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>