صفحہ اوّل » فیچرڈ کیٹگری, کاشف نامہ

بندر روڈ سے کیماڑی

مصنف: وقت: بدھ، 28 نومبر 20122 تبصرے

ma jinahدنیا بھر میں وقت کے ساتھ ساتھ سفری سہولیات پرسکون، آسان، سستی اور تیزتر ہوتی جارہی ہیں لیکن شاید پاکستان ان چند بدقسمت ترقی پزیر ممالک میں سے ایک ہے جہاں ذرائع آمد و رفت میں ترقی کے بجائے تنزلی کا رجہان نظر آرہا ہے۔ دنیا آج فضائی سفر کو محفوظ ترین سمجھتی ہے اور ہم اسے ہلاکت خیز ثابت کرچکے ہیں، پی آئی اے جیسا منافع بخش ادارہ جو کبھی مشرق وسطی کی فضائی کمپنیوں کو بھی تربیت فراہم کرتا تھا، آج قومی معیشت پر بوجھ بنتا جارہا ہے۔ دنیا 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی سپر ٹرین چلارہی ہے اور ہم شیخ رشید اورغلام احمد بلورایسوں کی مہربانیوں سے ریلوے کی وہ بوگیاں اور پٹریاں بھی بیچ کر کھا چکے ہیں جو ہمیں انگریز بخش کر گیا تھا۔ دنیا ہائے وے، موٹر وے، رنگ روڈ ، سنگل فری کورڈورز، فلائی اوور اور اور بائے پاس کی تعمیر میں اپنی آخری سطح کو چھورہی ہے اور ہم ابھی تک خستہ حال سٹرکوں، ناہموار شاہرائوں اور ٹوٹ پھوٹ کےشکار ہائے ویز بھگت رہے ہیں۔ دنیا ماس ٹرانزٹ کے تصور میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ہم چنگچی رکشوں اور موٹر ٹانگوں کی نئی کھیپ پر خوشی سے نہیں سما رہے۔

motor cycleکراچی، جی ہاں کراچی جو پاکستان کا سب سے جدید ترین شہر جانا جاتا ہے، ٹریفک کے معاملات میں یہاں کے حالات بقیہ پاکستان سے کچھ کم خراب نہیں، سڑکوں کی خستہ حالی، ماس ٹرانزٹ کا فقدان، بسوں ویگنوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت ، ٹریفک کنڑول سے متعلق اداروں کی لاپرواہی ، مہنگا پیڑول اور سی این جی کے فراہمی میں آئے دن کی بندش، بندا کرے تو کرے کیا۔ صرف یہی نہیں صنعتی علاقے جہاں انفراسٹریکچر سب سے جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ ہونا چاہئے وہاں کی سڑکیں اور شاہراہیں دیکھ کر شرمندگی سے سر جھک جاتے ہیں، سندھ انڈسٹریل اسٹیٹ ایسوسیشن (سائٹ) کے علاقے میں شاید ہی کوئی سڑک ہو جہاں کھڈے، گڑھے اور ناہمواری نظرنہ آئے، حبیب بینک چورنگی سے لیکر آئی سی آئی برج تک پانچ کلومیڑ پر مشتمل سڑک کا سفر رش کے اوقات میں گھنٹوں میں طے کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف نارتھ کراچی انڈسٹریل ائریا میں سڑکوں کا وجود سرے سے نظر ہی نہیں آتا ہے۔ بلاشبہ کراچی میں پچھلے دس سالوں میں لاتعداد بالائے زمین اور زیریں زمین بائے پاس بنائے گئے لیکن ان سب کے باوجود شہر کے حالات جوں کے توں ہیں، وجہ طویل مدتی منصوبے کا فقدان، متبادل راستوں کے نظام کی عدم موجودگی  اور ماس ٹرانزٹ سسٹم سے فرار ہے۔

کراچی کےمتوسط طبقے نے پبلک ٹرانسپورٹ کی دشواریوں اور ٹریفک کے دوسرے مسائل سے راہ فرار اختیار کرنے کے لئے موٹر سائیکل کو اپنی سواری بنالی ہے اور یوں پچھلے پندرا سالوں میں قریب بیس لاکھ موٹر سائیکل شہر کی سٹرکوں پر آچکی ہیں جو روازانہ ایک لیڑ کے اوسط کے حساب سے بیس لاکھ لیٹر یعنی بیس کروڑ روپے روپے یومیہ اور ایک ارب ڈالر سالانہ کا بوجھ قومی معیشت پر ڈال رہی ہیں۔ نہلے پہ دہلا اب موٹر سائیکل ہی نہیں موٹر ٹانگے” چنگچی” بھی سٹرکوں پر گھومتے پھرتے اور اہل کراچی کی جیبیں خالی کراتے نظر آتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ڈیزل پر ڈیزائن کی گئی ویگنوں اور بسوں نے زیادہ منافع کے لیے اپنے انجن سی این جی پر کنورٹ کرالئے ہیں جسکی وجہ سے نایاب ہوتی قدرتی گیس کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے اور یوں یہ بسیں اور ویگنیں سی این جی کی تعطیل والے ایام میں سڑکوں سے غائب رہتی ہیں۔

آپ تصور کریں کہ قریباایک کڑور اسی لاکھ افراد کے شہر میں کل بیس ہزار بسیں اور ویگیں ہوں اور ان میں قریب سترفیصد ہفتہ میں دو سے تین دن سی این جی کی بندش کی وجہ سے غائب ہوجائیں تو شہر کی بے بس عوام کا کیا حال ہوسکتا ہے۔انسان کی ذاتی وقار پر جتنی رگڑ لگ سکتی ہیں وہ لگتی ہے، پچیس سے چالیس افراد کی گنجائش رکھنے والی ایک ویگن میں سوا سو لوگ ٹھوسے جاتےاور چنگچی رکشے اور موٹر سائیکل چنگچی والے منہ مانگے کرائے طلب کرتے ہیں۔ چنگچی کا کرایا دس سے تیس روپے کے درمیان ہوتا اورمنزل مقصود پر پہنچنے کے لئے عام طور پر کم از کم دو روٹ کی چنگچیاں بدلنی پڑتی ہیں۔ آپ پیٹرول پیمپ، نیپا چورنگی، داود چورنگی، کالابورڈ اور پنجاب چورنگی پرصبح یا شام کے اوقات میں کھڑے ہوجائیں، پبلک ٹرانسپورٹ کی منتظر خلقت کا ایک جلوس آپکا استقبال کرےگا، ایک عجیب طوفان بدتمیزی نظر آئے گی، ایک عجیب ذلت و تحقیر کا عالم اور ایک عجیب نفسانفسی، کہیں خواتین بسوں کی طرف آتی اور پھر اپنے لئے مخصوص کے گئے حصےکومردوں سے بھر ا دیکھ کر واپس لوٹتی نظر آئیں گی تو کہیں چنگچیوں کے پیچھے بھاگتے اور اور ان پر لٹکتے لڑکے آپ کو سوچنے پر مجبور کردیں گے کہ آپ کس ملک میں رہتے ہیں۔

 rakshaایسا نہیں کہ اس شہر میں انتظامیہ یا حکومت نہ ہو یا ٹریفک سے متعلق محکموں کی کمی ہو لیکن اسکے باوجود ٹریفک قوانین اور ریگولیشن ایک مذاق نظر آتے ہیں، آخر کس کی اجازت پر دس ہزار سے زائد بسوں اور ویگنوں نے اپنے انجن سی این جی پر تبدیل کرائے، آخر کس نے غیر معیاری سیلنڈر فراہم کئے ، آخر کس نےسائیکل چنگچی اور رکشا چنگچوں کے روٹ پر مٹ جاری کئے اور اگر کسی نے بھی ایسانہیں کیا تو پھر کس طرح بسیں سی این جی پمپ سے سی این جی بھرواتی اور اور کیسے سائیکل چنگچی اور رکشا چنگچی سڑکوں پر مڈلاتی نظر آتی ہیں۔ جو حکومت ہفتے میں دو دن پیمپ بند رکھنے کے حکم پر عمل درآمد کراسکتی ہو، جو حکومت ڈبل سواری کو روک سکتی ہو آخر وہی حکومت کس طرح ان لوگوں کو نہیں روک سکتی، وجہ صرف یہ ہے کہ ٹریفک مافیا قانون سے زیادہ طاقت ور ہے اور حکمرانوں کے مفادات اس مافیا کے مفادات سے وابستہ ہیں۔ واضح رہے کہ شہر میں ایک ہزار افراد کی شرح سے لگ بھگ بیس ہزار بسیں اور ویگنیں چل رہی ہیں جن میں میں کم ازکم اسی پچانوےفیصد دس سال سے پرانی ہیں ، یعنی پچھلے دس سالوں میں شہر میں پانچ فیصد نئی پبلک ٹرانسپورٹ کا اضافہ ہوا اور کوئی تیس فیصد پرانی ٹرانسپورٹ یعنی کوئی پانچ ہزار بسیں اور ویگنیں سڑکوں سے غائب ہوگئیں، سڑکوں سے غائب ہونے والی بسوں کی اکژیت یا تو لوڈنگ کی گاڑیوں میں تبدیل ہوچکی ہے یا شہر میں مختلف فسادات کے دوران جلائو گھیرائو کی نظر ہوچکی ہیں۔ شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ پر کئی مزید دلچسپ حقائق سامنے آئے جیسے پچھلے پانچ برسوں میں شہر کے کسی روٹ پر بھی کوئی نئی بس، ویگن یا کوچ شامل نہیں ہوئی، پرانی بسوں کے ساتھ تیس سے زائد نئے روٹ شروع ہوئے جن میں بیس بند ہوگئے اور پچھلی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی سی این جی بس سروس کی آدھی بسیں گراونڈ ہوچکی ہیں۔

دنیا کے ہر بڑے شہر کی طرح کراچی کے ٹریفک مسائل کا حل بھی ماس ٹرانزٹ کا نظام ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں اپنی جگہ پڑوسی ملک بھارت کی مثال لی جاسکتی جہاں دہلی، ممبئی، کلکتہ اور بنگلور میں سرکولر اور میٹرو ریلوے کے ذریعے ماس ٹرانزٹ کا بہترین نظام چلایا جارہا ہے۔ میں نے اپنے ایم بی اے کے دروان شہر کراچی میں ماس ٹرانزٹ کے نظام پر ایک تھیسس لکھا تھا، میری تحقیق کے مطابق اگر کراچی میں میٹروٹرین کا ایک موثر نظام قائم کردیا جو شہر کے ہرحصے کو آپس ملائے اور جسکا بندوبست، وقت کی پابند، خدمت کے جزبے سے سرشار انتظامیہ کے پاس ہو تو ناصرف شہر کراچی کے ٹریفک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے بلکہ پورے ملک کی تیس فیصد ایندھن کی طلب ( پیڑول اور سی این جی) کم ہوجائے گی۔ میں نے اس سلسلے میں سوالنامہ بھی تیار کیا تھا جو ان پانچ سو افراد میں تقسیم کیا گیا جنکی آمدنی ساٹھ ہزار یا اس سے زیادہ ہیں اور ان سے سوال پوچھا گیا تھا اگر شہر میں ایک معیار ی میٹرو ٹرین شروع کی جائے تو کیا پھر بھی اپنی گاڑیوں پر دفتر آنا پسند کریں گے، آپکو حیرت ہوگی کہ ستر فیصد سے زائد لوگوں نے اپنی گاڑیوں کے بجائے میٹرو ٹرین میں سفر کو ترجیع دی تھی۔ لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون کے مصداق اس شہر کے ٹریفک مسائل کو کاسمیٹک اقدامات سے ہٹ مستقبل بنیادوں پر کون حل کرے ؟ سنا ہے کہ سرکولر ریلوے پر جاپان کے ساتھ کوئی بات چیت چل رہی ہے، پاکستان ریلوے نے پچھلے دونوں اسکی ابتدائی منظوری بھی دے دی ہے لیکن جس رفتار سے یہ معاملہ آگے بڑھ رہا اس سے اس میں منصوبے میں حکام کی سنجیدگی کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔آخر کسے اس بات کی فرصت ہے کہ لوگوں کہ اصل مسائل پر سیاست کرے، طف ہے کہ دنیا ماس ٹرانزٹ کے تصور میں اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور ہم چنگچی رکشوں اور موٹر ٹانگوں کی نئی کھیپ پر خوشی سے نہیں سما رہے ۔

فیس بک تبصرے

2 تبصرے برائے: بندر روڈ سے کیماڑی

  1. کاشف صاحب یہ مسئلہ تقریبا پورے پاکستان مین یکساں ہے۔
    آپ نے اس مسلے پر روشنی ڈالی ہے اور کافی اچھا لکھا ہے۔کاش ہمارئے حکمران اس بارئے کوئی مثبت منصوبہ بنائے۔

  2. واقعی، بہت بری صورتِ حال ہے کراچی میں ٹریفک کی۔ دس منٹ کا فاصلہ ایک گھنٹے میں طے کرنا کا تجربہ بھی ہوا ہے۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>