صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

میری آواز سنو، میں کراچی ہوں۔۔۔۔۔۔۔!

مصنف: وقت: منگل، 31 مئی 2016کوئی تبصرہ نہیں

me karachi houn رم جھم کرتی سرمئی صبحیں ہوں یا تپتی ہوئی دوپہر، پت جھڑ کی خنک شامیں ہوں یا لہو میں اترتی سرد راتیں۔ میں نے ہر موسم اور ہر قسم کے حالات میں اپنی پشت پر وہ بوجھ اٹھائے ہیں، جو میرے کسی ہم عصر کے بس کی بات نہ تھی۔ نہ میں نے کبھی اپنی عمر دیکھی اور نہ کبھی اپنے وسائل کا رونا رویا۔ جس ناتواں نے میری چوکھٹ پر دستک دی، میں نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا۔ بھوکے پیٹ کی آگ بجھائی، ننگے تن کو زیبا کیا اور کھلے سروں کو چھت فراہم کی۔ لیکن آج اس کا صلہ مجھے کچھ یوں مل رہا ہے کہ ایک طرف ارباب اختیار اور سرمایہ دار ہوس کی آگ میں میرے معتدل موسم کا خون کررہے ہیں تو دوسری طرف میرے شہری خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ جی ہاں! میں ہوں موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، ماحولیاتی بگاڑ اور درختوں کی ناقدری کا شکار، کراچی۔۔۔۔!

میرے جنوب میں بحیرۂ عرب بہتا ہے اور اس کے دونوں کناروں پر دو بڑی بندرگاہیں سارے ملک کی تجارت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی میرا ساحل زبوں حالی کا شکار ہے، کہیں صنعتوں سے نکلنے والا کیمیائی مادوں سے آلودہ پانی ہے تو کہیں عام فضلہ، کہیں کچرے اور گندگی کے ڈھیر تو کہیں ماحول دشمن تعمیرات۔ میری چھاتی پر کھڑی پہاڑیاں ختم ہورہی ہیں، کہیں انہیں سڑکوں کی تعمیر اور متبادل راستوں کے نام پر کاٹا جارہا ہے، کہیں سیمنٹ اور ماربل انڈسٹری ان کو صفحۂ ہستی سے مٹا رہی ہیں تو کہیں نئی بستیوں کے نام پر انہیں زمین بوس کیا جارہا ہے۔ منگھوپیر کی قدرتی جھیل کنکریٹ کے نئے سمندر میں غائب ہوگئی ہے۔ حب ندی سے جاری ہونے والی چھوٹی بڑی جھیلیں تجاوزات کی نظر ہوچکیں۔ ملیر ندی اب نہر تو کجا برساتی نالہ بھی نہیں رہی بل کہ گندے پانی کے کئی جوہڑوں میں تبدیل ہوچکی ہے۔ کبھی میرے دامن میں کھیت، کھلیان اور ہریالی بھی ہوتی تھیں، اب یہ ملیر اور منگھوپیر میں بھی نہیں ملتی۔ سب کسی ماضی گم گشتہ کی کہانیاں بن چکی ہیں۔

تیس سال پہلے مجھے زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک کمی کا سامنا تھا۔ اْس وقت کے میئر نے فوری طور پر سفیدے کے ہزاروں درخت آسٹریلیا سے درآمد کرکے میرے سینے میں پیوست کردیے۔ لیکن یہ بے چارے نہ صنعتی دھوئیں کو جذب کرسکے، نہ ان کے سائے گرمی کی شدت کو کم کرسکے اور نہ ہی پرندے ان پر محفوظ گھونسلے بناسکے۔ ایک دوسرے ناظم صاحب شاید مجھے مشرق وسطیٰ کی دلہن بنانے میں دل چسپی رکھتے تھے، سو انہوں نے کھجور کے درختوں کا انتخاب کیا، آج یہ درخت کہاں گئے۔۔۔؟ کسی کو خبر نہیں۔ آٹھ سال قبل میرے ایک اور ناظم نے خطیر سرمایہ خرچ کرکے لاطینی امریکہ سے ’’کونوکارپس‘‘ کے پچیس لاکھ درخت درآمد کیے۔ تیز ی سے پھیلتے یہ لاطینی شجر جہاں دھوئیں کو جذب کرنے اور سایہ فراہم کرنے میں آسٹریلیائی نژاد سفیدے سے بھی گئے گزرے نکلے، وہیں دوسری طرف ان سے الرجی اور دوسری بیماریاں بھی پھیل گئیں۔ میری مٹی تو نیم، پیپل، برگد اور ببول کے درختوں اور آم، امرود اور پپیتے کے باغات کے لیے مشہور تھی۔ ان غیر ملکی درختوں سے میرے ماحول پر کیا فرق پڑتا۔۔۔۔؟

گزشتہ چند سالوں سے میں دنیا بھر میں پھیلی موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت سے شدید متاثر ہوں۔ چار برس ہوچکے، بارشوں نے مجھ سے رخ موڑا ہوا ہے، سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں اور نمی کم ہوتی جارہی ہے۔ حبس، گھٹن اور آلودگی میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صرف پچھلے برس جون کے مہینے میں مجھ پر سورج اتنی شدت سے برسا کہ میرے ڈیڑھ ہزار لوگ لقمۂ اجل بن گئے۔ ماحولیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ میرے موسم میں اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی کمی ہے۔ میرے 3527 مربع کلومیٹر پر پھیلے وسیع و عریض دامن پر صرف ساٹھ لاکھ درخت ہیں۔ جب کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نکلنے کے لیے مجھے دو کروڑ نئے درختوں کی فوری ضرورت ہے۔ سو ان حالات میں مجھے امید ہو چلی تھی کہ امسال میرے شہری بڑے پیمانے پر شجر کاری کی مہم شروع کریں گے۔ موسم برسات آتے ہی میرے دامن کو ننھے ننھے پودوں سے بھر دیا جائے اور میری شاہ راہوں سے لے کر گلیوں تک سبزے اور ہریالی کی بہار آجائے گی۔ حکومت سندھ نے بھی ملیر ندی کی پانچ ہزار ایکڑ اراضی پر جنگل بنانے، نیم کو صوبائی درخت قرار دینے اور بلدیاتی اداروں کی مدد سے دو ماہ میں 10 لاکھ درخت لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس اعلان پر بھی کوئی عمل درآمد دیکھنے میں نہیں آیا۔ نئے درخت کیا لگتے، افسوس مجھ پر پہلے سے سایہ زن ہزاروں درختوں کو بھی تیزی سے کاٹا جارہا ہے۔

پچھلے سال دسمبر کے مہینے میں شاہراہِ فیصل پر درجنوں درختوں کو ٹریفک کے بہاؤ میں دخل اندازی کے الزام میں کاٹ دیا گیا تھا۔ اس روش کو برقرار رکھتے ہوئے رواں سال کے پہلے ہی مہینے میں شہید ملت روڈ پر مزید 70 درخت صرف اس لیے کاٹ دیے گئے کیوں کہ ان کے قریب ایک بلند عمارت زیرتعمیر ہے۔ ان دو واقعات سے شہ پا کر کچھ دنوں بعد ایک نجی کمپنی نے مختلف شاہراہوں پر کئی درجن تن آور درخت کاٹ دیے۔ ان اشجار کا جرم یہ تھا کہ ان کی شاخیں جہازی سائز کے بل بورڈز کو ڈھانپ لیتی تھیں۔ تحفظ شجر و باغات آرڈیننس 2002ء کے تحت درخت کاٹنا قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے۔ اس قانون پر عمل درآمد کے لیے ادارے بھی قائم ہیں اور پولیس کے پاس بھی خصوصی اختیارات موجود ہیں لیکن بلڈرز، ایڈورٹائزرز اور ٹرانسپورٹرز سمیت مختلف شعبوں کے بااثر لوگ پھر بھی درخت کاٹ ڈالتے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے سرجانی موڑ سے نمائش چورنگی تک ملک کے سب سے بڑے میٹرو بس روٹ ’’گرین لائن‘‘ منصوبے کا افتتاح کیا تو مجھے اس پر بے حد خوشی تھی لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ اس منصوبے کی آڑ میں 14 کلومیٹر طویل اور 50 فٹ چوڑی گرین بیلٹ پر درختوں کی بے رحمانہ کٹائی ہوگی۔ ایک اندازے کے مطابق اس خونی گرین لائن منصوبے کی راہ میں آکر اپنی جان دینے والے درختوں کی کم از کم تعداد اٹھارہ ہزار ہے۔ ماہرین نباتات کہتے ہیں کہ ایک تن آور درخت روزانہ چار انسانوں کے لیے تازہ آکسیجن فراہم کرنے اور سال بھر میں بارہ کلو گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوں تین لاکھ افراد کی سفری سہولیات کی آڑ میں روز انہ 72000 افراد تازہ آکسیجن سے محروم اور میں ہر سال مزید 216000 کلوگرام مزید آلودگی کا شکار ہوجاؤں گا۔ ان درختوں کو باآسانی متبادل مقام پر منتقل کیا جاسکتا تھا، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ اس گرین لائن منصوبے میں ’’گرین ری‘‘ کا کوئی حصہ نہیں رکھا گیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ کسی شہر کی فضا اور موسم کو معتدل رکھنے کے لیے اس کے کم از کم ا یک چوتھائی حصے پر درخت ہونا ضروری ہیں جب کہ میرا پانچ فی صد حصہ بھی درختوں کے لیے مختص نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں درختوں کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے کہ اگر کسی ناگزیر منصوبے کی راہ میں درخت حائل ہوجائیں تو ناصرف یہ کہ انہیں متبادل مقام پر منتقل کردیا جاتا ہے بل کہ ان سے دگنی تعداد میں نئے درخت بھی لگائے جاتے ہیں۔ جب دبئی جیسے بنجر اور خشک شہر میں سائنسی بنیادوں پر جنگل اور باغات بسائے جارہے ہیں تو میرے پاس تو نہ پانی کی کمی ہے اور نہ ہی میری مٹی کو زرخیزی میں کوئی مسئلہ۔ اگر حکومت اپنے وعدے پورے نہیں کررہی تو میرے شہریوں کو حرف احتجاج بلند کرنے میں کیا تغافل ہے۔۔۔ ؟ چلیں احتجاج نہ سہی، اگر میرا ہر شہری خود ہی ایک درخت لگادے تو یوں بھی میرا دامن باآسانی دو کروڑ نئے درختوں سے بھر سکتا ہے۔ مجھے کیا بُرا ہے کہ میری سڑکوں پر جدید بسیں چلیں، بلند و بالا عمارتیں بنیں اور سرمایہ دار اپنے کاروبار کی دل بھر کر تشہیر کریں لیکن کیا اس کے لیے میرے سبزے کی قربانی ضروری ہے؟

یہ تحریر روزنامہ ایکسپریس پر شائع ہوچکی ہے

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>