صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

عبداللہ ابن صبا اور اہل کوفہ

مصنف: وقت: اتوار، 25 نومبر 20122 تبصرے

سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور مبارک تک امت مسلمہ کے درمیان کسی مسئلے پر اختلاف کی نظیر نہیں ملتی لیکن امام المظلومین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کی شرافت ، نرمی اور عفو درگزرسے مفاد پرست عناسر نے بھرپور فائدہ اٹھایا، یہاں تک کہ انکے آخری دور میں وہ اس حد تک پھل پھول کر توانا ہوگئے کہ مختلف حیلے بہانوں سے امیر المومنین سے زبان درازی کرتے اور انہیں مجبور کرکے انکے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے، سازشوں کے جال بنتے، محبت کے نام سے نفرت اور بغض کی تجارت کرتے اور اکابر صحابہ کرام کے درمیان غلط فہمیوں کو ہوا دیتے۔گویا امیر المومنین سے زبان درازی سے شروع ہونے والا یہ فتنہ بغاوت ، خونریزی اور خلافت راشدہ کی بربادی کا سبب بن گیا۔افسوس تاریخ کے تمام مضامین اٹھا کر دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی مظلومیت اور شہادت پر خاموشی اور مصلحت کے پردے ڈالے گئے، حالانکہ یہ حادثہ اسلامی تاریخ کا وہ دل دہلادینے والا باب ہے جس نے ناصرف اس وقت کے سیاسی حالات کو بدل کر رکھ دیا بلکہ اسکے نتیجے میں مجاہدین اسلام کی پیش قدمی رک گئی، دعوت کا کام ٹھپ ہوگیا اور آنے والی ایک صدی کشت و خون اور باہمی جنگ و جدل کی نظر ہوگئی اور جب جنگ وجدل روکا تو امت مسلمہ کی مرکزیت فرقوں میں تقسیم اور پارہ ہارہ نظر آئی، ریاست اور مذہب الگ الگ ہوئے اور قصر خلافت مساجد سے محلات میں منتقل ہوگئی۔عثمان غنی اور شیر خدا کی شہادت کے بعد بھی ابوطالب کے پوتوں کو لوٹنے والے جب اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہیں تو جوابا رونے کا جی چاہتا ہے لیکن پھر یاد آتا کہ محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے دین میں یہ کھیل تماشے نہیں بلکہ یہاں کا سبق تو کمال محبت، استقامت، تحمل اور صبرِِ محض ہے۔

میں جس قدر سوچتا ہوں میرا یہ یقین اس قدر گہر ا اور پختہ ہوتا جاتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے پیچھے یہودی دماغ اور عبداللہ ابن صبا کی شرارت کارفرما تھی۔اس بدبخت نے سیدنا عثمان کی نرم طبعیت اور انکے دور میں موجود اظہار رائے کی آزادی کو اپنے لئے ایک آئیڈیل سچویشن کے طور پر استعمال کیا۔ واردات کا آغاز امور مملکت کے روز مرہ کے معاملات سے کیا گیا، مختلف رشوتوں اور حیلے بہانوں سے گورنروں اور قصر خلاف کے عہدیداروں کی شکایت مدینہ بھیجی جانے لگی اور پراپیگنڈے سے مدینے میں ایسا ماحول بنادیا کہ جیسے بلاد اسلامی میں امیرالمومنین کے عمال و امرا سرکش ہوگئے ہوں اور امیر المومنین قرابت داریوں اور دوستیوں کے سبب ان سے احتساب سے تامل برتے ہوں، یہ معاملہ کس طرح امیر المومین کے مکان کے چالیس روزہ محاصرے اور بلاخر انکی مظلومانہ شہادت کا سبب بنا اسکی تفصیلات جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کی تفصیلات پر دانستہ طور پر چشم پوشی اختیار کی گئی ۔تاریخ کی اکثر کتابیں کیوں کہ دور بنو عباس میں جمع کی گئیں اس لئے ناصرف امووی خلفاء بلکہ جامع القرآن، زلنورین حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی کڑی تنقید کی گئی، کہیں ان پر اقراباء پروری کی بہتان باندھی گئی، تو کہیں انہیں کمزور، لاگر اور بے بس حکمران ثابت کیا گیا، کہیں ان پر عہدشکنی اور دھوکہ دہی کے الزامات عائد کئے گئے اور کہیں انہیں اہل بیت اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی کے مد مقابل لاکھڑا کیا گیا، یہ پراپگنڈا اتنا شدید تھا کہ کئی سنی مورخین بھی اسکے زیر اثر نظر آئے ، البتہ امام المورخین ابن خلدون نے حالات انتہائی سنجیدگی سے جائزہ پیش کیا اور عبداللہ ابن سبا اور مخالفین کے کردار پر روشنی ڈالی۔

اگر آپ امام ابن خلدون کی کتاب التواریخ کی پہلی اور دوسری جلد کا مطالعہ کریں تو آپ اس حقیقت تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگائیں گےکہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت ہی بنیادی نقطہ ہے جہاں سے تمام فتنے اور اختلافات جنم لیتے ہیں، سیدنا علی اور ام المومنین سیدنا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہی کے درمیان جمل کا میدان ہو یا سیدنا معاویہ اور سیدنا علی رضوان اللہ تعالی اجمعین کے مابعین صفین کی لڑائی ، نہروان کا معرکہ ہو یا کربلا کا حادثہ یا پھر زید ابن علی کا خروج، غرض ہر داخلی لڑائی، انتشار اور اختلاف کے پیچھے ایک ہی فتنہ کارگر نظر آتا ہے۔ بس آپ ذرا تحمل کے ساتھ تمام واقعات کو تسلسل سے دیکھتے چلیں جائیں اور جائزہ لیں، آپ کو حیرانگی ہوگی کےدرحقیقت قاتلین عثمان ہی سیدنا علی اور سیدنا حسین رضوان علی اجمعین کے قتل میں بھی ملوث تھے، کیا یہ سچ نہیں کہ جس بد بخت نے سیدنا علی کو شہید کیا اس کا ایک اور ساتھی ٹھیک اسی روز سیدنا امیر معاویہ پر قاتلانہ حملہ کررہا تھا، کیا یہ سچ نہیں کہ سیدنا حسین نے میدان کربلا میں روئسائے کوفہ کو خطوط کے وہ تھیلے دیکھائے تھے جو انہوں نے عبداللہ ابن زیاد کے ہاتھ پر یزید ابن معاویہ کی بیعت سے قبل سیدنا حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو لکھے تھے، کیا یہ سچ نہیں کہ واقعہ مدائین میں میں قیس بن سعد کے مارنے جانے کی خبر کے بعدسیدنا حسن رضی اللہ و تعالی عنہ کا خیمہ لوٹا گیا اور یا علی کے نعرے لگانے والوں نے علی کے فرزند کی چادر چھینی اور انکی ران پر نیزے مارے یہاں تک کہ آپ ان لوگوں کی خودرائی اور نفاق کی وجہ سے خلافت سے دست کش اور دست بردار ہوگئے۔

صرف میدان کربلہ ہی ایک ایسا مقام ہے جسکا اگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجاتا ہے، غور کیجئے کہ میدان کربلا میں نہ تو ابن زیاد موجود تھا اور نہ ہی یزید ابن معاویہ، پھر سیدنا حسین رضی اللہ تعالی کو کربلہ میں روکنے والے، انکے خاندان کو خواراک اورپانی سے محروم کرنے والے، علی اصغر سے عباس ابن علی تک اکابرین اہل بیت کو شہید کرنے والے اور اہل حرم کے خیمے لوٹنے والے لوگ کون تھے؟ کیا وہ وہی روئسائے کوفہ نہ تھے جنہوں نے خطوط لکھ کر سیدنا حسین رضی اللہ تعالی کو اپنی حمایت پیش کی تھی، جنہوں نے وفا کے وعوے اور ساتھ جینے مرنے کے عہد کئے تھے۔ پھر کیا ہوا کہ انہوں نے مسلم بن عقیل کو تنہا چھوڑ دیا؟ پھر کیا ہوا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے حسین کے بچوں پر نیزے برسائے؟ پھر کیا ہوا کہ انہوں نے علی کے بیٹے کا سر تن سے جد کردیا؟ وہی عبداللہ بن صبا کی شرارت، وہی دھوکہ اور لالچ، وہی نفرت اور بغض ، گویا ظلم کرکے مظلوم بننا، عہد کرکے بدعہدی کرنا اور وفا کے بدلے جفا کرنا عبداللہ ابن صبا کی ہمرائیوں کا شیوا رہا ہے، عثمان غنی اور شیر خدا کی شہادت کے بعد بھی ابوطالب کے پوتوں کو لوٹنے والے جب اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہیں تو جوابا رونے کا جی چاہتا ہے لیکن پھر یاد آتا کہ محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے دین میں یہ کھیل تماشے نہیں بلکہ یہاں کا سبق تو کمال محبت، استقامت، تحمل اور صبرِِ محض ہے۔

فیس بک تبصرے

2 تبصرے برائے: عبداللہ ابن صبا اور اہل کوفہ

  1. نہایت کم علمی کے باوجود کبھی میری اگر کسی شیعہ دوست سے بات ہو رہی ہو تو میں بھی شروع ہی ابنِ صبا کو قصور وار ٹھراتا آیا ہوں… جہاں فتنہ فساد اس نے شروع کیا، وہی لفظ “شیعہ” کی بنیاد بھی اسی نے رکھی… اسی بدبخت نے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کیا اور اسی بدبخت نے نا صرف صحابہ کرام کے لیے دلوں میں بغض پیدا کیا بلکہ اہل بیت رضوان اللہ علیھم کے بارے میں مغالطے پھیلائے… اور پھر “شیعہ” مذہب کی آڑ میں “شرک” کو عام کیا… اللہ اسے جہنم واصل فرمائے… کہ مسلمانوں کی جغرافیہ، تعریف اور تاریخ بگاڑنے میں اس شخص کا بہت ہاتھ رہا ہے…

  2. 1۔ کوئی بھی شخص پرفیکٹ نہیں ہوتا، سب سے غلطیاں ھو سکتی ھیں۔
    2۔ سب لوگ اپنے باپ دادا کا دین فالو کرتے اور اس کا دفاع کرتے ھیں۔ اگر کوئی سنی/شیعہ/عیسائی/یہودی وغیرہ کسی بھی دین عقیدے پر پیدا ھوا ھے تو اس میں اس کا کوئی قصور نہیں۔
    3۔ 1400 سال پہلے کے واقعات کی بنیاد پر اب جنگیں برپا نہیں ھوتیں۔ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کی مین وجہ عموماً معاشی بالادستی قائم کرنے یا توڑنے کی کوشش ھوتی ھے۔
    4۔ مودودی صاحب کی خلافت و ملوکیت کا مطالعہ فرمائیں۔ لیکن چھوڑیں۔ آپ نے پہلے ہی پڑھ رکھی ھوگی۔

    انجوائے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>