صفحہ اوّل » فیچرڈ کیٹگری, کاشف نامہ

مالک اور مالکوں کی لڑائی

مصنف: وقت: جمعہ، 29 اپریل 2016کوئی تبصرہ نہیں

Maalik-film-2016کچھ احباب متنازع فلم “مالک” پر پابندی کی حمایت میں یہ دلیل اور منطق پیش کرتے نظر  آرہے ہیں کہ جناب اسکی کہانی میں” قانون ہاتھ میں لینے” ایسےسنگین اور حساس  جرم کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ میرا سوال ہے کہ کیا کسی فلم میں ایسا پہلی بار ہوا ہے؟ اور کیا اب فلمی کرداروں کو بھی عدالتوں میں گھسیٹا جائے گا؟ ایسے بے مثال دلائل اور لاجواب منطق پیش کرنے والے اہل دانش دوست ہندی و ولایتی فلموں میں ہر طرح کی قانون شکنی بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں۔ پھر ان سے کوئی پوچھے تو کہتے ہیں کہ فلموں، ڈراموں، افسانوں، کہانیوں اور شاعری کا تعلق ایک خیالی اور تصوراتی دنیا سے ہوا کرتا ہے، انہیں حقیقی زندگی کے معیارات اور ریاستی قوانین پر نہیں تولنا چاہئے۔ گویا وہ کریں تو فن کا نمونہ، یہ کریں تو سیاسی عظائم۔ ایک شکوا یہ بھی  کیا جارہا ہے کہ اگر ملک میں افوجِ پاکستان کی کارکردگی پر سوالات نہیں اٹھائے جاسکتے تو پھر غریب سیاستدانوں کو کیوں رگڑا جاتا ہے، گویا ڈاکوں پر ہاتھ نہیں ڈال سکتے تو چور کیوں پکڑتے ہو۔

میں نے مذکورہ فلم نہیں دیکھی ہے لیکن سنا ہے کہ اسکے بنیادی خیال میں “سیاست دان” بدعنوان، نااہل اور عیاش ہیں۔ میں اس موضوع سے ہرگز متفق نہیں ہوں لیکن میرے اتفاق اور اختلاف سے قطع نظر اس موضوع کی عوامی شہرت مسلمہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ موضوع ہمارے یہاں ایسا فارمولا ہے جس پر کوئی بھی کامیاب  فلم یا ڈرامہ باآسانی تیار ہوسکتا ہے۔  چنانچہ ناصرف ہمارے یہاں بلکہ پڑوسی ملک ہندوستان میں بھی اس فارمولے پر بننے والی  درجنوں فلموں کے نام گنوائے جاسکتے  ہیں۔ فلم کی جو کہانی میں نے سنی ہے اسکے مطابق ایک نجی سیکورٹی کمپنی کا مالک ریٹائرڈ ایس ایس جی کمانڈو حب الوطنی کے غم میں مبتلا ہے۔ ملک کے روز بروز بگڑتے ہوئے حالات دیکھ کر اس کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ لہذا وہ حکومت کے متوازی ایک خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے وطن عزیز کی خدمت اور عوام کی مدد کرنے کی ترکیب نکالتا ہے۔ اتفاق سے اسکی کمپنی کو وزیراعلی کی حفاظت کا ٹھیکہ ملتا ہے۔ فلم کے آخری حصے میں یہ ریٹائرڈ افسر وزیراعلی  کے کالے کرتوتوں  سے  تنگ آکر اسے گولی مار دیتا ہے۔ خس کم، جہاں پاک۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فلم میں ممتاز قادری کے طرزعمل کی بھی بلواسطہ حمایت کی گئی ہے۔ فلم کے ہدایت کار، مصنف اور مرکزی کردار عاشر عظیم اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ کہانی اس واقعے سے  کئی برس قبل تحریر کی تھی اور وہ نہیں سمجھتے کہ انکی فلم میں ایسی کوئی حمایت پوشیدہ ہے۔ عاشر عظیم دو دہائی قبل پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف ڈرامے “دھواں” کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔ اس شہرہ آفاق ڈرامے میں بھی وہ ذاتی حیثیت میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ ملکر جرائم پیشہ افراد کے خلاف مختلف کاروائیوں کرتے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر اس رجہان پر تشویش ہے لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا یہ تصور فلموں اور ڈراموں میں نیا ہے؟ کیا کہانیوں اور شاعری میں اچھائی اور برائی کے پیمانوں کی خیالی تصویر کشی کو بھی مملکت کے معروضی و عائلی قوانین کے تابع کیا جانا چاہئے؟ کچھ اہل دانش اس سوال کو بہرحال اہم سمجھتے ہیں انکے مطابق آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی بھی منفی ذہن سازی کو روکنا چاہئے۔ مگر  فلموں اور افسانوں کے جذباتی و خیالی انداز اور اسلوب کو نظرانداز کرکے، کسی مبینہ اور ممکنہ منفی ذہن سازی کی تشخیص کون اور کن خطوط پر  کرے گا؟  اور اگر کسی تادیبی کاروائی  کے نتیجے میں  تخلیقی سرگومیوں کو نقصان پہنچا تو اسکا ذمہ دار کون ہوگا۔

ان سطحی الزامات سے قطع نظر میرے نزدیک سنجیدہ الزام یہ ہے کہ فلم کو آئی ایس پی آر نے اسپانسر کیا ہے۔ عاشر عظیم اس الزام کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے فوج سے صرف لاجسٹک سپورٹ حاصل کی ہے۔ سپورٹ ہی سہی لیکن یقینا اس سپورٹ سے قبل طریقہ کار کے عین مطابق ذمہ دار افسران نے اسکرپٹ تو ضرور دیکھا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ  کل اگر کوئی صاحب چیف منسٹر کے بجائے چیف اوف آرمی اسٹاف کے لئے ایسی فلم بنا لائے تو کیا آپ اْسے لاجسٹک سپورٹ فراہم کریں گے؟ سینسر بورڈ کے طریقہ کار اور اس پابندیوں سے شدید اختلاف اپنی جگہ لیکن  یہ بھی درست ہے کہ متنازع اور حساس موضوعات پر بننے والی فلموں کو کسی بھی ریاستی ادارے کا تعاون حاصل نہیں ہونا چاہئے۔ صوبہ سندھ میں “مالک” دیکھانے پر اچانک پابندی اور پھر فورا  ہی اس پابندی کے اٹھائے جانے کے اگلے ہی لمحے وفاقی حکومت کی طرف سے اسے پورے ملک میں بین کرنے پر استاد وسعت اللہ خان تبصرہ کرتے ہیں کہ “فلم مالک کے ساتھ جو ہوا وہ عجب طوائف الملوکی کی گجب کہانی ہے جس میں ہر ریاستی ادارہ اپنا ’مالک‘ خود ہے۔ پھر بھی نیشنل ایکشن پلان پر سب ایک ہیں سب نیک ہیں۔ یہ کہانی بذاتِ خود ایک بلاک بسٹر فلم کا مصالحہ ہے”۔

استاد جی کی وسعت نظری کا احترام اپنی جگہ لیکن مجھے مالکوں کے درمیان سرد جنگ کی یہ نئی نوک جھوک فلم کے بجائے ایک طویل ٹی وی سریل معلوم ہورہی ہے۔ فلم یا ڈرامہ یا جو کچھ بھی ہے، اس میں ہونے والے شور اور تماشے کے درمیان انتہائی خاموشی کے ساتھ ایک دلچسپ خبر آئی اور غائب ہوگئی۔ کسی نے لکھا کہ سابق ایڈیشنل کلکٹر کسٹم عاشر عظیم گریل کے خلاف نیب میں بدعنوانی کے دو مقدمات زیر تفتیش ہیں جن میں قومی خزانے کو کم از کم 11 ملین ڈالر نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ فرمایا کہ اس سے قبل نااہلی، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ضمن میں انکے خلاف پہلے ہی ایک انکوائری ہوئی تھی، جسکی رپورٹ میں انہیں ملازمت سے برخاست کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ اپنی شاہکار فلم میں بدعنوان وزیراعلی کے لئے جس انتہائی سزا کی تجویز موصوف کرچکے ہیں، سو اسی تناظر میں اب خود موصوف کے لئے جلیل حیدر لاشاری سے معذرت کے ساتھ عرض کیا ہے

جانے کب کون کسے مار دے بدعنوان کہہ کر
شہر کا شہر شریف ہوا پھرتا ہے

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>