صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

دیوانے کا خواب

مصنف: وقت: پیر، 19 نومبر 20121 تبصرہ


حکومت چاہتی ہے کہ ایسی غیر معمولی صورتحال پیدا ہوجائے کہ اسے عام انتخابات کے التوا کا جواز ہاتھ لگ جائے لیکن طے ہے کہ باوجود کوشش کہ عام انتخابات کو زیادہ عرصے تک ٹالا نہیں جاسکتا، فوج، عدلیہ، الیکشن کمیشن، میڈیا اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا حکومت کو آئندہ برس انتخابات کرانے پر مجبور کردے گی، چنانچہ سوال یہ نہیں کہ انتخابات کب ہونگے بلکہ سوال یہ ہے کہ آئندہ انتخابات کے دوران سیاسی منظر نامہ کیسا ہوگا، کیا واقعی انتخابات کے نتیجے میں کوئی تبدیلی رونما ہوگی یا جمع تفریق کے ساتھ موجودہ سیٹ اپ جاری رہے گا۔ مذہبی تحریکوں اور دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل حزب اختلاف کے لئے یہ ایک آزمائشی وقت ہے کیونکہ پچھلے پانچ برس داخلی انتشار اور ذاتی اختلافات میں ضائع کئے جاچکے ہیں اور ابھی تک کسی ایسی منطقی تحریک کو جنم دینے میں ناکام رہے ہیں جو ملک میں “سیکولر تکون” کی اجارہ داری اور بائیں بازو کے اقتدار کا خاتمہ کرسکے۔ مسلم لیگ (ن) نظریاتی سیاست کی بساط لپیٹ کر مفادات اور اقتدار کی سیاست پر خوش ہے، عمران خان ضرورت سے زیادہ خود پسند ہوچکے ہیں، جماعت اسلامی فضل الرحمان فو بیا سے نکل نہیں پارہی ہے، مولانا فضل الرحمان پچھلے پانچ برس حکومتی مراعات میں ضائع کرچکے اور مولانا سمیع الحق ہمیشہ کی طرح فوجی ایجنسیوں کے زیر اثر ہیں، ایسی صورتحال میں اگر انتخآبات ہوئے تو تبدیلی کی امید رکھنا کسی کے دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہوگا۔

انتخابات کے قریب آتے ہی جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، مولانا فضل الرحمان ایم ایم اے کے منتشر شیرازے کو دوبارہ اکھٹا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ہوئے لیکن مولانا بزرگوار نے بہت دیر کردی ہے، کاش انہیں یہ خیال پچھلے انتخابات کے فوری بعد آجاتا یا کم از کم دو چار سال قبل ہی وہ ایسی کوئی کوشش کرلیتے۔ بہر حال جماعت اسلامی کی شمولیت کے بغیر ایم ایم اے کی بحالی ناممکن ہے اور اسکا ادراک خود مولانا فضل الرحمان کو بھی ہے مگر انکا مسئلہ سید منور حسن ہیں جنہیں منانا مشکل کام ہے۔ ہوسکتا ہے کہ قاضی حسین احمد اور صاحبزادہ ابولخیر زبیر کسی مرحلے پر سید صاحب کو منانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن انتخابات سے چند ماہ قبل متحدہ مجلس عمل کی بحالی وہ نتیجہ نہیں دے سکتی جو وہ پچھلے پانچ سالوں کے درمیان متحرک رہ کر دے سکتی تھی، پھر اس بار میڈیا اور اسٹبلشمنٹ میں وہ اسپیس نہیں جو پچھلی بار انہیں مل گئی تھی۔

2008 کے عام انتخابات میں جماعت اسلامی نے حصہ نہ لیکر ایک سنگین سیاسی غلطی کا ارتکاب کیا تھا، اس غلطی سے ناصرف مذہبی قوتوں اور اسلامی کاز کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بغیر کسی مقابلے کے پورا خیبر پختونخوا بائیں بازو کی گود میں جاگرا۔ میں جتنی بار بھی سوچتا ہوں مجھے اس انتخابات میں حصہ نہ لینے کی کوئی بھی عقلی منطق سمجھ نہیں آتی کہ 2002 کے انتخابات میں وہ تمام برائیاں اور قانونی رکاوٹیں اپنے بام عروج پر تھیں جنکی بنیاد پر 2008 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ اس غلطی کا خمیازہ مذہبی قوتیں آج تک بھگت رہیں ہیں، رہنماوں کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوچکا ہے اور اختلاف اس حد بڑھ چکا ہے کہ مشترکہ کاز کے لئے اسے سمیٹنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ پاپولر مذہبی جماعتوں کے کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع نہ ہونے کے سبب دفاع پاکستان کونسل کا ظہور ہوا جسکی کمان ایجنسیوں سے قریبی تعلق رکھنے والی شخصیت کے پاس ہیں، کچھ لوگ اس اتحاد کو بھی سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا اور اگر دفاع پاکستان کونسل کی کوکھ سے کسی سیاسی اتحاد نے جنم لیا بھی تو اسکی حیثیت وہ نہیں ہوسکتی جو کہ ایم ایم اے کی رہی ہے کیونکہ دفاع پاکستان کونسل کی کوئی بھی جماعت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پختون بیلٹ پر وہ اثر و رسوخ نہیں رکھتی جو مولانا فضل الرحمان رکھتے ہیں، یعنی پاکستان میں مذہبی سیاست کے مستقبل کا سارا دارمدار سید منور حسن اور مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں میں ہے اور لامحالہ انہیں کڑوے گھونٹ لیکر ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا ہی پڑے گا۔

دوسری طرف دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے نظریاتی سیاست سے خود کو لاتعلق کررکھا ہے جسکا نقصان ناصرف شریف بردارن کو ہوگا بلکہ آگے چل کر پورے ملک کو اٹھانا پڑے گا، وہ نواز شریف جو کبھی پی ٹی وی پر خواتین کو ڈوپٹے سر پر رکھنے کےاحکامات جاری کیا کرتے تھے آج سڑکوں پر نوجوان بچیوں کو ڈورارکرروشن خیال اشرافیہ اور غیر ملکی سفارتخانوں کو خوش کرنے میں لگے ہیں، دوسری طرف عوامی مسائل کے حل، حکومتی بدعنوانی سے نجات، مذہبی احساسات کی ترجمانی اور معیشت کی بحالی کے لئے مسلم لیگ (ن) کا کردار پیپلز پارٹی سے کم نہیں۔ نتیجے کے طور پر ایجنسیوں نے عمران خان کو ایک متبادل کے طور پر آگے کیا لیکن یہ تو آنے والے انتخابات ہی بتائیں گے کہ عمران خان دائیں بازو کے ووٹ جوڑ کر تبدیلی لائیں گے یا ووٹ توڑ کر پنجاب میں پیپلز پارٹی، خیبر پختونخوا میں اے این پی اور کراچی میں ایم کیو ایم کے ہاتھ مظبوط کریں گے۔ بہرحال نہ ہماری سمجھ میں میاں صاحب کی بل کھاتی سیاست آتی ہے اور نہ ہی عمران خان کے اصول۔ ہاں ذاتی حیثیت میں عمران خان اور میاں برادران کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں اور اگر ایم ایم اے اپنی پوری قوت کے ساتھ بحال ہوئی تو تحریک پلس ایم ایم اے تبدیلی کا ایک زینہ بن سکتی ہے لیکن عمران خان ضرورت سے زیادہ خود پسند ہوچکے ہیں، ، جماعت اسلامی فضل الرحمان فو بیا سے نکل نہیں پارہی ہے، مولانا فضل الرحمان پچھلے پانچ برس حکومتی مراعات میں ضائع کرچکے اور مولانا سمیع الحق ہمیشہ کی طرح فوجی ایجنسیوں کے زیر اثر ہیں، ایسی صورتحال میں اگر انتخآبات ہوئے تو تبدیلی کی امید رکھنا کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہوگا۔

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ برائے: دیوانے کا خواب

  1. ایم ایم اے کا پلیٹ فارم استعمال کرکے دیکھا جاچکا ہے اور یہ چیز پائے ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ ایم ایم اے اگر انتخاب میں کامیابی حاصل کرتی بھی ہے تو وہ سوائے فضل الرحمٰن کے سیاسی مفادات کے حصول کے کچھ اور کارنامہ انجام نہیں دے سکتی.
    میرا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کی یہ بہت بڑی غلطی ہوگی اگر اس نے کسی بھی اتحاد میں کسی پلیٹ فارم سے حصہ لیا.
    میرا خیال ہے کہ وقت آگیا ہے کہ جماعت اسلامی اب اتحادوں کی سیاست سے نکل کر عوامی سیاست میں قدم رکھ دے. اور عوام کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے سیاست کو آگے بڑھائے. اس کے لیے جماعت اسلامی کسی برادر تنظیم کو استعمال کرسکتی ہے . جس طرح قاضی صاحب نے کسی وقت میں پاسبان کو استعمال کرتے ہوئے ایک پریشر گروپ بنا لیا تھا. جس کو بدقسمتی سے درست سمت میں استعمال نہیں کیا جاسکا.
    ایم ایم اے کل بھی مردہ گھوڑا تھی اور آئندہ بھی یہ کوئی کام نہیں کرسکے گی سوائے مذہبی طبقہ کی جگ ہنسائی کے.

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>