صفحہ اوّل » کاشف نامہ

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

مصنف: وقت: اتوار، 21 نومبر 201058 تبصرے

مولوی صاحب سیکولرازم صرف روشن خیالوں کے ڈرائنگ روم کے ہی نخرے نہیں بلکہ فی الحقیقت روایتی مولویوں اور مشائخ کو بھی اسکی اتنی ہی ضرورت ہے بلکہ برصغیر کے روایتی مولوی طبقہ کے لئے تو سیکولرازم گویا اکسیجن گیس ہے اقبال نے ایسی ہی تھوڑی کہا تھا

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت                          ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

اگر شریعت نافظ ہوجائے تو حکمران آئمہ مسجد ہوجائیں گے، لوگ شرعی مسائل لئے قاضیوں کا رخ کریں گے، مدارس قومیا لی جائیں گی، مقابر پر بھی شریعت کا طلاق ہوگا، کوئی حلوے مانڈے پر نیاز کرانے والا باقی نہیں بچے گا اور نکاح تو کوئی ایرا غیرا نتھو بھی پڑھا لیا کرے گا۔ پھر ضرورت اور اہمیت باقی رہے گی تو جید علماء کرام کی، ان گلی محلے کے خطیبوں (روایتی مولویوں) کا کیا ہوگا؟ میں کسی سامعی کو دخل اندازی کا کوئی موقع دئے بغیر بے ساختہ بولتا گیا اور جب میں رکا تو میں نے ان کے چہروں کے بدلتے ہوئے رنگ کو پہلی بار محسوس کیا۔ ایک لمحے کے لئے ایسا لگا کہ داو تکئے پر نیم دراز پڑے مولوی صاحب کی سانسیں رک گئی ہوں اور ملک الموت بس آیا ہی چاہتے ہوں۔ لیکن پھر انہوں نے خود پرقابو پایا، اٹھ کر بیٹھے اور سامنے رکھے پانی کے جگ سے گلاس بھرا اور ایک ہی سانس میں اسے حلق میں انڈیل لیا۔ ابھی میں انکے اندر اپنی ایک چھوٹی اور بے موقع تقریر کے ردعمل میں رونما ہونے والی اس تبدیلی کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ انہوں نے انکھ اٹھا کر اپنے دائیں بائیں بیٹھے مریدین کو نظروں ہی نظروں میں تخلیہ کا حکم دیا اور پھر نظریں جھکاکر کسی انجانے مراقبے میں گھوم ہوگئے۔ پانچ منٹ کی کاٹ کھانے والی خاموشی کے بعد گویا ہوئے تو جو کچھ ارشاد ہوا وہ میں تحریر میں لانے سے عاجز ہوں۔ بس اتنا سمجھ لیجئے کہ جب وہ دوبارہ خا موش ہوئے تو انکی تعظیم کے وہ تمام جزبات جو مجھے ورثہ میں ملے تھے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غائب ہوچکے تھے اور میرے اندر سے کہیں اقبال کی یہ آواز بے چین ہوکر نکلا ہی چاہتی تھی کہ دین ملا فی سبیل اللہ فساد، لیکن پھر مجھے اقبال کے ہی اس بانگ نے روک لیا کہ

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج                                ملا کو اسکے کوہ دمن سے نکال دو۔

قصہ یوں ہے کہ ایک مشہور و معروف مولوی صاحب جو والد مرحوم کے پرانے دوست بھی ہیں سے ایک نشست پر وہابیت کے خلاف اور ترک دنیا کی حمایت میں نصیحت سنی تو میں نے موضوع بدلنے کے لئے سیکولرازم اور اسکے اثرات کا ذکر چھیڑ دیا۔ ارشاد ہوا بری چیز ہے، روشن خیالوں کے ڈرائنگ روم کے نخرے ہیں لیکن تم کیوں ہلکان ہوتے ہوئے، چھوڑو یہ گستاخ وہابیوں اور خارجیوں کے چکر ہمارے پیر و مرشد کے ہوجاو، سکون ہی سکون ہے، عافیت ہی عافیت ہے۔ میں اس سخت فرقہ وارانہ اور احمقانہ نصیحت کو سن کر خود کو روک نہ سکا اور روایتی مولویت اور تصوف پر ایک چھوٹی سی تقریر کر ڈالی، یا یوں سمجھیے کہ ایک روایتی مولوی کے سامنے ہی روایتی مولویوں کی ایسی گردن موڑی کہ اللہ توبہ۔

مولوی صاحب میری بات آپکو بھلے بری لگے لیکن میں ایک احیائی اور انقلابی مسلمان ہوں جو روایت پسندی سے سخت عاجز ہے، جسے خانقاہوں اور اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مساجد میں بیٹھے مذہب پرستوں اور دین فراموشوں سے بھی اتنا ہی بیر ہے جتنا کہ نام نہاد روشن خیالوں سے۔ میں اس مذہب کو نہیں مانتا جو تعویز کے گٹھوں اور قبروں کے پیٹ میں بند ہے۔ میں اس مذہب کو بھی نہیں مانتا جو رواجوں، تہواروں، دنوں، موسموں اور شخصیات کے گرد گھومتا ہے۔ میں اس مذہب کو بھی نہیں مانتا جو مرشد کی نظروں میں قید ہو، میں اس مذہب کو بھی نہیں مانتا جسے نجی شعبے میں دے دیا جائے اور ریاست اور امراء کا اسکے معاملات میں کوئی دخل باقی نہ رہے۔ میں اس مذہب کو بھی نہیں مانتا جسکے کئی کئی فرقہ اور مسالک ہوں۔ میں امام ابو حنیفہ کا مقلد ہوتے ہوئے بھی آئمہ اربعہ کی اندھی تقلید پر صبر شکر کرکے بیٹھنے کو پسند نہیں کرتا۔ مجھے ایسے نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز لوگ بھلے معلوم ہوتے ہیں جو اپنی اپنی خانقاہوں سے نکل کر بانگ درا پر آمادہ ہوتے ہیں اور خروج اور دعوت الحق پر یقین رکھتے ہیں۔

چاہے خلق خدا انکی قبروں پر عمارت بناکر تعظیم کی مثال قائم کرے لیکن مجھے ایسے گوشہ نشین مذہب پرستوں سے سخت اختلاف ہے جو خود تو خانقاہوں میں بیٹھ کر خلوت کا حق ادا کریں اور معاشرے کو جابر حکمرانوں کے حوالے کردیں، جو دریاوں کے کناروں پر بیٹھ کر اللہ کی بڑائی کے نغمے گائیں اور خلق خدا ایک ایک بوند پانی کے لئے ترستی رہے اور جو سمع و تال پر تصوف کے دئے روشن کریں لیکن اللہ کا برہان طاقوں کی تاریکی میں بند رہے۔ اگر اسے خارجیت کہتے ہیں تو میں خارجی ہوں، اگر اسے وہابیت کہتے ہیں تو میں وہابی ہوں لیکن میں اسے محمدیت سمجھتا ہوں اور میں ایک محمدی ہوں۔

مست رکھو ذکر و فکر صبحگاہی میں اسے                        پختہ تر کر دو مزاج خانقاہی میں اسے

آپکی یہ کیسی خلوت ہے کہ کافروں کے بنائے ہوئے ائر کنڈیشن کمرے میں، کافروں کے بنائے ہوئے اعلی قسم کے کارپیٹ پر لیٹے ہوئے، کافروں کے بنائے ہوئے ریشمی گاو تکئے سے ٹیک لگائے، کافروں کا بنایا ہوا مہنگا موبائل ہاتھ میں لئے اور کافروں کی بنائے ہوئے سفید کارٹن میں ملبوس کافروں کی بنائی اس مہنگی تسبیح کو مشین کی رفتار سے چلاتے ہوئے مجھے ترک دنیا کا مشورہ دیتے ہیں لیکن صاحب میں ایسی خلوت کو گوارا نہیں کرتا، میں ایک محمدی ہوں جسکا دین اور مذہب گوشہ نشینی نہیں دنیا پر چھا جانے اور غالب آنے کا نام ہے۔

مولوی صاحب سچ تو یہ ہے کہ اس سیکولرازم کا سب سے بڑا محافظ خود آپکا طبقہ ہےجسکی دال روٹی اور حقہ پانی اس صدیوں پرانے نظام سے وابستہ ہے۔ اگر بنو عباس کے نا اقبت اندیش روساء نے مذہب کی نجکاری نہ کی ہوتی، اگر انہوں نے خاموشی کے ساتھ مسجد اور قصر خلافت کو الگ نہ کیا ہوتا ، اگر انہوں نے ممبر مسجد کو نجی شعبے کیلئے خالی نہ چھوڑا ہوتا تو کیا امت شیعہ سنی فرقوں میں بٹتی؟ کیا بادل ناخواستہ مذاہب اربعہ کی ضرورت ہوتی؟ تو کیا ابو الحسن اشعری اور ابو منصور ماتریدی کو عقائد کی حفاظت کے لئے اہل سنت اور غیر اہل سنت کی فصیل کھینچنی پڑتی۔ کیا دیگر مذاہب کی طرح فرزندان اسلام کو بھی اپنے یہاں پیدائش، اموات، شادی بیاہ اور مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لئے ایک پیشہ ور طبقے کی ضرورت پڑتی۔ یقینا ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

تاریخ کیوں کہ دورِ بنو عباس میں از سر نو ترکیب دی گئی تھی اس لئے اس نے بنو امیہ کے ظلم و جبر کے افسانے گھڑے لیکن یہ نہیں بتایا کہ اموی محل نہیں بناتے تھے، اموی نماز پڑھاتے تھے۔ تاریخ کے تقابلی مطالعہ سے یہ حقیقت واضع ہوتی ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے بعد اسلام کی کسی دور میں خدمت ہوئی تو وہ دور بنو امیہ ہی تھا۔ جس میں ملائیت اور تصوف کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اس سوا سو سال میں جو جو امیرالمومنین اور گورنر ہوا ، وہ جمعہ کا خطبہ دیتا اور ہر خاص و عام میت کا جنازہ پڑھاتا۔

عبداللہ ابن عباس، عبداللہ ابن عمر، عائشہ صدیقہ اور ابو ہریرہ اس دور کے جید علماء شمار ہوتے تھے لیکن پیشہ ور نہیں، خود کماتے اور خود کھاتے تھے، ان اصحاب کو بھی ملا یا مولوی کہا جاسکتا ہے لیکن ایسے جو قرآن اور حدیث کا کاروبار نہیں کرتے تھے، انکے یہاں پڑھے پڑھائے قرآن ایصال ثواب کے لئے بکاوں مال نہیں بنا کرتے تھے۔ وہ چند ٹکوں کے عوظ تنخواہ دار امام یا موزن نہیں ہوتے تھے، انہوں نے کبھی سورۃ آل عمران اور سورۃ النسا کی چار آیتوں کے بدلے ہزاروں کے سودے نہیں کئے، انہوں نے کبھی کسی رئیس کے گھر جاکر حلوے اور پلاو پر نیاز نہیں دی، انہوں نے کبھی اپنے شاگردوں کو تیجے، چالیسویں اور برسی کے ختم پر میت کے گھر نہیں بھیجا۔ کتنی ہی عید اور بقر عید گزر جاتی تھی لیکن انہیں فطرے، زکوۃ اور قربانی کے کھالوں کا کوئی درد نہیں ستاتا۔کبھی کبھار خلیفہ یا گورنر وضیفہ بھیجتا جو وہ اپنے شاگردوں میں تقسیم کردیتے اور عوام کی طرف نظر و نظرانے کا بھی کوئی تصور ان جید علماء کرام کے یہاں نہیں تھا۔

امت مسلمہ کی خوش قسمتی ہے کہ جید اور راسخ علماء کرام بنو امیہ کے ساتھ ختم نہیں ہوگئے، دور بنو عباس میں جہاں گلی گلی میں شعلہ بیان خطیب اور فرقہ واریت پھیلاتے بال کی کھال نکالتے مولوی پیدا ہوئے وہیں جید اور راسخ علماء کرام عباسی حکمرانوں کی زیادتیوں سے قطع نظر مسلسل اپنا کام کرتے رہے۔ کون نہیں جانتا کہ امام مالک کا بڑھاپہ زندان کی قید تنہائی میں بسر ہوا اور امام احمد کی کھال کو بھی جیتے جی کھینچا گیا۔ ادھر ہندوستان میں اکبر اعظم کی اولاد نے شیخ احمد سر ہندی کو بھی پابند سلاسل کیا اور سید احمد بریلی اور اسماعیل دہلوی بھی اسی مقصد میں کام آئے، حافظ زامن شہید، قاسم نانتوی اور محمود الحسن بھی استعمار سے آخری وقت تک لڑتے رہے۔لیکن مولوی صاحب ہر گلی محلے کا خطیب (روایتی مولوی) عالم دین نہیں ہوا کرتا۔ اسے تو اپنے خطبے اور محلے کے روساء کے سوا کسی اور کی پرواہ کم ہی ہوا کرتی ہے۔ انقلاب، احیاء اور اقامت دین کی بات ہوئی تو ڈر ہے کہیں مسجد و مدرسہ کا خرچہ نہ روک جائے، صاحب حقہ پانی نہ بند ہوجائے۔مولوی صاحب سیکولرازم صرف روشن خیالوں کے ڈرائنگ روم کے ہی نخرے نہیں بلکہ فی الحقیقت روایتی مولویوں اور مشائخ کو بھی اسکی اتنی ہی ضرورت ہے بلکہ برصغیر کے روایتی مولوی طبقہ کے لئے تو سیکولرازم گویا اکسیجن گیس ہے اقبال نے ایسی ہی تھوڑی کہا تھا

ہند میں ملا کو ہے جو سجدے کی اجازت                          نادان یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

فیس بک تبصرے

58 تبصرے برائے: ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت

  1. ایک عدد بکرا جتنی جلدی ہوسکے صدقہ کریں۔
    جان بچ گئی اور کیا چاھئے۔
    مولوی کی گاڑی اور گاو تکیے پر بری نظر نہیں رکھنی چاھئے۔
    سیکولر ازم والے اور اس طرح کے مولوی میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔
    دونوں متشدد اور انتہا پسند جنونی ہی ہوتے ہیں۔جو صرف پاکستانیوں میں ہی پائے جاتے ہیں۔ 😆

  2. زندھ باد
    خوب لکھا
    اگر میرے پاس بھی تعلیم هوتی تو میں بھی کچھ ایساهی لکھتا
    پھٹے چک دیو جی اینہاں دے
    دوکانداریاں بنا رکھی هیں جی ان لوگوں نے
    میں یهاں سکریپ کا کاروبار کرتا هوں اور یه لوگ اسلام کا کاروبار کرتے هیں

  3. لگتا ہے تیرا لاپتہ ہونے کو جی چاہتا ہے۔۔۔

    اور ان روایت پسند مولویوں کو روشن خیالوں سے زیادہ ضرورت ہے سکیولرازم کی۔ یہ خوف زدہ ہیں اس بات سے کہ کہیں عوام میں صحیح فہم دین آشکار نہ ہوجائے۔ یہ روشن خیالوں کی طرح مذہب کو انسان کا پرائیویٹ معاملہ سمجھتے اور سمجھاتے ہیں۔ یہ اپنے زیر تصرف مدارس مِیں ہماری نئی نسلوں کو برباد کررہے ہیں۔ اقبال نے بہت پہلے ان کے بارے میں شکوہ کیا تھا کہ:
    گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا
    کہاں سے آئے صدا لاالہ الا اللہ
    شکایت ہے مجھے یا رب خُداوندانِ مکتب سے
    سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا

  4. بہت خوب
    ہر شخص کو اس قابل ہونا چاہئےکہ وہ جماعت کراسکے، اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھا سکے، اپنی بیٹی کا نکاح خود پڑھا سکے، اسے کسی مولوی کا محتاج نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ یہ صرف مولویوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اسلام میں مولوی پیشے کا کوئی تصور نہیں۔ مولوی کو پیشہ بنانے میں ہماری ہی کوتاہیاں ہے۔

  5. لگا تو لائے ہیں انہیں یہاں تک باتوں میں ۔ اور کھل جائیں گے کچھ دو چار ملاقاتوں میں۔

  6. جعفر says:

    زور بیان ہے جی اس تحریر میں
    استدلال کے ساتھ ساتھ
    اور جی زیادہ تر نئے منڈے کھنڈے ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں
    جو جینز ٹی شرٹ پہن کے ایسی باتیں کرتے ہیں
    روشن خیالیے ان کو منافق
    اور مولوی حضرات گمراہ کہتے ہیں
    دونوں کو در شاباش

  7. عثمان says:

    ہائیں۔۔
    تحریر و تبصروں میں تو مولویوں کو صلواتیں سنائی جارہی ہیں۔
    نہیں نہیں۔۔۔
    مولویوں کو نہیں۔۔۔
    اپنے ناپسندیدہ مولویوں کو۔ ورنہ طالبانی مولوی جو سب سے خونخوار ہیں ان کے خلاف ایک لفظ بھی بولنا اس حلقہ انقلاب میں منع ہے۔

  8. نعمان says:

    مجھے سمجھ نہیں آیا کہ ان دونوں قسم کے مولویوں میں فرق کیا ہے؟ ایک دنیا ترک کرکے پیری مریدی کا مشورہ دیتا ہے دوسرا دنیا ترک کرکے جہاد کا۔ دونوں ہی کے کاروبار کا ایندھن مثالی اسلامی ریاست کا خواب دیکھنے والے عوام بنتے ہیں۔

  9. عثمان says:

    یار یہ جو تو نے مذہب پرست کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ یہ بئی مانی ہے۔ یہ اصطلاح میں نے ایجاد کی تھی۔ اور ابھی اس کے کاپی رائٹس میرے نام ہی ہیں۔ کسی دوسرے کو استعمال کی اجازت نہیں۔ 😆

  10. ماریہ says:

    مریدوں کے سامنے کسی پیر کی بے عزتی کردی ۔ آپ شکر کریں آپ کی جان بچ گئی ، پیر ساب نے مریدوں کو صرف جانے کا اشارہ کیا تھا یا کچھ لے کر آنے کا ۔ عثمان بھائی صحیح کہہ رہے ہیں بکرا نہیں کر سکتے تو مرغا صدقہ کریں ۔۔ بلکہ ہو سکے تو پیر ساب کے مریدوں سے کروا لیں ۔ اور مرغے کی کھال پیر ساب کو نذرانہ کر دیں ۔

  11. زیادہ تر نئے منڈے اسی طرح دو دنیاءووں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اپنوں سے بات ، ساری ساری رات۔ آپ شاید واقف نہیں ہونگے یہ اپنے کون ہیں۔ لیکن انہی اپنوں سے موبائل فون پہ بات کرتے ہوئے ایک فرمائیش ہوتی ہے دیکھیں میں ملا نہیں ہوں لیکن ایک اچھی با حیا مسلمان لڑکی اگر پردہ کرے تو بہت پیاری لگتی ہے اس لئے کہ اسکے چہرے کا نور بڑھ جاتا ہے۔
    اور اگر سماج ہمارے راستے کی دیوار نہ بنا، بڑی باجی کے شوہر کو اس پہ اعتراض نہ ہوا۔ چھوٹے بھائ کی بیوی کی بھابھی کے بھائ کو مسئلے نہ ہوئے اور ہماری شادی ہوگئ تو وعدہ کیجئیے کہ آپ میرے جہاد کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہونگیں۔ اور للہ، ابھی جو چھوٹی منی کی شادی میں آپ آئیں گی تو سفید روپہلا جوڑا پہن کر آئیے گا۔ میری تمام کزنز آپکو دیکھتی رہ جائین گی۔ اس میں تو آپ بالکل حور لگتی ہیں۔
    تو جینز ٹی شرٹ پہن کر عربی ثقافت کو اسلامی ثقافت کہنا، دنیا میں کترینہ اور کرینہ اور آخرت میں بھی حور ایک نہیں بلکہ بہتّر ایک ساتھ اسی سوچ کا قیامت خیز نتیجہ ہے۔
    میں خود سے بھی سوال کرتی ہوں، کہ اگر میں بھی چند چیزوں کو اختیار کر لوں تو پاکستان بھر میں شہرت کے ڈنکے بج سکتے ہیں۔ خدانخواستہ میرے ساتھ امریکی کچھ کریں تو میں بھی عظیم بیٹی بن سکتی ہوں۔ اسلام کی عظمت بڑھانے والوں میں میرا نام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر میں خدا سے سوال کرتی ہوں کہ حور کے بدلے میں وہ مجھے کیا دے گا۔
    اللہ میاں عموماً اس بات پہ مسکرا دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں بازیچہ ء اطفال ہے دنیا مرے آگے۔ اور اپنے چاک پہ حوروں کی بڑھتی ہوئ ڈیمانڈ کو دیکھتے جاتے ہیں۔
    یوں انقلابی اور احیائ مسلمان یہ بازی جیتنے سے پہلے چین کی بنسی بجاتے ہیں اور میرے اور خدا کے مابین ڈائیلاگ ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آتے۔

  12. کاشف نصیر says:

    @ یاسر بھائی: یار اسکا حل یہ نکالا تھا کہ عید پر گائے قربان کرکے اسکی کھال ایک مدرسہ میں بھیجوا دی ہے۔ اب اہل مدرسہ تو کھال سے خوش ہوکر جان بخشی پر راضی ہوگئے ہیں لیکن بھائی لوگ پانچ دن سے ایک عدد ٹوکری اور ایک بوری لے کر مجھے ڈھونڈ رہے اب اسکا کیا کروں؟
    @ خاور بھائی: شرمندہ تو نہ کریں۔
    @ وقار : اچھا تبصرہ پھینکا ہے تو نے، ویسے اگر میں ملا عمر اور عبدرشید غازی کا نام استعمال نہ کرتا تو ہمارے روشن خیال بہنیں اس طرح کی ذاتیات پر نہ اترتیں. ویسے ہمیں دو دنیا میں لٹکتی مخلوق ہونے کے طعنے دینے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ پیشہ ور مولویوں کی بنسبت ہم انہیں انکی ہی زبان میں جواب دینا بھی جانتے ہیں. اسلئے زرا سنبھل کے۔
    @ عمر اقبال : متفق اور تحریر پرھنے کا شکریہ، باقی باتیں آج جامعہ آکر کروں گا۔
    @ فکر پاکستان : کیا بات ہے جی آپکی!
    @ جعفر بھائی: آپ مجھے کیا زید حامد کے قبیلے کا سمجھتے ہیں؟ نہیں جی نہیں مولویوں سے اپنا پرانا تعلق ہے اور یہ باتیں میں مولویوں میں آج سے نہیں سالوں سے کررہا ہوں لیکن اسکے باوجود مولوی مجھے ہمیشہ بلاتے، سنتے اور کھلاتے ہیں۔ اب کہیں گے کیسا آدمی ہے جو مولویوں سے بھی کھا لیتا ہے۔
    @ عثمان :(1) یار میرے خیال سےمیں نےمولائیت کو پیشہ بنانے اور سیکولرازم کو خاموشی کےساتھ اختیارکرنے والےمولویوں کورگڑا ہے۔ اب اگرکوئی مولوی ان جراثیم سے پاک ہے تو اسکےخوامخوا میں کیوں رگڑوں۔ (2) یار پہلے بتانا تھا نہ، اب کتنے کا جرمانہ لگے گا۔
    @ نعمان بھائی : آپکی بات سمجھ نہیں آئی؟ صاحب اسلام جسے جہاد یا قتال فی سبیل اللہ کہتا ہے وہ دنیا پر دین اسلام اور اہلیان اسلام کے غلبہ یا دین اسلام اور اہلیان اسلام کے تحفظ کے لئے ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے جہاد کے نتیجے میں ترک دنیا کا سوال کہاں سے آگیا۔ اسلام ماددہ پرستی یعنی دنیا اور مادہ کو مقصد حیات بنانے سے روکتا ہے ورنہ اللہ کی رضا کے لئے مال و دولت اکھٹی کرنا اور سائنس و ٹکنالوجی میں آگے بڑھنا تو عین عبادت ہے۔
    @ ماریہ : آپ کے مشورے پر پیشگی عمل کرکے مولوی صاحب کے مریدین سے تو جان بچالی ہے لیکن اب بھائی لوگوں سے بھی بچنے کا کوئی طریقہ بتا دیں پلیز!
    @ عنیقہ آپا : ہممم بڑا تجربہ لگتا ہے! کہیں بھائی صاحب نے آپکو بھی اسی ترتیب پر شادی کیلئے تو راضی نہیں کیا تھا۔ اب معلوم ہوا کہ آپ بنیاد پرستوں سے اتنا کیوں اتنا چڑتی ہیں، ہممم یہ ہی جرم ہے نہ کہ بیچاری سیدھی سادھی کم عمر لڑکیاں ماموں بنادی جاتی ہیں۔ بیچاری کم عمر معصوم لڑکیاں! ویسے اس دور موبائیل فون تو نہیں ہوتے تھے نا، اچھا اچھا پی ٹی سی ایل کے رات بارہ سے صبح چھ والا پیکچ چلتا ہوگا، جس پر ہماری دادی رات بھر اپنی بہن سے لاہور بات کرتی تھیں اور ہمارے بھائی صاحب! ویسے یہ پی ایچ ڈی کے دنوں کی بات ہے یا اس سے پہلے کی، میرا مطلب ہے کالج کے دنوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محترمہ ذاتیات پر اترنا کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن کچھ لکھنے سے پہلے جواب سننے کا ذہن بھی بنا لیا کریں معذرت کے ساتھ!

  13. یار عثمان یہ مذہب پرست کی اصطلاح تو صدیوں پرانی ہے….
    بھئی ساری اصطلاحیں تیرے ہی نام، کچھ ہمارے لیے بھی چھوڑ بھئی.
    اور ہاں خبردار جو بلاگر کے ساتھ اعظم کا لفظ آئندہ استعمال کیا. اس کے کاپی رائیٹ میرے پیدا ہوتے ہی میرے نام کردیئے گئے تھے… :mrgreen:

    بھیا نعمان یہ دوسری قسم کے مولوی پر ترک دنیا ایک بہتان سے زیادہ کچھ نہیں. یہ صرف جہاد ہی نہیں کرتے بلکہ اقبال کے اس شعر کی عملی تفصیر ہیں کہ:
    سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا 😉
    اور اگر دنیا کی امامت ان دوسری قسم کے مولویوں کے ہاتھوں میں آگئی تو یہ نام نہاد روشن خیال اپنا فلسفہ کیسے بگھاریں گے اور مغربی دنیا سے امداد وصولیں گے؟ یہ ملا نمبر ایک کی طرح ہی ہیں. ان کی دال روٹی سوری میرا مطلب ہے پیزا اور کے ایف سی اسی سے چلتی ہے. ان کی بدہضمی تو سمجھ میں آتی ہے. تبھی کبھی روشن خیالی کی طرح ڈالتے ہیں اور کبھی صوفی اسلام کی لئے پر رقص کرتے ہیں.

    انیقہ جی یہ آپ کس قبیلے کے نوجواںوں کا ذکر کر رہی ہیں؟ اگر آپ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو ایسے کردار بھی نظر آجائیں گے لیکن اس کے لیے دیدہء بینا کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ :mrgreen:
    وہی جواں ہے قبیلے کی آنکھ کا تارا
    شباب جس کا ہے بے داغ، ضرب ہے کاری

  14. عبداللہ says:

    عنیقہ یہ وہ گفتار کے غازی ہیں جنہیں کردار کی کوئی فکر نہیں،اور سچ پوچھیں تو آپنے بالکل صحیح نقشہ کھینچا ہے موصوف کی ایک تحریر پڑھ کر میں بھی کچھ ایسی ہی سوچ میں پڑگیاتھا!
    ویسے موصوف کے جواب میں موجود تڑپن پڑھ کر محسوس ہورہا ہے کہ صحیح رگ پر ہاتھ رکھاتھا!!!!
    🙂
    کاشف بندہ جھوٹ بولے پر اتنا بھی نہیں کہ جوتوں سمیت آنکھوں مین اترنے کی کوشش کرے یہ عید الاضحی تو میں نے بھی کراچی میں ہی کی ہے اور مجھ سمیت میرے کراچی مین پھیلے پورے خاندان میں سے کسی نے ایسا جھوٹ نہیں گھڑا جیسا تم نے گھڑا ہے یہ تم جماعتی جھوٹ بولنا کب چھوڑوگے یا مذہب کے نام پر اسے بھی جائز کررکھاہے،
    ایک ہی گھر کے دو بھائیوں نے ایک کھال اپنی خوشی سے ایم کیو ایم کو دی اور دوسرے نے دار العلوم کو ،اسی طرح محلوں میں بھی سب نے جسے چاہا اپنی مرضی سے کھالیں دیں اور کوئی پھڈا فساد نہ ہوا سوائے لیاری اور ایک اور کوئی جگہ تھی جہاں کی خبر اخبار میں بھی آئی تھی اور اپنے اجمل صاحب بغض معاویہ میں حسب عادت اسے پورے کراچی پر منطبق کر کے بیٹھ گئے!!!
    ہاں ایم کیو ایم کو ہمیشہ کی طرح لوگوں نے ذیادہ کھالیں دیں اسی کی جلن تم جماعتیوں کو چین نہیں لینے دیتی!!!!
    🙂

  15. عبداللہ says:

    ویسے فکر پاکستان نے بھی کچھ سوال کیئے تھے تم سے انکا جواب اپنے بڑوں سے لاکر کب تک دے رہے ہو!!!!!
    🙂

  16. کاشف نصیرمنو، یہ تو میں نے آپکے قبیلے کے ہر فرد کے لئے لکھا تھا لیکن نجانے کن وجوہات کی بناء پہ آپکو یہ صرف اپنی توہین لگی. یہ آپ بہتر جانتے ہونگے.
    ابھی روشن خیالوں کے متعلق آپکا علم نہایت کم ہے. جو سب کے سامنے مل لیتے ہوں انہیں رات کو فون استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی. لیکن مسئلہ تو یہی ہے کہ آپکا علم آپکے یوم پیداءیش سے بھی نہیں بلکہ اس دن سے شروع ہوتا ہے جب جماعت نہم میں گئے تھے. اس سے پہلے کیا مذہب، کیا ملک اور کیا شہر سب بند تھا. آپ نے جیسے ہی نہم جماعت میں قدم رکھا اور دنیا چلنے لگ گئ.
    تو یہ آپ کا جواب دینے کا انداز تھا جسے آپ نے لکھا کہ
    ویسے ہمیں دو دنیا میں لٹکتی مخلوق ہونے کے طعنے دینے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ پیشہ ور مولویوں کی بنسبت ہم انہیں انکی ہی زبان میں جواب دینا بھی جانتے ہیں. اسلئے زرا سنبھل کے۔
    آپ نے فی الوقت تو پیشہ ور مولوی کی طرح دیا ہے بلکہ اس سے بھی گھٹ کر اس ٹرک یا بس ڈرائیور کی طرح کہ جب کچھ نہیں سوجھتا تو عورت یا مرد کو ذاتی گالیاں دینے لگتا ہے. خیر یہ بھی آپکے قبیلے کے ہر فرد کا مشترکہ انداز ہے.
    بس میری ایسی باتوں سے آپ لوگ اپنے آپکو کتنی آسانی سے ظاہر کرتے ہیں. ایک کے بعد ایک کردار سامنے آتا ہے جس کا کوئ کردار نہیں. اسکی بنیادی وجہ عقل اور علم سے دوری ہے. اور جہالت پہ فخر.
    اور ہاں یہ آپ سب لوگوں کو اقبال کا جواں مومن اور مجاہد کے حوالوں کی تو بڑی فکر رہتی ہے مگر یہ مرد مجاہد بیس بائس سال کی عمر میں بھی منا بننے کے جہاد سے کیوں نبرد آزما رہتا ہے. جب بھی آپ میں سے کوئ عمروں کی تفاوت اور گنتی میں پڑتا ہے تو اس سے یہی کہنے کو جی کرتا ہے کہ جائو کھیلو یہ لو جھنجھنا. جب آپکو عمر کی اتنی فکر ہے تو صرف ان سائیٹس پہ حاضری دیا کریں جہاں آپکے ہم عمر لوگ موجود ہیں. اور اپنے بلاگ پہ بھی عمر کی حد تحریر فرما دیں.تاکہ ہم جیسے تمام لوگ اپنا وقت ایسے بچوں کے درمیان ضائع نہ کریں جو صرف مستیاں کرنا چاہتے ہیں.
    ابھی جب آپ اتنی ذہنی نا پختگی کا شکار ہے تو بہتر یہ ہے کہ مونٹیسوری کی نظمیں یاد کیا کریں. یہ سب لکھنے کی کیا ضرورت ہے.
    اورجن کے لئے یہ تقریریں چھاپتے ہیں ان سے معذرت کر لیں کہ یار میری عمر کے ‘بالی نوجوان’ صرف خود کش حملوں میں استعمال ہوتے ہیں یہ کس کام سے مجھے لگا رہے ہیں.
    اب ہنستے رہیں گے ہم کہ ہماری قوم کے جواں تارے جب جواں ہونگے تبھی کچھ کر پائیں گے ابھی تو اسٹار پلس کے ڈراموں کی خواتین سے تربیت لے رہے کچھ اور صاحبان کو ان آنٹیوں کا غم کھائے جاتا ہے جنہیں انکے شوہر دو جوتیوں کے درمیان سیج کر رکھتے ہیں آپ ان سے بھی کم عمر نکلے دادیوں کے غم میں گھلنے لگے. معلوم نہیں کیا بات ہے یا تو کترینہ اور کرینہ کے غم میں گھلتے ہیں یا پھر آنٹیوں اور دادیوں کے. تیرا کیا ہوگا کالیا.
    🙂
    خدا وہ دن بھی لائے میرے ننھے بچے کہ جس اقبال کے حوالے دیتے ہیں اسے سمجھنے کی عمر کو بھی پہنچیں. کچھ لوگ ساری عمر بڑے نہیں ہوتے. یہاں تو ایک لمبی تعداد ان لوگوں کی نظر آرہی ہے. ہم کس کس کو جھنجھنا دیں گے.
    خدا ہماری قوم پہ رحم فرمائے اور ہمارے نوجوانوں کو بڑا کر دے.

  17. یار تو نے ادھر جھاڑیاں اگائی ہوئی ہیں کیا؟؟؟
    اگر نہیں تو یہ باراسنگھا کیسے پھنس گیا؟؟؟
    اور یہ باراسنگھا کی قربانی جائز ہے کہ نہیں؟؟؟
    اگر جائز ہے تو یہ اب تک کھلا کیسے پھر رہا ہے؟؟؟
    کیوں کہ بھائی لوگ تو کھال کے لیے کسی کو بھی قربان کرسکتے ہیں. :mrgreen:

  18. جعفر says:

    ناں جی ناں نعوذ باللہ زید حامد سے تو میں اپنے دشمنوں کو بھی نہ ملاوں
    اور آپ تو میرے سجن ہیں
    ویسے بارہ سنگھے کی کھال بھائی لوگ قبول نہیں کرتے، ایسا سنا ہے میں نے
    آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مسئلے کے؟
    اور یہ پی ٹی سی ایل کے پیکیجز کا کیا چکر ہے؟

  19. تو بارہ سنگھی کی کھال قبولتے ہیں کیا؟

  20. بھائی کاشف،بہت اچھی تحریرہےجوکہ ان ملائیوں کےنام ہےجوکہ واقعی اسلام کانام استعمال کرتےہیں اورایسےاستعمال کرتےہیں کہ جس میں انہی کافائدہ ہو۔ دراصل ان لوگوں کےپاس تعلیم کی کمی ہوتی ہےکیونکہ جس مدرسہ سےانہوں نےتعلیم لی ہوتی ہےوہاں پرانکےمسلک کی ترویج وتعلیم ہوتی ہےاوردوسراان کےذہین میں یہ بات اچھی طرح بٹھادی جاتی ہےکہ دوسرےمسالک کی کوئی بھی تحریرنہ پڑھیں۔جبکہ انسان جب تک مخالف کی تحریرنہیں پڑھےگاتواسکواس کی خوبیوں وخامیوں کاپتہ کیسےچلےگااوروہ کسطرح موازنہ کرےگاکہ وہ صحیح ہےیاکہ غلط۔۔
    باقی کچھـ لوگوں کی نظرمیں مولوی حضرات جوکہ واقعی عالم دین ہیں ان سےبھی الرجک ہوتےہیں دراصل وہ لوگ انتہائی معذرت کےساتھـ جوکہ بس نام کےمسلمان ہیں وہ ان عالم دین کےنام سےبھی اسطرح دوربھاگتےہیں جسطرح غلیلےسےکوا۔
    اللہ تعالی ہم کودین اسلام کی صحیح سمجھـ وبوجھـ عطاء فرمائےاوراس پرصحیح طورپرعمل پیراہونےکی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
    والسلام
    جاویداقبال

  21. ماشا الله! کم لکھتے ہیں مگر بہت خوب لکھتے ہیں. الله تعاله آپکے علم اور صلاحیتوں میں روز افزوں اضافہ فرمایے.

  22. وقار اعظم صا حب!
    لگتا ہے آپکا بھی میری ہی طرح بھائی لوگوں سے کافی واسطہ پڑا ہے .
    آخری جملے نے تو صاحب محفل لوٹ لی ہے.
    ایم کیو ایم اور کھال لازم و ملزوم ھیں. اس بات میں ایک بڑا اشارہ ہے ….اور وہ ہے سماجی ارتقاء
    سیانوں کے لیے یہ اشارہ ہی کافی ہے 😀

  23. جناب تحریر شاندار ہے .لکھتے رہیں.
    عبداللہ نامی شخص نے قربانی کی کھالوں کا ذکر کیا ہے تو ان کےلئے روزنامہ جنگ کی دو خبروں کے لنک پیش خدمت ہیں .جنہیں پڑھ کر انہیں ضرور آفاقہ ہوگا.
    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=484057
    http://search.jang.com.pk/details.asp?nid=484042
    ہٹ دھر می کی انتہا ہے کھالیں چھیننے کے دوران فائرنگ کرکے اپنے ہی کارکن کو قتل کردیا .اور پھر قتل کرنے کے بعد خوب آنسو بھی بہائے گئے .لگے ہاتھوں اپنی ہی حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کردیا گیا.

  24. عبداللہ says:

    عنیقہ نے تمام جھاڑیاں ڈھونڈتے گدھوں کی خاصی عزت افزائی کردی ہے اس لیئے میں اب کچھ نہیں بولتا 😉

  25. عبداللہ says:

    دانیال دانش نامی شخص کو پتہ ہونا چاہیئے کہ میں نے بھی انکا ہی حوالہ دیا تھا اور پورے کراچی میں یہی ایک واقعہ ہے،
    جسکا بھی ابھی ثبوت مہیا نہیں کہ بندہ خود مارا یا دوسروں نے مار دیا،
    اور ایم کیو ایم نے فرشتوں کی جماعت ہونے کا کبھی دعوہ بھی نہیں کیا جیسا کہ دوسرے نو سو چوہے کھاکر کرتے رہتے ہیں!!!!!
    لگتا ہے اورنگی کا الیکشن،عمران فاروق کی تدفین کے موقع پر کراچی کی تاریخ کا بڑا اور نظم و ضبط سے بھر پور اجتماع اور اب سب سے بڑی تعداد میں قربانی کی کھالین ایم کیو ایم کو ملنا تم سب کے دلوں پر چھریاں چلا رہا ہے کہ الٹی پڑ گئی سب تدبیریں۔۔۔۔۔۔۔۔
    چچ چچ چچ
    😛

  26. عبدالله بھائی!
    آپ مان کیوں نہیں لیتے کے ایم کیو ایم کا رویہ کھالوں کے بارے میں نیوراتی سا ہے. ایم کیو ایم ہر چیز برداشت کر سکتی ہے مگر کھال کوئی اور لے جائے یہ ہر گز گوارا نہیں.
    پچھلے وقتوں میں بنیا کہتا تھا کہ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے. بھائی لوگوں نے اس محاورے میں تھوڑی تبدیلی کر دی اور اب یہ اس طرح ہوگیا کہ جان جائے تو جائے پر کھال نہ جائے.

  27. یار یہ بارا سنگھا واقعی اتنا معصوم ہے یا کوئی اور مسئلہ ہے اس کے ساتھ؟ 😉

    ڈاکٹر جواد: جناب پرانی جان پہچان ہے جی بھائی لوگوں سے، خوب واقف ہیں ہم ان کے چلتر سے… 😆

  28. وقار یہ بارہ سنگھا یا سنگھی سائیں جی ہیں۔
    نہ ادھر کے نہ ادھر کے۔
    الٹی لٹکی مخلوق میں بھی شمار کیا جاسکتا ھے۔

  29. اقبال کے زمانے سے لے کر اب تک “ملائیت” کافی وسیع ہو چکی ہے بلکہ حلوے مانڈوں سے کہیں آگے ڈیزل پٹرول تک پہنچ چکی ہے 🙂 اب اجتہاد نو کے ذریعے اس “جدید ملائیت” کی حدود کو بھی متعین کرنے کی ضرورت ہے۔
    دوسری بات، اقبال کی شاعری میں محض ایک مقام پر ہی انہوں نے ملا کو مثبت معنوں میں “یاد” کیا ہے اور وہ یہی شعر ہے جو آپ نے اوپر پیش کیا ہے “افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج۔۔۔۔۔۔” لیکن یہ یاد رکھیے کہ اقبال نے یہ شعر افغانیوں کو ذہن میں رکھ کر کہا ہے ہندوستانیوں اور یہاں کے مسلمانوں کے لیے نہیں۔ ہندی مسلمانوں کو جب بھی ملا سے متعارف کرایا ان کا انداز دوسرا رہا۔ اس لیے اقبال کی شاعری کو بھی مختلف زاویوں سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

  30. عبداللہ says:

    جواد خان تم لوگ بھی ٹھنڈے پیٹوں یہ کیوں نہیں مان لیتے کہ کراچی کے لوگوں کی نمائندہ جماعت صرف اور صرف متحدہ ہے اور بس!!!!!!!!!!
    طاہر ہے جس نے محنت کی ہے پھل بھی اسی کو ملے گا!
    مزید کے لیئے یہ لنک بھی دیکھ لو کہ کس طرح متحدہ اس ملک کے مسائل کو سمجھتی ہے اور ان کے حل کے لیئے کوشاں ہے تم لوگوں کی طرح نری بکواس نہیں کرتی،

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/11/101124_finance_bill_mqm_as.shtml

  31. کاشف نصیر says:

    ان دنوں دفتری، تعلیمی اور گھریلومصروفیت کی وجہ سے میرے پاس وقت کی شدید قلت ہے، اس لئے بلاگستان کو زیادہ وقت نہیں دے پارہا اورتبصروں کے جواب میں بھی وقت لگ رہا ہے جس کے لئے تمام بلاگرز ساتھیوں سے دلی معذرت۔
    @ عنیقہ آپا : آپ کے اقوال زریں میں موجود تضادات کو پڑھ کر تو میں حیران و پریشان ہوں۔ زیادہ دن نہیں ہوئے کہ اسد کے بلاگ پر آپ کا یہ قول شایع ہوا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ فکر اقبال تو ماضی کی بات ہے اور آج اقبال کو سمجھنے کی بات کررہی ہیں۔ کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا۔۔۔۔۔آپ نے میرے قبیلے کا ذکر کیا ہے، کچھ عرصہ قبل ہم نے کہیں آپ کا تبصرہ پڑھا تھا کہ رات بھر فون پہ باتاں کرنے والا نوجوان راہ خدا میں نکلنے والے نوجوان سے بہتر ہے۔ تو جی یہ تو آپ کے آئیڈیل ہیں اور آپ انہیں خامخواہ ہم پر تھوپنے کی کوشش کررہی ہیں حالانکہ ہمیں نیند بہت پیاری ہےہم ہمیشہ جلدی سوتے ہیں اور صبح اٹھنے میں اکثر دیر کر دیتے ہیں حالانکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ :
    عطار ہو رومی ہو رازی ہو غزالی ہو
    کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی
    آپ کا کہنا ہے کہ آپ نے فی الوقت تو پیشہ ور مولوی کی طرح دیا ہے بلکہ اس سے بھی گھٹ کر اس ٹرک یا بس ڈرائیور کی طرح کہ جب کچھ نہیں سوجھتا تو عورت یا مرد کو ذاتی گالیاں دینے لگتا ہے۔ تو جی اس اصول کی روشنی میں ذرا اپنے کردار کا بھی جائزہ لیں۔پورے مضمون میں کچھ نہیں ملا تو ایک تبصرہ نگار کے تبصرے پر تبصرہ کرتے ہوئے لوگوں کی ذاتیات کو موضوع بنا کر دل کا غبار ہلکا کیا ۔ مجھے اس پر بھی ایک شعر یا د آرہا ہے کہ:
    تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
    وہ تیرگی جو میرے نامئہ سیاہ میں تھی
    اور جی یہ عقل اور علم سے لگائو کیا پی۔ایچ۔ڈی کر کے ہوسکتا ہے۔ اگر نہیں تو کیا اس کے لیے آپ کی شاگردی اختیار کرنی ہوگی۔۔۔اور ہاں اس طالب علم کو شوق نہیں ہے منا بننے کا، اب تو ہم اس عمر میں ہیں کہ اپنے منے کو کھلائیں۔ لیکن اگر کسی کو بڑا بننے اور عالم فاضل ظاہر کرنے کا آپ جیسا شوق ہو تو میں اسکے سامنے چھوٹا بن جاتا ہوں، کہ میری ذات سے کوئی تو خوش ہو۔
    @ عبداللہ : یار یہ بارہ سنگھا کون ہے، اور یار تیرا کوئی قصور نہیں. میں تیری مجبوری کو سمجھتا ہوں.
    @وقار : نہیں یار، سب یہ بیچارے بارہ سنگھے، نوکری سے مجبور ہیں.
    @ جعفر : یہ ذکر پھر کبھی.
    @ یاسر : نہیں جی نہیں، بس کبھی کبھی انقلاب کے لئے انکا خون، سمجھا کریں جی، یہ بارے سنگھے کی مخلوق بڑی مظلوم ہوتی ہے.
    @ جاوید اقبال : متفق
    @ ڈاکٹر جواد : شکریہ
    @ دانیال اور ابو شامل (فہد بھائی) : بلاگ پر خوش آمدید، متفق اور تبصرے کا شکریہ

  32. عبداللہ says:

    ہاں اور تم سب کا بھی کوئی قصور نہیں میں بھی تم سب کی مجبوری کو سمجھتا ہوں لاجواب ہوکر اس طرح کی اوندھی سیدھی بکواس کرنا تم جیسوں کی مجبوری ہوتی ہے!!!
    😛 8)

  33. کاشف نصیر says:

    @ عبداللہ : 😆 😆 😆 😆
    یار تم نے بارہ سنگھے کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں۔

  34. جعفر says:

    کاشف نصیر میاں، بے زبان جانوروں از قسم بارہ سنگھا وغیرہ کو ایسے ستانا، اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق چارسو بیس بٹا نودو گیارہ کی روسے سنگین جرم ہے. جس کی سزا، بھائی، کے دس ٹیلیفونک بھاشن لگاتار سننا ہے.
    اس لیے باز آجائیں.

  35. عبداللہ says:

    کاشف بارہ سنگھے کے بارے میں جاکر ان سے پوچھو جنہیں سوتے جاگتے بارہ سنگھے کے سینگ ڈرایا کرتے ہیں ،مجھ سے کیوں سوال کررہے ہو احمق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    😆 😆 😆 😆

  36. کاشف نصیر says:

    @ عبداللہ : یار اس لئے کہ سنا ہے کہ تمہارے پاس حیوانات اور حیوانیات کا بڑا علم شلم ہے اس لئے پوچھا۔ ویسے ایک بات بتاو تم ایسے تو کراچی آتے نہیں ہو یہ بقرعید پر کیوں آئے تھے۔ کہیں تمہارے حضرت پیرو مرشد کی طرف سے تمہیں بھی دو چار کھال کی ذمہ داری تو نہیں دے دی گئی تھی۔

  37. جعفر: 10 ٹیلیفونک بھاشن 😯
    اللہ کی پناہ، بھئی میں تو باز آیا، کاشف تو بھی معافی مانگ لے باراسنگھے سے……

  38. اہلحدیث طبقہ کی بہت سی باتیں معقول ہیں۔ یعنی بدعات سے گریز اور توحید پر زور۔
    مسئلہ گڑبڑ ہوتا ہے حدیث کی قرآن پرفوقیت کے معاملہ پر۔ اس مسئلہ پر دیوبند کیا، وہابی اور سلفی کیا، سب غلطی پر ہیں۔ قرآن مجید کو سب چیزوں پر مقدم رکھنا پیر پرستوں کے لئے بھی مشکل ہے اور بے پیروں کے لئے بھی دشوار۔ اور حدیث کی صحیح سمجھ قرآن شناسی کے بنا ممکن نہیں۔ ایک دور تک یہ معاملہ اولیاءاللہ کے ہاتھوں محفوظ تھا۔ شاہ ولی اللہ اور پھر سید احمد شہید نے ان باتوں میں توازن رکھا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے الہام اور القاء کی وجہ سے قرآن مجید کا علم زندہ تھا اور حدیث کا ادب بھی قائم تھا۔
    پھر وہ کال پڑا کہ ایک طبقہ حدیثوں کا انکاری ہوا اور ایک طبقہ قرآن میں نسخ کا قائل ہوا۔ نسخ کا مسئلہ تو پرانا ہے لیکن مجددین نے اس مضمون کو قابو میں رکھا اور ہر دور میں ان آیات میں موجود اشکال کو دور کیا۔
    آج کے اہلحدیث، وہابی وغیرہ قرآن میں تنسیخ کے قائل ہیں اور اسی وجہ سے جہادی فتنہ میں زیادہ ملوث ہیں۔ اگر قرآن مجید کو اللہ کا غیر مبدل کلام مانیں تو کبھی دنیا کی سیاستوں میں الجھ کر دین کو خراب نہ کریں۔
    دوسرا مسئلہ امامت یا خلافت کا ہے۔ یہاں بھی غلطیاں ہیں۔ پیر پرست سجادہ نشینوں کی بیعتیں کر کے جہالت میں پڑتے ہیں۔ اہلحدیث کا ایک طبقہ بڑی شدت سے سیاسی خلیفہ کا زور لگا رہا ہے۔ اور اس کے پس پردہ بھی قتل و غارت کی تمنا ہے کہ کسی طرح دنیا کو زیر نگیں کیا جا سکے۔
    اللہ تعالیٰ کو کسی فوج کسی سپہ سالار کی حاجت نہیں۔ عبیداللہ سندھی صاحب کو بھی یہ سبق ہوا۔ ابوالکلام آزاد بھی قلم کے جہاد کے قائل رہے۔ قاسم نانوتوی بھی امن کے متمنی تھے اور انگریز حکومت کے خیر خواہ۔
    ان کو قطب مودودی، ملا عمر اور الزواہری سے کوئی مماثلت نہیں۔

  39. لطف السلام صاحب،
    آپکا تبصرہ پڑھا ، آپ سے اختلاف کے باوجود آپ سے اپنایت سی محسوس ہوئی کاش یہ ختم نبوت کا مسئله بیچ میں نہ ہوتا تو آج آپ ہمارے اپنے ہوتے.

  40. jimiwash says:

    Here are my comments that I gave here
    http://fikrepakistan.wordpress.com/2010/11/12/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B7%D9%84%D8%A8-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F/#comment-508

    after reading your article I can well imagine your real feelings that I already told you that you are a fan of Hassan Nisar and all of your articles are nothing but his columns in new words. You should clearly say that you have allergy from Islam and Ulema e Kiram.
    Good luck (keep on copy pasting)
    I know like my previous comments you will delete this one also adn will not let it appear in front of others so that your real personality and bogus intelectualism may not be exposed.
    Thanks
    Jamdhaid Zuabiree

  41. اسلام علیکم!
    جمی واش:: جناب جہاں تک کاشف بھیا کو میں جانتا ہوں یہ تمام علما سے الرجک نہیں ہیں. آپ تحریر غور سے پڑھئیے
    کاشف بھیا:: ہمیشہ کی طرح آج بھی تحریر کو سراہنا چاہوں گا. لیکن ایک گزارش ہے بھیا، کہ اگر آپسے کوئی شخص گندی زبان میں بات کرتا ہے تو جوابآ ویسی ہی زبان اختیار کرنا کوئی عقلمندی نہیں. تحریر میں اور تبصروں میں کوشش کریں کہ نرم الفاظ کو استعمال کریں. تنقید کرنے والوں پر آپکے سخت الفاظ کا کوئی اثر نہیں ہونا. عادی مجرم تو بس اپنی عادت سے مجبور ہوتا ہے اور کوشش کریں کہ بہت سے بلاگروں کی طرح زیادہ تفرقانہ تحاریر لکھنے سے اجتناب برتیں. بلاشبہ حق بات کرنا آپکی ذمہ داری ہے لیکن اس ذمہ داری کو مزید احسن طریقے سے سرانجام دینے کی کوشش کیجئیے.
    اب اگر کوئی شخص آپکی وال پر اُلٹے سیدھے تبصرے محض عادتآ کرتا ہے اور کچھ سیکھنے سیکھانے کی بجائے صرف شوق پورا کرتا ہے تو مزید بحث کر کے تماشا بنانے سے بہترے ہے کہ خاموشی اختیار کر لی جائے.

  42. کاشف نصیر says:

    وقار : میری توبہ، اوے جاگیراداراںںںںںںںںںںںںںںں!
    لطف صاحب : پہلے تو آپ مرزا صاحب کی تحاریر میں پائی جانے والی غلاظت اور گالم گلوچ کی فکر کیا کریں۔ دوسری بات یہ کہ قرآن میں نسخ کی بات آپ اس وقت کرتے مناسب معلوم ہوتے جب آپ کے خود ساختہ عقیدے میں مرزا کی فضولیات کو قرآن پر مقدم نہ سمجھا جاتا جیسے قتال فی سبیل اللہ کی فرضیت کو مرزے نے منسوخ قرار دیا۔ اور تاریخ کو ذرا دوبارہ پڑھ کر آئیں، عبیداللہ سندھی، قاسم نانتوی اور ابولکلام آزاد بھی مسلح جہاد اور قتال کا بلکل وہی عقیدہ رکھتے تھے جو سترہوی صدی کے امیر المومنین پختونخوا سید احمد بریلی اور اکیسویں صدی کے امیرالمومنین پختونخوا ملا محمد عمر اخواند کے یہاں پایا جاتا ہے. ریشمی رومال تحریک، حزب اللہ، تحریک خلافت اور جنگ آزادی ہند کیا سید مدودی کے کارنامے ہیں؟ آخر میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ مرنے سے پہلے آپ کو ہدایت مل جائے اور آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی چادر کو چھننے کے الزام میں مرزا ملعون کے ساتھ جہنم کی آگ میں جلنے سےبچ جائیں.
    ڈاکٹر جواد صاحب : اب کو کاہے کی اپنائیت محسوس ہونے لگی، گو قادیانیت سے دین اسلام کا بنیادی اختلاف تو ختم النبوۃ پر ہی ہے لیکن اور بھی لاتعداد اختلافات ہیں جن سے اسلام اور قادیانیت کے راستے جدا جدا ہوتے ہیں.
    @ جم واش : آپ حوصلہ رکھیں انشاء اللہ فکر پاکستان کی فکر جلد بیدار ہوجائے گی.
    @ عادل بھیا : جم واش فکر پاکستان سے گلہ کررہے ہیں جنہوں نے بقول انکے انکے تبصرے حذف کردئے ہیں، حالانکہ میں نے اکثر انکی فکر کو فکر پاکستان نہیں فکر کفرستان (انکارستان) قرار دیا لیکن انہوں میرے تبصرے کبھی حذف نہیں کئے. تبصروں میں میرے لہجہ کا جہاں تک تعلق ہے تو جوانی کے زعم میں کبھی کبھار زبان قابو میں نہیں رہتی،اصطلاح کے لئے آپ جیسے ساتھیوں سے دعا کی درخواست ہے. صاحب پھر بھی میں بہت احتیاط کرتا ہوں لیکن یہ جو ’’ایم کیو ایم بلاگر عنیقہ آپا‘‘ ہیں اور یہ جو عبداللہ نامی پراسرار مخلوق ہے کہ عالمانہ اور مفکرانہ تبصروں کے جواب میں آپ ہی مجھے بتلائے کہ بتلاوں کیا! ویسے سنا ہے کہ اول ازکر شخصیت نے ذاتیات پر حملے کرنے کے کمیائی محلول میں آسٹریلیا کی کسی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا ہے اور لوگوں خاص طور پر بنیاد پرست قیدی خواتین کا جسم فروش ماوں سے تقابل کر انے کے لئے بھی اپنے خود کے بنائے ہوئے کئی جدید کمیائی اور تیزابی ہتیار اپنی تخیلاتی تجربہ گاہ میں اور اردو بلاگستان میں اپنی اڑان کے دوران استعمال کرتی رہتی ہیں.
    @ چوہدری : آپ نے اپنے خاندانی پس منظر سے اگاہ کردیا ہے. دیگر بلاگران کی سہولت کے لئے آپکی آئی پی یہاں شائع کررہا ہوں.
    173.234.140.18

  43. کاشف ، اخلاقیات کا خیال ضرور رکھنا چاھئے۔
    لیکن جب دشمنی کرنے والے کمزور سمجھیں تو بھاڑ میں جائیں اخلاقیات۔ 😆

  44. کاشف نصیر صاحب، تاریخ کو ایک آنکھ سے مت دیکھیں۔ دیوبند مسلک میں بہت شریف النفس علماء بھی تھے جنہوں نے اعتقادی اختلافات کے باوجود جماعت احمدیہ سے تعلقات رکھے۔
    مثلا 1913 میں اشاعت اسلام ٹرسٹ قائم ہوا ۔ علامہ اقبال کی صدارت میں اس کے اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ یہ حکیم نورالدین، خلیفۃالمسیح اول کے دور کی بات ہے۔ اور اس ٹرسٹ کے بانیان احمدی تھے۔ ٹرسٹ کے سرپرستوں میں مولانا محمد علی اور شبلی نعمانی کا نام آتا ہے۔ ایک احمدی (لاہوری فرقہ والے) اور دوسرے دیوبند مسلک کے اعلیٰ لیڈر تھے۔ یہ کہنا کہ مولانا شبلی جیسے متبحر عالم کو جماعت احمدیہ کے عقائد کا علم نہ تھا، حماقت کی بات ہو گی۔ اور ان کو منافق کہنا آپ پر چھوڑتا ہوں۔
    اس کے علاوہ عبید اللہ سندھی بھی مولانا نورالدین کے علم قرآن کے معترف تھے۔ آب بارہا قادیان ملاقات کے لئے آتے۔ دیر تک قرآن کی تفسیر پر تبادلہ خیال کرتے۔ اور اس بات پر سندھی صاحب کو دیوبندیوں نے ملامت بھی کی اور شائد اسی وجہ سے وہ ان سے علٰحدہ بھی ہو گئے۔ مولانا سندھی صاحب کے ملفوظات میں مولانا نورالدین کا ذکر آیا ہے۔ آپ نے ایک دفعہ صحن کعبہ میں ایک مجلس میں مولانا نورالدین کے علم قرآن کو سب سے اعلیٰ قرار دیا ۔
    مولانا ابولکلام آزاد تو خود قادیان مرزا صاحب کی زیارت کو گئےتھے۔ اور آخر عمر تک کوئی تکفیر کا کلمہ بانئ جماعت کے بارے میں نہ نکالا۔ اس کے بر عکس یہ تحریر ان کی ملتی ہے۔
    ’کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی نظر نہیں آتا ۔ وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی ۔ غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے بلحاظ اخلاق و عادات اور کیا بلحاظ خدمات و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز ، برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا ۔‘ (اخبار وکیل امرتسر ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء)
    ابوالکلام کے بڑے بھائی ابو نصر آہ مرحوم بھی قادیان آئے۔ ان کی یہ تحریر بھی اخبار وکیل میں موجود ہے۔
    ’’میں نے اورکیا دیکھا؟ قادیان دیکھا۔ مرزا صاحب سے ملاقات کی ، مہما ن رہا ۔ مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرناچاہئے۔ میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔ مرزا صاحب نے (جب کہ دفعتاً گھر سے باہر تشریف لے آئے تھے ) دودھ اور پاؤ روٹی تجویز فرمائی ‘‘۔

    ’’آج کل مرزا صاحب قادیان سے باہر ایک وسیع اور مناسب باغ (جو خود ان ہی کی ملکیت ہے) میں قیام پذیر ہیں ۔ بزرگان ملت بھی وہیں ہیں۔قادیان کی آبادی قریباً تین ہزار آدمیوں کی ہے ۔ مگر رونق اور چہل پہل بہت ہے ۔ نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی شاندار اور بلند عمارت تمام بستی میں صرف ایک ہی عمارت ہے ۔ راستے کچے اور ناہموار ہیں بالخصوص وہ سڑک جو بٹالہ سے قادیان تک آتی ہے۔ یکہ میں مجھے جس قدر تکلیف ہوئی تھی نواب صاحب کے رتھ نے لوٹنے کے وقت نصف کی تخفیف کر دی‘‘۔

    ’’اگر مرزا صاحب کی ملاقات کا اشتیاق میرے دل میں موجزن نہ ہوتا تو شاید آٹھ میل تو کیا آٹھ قدم بھی میں آگے نہ بڑھ سکتا‘‘ ۔

    اکرا م ضیف کی صفت خا ص اشخاص تک محدود نہ تھی ۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک نے بھائی کا ساسلوک کیا۔ اور مولانا حاجی حکیم نورالدین صاحب جن کے اسم گرامی سے تمام انڈیا واقف ہے اور مولانا عبدالکریم صاحب جن کی تقریر کی پنجاب میں دھو م ہے ۔ مولوی مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر جن کی تحریروں سے کتنے انگریز یورپ میں مسلمان ہو گئے ہیں۔ جناب میر ناصر نواب صاحب دہلوی جو مرزا صاحب کے خسر ہیں۔ مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے ۔ ایل ۔ایل۔ بی ، ایڈیٹر ریویو آف ریلیجنز ، مولوی یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم ۔ جناب شاہ سراج الحق صاحب وغیرہ وغیرہ پرلے درجہ کی شفقت اور نہایت محبت سے پیش آئے ۔افسوس کہ مجھے اور اشخاص کا نام یاد نہیں ورنہ میں ان کی مہربانیوں کا بھی شکر یہ ادا کرتا۔ مرزا صاحب کی صورت نہایت شاندارہے جس کا اثر بہت قوی ہوتاہے ۔آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے ۔ طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔ مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا اور بردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیاہے۔ گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گویا متبسم ہیں رنگ گورا ہے بالوں کوحنا کا رنگ دیتے ہیں ۔جسم مضبوط اور محنتی ہے سر پرپنجابی وضع کی سپید پگڑی باندھتے ہیں۔ سیاہ یا خاکی لمبا کوٹ زیب تن فرماتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے ۔ عمر قریباً چھیاسٹھ سال کی ہے‘‘۔

    ’’مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔ میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی۔ اور بے حد عقیدت مند تھے ‘‘۔

    ’’مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا۔’’ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھرآئیں اور کم از کم دوہفتہ قیام کریں‘‘۔ (اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے)۔

    ’’میں جس شوق کو لے کر گیا تھا ساتھ لایا۔ اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے حسن خُلقکَ وَلَو مَعَ الکُفٖار۔۔۔ میں نے اور کیا دیکھا بہت کچھ دیکھا مگر قلم بند کرنے کا موقع نہیں سٹیشن جانے کا وقت سر پر آ چلا ہے پھر کبھی بتاؤں گا کہ میں نے کیا دیکھا ۔راقم آہ دہلوی‘‘۔( الحکم ۲۴؍ مئی۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰)

    یہ شرافت ہی ہے کہ بوجود اختلافات کے، ان اصحاب نے حقیقت بیان کی اور بغض اور عناد سے اپنے ایمان کو مجروح نہیں کیا۔

  45. کاشف بھیا جو اُترتا ہے ذاتیات پر اُترنے دو. آپ اگر کسی فضول بحث کا جواب بھی دینا چاہتے ہیں تو بجائے خود ذاتیات پراُترنے کے، آپ انکو اخلاق کی زبان سے جواب بھی دے سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ مشکل ضرور لیکن ہے میٹھا پھل۔ ایک اچھے انسان خاص طور پر مسلمان کے پاس اچھے اخلاق کی زبان نہایت اہم ہتھیار ہوتی ہے۔

  46. کاشف نصیر says:

    عادل بھیا :
    آپ کی بات سولہ آنے درست، لیکن میں ابھی سیکھ رہا ہوں اگر آپ جیسے کرم فرماوں کی قربت رہی تو زبان اور قلم پر قابو رکھنا اور اسے بہکنے سے بچانا سیکھ لوں گا.
    لیکن بھائی وہ لوگ جو ایک “جسم فروش عورت کو عافیہ صدیعی سے بہتر قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے” انکی احمقانہ اور جاہلانہ گفتگو سن کر تن من دھن میں آگ لگ جاتی ہے. ہم جب حدیث کی بات کریں تو یہ حدیث کا مزاق اڑانے اور اسکی اہمیت کو کم کرنے کے لئے “اونٹ کے پیشاب پینے والی حدیث کو توڑ مروڑ کے پیش کرتے ہیں،” جب ہم انکی توجہ صحابہ کے پروٹوکول کی طرف دلاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کیوں “آپ کے نام کے ساتھی رضی اللہ تعالی عنہ لگادیں” اب آپ بتائیں کیا ایسے لوگوں کی عزت کی جانی چاہئے؟

  47. DANISH kHAN says:

    😈 محترم جناب کاشف:
    بہت خوشی ہوئ آپکی تحریر پڑھ کر 😆
    BUT YAR ITNA URDU MAI LIKH KAR HI MAIRA HAAL BURA HO GAYA.تم لوگ اتنے ورڑ کیسے ٹائپ کرتے ہو۔
    And you are right friend that these sort of Mulla hazrat (I can say that coz i am also a beared Boy and i am not a scholar) this is the mistake of all of us. as if we see a beared man we always think that he might be a scholar or a hafiz atleast.
    please apney aap pe raham khao and dont give your futur to those who even dont know anything about islam and islami shariah.

  48. mussa baloch says:

    اسلام وعلیکم بھای صاحب کیا حال ہے میرا پہلے والا ویب لاگ ہک ہو گیا ہے اور اب نیا ویب لاگ یہ ہے آہند اس کو دیکھ لینا اور اپنے دوستوں کو ارسال کرنا
    http://daaljan.wordpress.com/ دالبندین آنلاین

  49. @LutfulIslam
    thanks for sharing so many LIES. If you were truth teller then you would have given the reference of some book of Abu al Kalam Azad….but instead of this you are giving a “reference” of a FAKE newspaper. Plz upload the scanned page of this newspaper. and Even you upload it still I will not believe coz in these days anyone can create page like that of a newspaper.
    You are just like christians. who trap stupid Muslims and then ask them to grow beared and claim to be a converted scholar. I have sufficient experience with missionaries and you are just like them.
    Plz dont post such lies again…
    Abu al Kalam Azad was one of the greatest scholars of subcontinent and can NEVER make such a blunder.

  50. I am a medical student and I do NOT see any problem in this Hadith because camel urine (as I remember) contains some antibodies but the problem is that this commandment was given 1400 yrs ago when no filtration techniques were available. Actually this Hadith is the source of knowledge for Muslims that we can separate such active ingredients from camel urine and make new medicines. Keep in mind that urine is haram and haram things can only be used when you do NOT HAVE ANY OTHER OPTION.
    Now a days we can easily separate these antibodies and other chemicals from urine so urine will not be allowed. Plus there may be many medications available that can cure such conditions. The most imp thing is that Hadith does NOT mention the name of disease so NO Muslim can prescribe urine but we can do research on it.
    see this like also plz
    http://www.answering-christianity.com/urine.htm

  51. مکرم زبیری صاحب، تحقیق خود ہی کر لیں۔ جھو ٹ جھوٹ کہنے سے حقیقت بدل نہیں جائے گی۔

  52. great…..you just keep on lying and putting the burden of proof on our head great….
    Because you made the claim so burden of proof is upon you…..

  53. abdullahadam says:

    zbrdst bhai

    aash hmaray ulama deen ki trf aa jain……….”mjhb” say nikl kr.

    pak net pr yeh mzmoon laganay k liyay ijazat drkar hay.

    w slam

  54. کاشف نصیر says:

    تمام تبصرہ نگاروں کا شکریہ !
    عبداللہ آدم : اجازت دی جاتی ہے

  55. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.
    علمائے سوء کے کردار کی اچھی تصویر کشی کی ہے. پیشہ ور حلوہ خوروں کے چنگل سے نکلنے تک مسلمانوں کی اصلاح بہت مشکل ہے.

  56. […] ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت […]

  57. عاطف says:

    ماشاءاللہ ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>