صفحہ اوّل » کاشف نامہ

فاروق ستار کا سیاسی جھوٹ

مصنف: وقت: بدھ، 24 اگست 2016کوئی تبصرہ نہیں

کاشف نصیر عامر لیاقت حسین نے وہی کیا جو ان سے توقع تھی۔ اپنی مخصوص طبیعت کے باوصف وہ کسی بھی طرح ایک ڈوبتی ہوئی کشتی پر مزید سوار رہ کر اپنے میڈیا کئیریر کو داو پر نہیں لگاسکتے تھے۔ مشہور تھا کہ وہ کراچی کی مئیرشپ اور الطاف حسین کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ خلا کو پر کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اس میں ناکامی کے بعد ایم کیو ایم سے باعزت علیحدگی کا واحد راستہ یہی تھا کہ وہ اندر کی بات باہر کردیں اور جو بات چھپائی جارہی ہے اسے منظر عام پر لے آئیں۔

 البتہ اتنی جلدی فاروق بھائی اینڈ کمپنی اپنا ہی راز خود کھول دے گی، یہ امید نہ تھی۔ پریس کانفرنس کو ابھی چند گھنٹے نہیں گزرے کہ بیانات بدلنے لگے ہیں۔ پہلے کہا گیا کہ پارٹی پاکستان سے چلائیں گے، اب خبر ہے کہ مشاورت میں لندن آفس بھی شامل تھا جبکہ قائد تحریک کو صرف وقتی آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس دوسری غلطی سے ناصرف عامر لیاقت کو راستہ ملا بلکہ مصطفی کمال کے لئے امکانات کی کئی راہیں کھل گئی ہیں جسکا وہ بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔

ہم تو ایک سال سے کہہ رہے تھے کہ عامر لیاقت مردار کا گوشت نوچنے آئے ہیں، آپ کو ہی سمجھ نہ آئی۔ البتہ الطاف حسین کو عامر لیاقت کی نیت میں کھوٹ کا اندیشہ ضرور تھا۔ اسی لئے انہیں کوئی تنظیمی ذمہ داری نہیں دی گئی اور نہ کسی عہدے کا اعلانیہ عندیہ دیا گیا۔ ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ عامر خان جھاڑو پھیرنے کے واسطے بھیجے گئے ہیں مگر آپ کو یہ بھی  سمجھ نہیں آئے گی۔ جب عامر خان صاحب چھاڑو دیکر باہر نکلیں گے تو آپکے ہاتھ میں سوائے افسوس کے کچھ  نہیں رہے گا۔

مزید گزارش یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما اور کارکنان قوم کے جذبات کو اتنا ہلکا نہ لیں۔ الطاف حسین ایک عظیم جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، جس کی کوئی معافی نہیں بنتی۔ دنیا میں ایسی کوئی بیماری نہیں جس میں کوئی اپنے وطن کو مغلظات سے نوازے اور دشمن کو مدد کے لیے پکارے۔ سیدھی سی بات ہے کہ یہ قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا گیا تھا۔ لاتعلقی کا فریب آپکی جماعت کو ضرور بچالے گا لیکن آپکی سیاست یوں نہیں چل سکے گی۔ خود آپ کے روایتی ووٹرز نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ہے اور آنے والے الیکشن میں کم ترین ووٹر ٹرن آوٹ اسکا اعلان کررہے ہونگے۔ فوج اور سیاسی اکابرین آپ کو مزا چکھانے کے لیے بدستور یکسو ہیں۔ صرف فوجی قیادت ہی نہیں، وزیر اعظم کا بیان بھی بہت واضع اور بھرپور ہے۔ اپوزیشن پہلے ہی آپ سے نالاں تھی۔ اگر آپ ملک اور مہاجروں سے ذرا سا بھی مخلص ہیں تو آپکو واقعی الطاف حسین سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

ملک میں کوئی سیاسی جماعت اور مکتب فکر ایسا نہیں جو آپ سے ہمدردی رکھتا ہو۔ کیا مذہبی لوگ اور کیا سرخے، لبرل اور قوم پرست، سب آپ سے زخم کھائے ہوئے ہیں۔ میڈیا کا کوئی گروپ آپ کو کاندھا دینے اور کوئی دانشور آپ کے حق میں لکھنے پر رضامند نہیں ہے۔ اس کیفیت کو فوری طور پر آپ نے سمجھا اور سیاسی جھوٹ سے کسی حد تک اس پر قابو بھی پالیا ہے لیکن ابھی عشق کے کئی امتحان باقی ہیں۔ اگر آپ صبر اور تقیہ برقرار نہ رکھ سکے، ضبط ٹوٹ گیا اور دل کا چور باہر آنے لگا، تو یقین جانیں اسٹیبلشمنٹ آپکو گوارا نہیں کرے گی۔ دوسری طرف الطاف حسین کو طویل عرصے تک خاموش رکھنا اور پارٹی کے دستور سے انکے خصوصی اختیارات ختم کردینے سے آپ وقتی اسپیس ضرور حاصل کرلیں گے لیکن کراچی کے لوگوں کا کھویا ہوا اعتماد پھر بھی آپکو نہیں ملے گا۔

قدرت نے ایک شخص سے سنگین غلطیاں کرواکر آپکو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ آپ اپنی جماعت سے شخصی آمریت کے بت کو توڑ دیں۔ متبادل قیادت کو راستہ دیں اور انڈولڈ اپروچ ختم کرکے خالص جمہوری انداز میں کراچی کے لوگوں کی آواز بنیں۔ آج بھی آپکے پاس قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور کراچی و حیدرآباد کی مئیر شپ کی صورت میں بہت کچھ ہے۔ لیکن کسی نے سچ کہا ہے کہ ایسی تبدیلیاں صرف فلموں میں آتی ہیں، ایم کیو ایم کا حقیقت میں بدلنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>