صفحہ اوّل » کاشف نامہ

فاروق ستار اور متحدہ کی سیاست

مصنف: وقت: منگل، 23 اگست 2016کوئی تبصرہ نہیں

کاشف نصیرفاروق ستار نے انتہائی کامیابی سے متحدہ قومی موومینٹ کو پابندی کے عتاب سے بچا لیا ہے۔ ایک طرف انہوں نے وقتی طور پر الطاف حسین سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تو دوسری طرف انہوں نے الطاف حسین کی واپسی کا دروازہ بهی کهلا رکها ہے۔ اس نئے کهیل کا جواب اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ آیا کارکنان فاروق ستار کے ساتھ کهڑے ہوں گے یا قائد کے جانثار بروئے کار آئیں گے۔

آپ دیکهیں گے کہ تمام کارکنان ساتھ کهڑے رہیں گے، رہنما بهی سر ہلائیں گے، الطاف حسین کئی ماہ منظر عام سے غائب رہیں گے اور کچھ عرصے لندن دفتر بهی خاموش رہے گا۔ اگر یہ سیاسی چال نہ ہوتی تو لندن آفس بهی فورا حرکت میں آتا، عزیزآباد سے خواتین بهی باہر نکلتیں اور دوسرے رہنما بهی اس عمل کو قبضہ سے تعبیر کرتے۔ ایم کیو ایم 92 کے فوجی آپریشن کے دوران بعینہ یہی ترتیب اپنا چکی ہے۔ اس زمانے میں الطاف حسین زیراعتاب آئے تو پوری جماعت عظیم احمد طارق کے پیچھے جمع ہوگئے تھے اور نائن زیرو بن کردیا گیا تھا۔ موجودہ حالات میں ملک گیر پابندی سے بچنے اور کل ہونے والے مئیرز الیکشن کو بچانے کے لئے بھی اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہ تها۔ آپ اسے سیاست کہیں یا منافقت، فاروق ستار کے ہاتهوں ایم کیو ایم نے سیاسی پنترا بدلا ہے۔ خود فاروق ستار کیا دوسرے عظیم طارق ثابت ہونگے، یہ تجزیہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔

فاروق ستار کی سیاسی حکمت علمی سے جہاں ایم کیو ایم پابندی سے بچ گئی ہے وہیں مصطفی کمال کی سیاست کو بهی شدید دهچکا پہنچا ہے۔ کل رات تک جو لوگ جوق در جوق پاکستان ہاوس کی طرف جارہے تهے، آج وہ واپس پلٹنا شروع پوگئے ہیں۔ کوئی کہ سکتا ہے کہ مصطفی کمال کے ساتھ ہوگیا ہے، ہم کہیں گے کہ اصل ہاتھ کراچی کی عوام کے ساته ہوا ہے جنہیں دوبارہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم پر گزارا کرنا پڑے گا۔ مصطفی کمال کی ان حالات میں بھرہور کوشش ہوگی کہ وہ متحدہ اور الطاف حسین کے پوشیدہ تعلق پر مسلسل شور اٹھاتے رہیں۔ بظاہر لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو بهی ماموں بنادیا گیا ہے لیکن ذرائع کہتے ہیں مطالبہ بس اتنا ہی تها۔

ایم کیو ایم لیکن ابهی بهی اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس نہیں آئی ہے، آپریشن جاری رہے گا، ہاتھ پاوں ایسے ہی بندهے رہیں گے اور تشدد میں ملوث کارکنان کی گرفتاری کا سلسلہ بهی بدستور چلتا رہے گا۔ دوسری طرف الطاف حسین کی عدم موجوگی میں انکے نام سے پارٹی چلتی رہے گی۔ حالات کا رخ بدلتے ہی الطاف حسین واپس منظر عام پر اجائیں گے۔ بلکل ایسے ہی جیسے 1992 میں عظیم احمد طارق کی وفات کے بعد دوبارہ منظرعام پر آگئے تھے۔ انڈر ولڈ کی سیاست ایسے ہی چلتی ہے۔

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>