صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

مفتی رفیع عثمانی اور جمہوریت

مصنف: وقت: ہفتہ، 13 اپریل 201312 تبصرے

ملک کی سب سے بڑی اور معروف دینی درسگاہ دارلعلوم کراچی کے مہتمم اور مفتی اعظم، مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب نے 12 اپریل 2013 کو اپنے خطبہ جمعہ میں ووٹ کو اہم شرعی فریضہ قرار دیتے ہوئے اس سے زبردستی روکنے والوں کو قومی مجرم گردانا ہے۔ حضرت مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتخابات کا مرحلہ پوری قوم کے لئے ایک آزمائش ہے، اس لئے عوام جس قدر تحقیق کرسکتے ہیں کرکے امانت دار، باصلاحیت اور محب وطن افراد کو ووٹ دیں اور اپنے ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بارہاں کہا کہ ووٹ کا استعمال شرعی فریضہ اور امانت ہے اور ووٹ نہ ڈالنا گناہ کبیرہ اور امانت میں خیانت ہے۔ واضع رہے کہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے یہ خطبہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے اس ویڈیو کے صرف دو روز بعد دیا ہے جس میں میں حکیم اللہ جمہوریت کو عالم کفر اور دجالی نظام کا تسلسل قرار دیتے ہوئے عوام پر زور دے رہے ہیں کہ وہ نفاز شریعت کی مسلح جدوجہد میں انکا ساتھ دیں۔

مفتی صاحب کا یہ موقف کوئی نیا نہیں ہے اور وہ اکثر مواقعوں پر ووٹ کو شریعہ فریضہ قرار دیتے ہوئے اسے شہادت، سفارش اور وکالت کی اعلی ترین شکل بتاتے ہیں، انکے لاتعداد ٹی وی انٹرویو اور اخباری بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے ووٹ اور انتخابی نظام پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔یاد رکہ چند سالوں قبل جب سوات کے عالم دین اور تحریک نفاز شریعت محمدی کے سربراہ محمد مولانا صوفی محمد نے جمہوریت اور آئین پاکستان کو کفر قرار دیا تھا تو حضرت مولانا رفیع عثمانی نے دارلعلوم کراچی کے جید علماء کرام کا ایک وفد انکے پاس بھیجا تھا تاکہ وہ صوفی محمد صاحب کو شرعی دلائل کی روشنی میں اپنی رائے سےرجوع کرنے کی طرف راغب کریں۔

مفتی صاحب کے والد مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی (رح) بھی ناصرف عامۃ المسلمین کو ووٹ کی اہمیت کا احساس دلاتے تھے بلکہ خود انہوں نے بھی 1970 کے انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا۔ حضرت مفتی اعظم جمیعت علمائے اسلام کے بانی اور مسلم لیگ کے رہنما مولانا شبیر احمد عثمانی کے ہمنوا رہے اور انکے شانہ بشانہ تحریک پاکستان میں حصہ لیا اورقیام پاکستان کے بعد اپنی وفات تک وہ مسلم کے مختلف دھڑوں کے علاوہ جمیعت علمائے اسلام کی سیاسی حمایت کرتے تھے۔ مفتی رفیع عثمانی کے چھوٹے بھائی شیخ السلام مفتی تقی احمد عثمانی سپریم کورٹ اوف پاکستان کے شریعت ایپلٹ بینچ کے سربراہ رہے ہیں اور پاکستان میں رائج 1973 کے دستور اور جمہوریت کے زبردست حامی ہیں، انکی اس حمایت کا اندازہ مذکورہ بیانات سے باخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

” ووٹ بلاشبہ ایک شہادت ہے ، قرآن و سنت کے تمام احکامات اس پر بھی جاری ہوتے ہیں ، لہٰذا ووٹ کو محفوظ رکھنا دینداری کا تقاضا نہیں ، اس کا زیادہ سے زیادہ صحیح استعمال کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے” مفتی محمد تقی عثمانی÷

“ملک کے مروجہ نظام میں ایک ایک ووٹ قیمتی ہے اور یہ ہر فرد کا شرعی ، اخلاقی ، قومی اور ملی فریضہ ہے کے وہ اپنے ووٹ کو اتنی ہی توجہ اور اہمیت کے ساتھ استعمال کرے۔ جس کا وہ فی الواقع مستحق ہے” مفتی محمد تقی عثمانی-

“ووٹ ڈالنے کے مسلے کو ہرگزیوں نہ سمجھا جائے کے یہ ایک خالص دنیوی معاملہ ہے اور دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں – یقین رکھیے کے آخرت میں ایک ایک شخص کو الله کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، اور اپنے دوسرے اعمال کے ساتھ اس عمل کا بھی جواب دینا ہے کے اس نے اپنی اس شہادت کا استعمال کس حد تک دیانت داری سے کیا ہے” مفتی محمد تقی عثمانی۔

“شرعی نقطہ نظر سے ووٹ کی حیثیت شہادت اور گواہی کی ہے ، جس طرح جھوٹی گواہی دینا حرام اور ناجائز ہے ، اسی طرح ضرورت کے موقع پر شہادت کو چھپانا بھی حرام ہے ” مفتی محمد تقی عثمانی۔

فیس بک تبصرے

12 تبصرے برائے: مفتی رفیع عثمانی اور جمہوریت

  1. عمران علی says:

    یہ مفتیان اللہ کے احکام کے ساتھ مذاق کررہے ہیں، جب وہ پہلے ہی سود کو اسلامائز کرکے یہودی پروردہ اسلام کی بہت اچھی خدمت کررہے ہیں، تو اسی سودی نظام کو پروموٹ کرنے والی جمہوریت کی حمایت کیوں نہ کریں گے۔ یہ وہی ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کہا ہے کہ “یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من ھند اللہ.

  2. عمران علی says:

    إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ 5:55

    ترجمہ: اے اہل ایمان یاد رکھو کہ تمہارے لیے اقتدار اعلی صرف اللہ اور اسکا رسول (اسلامی مملکت) ہے ، اور اسلامی مملکت
    کے نامزد کردہ وہی مومنین تمہارے رہنمااور افسران ہو سکتے ہیں جو خود قوانین کی پیروی کرنے والے اور معاشرے کو نشو و ارتقاء دینے والے ہوں اور مشکلات سے نہ گھبراتے ہوں۔

    اسلام کا سیاسی نظام پیش کرنے والی واضح ترین آیت یہی آیت ہمارے آئین میں قرارداد مقاصد کے نام سے شامل ہے، کیا کسی بھی نام نہاد جمہوری حکومت نے اسکا نفاذ کرنے کی کوشش کی ہے؟

    • آپ غلط ترجمہ کررہے ہیں۔

      • عمران علی says:

        حضرت عربی میں “ولی” کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ اگر آپ کو نہیں معلوم تو اپنے انہی مفتیوں سے پوچھ کر بتلائيے گا، جو ہر جگہ آنکھیں بند کر کے “ولی ” کا ترجمہ “دوست” کردیتے ہیں۔

      • عمران علی says:

        سیاق و سباق کے اعتبار سے آپ درست ترجمہ کر دیجیے۔

        • آپ عالم نہیں ہیں اور نہ ہی کسی بھی اعتبار سے شریعت پر اپنی رائے دینے کے اہل اسلئے میں خود کو آپکے کسی بھی سوال کے جواب دینے کا پابند نہیں سمجھتا۔ علماء پر اعتراض کرنے سے پہلے آپ اپنا قبلہ درست کریں۔

          • عمران علی says:

            قرآن کریم علماء کے لیے النّاس کے لیے رہنمائی ہے، یہ علماء کے لیے مختص نہیں ہے، اگر ایسا ہے تو ہندوؤں میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ یہ نام نہاد علماء اگر قرآن کریم سے جمہوریت ثابت کر دیں تو میں انکے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا۔اور انکی ہر بات درست تسلیم کروں گا۔ہم آپ کو قرآن کریم کی آیات سے ہی ثابت کر دیں گے کہ قرآن کریم میں جمہوریت نام کی کوئی قباعت ثابت نہیں ہے۔

  3. عمران علی says:

    قرآن کریم علماء کے لیے ہی نہیں بلکہ النّاس کے لیے بھی رہنمائی ہے، یہ محض علماء کے لیے مختص نہیں ہے، اگر ایسا ہے تو ہندوؤں میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ یہ نام نہاد علماء اگر قرآن کریم سے جمہوریت ثابت کر دیں تو میں انکے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا۔اور انکی ہر بات درست تسلیم کروں گا۔ہم آپ کو قرآن کریم کی آیات سے ہی ثابت کر دیں گے کہ قرآن کریم میں جمہوریت نام کی کوئی قباعت ثابت نہیں ہے۔

  4. زینب بٹ says:

    آپ اس بےوقوف آدمی کی ہر بات کا جواب کیوں دے رہے ہیں ؟

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>