صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

میرے خوابوں کا پاکستان

مصنف: وقت: اتوار، 25 اگست 201313 تبصرے

اندھیری رات، تاریک راستے، بلوائیوں کے حملے کا خوkashif-Pakistan-Dreamخوابوں کا پاکستان -ف اور نفرت کی آگ، گویا وہ ایک پل سے گزرنا تھا یا تاریخ کے ایک پورے باب سے۔ساتھ بیٹھے شخص کی زباں پر االامان الحفیظ کی تسبیح تھیں جبکہ میں دعا و تسبیح سے بے خبر، خود کو حیرت کے صحرا میں گم، وہم و خیال کے ندیوں میں غوطہ زن اور سوچ کی کسی تاریکی میں بھٹکتا ہو ا محسوس کررہا تھا۔گو میں آزاد ملک کی آزاد فضاوں میں محو سفر تھا لیکن ناجانے کیوں کبھی خود کو اس لٹی ہوئی خون آلود ٹرین کا حصہ محسوس کرتا جو مشرقی پنجاب سے سرشام لاہور پہنچی ہو تو کبھی مجھے ایسا معلوم ہوتا کہ میرا لاشہ کلکتہ کے کسی چوک پر لاوارث پڑا ہے۔اندھیرے اور تاریک پل پر خوف اور سناٹے کے علاوہ جو تیسری چیز نظر آتی تھی وہ ہماری ٹیکسی تھی، جس میں تین سوا ریاں تھیں، ڈرائیوار، میں اور میرے خوابوں کا پاکستان ۔

بچپن میں مجھے قومی ہیروز کی تصاویر جمع کرنے کا بہت شوق تھا۔یوم آزادی قریب آتی تو اباجان کے کاندھوں پر چڑھ کر جھنڈیوں سے گھر سجاتا ، تئیس مارچ کی پریڈ کا شدت سے انتظار رہتا، چھ ستمبر آتی تو خاکی وردی کی گویا بہارچھاجاتی اورقومی ٹی وی پر جنگ ستمبر کے کارنامے سن کر سر فخر سے بلند اور چھاتی شانوں سے چوڑے ہوئے نہیں سماتے۔ لیکن یہ رقص بسمل اتنے دلفریب بھی نہ تھے کہ ساری عمر اس فریب میں مبتلا رہتا۔ 87 کے قصبہ علی گڑھ کے ہنگامے تو مجھے یاد نہیں لیکن بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت کی کئی مبہم نقوش اب بھی میرے ماضی کا حصہ ہے۔ دن دھاڑے گولیوں کی گھن گرج، پولیس مقابلے، ہڑتال اور بے نظیر بھٹو کو ملنے والی بدعائیں!۔ بےنظیر بھٹو، نواز شریف اور مشرف ایک گیا ایک آیا۔ گویا وقت کا پہیہ گھومتا رہا، لیکن گاڑی اب بھی اپنی جگہ پر ہی ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر ماضی درخشندہ اور حال ناتواں ہو تو خواب دیکھنااور خوابوں کی دنیا میں رہنا بڑا دلفریب محسوس ہوتا تھا، لیکن ان خوابوں کی تعبیر ایسی منزل ہے جہاں پہنچنے کے لئے آگ اور خون کے کئی دریا عبور کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے بھی چشم تصور میں کئی خواب دیکھے لیکن اکثر پاکستانیوں کی طرح میرا قصور بھی یہی ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی مسیحا کا منتظر تعبیر کی راعنائی میں گم رہا۔ لیکن اس رات نے گویا مجھے جھنجھوڑا، خواب غفلت اور فکر موہوم کی زنجیریں توڑ کر احساس زیاں دیا۔ کسی دانا نے کہا ہے کہ میدان جنگ میں دانش کے دو ہی راستے ہوتے ہیں، میدان سپر ہوجاو، یا میدان بدر، خود کو تلوارکے رحم و کرم پر چھوڑ دینے سے بڑی حماقت کچھ نہیں۔

وہ رات گز رچکی اور اس تاریک رات کا یہ مسافر شاید بہت کچھ بھول کر واپس شاہراہ زندگی کے ہنگاموں میں کھوچکا ہے۔مگر اس رات کا ایک دوسرا مسافر بھی تھا، جو آج بھی ہر رات پاک سرزمین کی کسی اور رہگزر پر کسی اور ہمسفر کے ساتھ محو سفرگردش ایام کا تماشہ دیکھتا، سکستا ، بلکتا اور فریادیں کرتا ہے۔ کبھی اسکی انکھوں میں بنگال کے آنسو ہوتے ہیں، تو کبھی وہ بلوچستان کے زخموں پر سینہ کوبی کرتا ہے۔کبھی اسے قبائل کے خون سے رنگا جاتا ہے تو کبھی اس پر لال مسجد میں فاسفورس برسائے جاتے ہیں۔ کبھی وہ کراچی کی سڑکوں نیلام ہوتا ہے تو کبھی کوئٹہ کی گلیوں میں اسکے سودے کئے جاتے ہیں۔ کبھی وہ لاپتہ افراد کی فہرست میں نظر آتا ہے تو کبھی کسی سرکاری اسپتال میں جعلی ادوایات کا شکا ر ہوکر ایڑیاں رگڑتا ہے۔ کبھی وہ کسی خود کش بمبار کے کھوپڑی میں چھپا تو کبھی بکھری لاشوں میں آہوں و بکاں کرتا محسوس ہوتا ہے۔کبھی اسے لائن اوف کنڑول پر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے تو کبھی وہ کسی نامعلوم ڈرون کی زد میں آکر گمنامی کی دنیا میں کھو جاتا ہے!۔اور کبھی وہ پاچا خان پل پر امیدوں، حسرتوں، خواہشوں اور رشتوں کے مقتل میں ڈراونا خواب بن کر رقص کرتا ہے۔ کاش یہ خواب نہیں کوئی سراب ہوتا!

شاید ہی کسی قوم نے ایسا خواب دیکھا ہو جسکی تعبیر اتنی ڈراونی ہو۔ کیا اس خوف کے گہری گھٹاوں میں سے کوئی ابر کرم برسے گا؟ کیا اس تاریک رات سے کبھی صبح کا اجالا پھوٹے گا؟ کیا اس چار سو پھیلی خزاں میں کبھی بہار آئے گی؟ کیا اقبال ایسے دیدا بینا نے اس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، کیا پنجاب کی بٹیوں نے اس لئے عصمت کی بازیاں لگائی تھیں، کیا میرے دادا نے اس لئے اپنے پرکھوں کی قبریں اور صدیوں کی زمینیں چھوڑ کر ہجرت کی سعوبتیں برداشت کی تھیں۔ کیا برا تھا کہ مشرک برہمن کے ہاتھوں مرجاتے۔ آج اپنوں کے ہاتھوں یوں ذلت کی موت کا خوف تو نہ منڈلاتا۔ نہیں نہیں، بھائی بھائی کے جان مال اور آبرو کا پیاسا ہو ایسی شب ظلمت میں رہنا، ایسی بے عملی کی زندگی جینا مجھ کو گوارا نہیں۔ میں خودکلامی میں بڑبڑا رہا تھا اورساتھ بیٹھے شخص کی زباں پر االامان الحفیظ کی تسبیح تھیں ۔اندھیرے اور تاریک پل پر خوف اور سناٹے کے علاوہ جو تیسری چیز نظر آتی تھی وہ ہماری ٹیکسی تھی، جس میں تین سوا رایاں تھیں، ڈرائیوار، میں اور میرے خوابوں کا پاکستان۔۔۔

فیس بک تبصرے

13 تبصرے برائے: میرے خوابوں کا پاکستان

  1. “میرے خوابوں کا پاکستان” کے عنوان پر لکھی گئی سب سے بہترین، تلخ اور حقیقت سے قریب تر تحریر۔۔۔

    ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے وہ خواب دیکھنے شروع کر دئیے ہیں جو شاید اگلی اس نسل میں تو ہوتے پورے نظر نہیں آتے۔۔۔ ایک نسل بدلے گی تو شاید سوچ بدلے گی، سوچ بدلے گی تو شاید معاشرہ بدلے گا۔۔۔ معاشرہ بدلے گا تو شاید حالات بدلیں گے۔۔۔ اور حالات بدلیں گے تو شاید ہم ان سہانے اور خوبصورت خوابوں کی تعبیر کھلی آنکھوں دیکھ پائیں گے۔۔۔ لیکن ایک بڑا “شاید” پھر بھی موجود رہے گا۔۔۔

    میں پاکستان سے شدید محبت کرتا ہوں۔۔۔ لیکن پاکستانیوں سے انتہائی مایوس ہوں۔۔۔ مجھے فی الحال بہتری کی کوئی امید نہیں۔۔۔ اور میرے خوابوں کا پاکستان۔۔۔!!! منزل بہت دور ہے میرے بھائی۔۔۔ بہت دور۔۔۔ اور بشمول میرے ہم میں سے کوئی ایسا نہیں جو اس منزل کو پانے کے لیے کوئی اچھا عمل یا قربانی دینے کو تیار ہو۔۔۔ سب زبانی باتیں ہیں، جو صفحات پر یا محفلوں میں اچھی لگتی ہیں بس۔۔۔ اور کچھ نہیں۔۔۔

  2. پاکستان ایک نظریہ ، ایک تحریک کا نام ہے اور اس کی بنیادوں میں ہمارے آباو اجداد کا خون موجود ہے ، کلمہ طیبہ کے نعرہ پر حاصل کیا گیا دنیا کا واحد ملک ، سو میرے بھائیو مایوس نہیں ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان قائم رہنے کے لئے بنا ہر اور انشا ء اللہ ہمیشہ قائم رہے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. عمدہ تحریر! اکثر محسوس ہوتا ہے کہ جواں مردی کے جو قصے ہم نے سنے، وہ محض قصے اور کہانیاں ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہماری افواج نے جس طرح دشمن کا مقابلہ کیا اور قوم نے جس طرح انہیں سپورٹ کیا وہ محض فکشن معلوم ہوتا ہے۔ غیبی امداد کا ذکر تو پھر پاگل پن معلوم ہوتا۔ شاید اس گھمنڈ اور فخر ہی کی وجہ سے آج ہماری یہ حالت ہے ہمیں اپنے دشمن ہی کی پہچان نہیں ہورہی۔ ہم خوف کے عالم میں گھٹ گھٹ کر مرتے جا رہے ہیں!

  4. مسئلہ اچھے انداز میں بیان کیا ہے مگر آخر میں آپ حل بتا دیتے تو تحریر مزید جاندار ہو جاتی. اس وقت سب کو مسائل کا تو علم ہے مگر ایسا حل کسی کے پاس نہیں ہے جو سب کو قبول ہو اور جس پر سختی سے عمل کرنے سے ہمارا خوابوں کا پاکستان ہمیں واپس مل جائے.

  5. @ عمران اقبال : پسندیدگی کا شکریہ، احساس زیاں ایک بہت بڑی نعمت ہے، اگر ہم میں صحیح معنوں میں پیدا ہوجائے تو ہم اپنے مسائل پر قابو حاصل کرنا شروع کردیں گے، میں نے اس ہی احساس زیاں کو اپنا موضوع بنایا ہے.پاکستان کے لوگ بہت اچھے ہیں، ذہین، جفاکش ، باتونی اور کر دیکھانے والے، کمی صرف ایمانداری اور خلوص نیت کی ہے۔
    @ مصطفی ملک :احساس زیاں اور مایوسی میں زمین آسمان کا فرق ہے، احساس زیاں اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتا ہے اور میدان چھوڑ کر فرار کا راستہ دیکھاتی ہے۔
    @ محمداسد: پسندیدگی کا شکریہ، ہم ماضی کے جھوٹے سچے قصوں اور ادھر ادھر کی سنی ہوئی بڑائیوں میں جینے والے لوگ ہیں۔
    @ یاسر بھائی : شکریہ۔
    @ میرا پاکستان : میرے خیال سے میں نے مسئلہ بھی بیان کیا ہے اور اپنے فہم کے مطابق اسکا حل بھی تجویز کیا ہے، بس آپ تحریر کو ذرا غور سے پڑھیں جیسے…. “میں نے بھی چشم تصور میں کئی خواب دیکھے لیکن اکثر پاکستانیوں کی طرح میرا قصور بھی یہی ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی مسیحا کا منتظر تعبیر کی راعنائی میں گم رہا۔ لیکن اس رات نے گویا مجھے جھنجھوڑا، خواب غفلت اور فکر موہوم کی زنجیریں توڑ کر احساس زیاں دیا۔ کسی دانا نے کہا ہے کہ میدان جنگ میں دانش کے دو ہی راستے ہوتے ہیں، میدان سپر ہوجاو، یا میدان بدر، خود کو تلوارکے رحم و کرم پر چھوڑ دینے سے بڑی حماقت کچھ نہیں۔”

  6. خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے وہ فصل گلکہ جسے اندیشہ زوال نہ ہو

  7. مقابلہ جیتنے پر مبارکباد
    ہم نے جب حل کی بات کی تو اس کا مطلب پریکٹیکل حلا تھا. یعنی موجودہ حالات میں کیا کیا جائے کہ ہمیں ہمارا خوابوں کا پاکستان واپس مل جائے. جو آپ نے حل تجویز کیا وہ کتابی حد تک تو ٹھیک ہے مگر قابل عمل نہیں . کیونکہ اس طرح کے حل کیلیے معاشرے کا سو فیصد پاک و صاف ہونا ضروری ہے جو کبھی بھی نہیں رہا اور نہ ہی ہو گا.

  8. @ میرا پاکستان : مبارکباد کا شکریہ۔ اس مضمون کا موضوع ” میرے خوابوں کا پاکستان ” تھا، میرے خوابوں میں جو چیزیں تھیں اور جو باقی رہ گئی ہیں وہ سب بیان کردی ہیں۔ ہمارا کوئی بھی ایسامسئلہ ہے نہیں ہے جس کے حل کے لئے کوئی “راکٹ سائنس ” کی ضرورت ہو، صرف اخلاص نیت، مصمم ارداے اور منزل کے تعین کے ضرورت ہے اور یہ سارے عناصر آج کل نایاب ہیں۔

  9. […] مصنف کاشف نصیر تحریر برائے: برائے میرے خوابوں کا پاکستان ٭تحریری مقابلے "میرے خوابوں کا پاکستان" کی فاتح تحریر […]

  10. […] ملاقات ہے جو دبئی میں کاشف صاحب سے ہوئی ۔ نہیں نہیں کاشف نصیر صاحب نہیں اور نہ ہی محمد کاشف صاحب قرآن مع تفسیر کا […]

  11. sheikho says:

    اچھی سوچ اور ہمت بندھاتی ایک بہت اعلیٰ تحریر

  12. farhat tahir says:

    ایک ٹھوس تحریر جو حقیقی پاکستان کی طرف لے جاتی محسوس ہوتی ہے۔ خواب دیکھنا ہی تو پہلا قدم ہے!

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>