صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

این اے 250، کراچی

مصنف: وقت: منگل، 9 اپریل 20131 تبصرہ

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 250 شہر قائد کے جنوب میں ساحل سمندر کے ساتھ واقعے ملک کے سب سے مہنگے رہائشی علاقوں ڈیفنس اور کلفٹن پر مشتمل ہے۔ کلفٹن اور سی ویو کے ساحل، گورنر ہاوس، سندھ اسمبلی، سندھ ہائی کورٹ، سندھ سیکرٹریٹ، کراچی پریس کلب، آرٹس کلب، کراچی کینٹ اور حبیب بینک پلازہ جیسی مشہور عمارتیں ہوں یا معروف پنج ستارہ ہوٹل سب ہی اس ایک حلقے میں سمائے ہوئے ہیں۔ اس حلقے میں ڈیفنس اور کلفٹن کے پوش رہائشی علاقوں کے علاوہ صدر، اردو بازار، باتھ آئرلینڈ، گزری، کالاپل، پنجاب کالونی، دہلی کالونی اور شیریں جناح کالونی جیسے متوسط طبقے کے رہائشی علاقے بھی شامل ہیں تاہم پچھلے دونوں الیکشن کمیشن اوف پاکستان نے نئی حلقہ بندیوں کے نتیجے میں شریں جناح کالونی کو اس حلقے سے نکال کر این اے 239 لیاری میں شامل کردیا ہے۔ لیکن اس تبدیلی سے اس حلقے کی سیاسی، معاشی اور تاریخی اہمیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور 11 مئی کو منعقدہ عام انتخابات میں اس حلقے کو کراچی کے تمام دوسرے حلقوں پر بدستور نمایاں اہمیت حیثیت اور فوقیت حاصل رہے گی۔

این اے 250 کا شمار ملک کے چند بڑے حلقوں میں ہوتا ہے جہاں الیکشن کمیشن اوف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق کل رجسٹر ووٹرز کی تعداد 205،411 ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 120،138 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 85،273 ہے۔ آبادی کثیر السان ہے، مہاجروں کے علاوہ پنجابی پٹھان، بلوچ، سندھی، ہزارے وال، کشمیری، سرائیکی اور بنگالی غرض پاکستان میں آباد ہر قومیت اور نسل کے لوگ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ حلقہ کے کل رجسٹر ووٹرز کا نوے فیصد مسلمانوں پر مشتمل ہے، دیگر مذاہب میں عیسائی، پارسی، ہندو اور احمدی برادری کے لوگ شامل ہیں۔ میری ذاتی تحقیق کے مطابق حلقہ کی پچاسی فیصد اکثریت سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ حلقہ میں ساٹھ فیصد سے زائد مساجد کا تعلق سنی فرقے کے دیوبند مکتب فکر سے ہے۔ ماضی کے انتخابی رجہان کو دیکھا جائے تو اس حلقے کے عوام کا دینی اور دائیں بازو کی جماعتوں سے گہرا تعلق نظر آتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انیس سو ستر سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کبھی بھی اس حلقے سے کامیابی حاصل نہیں کرسکی حالانکہ ذولفقار علی بھٹو کی رہائشگاہ ستر کلفٹن اور بے نظیر بھٹو کا گھر بلاور ہاوس بھی اس ہی حلقہ انتخاب میں واقع ہے۔

ملک کے پہلے عام انتخابات جو انیس سو ستر میں منعقد ہوئے تھے میں جہاں پورے پاکستان نے بائیں بازو کی جماعتوں کا ساتھ دیا تھا وہاں قومی اسمبلی کا حلقہ این ڈبلو 134 جس میں موجودہ این اے 250 کے تقریبا تمام علاقے شامل تھے سے مرکزی جمیعت علمائے پاکستان کے سربراہ اور ممتاز عالم دین مولانا شاہ احمد نورارنی نے کامیابی حاصل کی تھی، انہوں نے اپنے مدمقابل نورالعارفین کو 22,609 کے مقابلے میں 28,304 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ بھٹو صاحب کے دور میں مردم شماری کے تناظر میں نئی حلقہ بندیاں ہوئیں تو این ڈبلو 134 کے زیادہ تر علاقے این اے 191 کا حصہ بن گئے۔ توقعات کے برخلاف اس نئی حلقہ بندی سے بھٹو صاحب کو کوئی فائدہ نہیں ہوا اور 1977 کے عام انتخابات میں اس حلقے سے انکی پارٹی کو جماعت اسلامی کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سیدمنور حسن نے پیپلز پارٹی کے امیدوار اور ممتاز شاعر جناب جمیل الدین عالی کو 33,086 ووٹ کے مقابلے میں 73,997 ووٹ دیکر ایک تاریخ رقم کی تھی۔

ضیاء الحق چور دروازے سے اقتدار میں آئے تھے اس لئے وہ بھی اپنے پیشرو ایوب خان کی روایت پر چلتے ہوئے شہر قائد کی نسلی تقسیم کو اپنے سیاسی فائدے کے لئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کرتے رہے۔ ایوب خان کے مقابلے ضیاء الحق اپنی اس مکروہ کوشش میں زیادہ کامیاب رہے، انکے دور میں پٹھان مہاجر، پنجابی مہاجر، بلوچ مہاجر اور سندھی مہاجر تقسیم اپنی انتہا کو پہنچ گئیں اور لسانی فسادات شروع ہوگئے۔ اس انتہا کا منطقی نتیجہ 1988 کے انتخابات میں نسلی منافرت کی صورت میں برآمد ہوا۔اس شدید متعصب سیاسی لہر نے پورے شہر کی طرح این اے 191 کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور اس حلقے میں مہاجر قومی موومینٹ اور پنجابی پختون اتحاد کے امیدوار آمنے سامنے آئیں۔ مہاجر قومی موومینٹ کے امیدوار طارق محمود نے پنجابی پختون اتحاد کے امیدوار سرور ملک کو 28,145 کے مقابلے میں 36,746 ووٹ شکست دی۔ بدقسمتی سے یہی رجہان 1990 کے انتخابات میں بھی برقرار رہا اور مہاجر قومی موومینٹ کے امیدوار طارق محمود نے اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار اور سابق مئیر کراچی عبدالستار افغانی کو 20،019 کے مقابلے میں 40،573 فیصد سے شکست دیکر کامیابی حاصل کی۔

1993 کے انتخابات میں مہاجر قومی موومینت نے قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تو شہر قائد میں ایک بار پھر نسلی کے بجائے نظریاتی رجہان کی بنیاد پر ووٹ ڈالے گئے اور قومی اسمبلی کے اس حلقے این اے 191 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ابو بکر نے اسلامی فرنٹ (جماعت اسلامی) کے امیدوار اور سابقہ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کو 8,452 کے مقابلے میں 33,840 ووٹ سے شکست دی۔ اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کی ہوا 1997 کے انتخابات میں بھی برقرار رہی اور ایک بارپھر کیپٹن حلیم صدیقی مہاجر قومی موومینٹ کے امیدوار عبدالجلیل کو 25,008 کے مقابلے میں 31,414 ووٹوں سے شکست دیکر کامیاب ہوگئے۔

سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں 1998 کی مردم شماری کی روشنی میں قومی تعمیری بیورہ نے نئی حلقہ بندیاں کرتے ہوئے ملک میں قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 217 سے بڑھاکر 342 کردیں تھیں، جن میں 272 براہ راست نشستیں شامل ہیں۔ اس نئی حلقہ بندی کے نتیجے میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 191 کا ستر فیصد سے زائد حصہ این اے 250 قرار پایا۔ اس نئی حلقہ بندیوں کے بعد پہلے عام انتخابات 2002 میں منعقد ہوئے اور اس نئے حلقے این اے 250 سے دینی جماعتوں کے سیاسی اتحاد متحدہ مجلس عمل کے امیدوار اور سابق مئیر کراچی جناب عبدالستار افغانی نے متحدہ قومی موومینٹ کی امیدوار نسرین جلیل کو 19,414 کے مقابلے میں 21,462 ووٹوں سے شکست دی، تاہم تین سال بعد عبدالستار افغانی کی وفات کے بعد ضمنی انتخابات میں متحدہ قومی موومینٹ نے اس کھوئی ہوئی نشست کو دوبارہ حاصل کرلیا۔ 2008 کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے زد میں آکر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو اس حلقے پر متحدہ قومی موومینٹ کو اپنی گرفت مظبوط کرنے کا ایک سنہری موقع فراہم ہوا اور متحدہ کی امیدوار خوش بخت شجاعت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ کو 44,412 کے مقابلے میں 52,045 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔ یاد رہے کہ مرزا صاحب نے ان نتائج تو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا اور عدالت عظمی تک گئے تھے لیکن بعد میں آصف علی زرداری کے کہنے پر مقدمہ واپس لے لیا۔

اب پانچ برس بعد ایک بار پھر شہر قائد میں سیاسی میدان سجا ہے لیکن این اے 250 نے اس سیاسی میدان میں ہمیشہ کی طرح دیگر تمام حلقوں پر بازی لے رکھی ہے۔ شہر قائد کی تاریخ میں پہلی بار اس حلقے سے بیک وقت بڑے بڑے نام آمنے سامنے آئے ہیں۔ پانچ سال سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے اس حلقے سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو دوسری طرف انکا مقابلہ کرنے کے لئے عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ فوزیہ صدیقی میدان میں آگئیں ہیں۔ جبکہ اس سے قبل توقعات کے عین مطابق جماعت اسلامی کے رہنما، سابق ناظم اعلی کراچی اور اچھی شہرت رکھنے والی سماجی شخصیت نعمت اللہ خان، تحریک انصاف سے سابق نیم جماعتی اور دندان ساز ڈاکٹر عارف علوی، مسلم لیگ (ن) سے معروف تاجر حلیم صدیقی اور متحدہ قومی موومینٹ سے خوش بخت شجاعت بھی اس ہی حلقے سے میدان میں موجود ہیں۔

کاغذات نامزدگی کی جانچ پرتال کے ابتدائی مرحلے میں سابق صدر کے کاغذت نامزدگی مسترد کردئے گئے ہیں۔ اگر ہائی کورٹ کے الیکشن ٹریبونل میں بھی یہی فیصلہ برقرار رہا تو فوزیہ صدیقی صاحبہ کے انتخابات میں حصہ لینے کی بنیادی وجہ ختم ہوجائے گی اور ذرائع کے مطابق وہ اپنی کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گی اور اس حلقے میں ایم کیو ایم حامی اور ایم کیو ایم مخالف قوتیں آمنے سامنے آجائیگی۔ اس صورت میں جماعت اسلامی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کو لامحالہ کسی ایک امیدوار پر اتفاق کرنا ہوگا، اتفاق نہ ہونے کی صورت میں فائدہ ایم کیو ایم کو ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر فیصلہ مختلف ہوا اور ابتدائی فیصلے کو قلعدم قرار دے دیا گیا تو اصل مقابلہ فوزیہ صدیقی اور پرویز مشرف کے درمیان ہوگا، اگر جمہوری قوتوں نے نیشنل کاز کے مقابلے میں اپنے معمولی سیاسی مفادات کو ترجیح دی اور یہ جماعتیں بدستور کھڑی رہی تو اسکا نقصان بھی وہ خود اٹھائیں گی اور کچھ بعید نے کہ ایسی صورتحال میں پرویز مشرف ایم کیو ایم کی مدد سے اس حلقے سے کامیاب ہوجائیں گے۔

اس حلقے سے کیا نتیجہ نکلے گا اس کا فیصلہ تو 11 مئی کو ہوگا لیکن 18 اپریل کو جب امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری ہوگئی تو اس وقت اس حلقے سے متعلق کچھ بہتر تجزیہ ممکن ہوسکے گا البتہ اس وقت صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوجائے تو ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف مل کر بھی انکا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ صرف جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) ایڈجسٹمنٹ یا تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی ایڈجسٹمنٹ بھی مثبت نتیجے کا باعث بن سکتا ہے لیکن میرے زرائع کے مطابق پہلی صورت کے امکانات کم ہیں جبکہ دوسری صورت میں تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ اسکا ووٹ بینک جو کہ زیادہ تر لبرل سوچ کا حامل ہے جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں ڈالے گا لہذا جماعت اسلامی اس نشست سے انکے حق میں دستبردار ہوجائے جسکے لئے جماعت اسلامی کی مقامی قیادت کسی صورت تیار نہیں ہے۔ چنانچہ اس پیچیدہ صورتحال میں میرے مطابق ان تینوں متحدہ مخالف جماعتوں کا اگر کسی تیسری اور غیر متنازعہ شخصیت کے نام پر اتفاق ہوسکتا ہے تو وہ ہیں محترمہ فوزیہ صدیقی۔ اگر یہ تینوں جماعتیں انا اور زد میں ڈٹی رہیں تو فوزیہ صدیقی صاحبہ کو میرا مشورہ ہے کہ وہ ایم کیو ایم سے رابطہ کریں کیونکہ الطاف حسین بھی عافیہ صدیقی سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انکی جماعت نے عافیہ صدیقی کی سزا کے خلاف ایم اے جناح روڈ پر ایک بہت بڑا احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ برائے: این اے 250، کراچی

  1. آپ نے درست تجزیہ کیا ہے ۔ 1970ء کے انتخابات سے قبل نوابزادہ نصراللہ خودسری نہ کرتے تو پی این اے کا اتحاد قائم رہتا جو تاریخ ہی بدل کے رکھ دیتا ۔ یعنی آج کسی کو یاد بھی نہ ہوتا کہ ذوالفقار علی بھٹو کوئی اہم شخص تھا

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>