صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ

قومی سلامتی کا فلسفہ

مصنف: وقت: جمعرات، 24 اپریل 20141 تبصرہ

national secہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو قدریں مشترک ہیں ان میں سے ایک حب الوطنی کا پیمانہ بھی ہے یعنی جس طرح ہند میں حب الوطنی کی بنیادیں پاکستان کے بارے میں خیالات کے گرد گھومتی ہیں، ٹھیک اسی طرح سرحد کے ِاس طرف پاکستان میں بھی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کا سب سے آسان نسخہ ہند نوازی کا الزام ہے۔ ہمارے یہاں یہ پیمانہ اس لئے بھی زیادہ  دلچسپ ہے کہ ہند نوازی اور ملک سے غداری کے الزامات لگانے والوں کی اکثریت  اکثران لوگوں کی ہوتی  ہے جنہیں تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنماوں کے نام یاد ہو یا نہ ہو لیکن انکے پاس ہند کے فلمی ستاروں سے متعلق معلومات کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور جن کے شب و روز کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ صبح ہندی موسیقی سے شروع  ہو تو رات بالی  وڈ کی رنگیوں میں بسر ہوجائے۔

ہمارے ایک دوست  کا معمول ہے کہ ہفتے میں چارسے پانچ ہندی فلمیں دیکھتے ہیں۔ ہند کے ایک ایک فلمی ستارے کا بائیوڈیٹا  انہیں حفظ ہے اور وہ مہدی حسن کے بجائے پنکج اداس کو شہنشاہ غزل، نور جہاں کے بجائے لتامنگیشتر کو ملکہ ترنم اور  محمد علی کی جگہ دلیب کمار کو شہشاہ جذبات قرار دینے میں بھی کسی تامل کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ حلئے اور بناو سنگھار کا حال یہ ہے کہ کبھی انکا ہئیر کٹ عامر خان ایسا ہوتا ہے تو کبھی جان ابراہیم  انکے سر پر سوار رہتا ہے، حرکتوں میں کبھی وہ رتک روشن نظر آتے ہیں تو کبھی شاہد کپور بنے پھرتے ہیں، انکے لطیفے،چٹکلے اور قصے کہانیاں بھی اکثر بالی وڈ سے ماخوذ ہوتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ خوابوں میں بھی ایشوریا رائے اور کترینہ کیف سے کم کسی کا بسیرا ہونے نہیں دیتے ۔ لیکن جب حب الوطنی کی بات نکلتی ہے تو انہیں اپنی بیوی کی بدزبانی سے لیکر امور مملکت تک ہر معاملے میں را کا ہاتھ نظر آتا ہےاور ہر دوسرا لیڈر، صحافی اور شاعر را کا ایجنٹ اور ملک غدار دیکھتا ہے۔ ہندی گانے سننا یا  ہندی فلمیں دیکھنا ہرگز غداری کے زمرے میں نہیں آتا لیکن جب آپ ایک طرف ہندی ثقافت کے دلدادہ ، ہندی ستاروں کے پرستار اور ہندی فیشن کے رسیا ہوں اور  دوسری طرف ہندوستان سےشدید نفرت کا اظہار کریں تو کہیں نہ کہیں تضاد ضرور ہے۔ میرے مطابق یہ تضاد ہمیں ہمارا نیشل سیکورٹی ڈاکٹرائن سیکھاتا ہے۔

میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ حب الوطنی تو محبت کا جذبہ پیدا کرتی ہے لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے کہ یہ محبت جتنی شدید ہوتی جائے، متبادل سمت میں نفرت بھی اتنی ہی گہری ہونے لگتی ہے۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ اس امر کے پیچھے نیشل  سیکورٹی  کا ہمہ گیر فلسفہ کارفرماں ہوتا ہے اور کیونکہ یہ فلسفہ ایک فریب کے گرد گھومتا ہے اس لئےاس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی محبت اور نفرت تضادات سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ فلسفہ صرف پاکستان میں نہیں چلتا بلکہ بھارت اور چین سمیت  دنیا کے اکثر ملکوں کے معاملات قریب قریب ایسے ہی ہیں۔ امریکہ جو موجودہ دنیا کی سپر پاور کہلاتا ہے، اپنے لوگوں کی حب الوطنی اور سیکورٹی اداروں کےکاروبار کو  چلانے کے لئے نت نئے دشمن ڈھونڈتا رہتا ہے۔  سویت یونین کے خاتمے کے بعد جب ساری دنیا نے امریکہ کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے سر خم کردئےتو  قریب تھا کہ امریکی سیکورٹی ڈاکٹرائن کی موت واقع ہوجائے لیکن امریکہ نے جلد ہی القاعدہ کی صورت میں ایک نیا دشمن ڈھونڈ لیا۔ یہی حال روس، اسرائیل اور عرب ممالک  کا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے ان تمام نیشنل سیکورٹی ڈاکٹرائن والے ملکوں کے عوام کی حالت ایک سی ہے یعنی ہر جگہ غالب اکثریت اس ڈاکٹرائن کے گرد جیتی اور خود کو مطمئن رکھتی ہے کہ اسکے قومی دفاعی ادارے مادر وطن کے طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو سبق سیکھانے کے لئے ہمہ وقت بروئے کار رہتے ہیں۔ لیکن ان ملکوں میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں ہوتی جو مخالف سمت میں جیتے ہوئے نیشنل سیکورٹی ڈاکٹرائن کو اپنے پاوں تلے روند ڈالتے ہیں۔ یقینی طور پر ایسے لوگ اکثریت کے نزدیک غدار ہوتے ہیں لیکن دراصل یہ آزاد دنیا میں جینے کی خواہش رکھنے والے دیوانے مستانے ہوا کرتے ہیں۔ خود امریکہ میں اسکی بہت سی  مثالیں نظر آتی ہے۔ یہ دیوانوں  مستانے  کبھی جان اوف کینڈی کے قتل کا الزام  سی آئی اے کے سر تھوپتے ہیں تو کبھی نائن الیون کی اندوہ ناک دہشتگردی کو سی آئی اے کی کارستانی قرار دیتے نہیں تھکتے۔ یہ کبھی اسامہ بن لادن کو سی آئی کا مہرہ ثابت کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی امریکہ کی جارحانہ حکمت عملی کو کوستے  ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ گوانتاناموبے،  بگرام اور ابوغریب جیل کے واقعات ہوں یا ویت نام کی جنگ، امریکہ کے اندر امریکی دفاعی اداروں کو لعن طعن کرنے والوں  کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی۔ پاکستان کی طرح امریکہ میں بھی نیشنل سیکورٹی ڈاکٹرائن کی مخالف سمت جینے والوں کو سیکورٹی کے اداروں میں شدید ناپسندگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن امریکی جمہوریت انہیں ان  ہتھکنڈوں سے روکے رکھتی ہے جنکا عملی  مظاہرہ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے  کمزور جمہوری پس منظر رکھنے والے ملکوں میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گویا امریکہ سمیت ان تمام ملکوں میں جہاں جمہوریت مظبوط ہے وہاں عام طور پر نیشنل سیکورٹی ڈاکڑائن کا دائرہ کار عملی طور پر  ملک سے باہر ہی محدود ہے۔

دوسری طرف کمزور جمہوریتوں میں مقدس گائے کا لیبل اور عوام  کی اکثریت  میں پایا جانے  والا احترام سیکورٹی کے اداروں کو  نیشنل سیکورٹی ڈاکٹرائن کے نام پر خلا پیدا کرنے اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ترکی، مصر، بنگلادیش اور پاکستان کی سیاسی تاریخ کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ ادارے کس طرح  ملکی سیاست کو فوجی چھائونیوں میں ناچنے والی طوائف بنالیتے ہیں۔ بندوق اور خوف  کے ملے جلے  مرکب سے بننے والی یہ نیشل سیکورٹی ڈاکٹرائن کی بالادستی جمہوریت کے خیر خواہوں، آزادی اظہار رائے کے متوالوں، خبر کے متلاشی صحافیوں، غم دل  میں سیماب ادیبوں، نقارہ اقتدار میں حقوق کے گداگروں، اسٹیٹس کو سے لڑنے والے انقلابیوں اور ریاست سے بدظن علیحدگی پسندوں کو نشانہ عبرت بنانے میں کوئی کثر روا نہیں رکھتی۔ افسوس صد افسوس کہ حب الوطنی کی اس ٹھیکے داری نظام سے سقوط ڈھاکہ ایسےعبرت ناک نتائج سامنے آنے کے بعد بھی تیسری دنیا کی یہ مظلوم قومیں سیاسی غلامی کا راستہ ترک کرکے سلطانی جمہور کی سمت سفرنہیں کرتیں  چاہے انہیں بھٹو، مرسی اور عدنان مندرس ایسے ہمسفر ہی کیوں نہ میسر آجائیں۔

فیس بک تبصرے

1 تبصرہ برائے: قومی سلامتی کا فلسفہ

  1. خورشید آزاد says:

    ایک ایک لفظ سے متفق ہوں۔۔۔۔۔اور ” افسوس صد افسوس کہ حب الوطنی کی اس ٹھیکے داری نظام سے سقوط ڈھاکہ ایسےعبرت ناک نتائج سامنے آنے کے بعد بھی تیسری دنیا کی یہ مظلوم قومیں سیاسی غلامی کا راستہ ترک کرکے سلطانی جمہور کی سمت سفرنہیں کرتیں چاہے انہیں بھٹو، موسی اور عدنان مندرس ایسے ہمسفر ہی کیوں نہ میسر آجائیں۔”

    نے اصل میں رنجیدہ کردیا۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>