صفحہ اوّل » زبان و ادب سے, فیچرڈ لسٹ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

مصنف: وقت: جمعہ، 9 نومبر 201228 تبصرے

قومی زبان اردو اور دوسری مقامی زبانوں کے ساتھ ہمارا رویہ بحیثیت قوم انتہائی افسوسناک ہے۔ ہمارا تعلیم یافتہ اشرافیہ اردو لکھنے اور پڑھنے کو قدامت پرستی سمجھتا ہے اور انگریزی کے پیچھے بھاگتا چلا جارہا ہے۔ ہم نے اپنے ارد گرد ایسے سینکڑوں پڑھے لکھے یا خواندہ لوگ دیکھے ہیں جنکی انگریزی سن کر یا پڑھ کر ہمارے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں لیکن جب ان ہی لوگوں کے سامنے ہم اپنا تعارت بطور اردو بلاگر کراتے ہیں تو وہ ہمیں حقارت سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ معاف کرنا بھئی اردو کون پڑھے گا۔ مگر اس تمام رجہان کے باوجود ہم نے اپنی زندگی میں ایسا کوئی پاکستانی نہیں دیکھا جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ انگریزی یا کسی اور غیر ملکی زبان میں خواب دیکھتا ہے یا سوچ کے گھوڑے ڈوڑاتا ہے۔ جو زبان لاشعور میں اپکے ساتھ چمٹی رہے اسے شعوری طور پر نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں جہالت ہوا کرتی ہے۔ ہم انگریزی کی اہمیت اور افادیت کو نظرانداز نہیں کررہے، ہر دور میں اہل علم نے اپنے دور کی ترقی یافتہ اقوام کی زبان سیکھی اور علم وفکر کے نئی جہتوں اور رخ سے آگاہی حاصل کی لیکن زندہ وہی قوم رہی جس نے علم کی منتقلی میں اپنا حصہ ڈالا اور اپنی زبان کے دامن کو سیراب کیا، قریب ماضی میں بھی ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔

جہاں ایک طرف اردو کے ساتھ سوتیلی ماں کا معاملہ چل رہا ہے وہاں دوسری طرف ایک چھوٹا سا طبقہ ایسا بھی ہے جس نے اردو کی ترقی، اسے ڈیجیٹلائز کرنے اور جدید زبانوں کے برابر لاکھڑا کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ ہمیں یہ کہتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی کہ اس طبقہ میں اردو باگران کا طبقہ سب سے آگے اور سب سے متحرک ہے۔ جب بڑے بڑے اخباری اور ادبی ادارے تصویری اردو استعمال کررہے تھے تو یہ اردو بلاگران ہی تھے جو کمپیوٹر کو اردو سیکھانے کے کام میں ہراول دستہ بنے، یونی کوڈ کو رواج دیا، تکنیکی مسائل اپنے تئیے حل کئے اور اردو بلاگنگ کو ممکن بنایا۔ ہر موضوع پر لکھا اور اکثر و بیشتر پیشہ ور لکھاریوں سے بہتر اور عمدہ تحاریر سامنے آئیں۔ کسی صلے اور پزیرائی کے بغیرمسلسل لکھنا کوئی آسان کام نہ تھا، سالوں تک اردو پڑھنے کا متلاشی ٹریفک بھی اردو بلاگز پر آنے سے کتراتا تھا اور انکا شکوا یہی ہوتا تھا کہ انہیں تحریر پڑھنے میں دقت پیش آتی  ہے۔ لیکن مستقل مزاج اردو بلاگران کسی بھی لمحے دلبرادشتہ ہوکر تصویری اردو کی طرف واپس نہیں گئے۔ ونڈوز 2000 اور ونڈوز ایکس پی میں پہلی بار اردو سپورٹ سسٹم متعارف کرایا گیا تو اکثر لوگ اس سہولت سے ناواقف تھے، یہ اردو بلاگرز ہی تھے جنہوں صحیح معنوں میں اس سپورٹ سسٹم کو عام کیا۔ 2003 میں جب ویکپیڈیا نے اردو ویکپیڈیا منصوبہ شروع کیا تو ایک بار پھر اردو بلاگرز ہی سامنے آئے اور تکنیکی، لسانی اور علمی ہر طرح سے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ ان قدیم بلاگرز میں عمیر سلام، آصف اقبال، زکریہ اجمل ، دانیال ، خاور کھوکھر، مکی، محب علوی، شعیب صفدر، افتخار اجمل ،نبیل نقوی، حارث بن خرم ، قدیر احمد، اور عمار ابن ضیاء و دیگر کے نام لئے جاتے ہیں۔

2007 سے 2009 کے عرصے میں اردو بلاگنگ میں کئی انقلابی تبدیلیاں آئیں اور کئی انتہائی اعلی معیار کے لکھنے والوں نے اردو بلاگنگ کا آغاز کیا، فہد کیہر، ایم بلال ایم، یاسر جاپانی، ڈفر، جعفر حسین اور عنیقہ ناز اس ہی دور کے درخشندہ ستارے ہیں۔ ان لوگوں نے مزاح، سماجی اور اخلاقی موضوعات، سائنس اور کھیل کو بھی اردو بلاگنگ کا مستقل موضوع بنانے میں جو کام کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ایم بلال ایم نے اردو بلاگنگ کو آسان کرنے کے لئے جتنے کتابچے اور ٹوریٹوریل تیار کئے ہیں وہ گو کچھ کم نہیں لیکن پاک اردو انسٹالر اپنی مثال آپ ہے۔ پاک اردو انسٹالر ایک ایسا پروگرام ہے جسکو انسٹال کرنے کے بعد اردو لنگویج، فونٹ اور کیبورڈ خود بخود انسٹال ہوجاتا ہے۔ اس پروگرام سے پہلے کمپیوٹر میں اردو انسٹال کرنا ایک مشکل کام تھا جو مرحلہ وار طریقے سے مکمل ہوا کرتی تھی۔ ایم بلال ایم کے علاوہ اردو بلاگنگ میں تکنیکی مہارت کے حوالے سے شہنشائے جزبات وقار اعظم کی خیر سگالیاں، محمد اسد کی سادگی، عامر ملک کی خاموشی اور ظہیر چوہان کے ریویوز کا ذکر نہ کیا جائے تو بے جا ہوگا۔ یہ دوسرا دور بجا طور پر اردو ویب کا دور تھا جسکے خالق زکریہ اجمل، نبیل نقوی اور قدیر احمد تھے، اسکے پراجیکٹ میں اردو سیارہ، اردو محفل نے اپنی بلندی کو چھوا کہ انٹرنیٹ پر جو شخص بھی اردو سے واقف تھا، اسکے گرد جمع ہوگیا۔ گو کہ ہم اردو یا بلاگنگ کے لئے صفر بٹا صفر ہیں لیکن سینہ تان کر اور سر اٹھا کر یہ کہتے پھرتے ہیں ہم ان حضرات کے ہم عصر اور ہمنوا ہیں، جب کبھی ان حضرات سے ملاقات ہوتی ہے، ہمیشہ پیار اور عزت ملتی ہے جو ہم جیسوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔

ان سب کے باوجود ہمیں اس تلخ حقیقت کو قبول کرلینے میں بھی کوئی عار نہیں کہ اردو بلاگنگ ابھی ابتدائی مرحلے پر ہے اور اسے خود کو منوانے کے لئے مزید محنت کرنا پڑے گی۔ فالحال تو ہم بلاگران ایک دوسرے کے بلاگ پڑھ کر اور تبصرے ڈال کر ہی خوش ہوجاتے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے ہم ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ناصرف عام قاری بلکہ اردو سے بیزار طبقہ بھی اردو بلاگ کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہو۔ اس سلسلے میں ہمیں سوفٹ وئیر کمپنیز، ویب ڈیولیپمنٹ ہاوسز، اشتہاری فرمز، سوشل میڈیا کمیونٹی اور سرکاری اداروں کو اپنی موجودگی اور قومی زبان کی اہمیت کا احساس دلانا پڑے گا۔ ان کی توجہ اس امر کی طرف دلانی ہوگی کہ کمپیوٹر اردو کو پوری طرح سمجھتا ہے لیکن لوگ آج تک اس سے بے خبر ہیں جسکی بنیادی وجہ نجی اور سرکاری شعبہ میں کام کرنے والے اردو سے متعلقہ اداروں کی لاپرواہی، سست روی اور ٹیلنٹ کی ناقدری ہے۔ قومی یونیورسٹی برائے کمپیوٹر اور سائنس (فاسٹ) کے زیر انتظام چلنے والی “سی آر یو ایل پی” ہو یا وزارت انفازمیشن ٹکنالوجی، کسی بھی ادارے نے اردو لنگویج پراسیسنگ تو درکنار اب تک “رسم الخط” یعنی فانٹ کا مسئلہ بھی حل نہیں کیا۔ گو ون مین آرمی جناب ڈاکٹر مرزا جمیل احمد صاحب (ستارہ امتیاز) کی ذاتی کاوشوں سے نستعلق فانٹ کو 1981 میں میں ہی ڈیجیٹلائز کرلیا گیا تھا لیکن کئی دہائیوں تک یہ فانٹ یونی کوڈ پر نہ آسکا۔ سافٹ وئیر صنعت میں نوری نستعلق کے حقوق ہندوستانی کمپنی کانسیپٹ سافٹ وئیر پراویٹ لیمیٹید (انپیج) کو حاصل تھے جسے نے اسے مونوٹائپ سے یونی کوڈ پر منتقل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ یونی کوڈ لنگویج میں بھی نستعلق رسم الخط کے لئے جتنی بھی کوششیں ہوئی وہ نجی شعبے میں انفرادی سطح پر ہی ہوئیں۔ اردو محفل کے صارف عارف کریم صاحب اور امجد حسین علوی، اور شاکر القادری نے یونیکوڈ میں جمیل نوری نستعلق، علوی نستعلق اور تاج نستعلق متعارف کرواکر ایک اہم سنگ میل عبور کیا۔ مجبورا ہندوستانی سافٹ وئیر کمپنی کو بھی ان پیج کو یونی کوڈ پر منتقل کرکے فیض نستعلیق کے نام سے یونیکوڈ فانٹ کے ساتھ سامنے آنا پڑا جسکی آریجنل سی ڈی بدستور کافی مہنگی ہے۔ لیکن یہ تمام فانٹ جو کم از کم بیس ہزار لیگیچر پر مبنی ہیں، کئی میگا بائٹ کے حجم کو کور کرتے ہیں جسکی وجہ سے آپ انہیں کسی ویب سائٹ یا بلاگ کے ساتھ امبیڈ نہیں کرسکتے اور صارف کو لامحالہ نستعلق فانٹ اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کرنا پڑتا ہے۔

اردو کے ساتھ مزید سوتیلے پن کا سلسلہ بحیثیت قوم ہمارے لئے خودکشی کے مترداف ہوسکتا ہے، یہ واحد زبان ہے جس میں ہم ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں، یہ واحد زبان ہے جو اس خطہ کی تمام علاقائی زبانوں کی ترقی کی بھی ضامن ہے۔ مزید یہ کہ اردو کی محبت کے نام پر تصویری اردو یا رومن خط پر اصرار بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ رومن یا تصویری تحریر ناصرف اردو کی جداگانہ تشخص اور خوبصورتی کو ختم کردیگی بلکہ اس یہ اسکے ڈیٹابیس اور سرچ انجن پر بھی خطرناک اثرات ڈالے گی۔ قصہ مختصر اردو ہماری پہچان ہے اور اگر اسے اسکا صحیح مقام نہ ملا تو ہم بحیثیت قوم کسی مقام یا شناخت سے محروم ہی رہیں گے۔ ہم انگریزی کی اہمیت اور افادیت کو نظرانداز نہیں کررہے، ہر دور میں اہل علم نے اپنے دور کی سپر طاقت کی زبان سیکھی اور علم وفکر کے نئی جہتوں اور رخ سے آگاہی حاصل کی لیکن زندا وہی قوم رہی جس نے علم کی منتقلی میں اپنا حصہ ڈالا اور اپنی زبان کے دامن کو سیراب کیا، قریب ماضی میں بھی ایسی کئی مثالیں کئی ہمارے سامنے موجود ہیں.

فیس بک تبصرے

28 تبصرے برائے: سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

  1. جناب ہم تو اپنے حصہ کا چندہ ڈالے ہوئے ہیں پہلے پاک نیٹ کے نام سے پھر ورڈپریس ڈاٹ پی کے اور آجکلٹوئیٹر اردو کرنے میں

  2. ظہیر اشرف says:

    بلاشبہ ہم نے چاہے اپنی قومی رابطے کی زبان اردو ہو یا دیگر علاقائی قومی زبانیں ، سب کو نیست و نابود کرنے کا فیصلہ تو نہیں کیا البتہ اس ضمن میں کوشاں ضرور ہیں. حکومتی سطح پر مناسب اور تیز رفتار کوششوں کے بغیر یہ زبانیں مر جائیں گی .

  3. ہم تو بھائی عام بندے ہیں۔اور عام بندہ اپنے دل کا حال اپنی زبان میں ہی کہہ سکتا ہے۔
    ہمیں تو کوئی حسینہ خواب میں غلطی سے نظر آجاتی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیچاری دوبارہ ہمارے خوابستان کا رخ اس شکوہ کے ساتھ نہیں کرتی کہ
    یہ تو اردو بولتا ہے خوابوں میں بھی !!

  4. دوست says:

    مرزا جمیل احمد نے نہیں کسی اور نے جمیل نوری نستعلیق جاری کیا تھا. اور وہ اوپن سورس نہیں پائریٹڈ ہے.

  5. خوبصورت تحریر 🙂
    عبدالقدوس بھیا اِس جاندار تحریر سےمکمل اتفاق کرتا ہوں۔ اُردو کی کامیابی کیلئے جن بلاگران کے آپ نے نام لئے اور جن کے نہیں لئے، میں اُن تمام بلاگران کا نہایت مشکور ہوں۔ دُعا ہے کہ اللہ مُجھے بھی توفیق دے کہ زبان اُردو کی فلاح کیلئے اپنا کردار ادا کر سکوں

  6. محمد انور میمن says:

    اس میں شک نہیں کہ کمپیوٹر پر اردو کو ترویج دینے میں اردو بلاگرز نےاہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن صرف بلاگرز کو ہی اس کا کریڈٹ دینا بھی زیادتی ہے۔ مجھ جیسے کئی لوگ کبھی بلاگ نہ لکھنے کے باوجود اپنی ویب سائٹوں کے ذریعے، یا فیس بک جیسے سوشل میڈیا کے ذریعےاردو کے فروغ ممیں اپنی مقدور بھر کوششیں کرتے رہتے ہیں۔
    ایک اور اہم بات یہ ہے کہ بہت سے بلاگرز اردو کو کمپیوٹر پر استعمال تو کررہے ہیں، لیکن اس کا ستیاناس بھی کررہے ہیں۔ ان کا رویہ ایسا ہے جیسا کہ وہ اردو پر احسان کررہے ہوں۔ جملے غلط، الفاظ کی ہجے غلط، اور کوئی غلطی کی نشاندہی کردے تو اسے تسلیم کرنے کی بجائے، الٹی سیدھی تاویلات۔ تحریر کو لکھنے کے بعد اس پر نظرثانی شاید ان کی شان کے خلاف ہے۔ پھر وقت کم ہونے کا رونا دھونا۔ میرا ان سے یہ کہنا ہے کہ اگر وقت کم ہے تو کم لکھیں، لیکن دھنگ کا لکھیں۔ یقینا بعض غلطیاں صرف ٹائپنگ کی ہوتی ہیں، لیکن بعض گرامر یا ہجے کی مستقل غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ ہر نئی تحریر، پرانی سے بہتر ہو۔ غلطیوں سے مبرا تو کوئی نہیں، لیکن درستگی کا ارادہ ہو تو بہتری اور نکھار زیادہ مشکل نہیں۔ بس اچھی اردو لکھنے کے عزم کی ضرورت ہے۔

    نیٹ پر تستعلیق اردو کے فروغ کے لیے کوشاں ، محمد انور۔

    • انور صاحب آپکی رائے سے سو فیصدی اتفاق کرتے ہوئے یاد دلانا چاہتا ہوں کہ درج بالا تحریر میں کہیں یہ نہیں کہا کہ کمپیوٹر پر اردو کی ترویج کے لئے صرف اور صرف اردو بلاگر ہی کوشاں ہیں، صرف یہ بتانا گیا کہ اردو بلاگران ان کوششوں میں صف اول پر ہیں۔

  7. یہ امر ہمارے لیے واقعی باعث حیرت ہونا چاہیے کہ اردو بلاگنگ ابھی تک اپنے ابتدائی دور میں ہے باوجودیکہ ورڈپریس ڈاٹ کام بھی اب اردو زبان میں بلاگنگ کی سہولت فراہم کر رہا ہے اور بلاگ اسپاٹ کے ذریعہ بھی یہ کام ممکن ہے۔

    اردو کے حوالے سے انٹرنیٹ پر ترقی نہ کرپانے کی ایک وجہ لوگوں کی غلط فہمیاں اور دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں۔ مثلاً لوگ ابھی تک اردو زبان اور کمیوٹر کا تعلق جوڑ نہیں پارہے؛ جس کی بورڈ سے ٹھکاٹھک انگریزی لکھتے ہیں اسی کی بورڈ سے اردو لکھنا انہیں ناممکن لگتا ہے؛ تمام دن انگریزی میں پڑھتے، سرچ کرتے، تحقیق کرتے انہیں تھکن نہیں محسوس ہوتی لیکن کسی اردو ای-بک پڑھ کر وہ نڈھال ہوجاتے ہیں تو یہ رویئے بھی اردو کی ترقی میں رکاوٹ ہیں!

  8. Hafeez says:

    بہت خوب کاشف میاں اچھی اور سچی تہریر ہے۔ کسی بھی قوم کی تباہی کی ابتداٴ زبان کی تباہی سے ہی شروع ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ تاریخ کا حصہ ہو جاتی ہے۔

  9. بہت اچھا لکھا، مگر شہیدوں میں ہمارا ذکر نہ کیا، ہم بھی تو اس وقت سے بلاگنگ کررہے جب یونی کوڈ کے فانٹس میں غلطیاں آتی ہیں، بلکہ اوردو ویب سے پہلے ادھر اردو لائیف کر اردو آن لائن کی لکھ کر کاپی پیسٹ کرکے کام چلایا کرتے تھے۔ بعد میں کپموٹر اردو دان ہوئے

    • افتخآر راجہ صاحب، بہت بہت معذرت کہ آپکا ذکر رہ گیا، آپ 2005 سے بلاگنگ کررہے ہیں اور آپ ان لوگوں میں شامل جنہیں دیکھ کر ہم بھی بلاگنگ کی طرف آئے۔

  10. کاشف بھائی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اردو کے ساتھ سوتیلوں سا سلوک کیا جا رہا ہے . لیکن سلام ہے ان رضاکاروں کو جو دن رات اردو کی ترویج کےلئے کوشاں ہیں.

  11. بہت شکریہ عدنان شاہد صاحب

  12. زمین اور جسم تو قائد اعظم اور اُن کے ساتھی آزاد کرا کر دے گئے تھے ۔ ذہن اُن کے بس میں نہ تھے وہ ابھی تک آزاد نہیں ہوئے ۔ افسوس اس پر ہے کہ کچھ لوگ اُردو کی تعریف پر انگریزی کی گالی کو ترجیح دیتے ہیں
    مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اردو دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی پانچویں اور سب سے زیادہ سمجھی جانے والی دوسری زبان ہے
    رہی اردو بلاگنگ تو جن اصحاب کا آپ نے ذکر کیا بلاشُبہ ان کی کاوشوں کو سراہا جانا چاہیئے لیکن جن لوگوں نے اردو بلاگنگ کی ابتداء کی اور اسے قابل عمل بنایا اُن سب کو آپ نظر انداز کر گئے ہیں ۔ بجز اُن کی انتھک محنت کے آج اُردو بلاگنگ شاید ہوتی ہی نہیں
    زکریا اجمل نے شاید 2002ء میں اُردو بلاگنگ کی ابتداء کی ۔ 2004ء یا 2005ء میں اُردو سیارہ شروع کیا اور کئی سال اسے اس طرح چلایا کہ متواتر اصلاح ہوتی رہی ۔جب زکریا اجمل کو وقت کی کمی محسوس ہوئی تو اس کی مدد نبیل نقوی نے کی ۔ اس زمانے میں اردو بلاگنگ کی ترویج میں کچھ نوجوانوں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا جن میں سے چند نام یہ ہیں ۔ جہانزیب اشرف ۔ حارث بن خرم ۔ قدیر احمد ۔ عمار ابن ضیاء ۔ دانیال ۔ خاور ۔ چند اور بھی ہیں جن کے نام میرے ذہن میں نہیں آ رہے ۔ شاید قدیر احمد یا خاور کو کچھ نام یاد ہوں
    کمپیوٹر پر اردو لکھنا اور ای میل بھیجنا میں نے شاید 15 سال قبل شروع کیا تھا ۔ جب بلاگر نے بلاگ کیلئے مفت جگہ مہیاء کی تو میں نے 2004ء میں بلاگ شروع کیا جس میں اُردو لکھ کر شائع کرنا محنت طلب کام تھا ۔ میرا پہلا اتالیق زکریا اجمل ہے ۔ میرا اُردو چابی تختہ کا مسئلہ حارث بن خرم نے حل کیا ۔ اس چابی تختہ میں پھر زکریا اجمل نے بہتری کی ۔ اس چابی تختے کو انسٹال کرنے کیلئے ونڈوز کو سیف موڈ میں چلانا پڑتا تھا
    میں تو اپنے آپ کو کسی کھاتے میں نہیں سمجھتا لیکن درجن سے زائد نوجوانوں کو اُردو میں بلاگ بنانا اور اس میں اُردو لکھنا میں نے سکھایا ۔ یونیکوڈ بعد میں آیا تو بہت آسانی ہو گئی ۔ اسی سال میں نے ایم بلال ایم کا اُردو انسٹالر انسٹال کیا ہے

    • افتخار اجمل صاحب، توجہ دلانے کا شکریہ، میں بہت سے لوگوں کا ذکر نہیں کرسکا، جن لوگوں سے کسی نہ کسی حوالے سے رابطہ رہتا ہے انکے نام آگئےلیکن کئی اور بڑے لوگ رہ گئے۔ بہرحال زکریہ اجمل ،نبیل نقوی ، حارث بن خرم ، قدیر احمد،دانیال اور عمار ابن ضیاءجیسے بڑے نام بھی شامل کرلئے گئے ہیں۔

  13. جی بالکل! سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے۔ اور نوعمر نسل میں اسی زبان کی ترویج و فروغ کی خاطر ہم نے “اردو کارٹون دنیا” ویب سائیٹ کی داغ بیل ڈالی ہے۔ آنے والی نسلوں کو بھی اردو کے کاز کے لیے تیار کرنا ہے۔ اور کارٹون کامکس ہی زیادہ تر ان کی دلچسپی کا محور ہوتے ہیں لہذا اردو کمیونیٹی میں پہلی دفعہ اردو کارٹون کامکس کی ویب سائیٹ تخلیق کی گئی ہے۔ گو کہ کارٹون کامکس امیج پر منحصر ہوتے ہیں اور مکالمے بھی امیج ہی کا حصہ ہوتے ہیں ، مگر گوگل سرچنگ کی خاطر کارٹون کہانیوں میں شامل ہونے والی تحریر کو علیحدہ سے یونیکوڈ میں پیش کرنے کا التزام بھی کیا گیا ہے۔
    – سید مکرم نیاز (تعمیر ویب ڈیولپمنٹ)

    • @ اردو کارٹون دنیا : آپ لوگ انتہائی عمدہ کام کررہے ہیں، مجھے آپکا بلاگ دیکھ کر بے حد خوشی ہوتی ہے۔
      افتخار راجہ : ہمم، یاد دلانے کا بے حد شکریہ
      رائے ازلان : بلاشبہ فہد بھائی کی اردو بلاگنگ کی ترقی کے لئے بہت خدمات ہیں۔
      عمیر ملک : اردو محفل کی کیا بات ہے، ایک ویب فورم نہیں ادارہ ہے۔

  14. امجد شیخ کی اردو سائیٹ اردو لائیف اور انکے اردو فورم کا تذکرہ کرنا بھی بنتا ہے کہ پہلا پلیٹ فارم تھا جہاں یونیکوڈ لکھی جاتی تھی۔ گو جزوی طور پر ہی۔ اس سے پہلے ہم ادھر ان پیج کی تصویری اردو سے کام چلاتے تھے۔

  15. بے چاری اردو کے ساتھ ہر دور میں یہی کچھ ہوتا آیا ہے یہ تب بھی عامیوں کی زبان سمجھی جاتی تھی جب اپر کلاس فارسی بولتی تھی حالات اب بھی وھی ہیں فارسی کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے اور مغرب کی چمک ایسی خیراکن ہے کہ وہاں سے آنے والی ہر کرن ھمیں بہلی معلوم ہوتی ہے انگریزی کے چھار جملے بولنا ہمارے لئے فخر اور اردو سے ھمیں حقارت کی بو آتی ہے۔ اسکے باوجود اردو بلاگران کی داد دینی ہو گی جو ‘لک بن’ کے اپنے مقصد پے کاربند ہیں۔ اور مجھ اج بجھگے بلاگر کو اردو کی طرف لکھنے پر گامزن کرنے کا سہرا فہد کیہر کے سر جاتا ہے جنہوں نے نہ صرف اسطرف لگایا بلکہ بے حد حوصلہ افزائی بھی کی جبکہ میں قریب 10سال بعد اردو لکھتے وقت املا کا کچومر نکال دیا کرتا تھا۔
    ویسے یہ بھی اردو کا کمال یہ کہ سب کچھ یہ جانے کے باوجود اج بھی دنیا کی بہت بڑے حصے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے امید پر چونکہ دنیا قائم ہے لہذا امید ہے کے سلسلہ چلتا رہا تو ایک دن ضرور ہماری زبان کی دھوم ہو گی۔

  16. بات تو سچ ہے مگر۔۔۔۔ آج کے اس دور میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ اردو بھی انٹرنیٹ پہ لکھی جا سکتی ہے۔ میں کسی کو یہ کہتا ہوں کہ میں نے فلاں موضوع پہ اردو میں لکھ کر سرچ کیا تو وہ میرا منہ تکنے لگتا ہے۔ بعض اوقات میں خود بھی ایک عجیب سا احساس کمتری محسوس کرتا تھا، بلاگنگ کرنے کے باوجود میں کبھی اپنے حلقہ احباب میں اس کی تشہیر نہیں کر پایا ٹھیک سے۔ لیکن اب لگتا ہے کہ اس امر کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ میری اردو سے پہلی ملاقات اردو محفل کے ذریعے ہوئی تھی۔ اور اردو بلاگنگ بھی انہیں لوگوں کی دیکھا دیکھی شروع کی جن کا تذکرہ آپ کر چکے ہیں۔ اور اس بات کی بھی بہت خوشی ہوتی ہے کہ کچھ لوگوں نے مجھے دیکھ کر اردو بلاگنگ اور دیگر سماجی سائیٹس پہ اردو میں شیئر کرنا شروع کیا کیونکہ بہرحال آپ جس زبان میں سوچتے ہیں، اس سے بہتر کسی میں اظہار نہیں کر سکتے۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>