صفحہ اوّل » کاشف نامہ

یہ پاکستان بلاگ ایوارڈ ہے

مصنف: وقت: منگل، 27 دسمبر 201120 تبصرے

ارادہ یہ تھا کہ پورے دن کے بلاگی سرگرمیوں کو الفاظ کی پوشاک پہنائوں اورسجا سنوار کر اپنے برقی آشیانے میں بٹھادوں لیکن آئی بی اے کیمپس سے باہر نکلا تو دن کی روشنی ٹھنڈی رات کی چکاچوند میں بدل چکی تھی۔ کانپتا، سکڑتا ساتھی اردو بلاگر عمار ضیاء کے ساتھ چہل قدمی کرتا بس اسٹینڈ تک پہنچا ،بس پکڑی اور ٹریفک کےشدید ترین اژدھام سے ہوتا ہوا ٹھیک ڈھائی گھنٹے بعد رات دس بجے شہر کے انتہائی شمال میں واقعہ اپنے گھر پہنچا، کھانا کھایا، کمبل کی اوٹ میں چائے کی چسکیاں لی اور پھرلمبی تان کر یہ جا وہ جا کہ اب کہاں کی بلاگنگ اور کدھر کی ورکشاپ۔لیکن رات کہ قریب چار بجے، جب گلی کے کتے بھی بھوک بھوک کے تھک ہار سوجاتے ہیں، اچانک ایک ہم جماعت کے اندر ملکوت الموت کی روح گھس آئی اور موصوف نے صرف یہ بتانے کے لئے فون گھمادیا کہ وہ ابھی ابھی عمران خان سے مل کر آرہے ہیں، نتیجے کے طور پر ہمارے غیض وغضب کا ایسا شکار ہوئے کہ آئندہ کسی کو رات دس بجے فون کرنے سے پہلے بھی پچاس بار سوچیں گے۔نیند تو پوری ہوچکی تھی اور دن بھر کی تھکن موصوف پر اتر چکی تھی لیکن بلاگنگ کا خمار ابھی باقی تھا۔ کروٹیں بدلتے ہوئے ایک بار پھر گھڑی پرنظر پڑی، رات کے ساڑے چار بجے تھے یعنی گالا نائٹ میں صرف چودہ گھنٹے تھے، دل میں دھک دھک ہوئی اور خیال نے خاموشی کا بائیکاٹ کیا، سوچ کے گھوڑے دوڑائے تو وہ جعفر، اسد اور یاسر کو پکڑ کر لے آئے لیکن یار فرحان دانش!

ٹھنڈی آہیں اور دو چار کروٹوں کے ساتھ ہم نے خود کو ایک بار پھر خوابوں کی دنیا میں پایا، دو گھنٹے کی نیند کے بعد دفتر پہنچا، شام پانچ بجے تک تمام امور نمٹاکر مفت سواری میں سوئے ایوارڈ راونہ ہوا۔قریب ساڑھے سات بجے مقامی ہوٹل کے استقبالیہ پر موجود تھا، سامنے ہی عمار بیٹھے نظر آگئے اور پھر کچھ ہی دیر میں فہد کہار، اسد، شعیب صفدر اور سمید تہامی بھی پہنچ گئے۔ عام ہے کہ پاکستان میں کوئی تقریب اپنے مقررہ وقت پر شروع نہیں ہوتی اور اسی لئے دوسرے سالانہ بلاگ ایوارڈ کی تقریب بھی اپنے مقررہ وقت سے نصف گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔ نظامت کی ذمہ داری رابعہ غریب نے سنبھالی ہوئی تھی اور انکی نظامت دیکھ کر محسوس ہوا کہ وہ جتنا اچھا لکھتی اور گاتی ہیں اس سے کہیں اچھا بولتی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے بغیر کسی ابتدائیہ یعنی بلاگنگ ایوارڈ کے بنیادی آئیڈیا، اوبجیکٹیو اور تھیم کہ تقریب شروع کردی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز سورۃ فاتحہ کی تلاوت اور انگریزی ترجمہ سے ہوا، گویا پاکستان بلاگ ایوارڈ کے ابتدا میں ہی قومی زبان اردو کو نظر انداز کردیا گیا۔تلاوت کے بعد مقامی اسکول کے طلباء و طلبات نے قومی نغموں اور علاقائی موسیقی پر پاکستان کی مختلف اکائیوں کے رنگ بکھیرے۔

تقریب کا اگلا مرحلہ تقسیم ایوارڈ کا تھا، نمایاں جیتنے والوں میں بینا سرور، علی کے چشتی، عائشہ اعجاز اور سارہ خلیلی شامل تھے لیکن انگریزی زبان کی مختلف کلیات میں ایوارڈ جینتے والے خوش نصیبوں کو جاننے سے زیادہ ہماری یعنی فہد کیہر، شعیب صفدر، عمار، اسد اور میری ترجیح شرکائے تقریب کو قومی زبان میں بلاگنگ سے روشناس کرانا اور انہیں اس زبان کی اہمیت اور افادیت کا احساس دلانا تھا۔ اس کوشش اور سعی میں ہماری سب سے بڑی مددگار ایم بلال ایم کی اردو انسٹالر کی سی ڈی تھی جسے فہد کیہر اور اسد قریب ڈھائی سو کی تعداد میں لے کر آئے تھے اور مفت تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ شرکاء سے ملاقات کے دوران انہیں یہ یقین دلانا مشکل تھا کہ اردو میں لکھنا اور بلاگنگ کرنا بھی اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ انگریزی یا کسی اور زبان میں اور ہم اس مشکل کام میں کتنے کامیاب ہوئے اسکا اندازہ آئندہ آنے والے کچھ دنوں میں ہوگا۔ البتہ بدرخوشنود، رابعہ ٖغریب، حماد صدیقی، جہاں آراء، فیصل کباڈیہ، ثناء سلیم، عواب علوی اور عمار حیدر سمیت دیگر نمایاں شرکاء سے ملاقات کے دوران انکی طرف سے آنے والے رسپانس پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم کافی حد تک کامیاب رہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایوارڈ کے آخری حصے میں ایوارڈ دینے کےلئے ہم تین اردو بلاگرز کو اسٹیج پر بلایا گیا۔ خوشی کی ایک اور بات یہ تھی کہ ہمیں بہترین مزاحیہ بلاگ کا ایوارڈ دینا تھا اور ڈفرستان کے ڈفر اعظم اس کلئیے میں تمام انگریزی بلاگران کو بچھاڑتے ہوئے کامیاب ہوئے اور انہیں اپنا ایوارڈ اردو بلاگران کے ہاتھوں ملا، یہ اور بات ہے کہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے ڈفر اعظم نے سمید تہامی کو ڈفر اعظم بناکر بھیجا ہوا تھا۔

چائے کے وقفے کے کچھ دیر پہلے اچانک تقریب کے درجہ حرارت میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب عمران خان نمودار ہوئے۔ سیاہ لباس میں ملبوس دراز قد اور سرخی رنگت کے مالک عمران خان کو درمیان دیکھ کر انگریزی بلاگران خود کو قابو میں نہ رکھ سکے اور اپنی جگہیں چھوڑ کر اٹھنے لگے، اسی دوران رابعہ غریب نے بھی عمران خان کی آمد کا باضابطہ اعلان کیا اور شرکاء تقریب کو انکے استقبال کے لئے کھڑے ہونے کا حکم نامہ صادر کردیا۔ دریں اثناء کپتان اسٹیج پر بلائے گئے اور انکے ہاتھوں فیصل قریشی کو ہزاروں لوگوں سے بیک وقت قومی ترانہ پڑھانے پر ایک یادگاری ایوارڈ دلوایا گیا۔ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر کپتان نے ایک چھوٹی سی تقریر میں سوشل میڈیا کے ان ممی ڈیڈی بچوں کو اپنے جلسے میں شرکت کی دعوت دے ڈالی۔

تقریب کے آخری مرحلہ میں رابعہ غریب نے انتہائی تجسس پیدا کرتے ہوئے ایک اعلان کیا، اور اس اعلان کے ساتھ ناصرف اسٹیج کے بائیں سمت پر لگی ایک میز کے گرد حسار ڈالے بیٹھے پانچوں اردو بلاگران سکتے میں آگئے بلکہ ٹوئڑ اور فیس بک پر بیٹھے بلاگران میں سے کم از کم ایک نے تو بلاگنگ سے استعفی کا ہی اعلان کردیا۔بغض اور عناد نہیں اور نہ ہی کوئی ذاتی دشمنی کے کسی کو انڈر ایسٹیمیٹ کریں، لیکن اردو بلاگنگ کے مستقبل کے لئے کچھ لکھنا اور کہنا ضروری ہے۔جناب قصور ہرگز، ہرگز فرحان کا نہیں کہ اسے بھی اور بلاگران کی طرح اپنے بلاگ کو نامزد کروانے اور کامیابی کے لئے تحریک چلانے کا پورا پورا حق تھا اور قصور ایوارڈ کے منتظمین کا بھی نہیں کہ وہ اردو اور اردو بلاگنگ کیا اسکی “الف ب” بھی نہیں جانتے تھے البتہ قصور اردو بلاگنگ کمیونٹی کا ضرور ہے جو اردو بلاگنگ کے لئے روتی بھی ہے، چیختی چلاتی بھی ہے لیکن لکھنے پر آمادہ نہیں، کئی اچھے لکھنے والے، لکھنے سے تائب ہوگئے اور کئی قلت وقت کو عذر بناکر منظر سے غائب۔ قبل اس شاک لگنے کہ عشائیہ سے ذرا پہلے ہم کمال مسرت کے ساتھ اسٹیج سے اترے تو ہمارے بیٹھتے ہی بہترین اردو بلاگر کے ایوارڈ کا اعلان ہونا تھا، میری ساتھ والی نشست پر براجمان محمد اسد کے دل کی ڈھرکن کو میں محسوس کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا، ٹوئیڑ اور فیس بوک پر استاد جی اور دیگر غیر حاضر بلاگران کے حالات بھی میاں اسد سے مختلف نہ تھے۔ دل میں دھک دھک ہوئی اور خیال نے خاموشی کا بائیکاٹ کیا، سوچ کے گھوڑے دوڑائے تو وہ جعفر، اسد اور یاسر کو پکڑ لے آئے لیکن یار فرحان دانش!

فیس بک تبصرے

20 تبصرے برائے: یہ پاکستان بلاگ ایوارڈ ہے

  1. بہت عمدہ… تقریبِ انعامات کی روداد لکھنے کا بہت بہت شکریہ…
    جنابِ عالی… ظرف بہت بڑی چیز ہوتی ہے… ہر انسان میں نہیں ہوتا… لیکن جس کے پاس ہوتا ہے وہ بڑا خوش نصیب اور پرسکون بندہ ہوتا ہے… فرحان دانش ایک بلاگر کا نام ہے اور صاحب بلاگ بھی لکھتے ہیں، یہ مجھے ایوارڈ کی ویب سائیٹ سے پتا چلا… ان کے بلاگ کا دورہ کیا تو بھی کچھ خاص متاثر نہیں ہوا… ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ مجھ سے تو بہتر ہی لکھتے ہیں…
    جب پتا چلا کہ وہ یہ ایوارڈ جیت گئے ہیں تو میرے منہ سے بھی یہی الفاظ نکلے… فرحان دانش…!!!؟؟؟؟
    لیکن… لیکن… لیکن…
    بھائی جان وہ جیت گئے ہیں… ان کو مبارکباد دینے کی بجائے… ہم سب ان کے پیچھے ہی پڑ گئے ہیں… یار ایوارڈ تو ایوارڈ والوں نے انہیں دیا ہے… انہوں نے جا کر چھینا تو نہیں ہے نا… پھر اس بندے کا کیا قصور… کیوں ہم سب مل کر ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ان کی ٹانگ کھینچنے پر تلے ہیں…فیس بک، ٹوئیٹر اور اب بلاگز پر اس شریف انسان پر لکھا جا رہا ہے… وہ بے چارہ بھی پریشان ہو گا کہ آخر اسے ایوارڈ کیوں ملا… اس کی طرف سے تو اب تک ایک بھی منفی تبصرہ نہیں دیکھا… وہ خاموشی سے سب پڑھ رہا ہے اور یقینا اس کا دل ٹوٹ گیا ہوگا کہ ہم سب مل کر اس کی حوصلہ افزائی کی بجائے، اس کے لیے کیا کیا لکھ اور سوچ رہے ہیں…
    بشمول آپکے، جعفر، یاسر خوامخواہ جاپانی، انکل ٹام، افتخار اجمل صاحب، ڈاکٹر جواد، محمد اسد، فہد کہر اور ابوشامل صاحب بہترین بلاگر ہیں… آپ سب کی تحاریر کو جتنی پزیرائی آپ کے بلاگز پر مل جاتی ہے، وہی ان کا ایوارڈ ہے… شاید فرحان دانش کو مزید اچھا لکھنے کے لیے ایک ایوارڈ کی ضرورت ہو… ہو سکتا ہے کہ ایوارڈ سے حوصلہ افزائی پا کر وہ بہترین لکھنا شروع کر دیں… انہیں چانس دینا تو بنتا ہے نا بھائی…
    ڈفر ایک اچھا بندہ اور ایک اچھا بلاگر ہے، اس کی تحریر کی اچھائی اور کوالٹی جانچنے کے لیے اسے ایک ایوارڈ کی ضرورت نہیں… سوائے اس کے کہ وہ ایوارڈ کا مستحق بھی تھا اور ونر بھی ہے…
    اب ایک سوال یہ کہ اگر عمران اقبال یہ ایوارڈ جیت جاتا (جس کے چانس صفر فیصد بھی نہیں تھے) تو کیا فیس بک، ٹوئیٹر اور بلاگز میں مجھے بھی لتاڑا جاتا… کہ یار عمران اقبال…!!!
    مجھ ناچیز کا مشورہ ہے کہ ہم سب دل بڑا کریں اور کھلے دل سے ایک اردو بلاگر “فرحان دانش” کو اس کی جیت پر مبارکباد دیں… اور اب مزید اچھا لکھ کر اگلے سال کے ایوارڈز جیتنے کی تیاریاں کریں…

  2. بہت خوبصورت پیرائے میں آپ نے پاکستان بلاگ ایوارڈ کی روداد بیان کی ہے. بہت خوب.
    اردو بلاگنگ کے فروغ کے لیے فہد بھائی کی کوششیں قابل قدر ہیں۔ خاص کر بلاگ ایوارڈ کی تقریب میں اردو انسٹالر کی مفت تقسیم بہت سے نئے لوگوں کو اردو بلاگنگ سے روشناس کرانے میں مدد دیگی.
    بیسٹ اردو بلاگر ایوارڈ کا فرحان دانش کے نام ہونا میرے لیے سرپرائز ضرور تھا کہ میں کرک نامہ وغیرہ سے آس لگائے بیٹھا تھا اور یہ منتظمین پر منحصر ہے کہ کسے ایوارد کے قابل سمجھیں۔ ویسے میں تو میرٹ پر دیئے جانے والے ایوارڈ پر دکھی ہوں۔ ایوارڈ والوں کو میرٹ پر میرا بلاگ نظر نہیں آیا؟ 😉

    ویسے کرک نامہ اگر اسپورٹس بلاگ کے لیے نامزد ہوجاتا تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ کتنا مزا آتا جب کرک نامہ انگریزی بلاگز کو بچھاڑ پر جیت جاتا جیسے ڈفرستان بیسٹ ہیومر کی کیٹگری میں جیت گیا انگریزی بلاگز کو بچھاڑ کر۔۔۔۔

  3. آپ نے اوپر تحریر فرمایا ہے کہ
    ” جناب قصور ہرگز، ہرگز فرحان کا نہیں ”

    اگر میراقصورنہیں تھا تو کچھ افراد کو میرے خلاف مہم چلانے کی کیا ضرورت تھی؟ ذاتیات پر حملے کرنے کی کیا ضرورت تھی. اگر میں ہار بھی جاتاتو میں تو خوشی سے اپنی شکست تسلیم کر لیتا. ایوارڈ کے بعد مجھے ایک بندے نے تو مجھے فیس بک پر اپنی فرینڈ لسٹ سے بھی نکال دیا ہے.

    2010 کے ایوارڈ میں مجھ سے ایک غلطی ہو گئی تھی “جب مجھے کامیا بی کی 75% امیدبھی تھی” اُس غلطی کی وجہ سے میں ناکام ہوگیا تھا. ورنہ 2010 میں بھی اردو بلا گر چیخ چیخ کر کہے رہے ہوتے……….یار فرحان دانش!

  4. کچھ کم نہیں لکھ دیا؟ 😀 خیر، میرے دل کی دھڑکن تو نارمل تھی یار کیوں کہ ابوشامل نے تقریب سے پہلے ہی عندیہ دے دیا تھا۔ اور مجھے تو ان کی پیش گوئیوں کی لائیو قبولیت کا تجربہ ہے، اس لیے میں تو بالکل مطمئن تھا بلکہ آدھا ٹویٹ بھی لکھ چکا تھا۔ خیالات میرا جعفر یا قلم کاروان کو پکڑ رہے تھے لیکن یار فرحان دانش!

    اردو انسٹالر سی ڈی کا ردعمل میری توقعات سے بڑھ کر ملا۔ اس کا تمام تر سہرا بلال بھائی اور ابوشامل صاحب کی محنت کے سر جاتا ہے۔

    ویسے مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی کہ رابیعہ غریب نے بہترین اردو بلاگ کے اعلان میں ہی تجسس پیدا کرنے کی کوشش کیوں کی؟

  5. خوشی اس بات کی ہونی چاہئے کہ اردو کو بھی دیسی گوروں نے قبول کرنا شروع کیا
    ویسے ایوارڈ کی تقریب کی ویڈیو نہیں ہے کتنا عجیب نہیں لگتا؟

  6. میں نے تو فرحان کا نام بھی نہیں لیا۔ بلکہ ہم نے تو اسکو مبارکا بھی تھا کیفے میں پوسٹ لگا کے
    میں نے تو جیوری کی اہلیت اور قابلیت پہ سوال اٹھائے اور ابھی تک اپنے مؤقف پہ قائم ہوں

  7. میرا خیال ہے کہ اس میں فرحان دانش کا کوئی قصور نہیں لہذا تنقید کا رخ ایوارڈ انتظامیہ اورججز جیوری کی طرف موڑا جائے تو بہتر ہے اور اس سے بہتر یہ ہے کہ بلاگ ایوارڈز انتظامیہ کو ایک ای میل لکھی جائے اور ان سے پوچھ لیا جائے کہ آخر کار انہوں نے ’دانش نامہ‘ کو ہی کیوں ایوارڈ دیا. تاکہ غیبت کے گناہ سے بھی بچیں اور بحث بھی ختم ہو. باقی کیا آپ دوستوں نے ایک بات نوٹ کی ہے کہ اس کیٹیگری کا نام تھا Best Urdu Blogger لہذا وہ بلاگ جہاں ایک زائد افراد لکھتے ہیں وہ تو پہلے ہی اس کیٹیگری سے خارج ہوگئے کیونکہ انہیں بلاگ میں اردو کا بہترین استعمال کے زمرہ میں اپنی اینٹری کروانی چاہیے تھی۔ لیکن جو بھی ہوا اچھا ہوا! 🙂

    • ای میل کی تجویز دینے کے بجائے کوئی جیتنے والا اس پر عمل کرلیں تو کیا ہی بات ہے (سمجھ تو آپ گئے ہوں گے). رہا سوال زمرہ ‘اردو بلاگر’ کی نوعیت کا تو اول تو یہ کہ قوانین میں اس قسم کی کوئی بات شامل نہیں تھی کہ ایک ہی بلاگ پر زیادہ لکھنے والا یہاں رجسٹر نہ کروائیں لہٰذا آپ کے مطابق ان کا اخراج سمجھ سے باہر ہے. بالفرض ایک لمحہ کے لیے درست بھی مان لیا جائے تو پاک ڈاٹ نیٹ کو ملنے والے ایوارڈ کو کیسے قبول کیا جائے، وہ تو سیدھا سادھا فورم ہے اور ان کے مطابق جو بلاگ ہے اس پر شائع ہونے والی تحاریر فورم کے ممبران کی فرمائش پر کاپی پیسٹ کی جاتی ہیں. تیسرا یہ کہ اگر ایوارڈ اردو ‘بلاگر’ کو ہی دیا جاتا تو اعلان کرتے وقت بھی فرحان دانش کا نام لیا جاتا لیکن انہوں نے ‘دانش نامہ’ کو ایوارڈ دے کر اردو بلاگ ہی کو ایوارڈ دیا.

  8. فرحان دانش کو دو ہزار دس میں بھی جیتنے کی امید تھی؟؟؟

    ویسے آپ نے عمران خان کی آمد کے بارے میں نہیں لکھا۔۔

  9. @ : عمران اقبال : جو لوگ کافی عرصہ سے میری تحاریر پڑھ رہے ہیں وہ میرے اس دعوے کی تائید کریں گے میں ڈپلومیٹ نہیں اور جو سوچتا ہوں لکھ گزرتا ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ میری یہ عادت اچھی ہے یا بری لیکن میں اس عادت سے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ فرحان کی دلجوئی ہم سب مل کر لیں گے لیکن ابھی یہ سوچنا ہے کہ جیوری تک اپنا پیغام کیسے پہنچایا جائے۔
    @ وقار اعظم : میرٹ پر جو ایوارڈ دیا گیا اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیوری اردو بلاگنگ کی الف ب جاننے سے بھی قاصر تھی۔ تم غیر فعال بلاگر ہوتے جارہے ہو، شرافت سے پوسٹ لکھو۔
    @ فرحان دانش : میرا مقصد ہرگز آپ کے جزبات کو مجروح کرنا نہیں تھا، شروع میں میرے جزبات بہت زیادہ تلخ تھے لیکن جب میں نے بلاگ پر آپکی اپڈیشن اسپیڈ دیکھی تو مجھے لگا کہ وہ یہ چیز ہے جو دوسرے اچھے لکھنے مس کررہے ہیں۔ بہرحال آپ اور پاک نیٹ والوں سے بہت اچھا لکھنے والے بھی ہیں جنہیں جیوری نے نظر انداز کردیا۔ مزید یہ میں خود اپنے بلاگ کو ایوارڈ کا حقدار ہرگز نہیں سمجھتا تھا اور میں نے نامزدگی بھی وقار کے شدید اثرار پر صرف اس لئے کرائی تھی کہ ایوارڈ کی تقریب شریک ہوسکوں، یہاں تک کہ میں اپنے لئے خود اپنا ووٹ بھی کاسٹ نہیں کیا۔ اگر میں چاہتا تو اپنے حلقہ اثر کو استعمال کرکے 100 کیا دو تین ہزار ووٹ ڈلوا لیتا لیکن پھر یہ حقداروں کی حق تلفی ہوتی۔
    @ محمد اسد : کمال ہے مجھے اس پیشگوئی کی کوئی خبر نہیں ملی۔
    @ عبدالقدوس : کیا نہیں، کرانا پڑا۔
    @ ڈفر : میں نے جیوری کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا، میں نے تو فیصلہ دے دیا ہے۔
    @ زھیر چوہان : کم از کم میں بے غیبت نہیں کی اور کھل کر بات کی ہے اور مجھے صرف دانش نامہ ہی نہیں پر بھی اعتراض ہے۔
    @ بلال امتیاز : کمال ہے کہ انہیں 2010 میں بھی امید تھی، عمران خان پر میں تحریر لکھ چکا ہوں شاید آپ نے نہیں پڑھی۔

  10. نعمان says:

    خوشی ہوئی آپ کی تحریر پڑھ کر، اور بغیر کنٹروورسی کے ایوارڈ پھیکے سے لگتے اس لئے کنٹروورسی ضروری ہے۔

  11. مجھے فرحان دانش کو ایوارڈ دیئے جانے کی خوشی ہوئی ہے۔
    اور مجھے کوئی اعتراض نہیں۔۔
    مبارک باد کی بات ہے تو میں نے ڈفر کو بھی مبارکاں سلامیاں نہیں دیں۔؛ڈ
    جیوری کی قابلیت مشکوک ہے۔۔۔اردو پڑھنی بھی آتی ہے؟
    برحال ہم اردو بلاگر خود کوئی اسطرح کا پروگرام کیوں نہیں کرتے؟
    اردوکو اگر فروغ دینا ہے تو ۔۔۔۔کچھ اسطرح کا ہلہ گلہ ہونا چاھئے۔
    اور ہر سال میڈیا پر بھی اسے اجاگر کرنا چاھئے

  12. @ نعمان : ٹھیک کہا آپ نے ایوارڈ عام طور پر نٹروورسی سے ہی پھلتے پھولتے ہیں۔
    @ یاسر : اچھی بات ہے کہ آپکو خوشی ہوئی، مجھے نہیں ہوئی جسکا میں نے فرحان سے معذرت کے ساتھ اظہار کردیا۔ آپکے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس طرح کی تقریب کا انعقاد بغیر اسپانسر کے ناممکن ہے اور اردو بلاگران کو کون اسپانسر کرے گا۔ اب تک ایم بلال ایم کے اردو انسٹالر کو اسپانسر نہیں ملا، حالانکہ اردو کے حوالے سے بلال کا یہ ایک شاندار کارنامہ تھا۔

  13. میں نے بھی یہ ہی کہا تھا کہ چلو شکر کرو کسی اردو والے کو ووٹ ملا ۔ ورنہ یہ بھی نہ ملتا ۔ میں نے فرحان کا بلاگ نہیں دیکھا لیکن اگر انکو ایوارڈ ملا ہے تو بہت اچھی بات ہے کہ اردو والوں کو ایوارڈ ملے ۔۔

  14. مجھے دو ہزار دس میں جیتنے کی امید اس لئے تھی کہ اُس وقت میرے ووٹ بہت زیادہ تھے. لیکن مجھے اردو کی کیٹگری کے بجا ئے دوسری کیٹگری میں ڈال دیا گیا تھا. مگر موجودہ سال میں خود ” حیران ” ہوں کہ …………………………. یار فرحان دانش!

  15. کاشف بھیا روداد لکھ کر ہمیں بھی تقریب میں شامل کرنے کا بہت شکریہ۔ میری شدید خواہش تھی کہ بہترین سپورٹس بلاگ کا ایوارڈ کرک نامہ کو ملتا۔ خیر میری طرف سے جیتنے والوں کو مبارکباد۔

  16. چلیں اچھا ہوا کہ آپ نے روداد لکھ دی اور خوب لکھی۔ باقی تبصرے تو سبھی نے کردیے۔ ویسے آپ نے یہ سوال نہیں اُٹھایا کہ سمید تہامی (ڈفر) اتنی جلدی میں کیوں نظر آرہے تھے؟ 😛

  17. عثمان says:

    پنجابی کے ایک محاورہ کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ
    گرا گدھے سے اور غصہ کمہار پہ ۔۔
    یار تنقید کا رخ اردو بلاگنگ کمیونٹی اور ایوارڈ انتظامیہ پہ رکھتے۔ خوامخواہ بے قصوروں کو کیوں گھسیٹ لیا۔
    ایک اور کہاوت ہے کہ مقابلے کے بعد یاد آنے والا گھسن اپنے منہ پر مار لینا چاہے۔ بلاگ ایوارڈ کی وقعت اور انتظامیہ کی اہلیت پہ سوال اٹھانے تھے تو شرکت سے پہلے اٹھاتے۔ اب جب پانی سر سے گذر گیا تو اس پر واویلا کا کیا فائدہ ؟
    خاور کھوکھر سے اتفاق کرتے میں اس ایوارڈ مزاق کے آغاز سے ہی اس سے خائف تھا۔ اردو محفل پر چند ایک مراسلوں میں تنقید بھی کی۔ لیکن اس وقت یار لوگ دھمال ڈالتے جوق در جوق شرکت فرما رہے تھے۔ اب پوچھتے پھرتے ہیں کہ کرائیٹیریا کیا تھا ؟
    کرائیٹیریا کیا تھا ؟؟
    طوطا فال !!
    راضی ہو ؟

  18. ایک دوسرے کے قریب رہنے کا کیا فائدہ بھائی؟؟

    ایک دن پہلے موبائل پر پیغام دیتے تو ساتھ ہی چلتے اور واپس آجاتے بھائی
    سکوٹر پر آج کل کراچی والوں کی عیش جو ہے کہ ڈبل سواری کھلی ہے
    (غیر معینہ مدت تک)

  19. @ انکل ٹام : بہترین اردو بلاگر کا ایوارڈ کسی انگریزی بلاگر کو تو ملنے سے رہا۔
    @ فرحان : یار فرحان دانش!
    @ عمار : کیونکہ ڈفر اعظم اپنا ایوارڈ دیکھنے کے لئے بے چین تھے۔
    @ عثمان : براہ راست ہو یا بل واسطہ تنقید کا رخ ایوارڈ انتظامیہ پر ہی ہے البتہ ہماری طرف سے ایوارڈ کی وقعت پر بلکل بھی سوال نہیں اٹھایا، شرکت اس لئے کی کہ سوشل میڈیا کے اسٹیک ہولڈرز کو اردو بلاگنگ کے وجود کا احساس دلانا ہمارے نزدیک ضروری ہے۔
    @ راحیل : یار غلطی معاف، کسی روز ہماری طرف آئیں، ذرا ساتھ چائے پیتے ہیں۔

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>