صفحہ اوّل » فیچرڈ لسٹ, کاشف نامہ

ہاں یہ وہی شخص ہے

مصنف: وقت: جمعہ، 19 اپریل 2013کوئی تبصرہ نہیں

سید ابوالاعلی مودودی کے لئے ملتان جیل، زولفقار علی بھٹو، اور مخدوم جاوید ہاشمی کے لئے کوٹھ لکھپت جیل، بینظیر بھٹو کے لئے اڈیالہ جیل، آصف علی زرداری کے لئے سکھر جیل، نواز شریف اور آفاق احمد کے لئے لاندھی جیل جبکہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے لئے پرآسائش شیش محل۔ کیا قید تنہائی، ہتھکڑیاں، تشدد، کچل خواری اور پھانسی کے پھندے صرف سیاسی رہنماوں کا مقتدر ہیں اور کیا فوجی غاصبوں کو کبھی بھی احتساب کے عمل سے نہیں گزارا جاسکتا؟ رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے، میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، گہری رات خاموشی اور تاریکی کا لباس اوڑھے سو رہی تھی، لیکن یکایک میری نظریں بلند ہوئی، افق پر ستارے جگ مگا رہے تھے جنکی ننھی ننھی روشنیاں جلد ہی میری نگاہوں کو معطر کرنے لگیں، میں نے چائے کا ایک اور چسکا لیا اور بند کتاب کو کہیں بیچ سے کھول کر پڑھنے لگا، لکھا تھا، “کوٹ لکھپت جیل میں موت کی کوٹھڑیاں زیر تعمیر تھیں۔ بھٹو نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا ”دو تین جرنیلوں کے لیے موت کی کوٹھڑیاں خالی رکھنا۔‘‘

نصراللہ خان بابر بھلے آدمی گزرے ہیں، کئی فوجی جرنیل دیکھے اور ان کے مدمقابل آئے لیکن صرف پرویز مشرف کے بارے میں گویا ہوئے، کہا اس شخص پر مقدمہ چلے گا۔ لوگ حیران تھے ایسے شخص پر کیسے مقدمہ چل سکتا ہے جس کا ہر سو طوطی بولتا ہے، جو پوری مملکت کے سیاہ و سفید کا مالک ہو۔ جسکی ایک جیب میں سپریم کورٹ اور دوسری جیب میں بڑے بڑے سیاست دان ہیں۔ لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، زمانہ کروٹ لیتا ہے اور آسمان کے رنگ بدل جاتے ہیں۔ جب وقت بدلہ تو پرویز مشرف کا سارا جاہ و جلال مٹی میں مل گیا، نہ وہ ساتھ رہے جو دس دفعہ صدر بنانا چاہتے تھے اور نہ انہوں نے تعلق کا کوئی پاس رکھا جن پر لطف و عنایت کی بارش ہوئی تھی۔ گویا وہ وقت کے منجدھار میں اکیلے کھڑے رہ گئے۔ لیکن رسی جلی بل نہ گئی کے مصداق اس تنہائی میں بھی اتراتے رہے یہاں تک کہ قسمت انہیں اپنے انجام کی طرف کھینچ لائی۔ آج وہ مکافات عمل کا شکار ہیں، ذلت اور خواری آہستہ آہستہ انکی زندگی کا عنوان بنتی جارہی ہے۔ ان حالات میں مجھے اپنے مرحوم والد کے وہ آنسو شدت سے یاد آتے ہیں جو عبدالرشید غازی کی شہادت پر انکی انکھوں سے جاری ہوئے تھے۔

میں نے کتاب بند کی اور کتاب کے ساتھ انکھیں بھی، میرے سامنے 1999 سے لیکر 2008 تک کہ واقعات تازہ ہونے لگے، پرویز مشرف، ہاں یہ وہی شخص ہے جس نے اللہ کو حاضر و ناظر جان کر حلف لیا اور پھر اسے توڑ ڈالا، جس نے دستور پاکستان کو پامال کیا اور ناخدا بن بیٹھا، جس نے عوام کے منتخب وزیر اعظم کو جعلی مقدمات میں پھنسا کر حوالات میں پھینکوا دیا، وہ جس نے سود کی حرمت سے متعلق شریعت کورٹ کے فیصلے کو اپنے پاوں تلے روندا، وہ جس نے امریکی چاکری میں برادر اسلامی ملک کو ریت کے کھنڈر اور موت کے وادی میں تبدیل کروادیا، وہ جس نے پاک سرزمین کے دو مقدس فضائی اڈے اسلام دشمنوں کے حوالے کردئے، وہ جس نے افغان سفیر کو سفارتی آداب بالائے رکھ کے فروخت کیا، جس نے ڈالر کے عوض مسلمانوں اور پاکستانی کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا، جس نے محب وطن قبائل کے خلاف جنگ شروع کی، جس نے پرامن بلوچستان کو علیحدگی پسندوں کی جنت میں تبدیل کردیا اور ملک میں خانہ جنگی کا سامان پیدا کیا، جس نے کشمیر کا سودا کیا، جس نے حدود اللہ میں چھیڑ چھاڑ کی، جس نے لال مسجد میں بے گناہوں کا خون بہایا اور جس نے سپریم کورٹ کے ججوں کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھ کر بے توقیر کیا۔

فوج کے اس سابق سربراہ کو جن مقدمات کا سامنا ہے ان میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو قتل کیس، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اکبر بگٹی ہلاکت کیس، لال مسجد کیس اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو نظر بند رکھنے کا کیس شامل ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف جو چار مقدمات زیر سماعت ہیں وہ تمام کے تمام فوجداری نوعیت کے ہیں اور ان مقدمات کی کارروائی کے سلسلے میں انہیں کئی مراحل سے گزرنا ہوگا۔ بات صرف ان چار مقدمات پرختم نہیں ہوتی، آئندہ جس حکومت نے بھی آنا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ شق 6 کے تحت کاروائی کرے۔ شق 6 کی بنیاد پر جو مقدمہ بنے گا وہ ناصرف پرویز مشرف کے سب سے بڑے جرم کا محاسبہ کرے گا بلکہ انکے دیگر تمام جرائم کا احاطہ بھی اسی ایک مقدمے میں ہوجائے گا۔ رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے، میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، گہری رات خاموشی اور تاریکی کا لباس اوڑھے سو رہی تھی، لیکن یکایک میری نظریں بلند ہوئی، افق پر ستارے جگ مگا رہے تھے جنکی ننھی ننھی روشنیاں جلد ہی میری نگاہوں کو معطر کرنے لگیں، میں نے چائے کا ایک اور چسکا لیا اور بند کتاب کو کہیں بیچ سے کھول کر پڑھنے لگا، لکھا تھا، “کوٹ لکھپت جیل میں موت کی کوٹھڑیاں زیر تعمیر تھیں۔ بھٹو نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہا ”دو تین جرنیلوں کے لیے موت کی کوٹھڑیاں خالی رکھنا۔ٗٗ

فیس بک تبصرے

تبصرہ کیجیے




آپ ان ایکس ایچ ٹی ایم ایل ٹیگز کو استعمال کرسکتے ہیں:
<a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>